’’لا الٰہ الا اللہ‘‘
’’ فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ‘‘
مسئلہ لاالٰہ الا اللہ پر اس قدر زور؟
قرآن پڑھئے تو لا الٰہ الا اللہ کا بیان پورا وقت آپ کے ساتھ چلتا ہے! یہ شان کتاب اللہ میں کسی اور مسئلہ کو حاصل نہیں!
مسئلہ لا الٰہ الا اللہ کو یہ غیر معمولی اہمیت؟ شاید آپ کہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے اول اول مخاطب مشرک تھے! لیکن مدنی سورتوں میں بھی اِسی موضوع کا بار بار دہرایا جانا؟ جبکہ نفوس کے اندر عقیدہ راسخ کرایا جاچکا تھا بلکہ خود اسلامی معاشرہ وجود میں آ چکا تھا ۔ اور جبکہ وہ معاشرہ بھی کوئی عام سا معاشرہ نہیں؛یہ وہ جماعت تھی جو جہاد کی چوٹی سر کر رہی تھی… پھر بھی مدنی سورتوں میں توحید ہی کا موضوع پورے تسلسل کے ساتھ؟ معلوم ہوا، اس مسئلہ کی اپنی ہی کوئی خاص اہمیت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ توحید وہ چیز نہیں جسے کچھ عرصہ بیان کر لیں تو پھرآپ کسی اور موضوع کا رخ کرلیں! بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کو ساتھ لے کر ہی آپ ہر نئے موضوع کا رخ کریں گے۔ کوئی ایسا وقت نہیں آئے گا جب اِس پر بات ہونا موقوف ہو!
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ (النساء: 136)
اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر۔
پس لا الٰہ الا اللہ کا مسئلہ حیاتِ انسانی کے اندر ایک دائمی و ہمہ وقتی مسئلہ ہے۔ اِس کی طرف صرف کفار کو ہی دعوت نہیں دی جاتی کہ وہ اس پر ایمان لے آئیں۔ اور صرف مشرکین کو ہی اس کی طرف نہیں بلایا جاتا کہ وہ اِس پر اپنا اعتقاد درست کرلیں۔ اِس کی طرف اہل ایمان کو بھی باقاعدہ بلایا جاتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا…!
اور اس میں عجیب بات کیا ہے کہ لا الٰہ الا اللہ ہی تمام قضیوں کا اصل قضیہ ہو!
قرآن نے اِس قضیہ کو اتنی توجہ دی تو یہ اس وجہ سے نہیں کہ قرآن ایک ‘مذہبی’ کتاب ہے۔ بلکہ وجہ یہ کہ قرآن درحقیقت وہ کتاب ہے جو زمین پر انسان کی زندگی کی باقاعدہ ایک سمت متعین کرنے آئی ہے!
انسان کی زندگی اپنی وہ راست سمت کبھی نہیں پاسکتی جب تک یہ اُس ‘‘حق’’ کو نہ پالے جو تخلیقِ سماوات وارض کے پیچھے بولتا ہے، بلکہ جب تک یہ اُس ‘‘حق’’ کے ساتھ ہم آہنگی اختیار نہ کرلے… نہ اس سے ہٹے اور نہ اس کے تقاضوں سے باہر جائے۔
اور وہ ‘‘حق’’ جو آسمان و زمین کی تخلیق کے پیچھے بولتا ہے صرف ایک ہے: نہیں کوئی الٰہ مگر اللہ۔ وہ اکیلا ہے جو پیدا کرنے والا ہے۔ وہ اکیلا ہے جو حاجت روا ہے۔ وہ اکیلا ہے جو اختیارات کا مالک ہے۔ وہ اکیلا ہے جو تدبیرِکائنات کرتا ہے۔ وہ اکیلا ہے جو کائنات کو تھام رکھے ہوئے ہے۔ نہ اُس کے سوا کوئی خا لق ، نہ کوئی رازق، نہ کسی کی تدبیر اور نہ کسی کا امر... اور یہ سب حقیقتیں تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اکیلا ہے جس کی عبادت ہو، کوئی اُس کے ساتھ شریک نہ ہو۔ عبادت اور پرستش جس چیز کا نام ہے اُس کا ایک ذرہ کسی اور کے آگے پیش نہ ہو۔
اتنا ہی نہیں کہ یہ بندوں پر اللہ کا حق ہے … بلکہ یہ انسان کا اپنا ہی قضیہ ہے۔
کیا شک ہے کہ اللہ خالق اور رازق اور منعم اور محسن ہونے کے ناطے یہ حق رکھتا ہے کہ عبادت صرف اُس کی ہو، اور خدائی کسی اور کے لیے تسلیم نہ کی جائے… مگر وہ اپنے بندوں اور ان کی تمام تر عبادت اور ریاضت سے غنی و بے نیاز بھی تو ہے! بندے عبادتیں کر کے اُس کی خدائی میں کچھ اضافہ کریں گے اور نہ کفر وسرکشی کرکے اُس کی خدائی میں کچھ کمی۔ پس یہ مسئلہ تو خود اِس انسان کا ہے!
يا عبادي ، لو أن مؤمنكم وكافركم ، برّكم وفاجركم كانوا على أتقى قلب رجل منكم ما زاد ذلك في ملكي شيئا ، ولو أن مؤمنكم وكافركم ، بركم وفاجركم كانوا على أفجر قلب رجل منكم ما نقص ذلك في ملكي شيئا (صحيح مسلم)
اے میرے بندو! اگر تمہارے مومن کیا کافر، نیک کیا بد، سب اُس شخص جتنے نیک ہوجائیں جو تم میں سے سب سے بڑھ کر نیک ہے، تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہ ہو۔ اور اگر تمہارے مومن کیا کافر، نیک کیا بد، سب اُس شخص جتنے بدکار ہوجائیں جو تم میں سب سے بڑا بدکار ہے، تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ بھر نقص واقع نہ ہو۔
وَقَالَ مُوسَى إِنْ تَكْفُرُوا أَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ (ابراہیم: 8)
اور موسیٰؑ نے کہا کہ "اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہو جائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے" ۔
جبکہ انسان کا معاملہ اس کے برعکس ہے…
ایک طرف… یہ خدا کے لطف وکرم سے کوئی ایک لمحہ بےنیاز نہیں:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (فاطر: 3)
اے انسانو! اپنے اوپر اللہ کا احسان ذہن میں لے کر آؤ کیا اللہ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے کہ آسمان اور زمین سے تمہیں روزی دے، اس کے سوا کوئی معبود ہے ہی تو نہیں، تو تم کہاں اوندھے جاتے ہو؟
تو دوسری طرف… عبادت کرنا اِس کی فطرت۔ اِس کی زندگی کا کوئی ایک لمحہ ایسا نہیں جس میں یہ کسی نہ کسی چیز کی عبادت نہ کر رہا ہو، خواہ شعوری طور پر اور خواہ لاشعوری طور پر۔ زندگی کا کوئی ایک لحظہ نہیں جب اِس کا معاملہ دو صورتوں سے باہر ہو: یا یہ عبادت گزار ہوگا اللہ وحدہٗ لاشریک کا، اور یا یہ عبادت گزار ہوگا اللہ کے ساتھ یا اللہ کو چھوڑ کر کسی غیر ہستی کا۔ اور جب غیر کی عبادت ہوگی تو خواہ وہ اللہ کے ساتھ ہو یا اللہ کو چھوڑ کر، ایک برابر ہے؛ قرآن اس کو شیطان کی عبادت قرار دیتا ہے کیونکہ یہ شیطان کا تقاضا پورا کرنا ہے:
أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَنْ لا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ وَأَنِ اعْبُدُونِي هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ (يس 60 - 61)
اے اولاد آدم کیا میں نے تم سے عہد نہ لیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا، یہ ہے صراطِ مستقیم۔
اِسی طرح انسانی سرشت میں خواہشات کے ساتھ ایک گہری لگن رکھ دی گئی ہے:
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا.. (آل عمران 14)
مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کیلئے مزین کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں، بیٹے، سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے، نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے۔
اِن مرغوباتِ نفس کی جانب میلان کسی فائدے اور مصلحت کے تحت بھی رکھا گیا ہے، تاہم یہ مرغوبات اُن رخنوں کا بھی کام دیتے ہیں جہاں سے شیطان نفسِ انسانی میں در آنے کے راستے پاتا ہے اور وہاں سے اس کو اپنی ڈالی پر چڑھا کر رفتہ رفتہ ‘‘خدا کی عبادت’’ سے باہر لے آتا ہے۔ خدا کی عبادت سے خروج کہیں وقتی ہوتا ہے جس کو ‘‘معصیت’’ کہا جاتا ہے: لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن ، ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن.. اور کہیں وہ کلی انداز کا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ناطہ ہی توڑ لیا جا تا ہے، شرک کی صورت میں، یا کفر کی صورت میں، یا جحود کی صورت میں:
قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ
اب کہاں وہ زندگی جو خدا کی عبادت ہو اور کہاں وہ زندگی جو شیطان کی عبادت ہو:
أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبّاً عَلَى وَجْهِهِ أَهْدَى أَمَّنْ يَمْشِي سَوِيّاً عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ
اللہ کا فضل اور کرم اصل میں یہ ہے کہ...جب انسان اللہ کا حق ادا کرنے لگتے ہیں، یعنی اُس کی ربوبیت کو تسلیم کرتے اور اپنی نیاز اور عبادت کے جملہ افعال کو اُس کے لیے خاص کردیتے ہیں اور اپنے اندر پایا جانے والا بندگی کا مادہ خالص شکل میں اُس کی عظمت پر نچھاور کرنے لگتے ہیں... تو پھر وہ احسنِ تقویم (عمدہ ترین ہیئت) میں آجاتے ہیں۔ دنیا میں اُن کی زندگی اعلیٰ ترین اور پاکیزہ ترین اور حسین ترین ہوجاتی ہے اور آخرت میں وہ بارگاہِ خداوندی میں باریابی کے اہل ہوجاتے ہیں۔ جبکہ اس حقیقت کے ساتھ کفر کر لینے کی صورت میں دنیا میں اُن کا وقت گزارنا جانوروں کی طرح چرنا ہے، اور آخرت میں خدائی پاداش کا حقدار بننا۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوىً لَهُمْ
وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى فَبَشِّرْ عِبَادِ
یہ وجہ ہے کہ انسان کو ہر لحظہ اس لا الٰہ الا اللہ کی ضرورت ہے۔
کافر اور مشرک ہے… تو لا الٰہ الا اللہ کی ضرورت ہے کہ یہ اپنا اعتقاد بنیاد سے درست کرلے۔ اور اگر مومن ہے… تو لا الٰہ الا اللہ کی ضرورت ہے تاکہ یہ اس پر قائم رہے اور اپنے نفس میں شیطان کے راستوں کو مسدود کیے رکھے جو ہر وقت تاک میں ہے کہ وہ اِس کے عمل اور رویے کو خدائے لاشریک کی عبادت اور اطاعت سے باہر کر دے۔
پس ہر صورت میں؛ اس لا الٰہ الا اللہ کو انسانی زندگی میں ایک معیّن کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہ لا الٰہ الا اللہ کوئی ایسی ‘‘عبارت’’ بہرحال نہیں ہے جو بول دی جائے اور پھر وہ ہوا میں تحلیل ہوجائے، نہ نفس میں اس کا کوئی اثر، نہ ماحول میں اس کی کوئی بازگشت، اور نہ زندگی میں اس کا کوئی مطالبہ!
مابین‘‘ایمان’’… و’’ ارجاء’’
اب ذرا یہ دیکھتے ہیں کہ اِس لا الٰہ الا اللہ نے پہلی نسل کی زندگیوں میں کیا کردار ادا کیا تھا...
مگر اس سے پہلے یہ دیکھتے چلیں کہ مشرکین عرب نے اِس کو رد کیوں کردیا تھا؛ اس کے ساتھ وہ جنگ کیوں کھڑی کر لی تھی جو تاریخ میں آج تک ذکر ہوتی ہے...؟
یہ تو معلوم ہےیہ لا الٰہ الا اللہ سب کے سب رسولوں کی دعوت رہی ہے۔ آدمؑ اور نوحؑ سے لے کر محمدﷺ تک، انسانوں سے رسولوں کا ایک ہی مطالبہ رہا۔ ادھر جاہلیت کا اِس دعوت کے مقابلے پر ایک ہی موقف رہا: انکار۔ اعراض۔ مخالفت اور عناد۔ اب ذرا اندازہ کرتے چلئے، انبیاء کی پوری تاریخ میں نہ یہ دعوت بدلتی ہے اور نہ کبھی ایک بار اس کے مقابلے پر جاہلیت کاموقف بدلتا ہے۔
مسلسل ایک ہی مطالبہ... مسلسل ایک ہی جواب!
آخر کیا وجہ ہے تاریخ کے اِن تمام ادوار میں جاہلیت نے اِس دعوت کے مدمقابل یہ ایک ہی ‘متفقہ’ موقف اپنائے رکھا، خصوصاً جاہلیت کی متکبر اشرافیہ (الملأ) نے؟
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً إِلَى قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ أَنْ لا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَراً مِثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ (هود 25 - 27)
اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھيجا کہ میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں کہ نہ عبادت کرو مگر ایک اللہ کی، بیشک میں تم پر ایک مصیبت والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہوئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے سرسری نظر سے اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔
وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُوداً قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكـُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْـرُهُ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ.. قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
(هود 50۔53)
اور عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو کہا اے میری قوم! اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو بڑے مفتری (بالکل جھوٹے الزام عائد کرنے والے) ہو… بولے اے ہود تم کوئی دلیل لے کر ہمارے پاس نہ آئے اور ہم خالی تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے کے نہیں نہ تمہاری بات پر یقین لائیں،
وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحاً قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوّاً قَبْلَ هَذَا أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ
(هود 61 ۔ 62)
اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صا لح کو کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا اور اس میں تمہیں بسایا تو اس سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا، بولے اے صالح! اس سے پہلے تو تم ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے کیا تم ہمیں اس سے منع کرتے ہو کہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کو پوجیں اور بیشک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے ایک بڑے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں۔
وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْباً قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ وَلا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٍ ).. قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلاتُـكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ (هود 84 - 87)
اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کا عذاب کا ڈر ہے… بولے اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں جو چا ہیں نہ کریں ہاں جی تمہیں بڑے عقلمند نیک چلن ہو۔
عرب جاہلیت بھی کوئی نرالی جاہلیت نہ تھی۔ اِس کا بھی اُس دعوت کو جسے ہر رسول لےکر آتا رہا، وہی ایک جواب تھا۔ آخر ایسا کیا عناد تھا جو عرب جاہلیت نے رسول اللہﷺ کے اس مطالبہ کے آگے ویسا ہی ایک رویہ دکھایا جو اس سے پہلے ہر جاہلیت اپنے رسول کے مدمقابل دکھاتی رہی؟
یعنی… یہ لا الٰہ الا الا اللہ کیا ایک لفظ تھا جو اُن عربوں سے بولا نہیں جا رہا تھا!؟ یا اس لفظ کا کوئی مقصود اور مضمون تھا اور اس کا کوئی مطالبہ اور تقاضا تھا جو اُن کو منظور نہیں تھا؟ اور وہ چیز کیا تھی جو اس کلمہ کی ادائیگی کی صورت میں اُن سے طلب کی جارہی تھی اور جو اُن کو پوری طرح معلوم ہوگئی تھی اور جس کا دے دینا اُن کو کسی صورت گوارا نہ تھا؟ اِس کلمہ کی رُو سے: زندگی گزارنے کی وہ صورت کیا تھی جس پر وہ آج تک چلے آئے تھے اور وہ صورت کیا تھی جس کی جانب اُن کو بلایا جارہا تھا یا جس کا اُن کو اندازہ تھا کہ لا الٰہ الا اللہ کہہ دینے کی صورت میں اُن کو وہ اپنانا ہوگی؟
اِس کلمہ کو اگر بغیر کسی مضمون اور بغیر کسی مطالبے کے ہی اُن سے ‘ادا’ کروالیا جانا تھا… تو کوئی وجہ نہ تھی کہ قریش اِس کے مقابلے پر یوں خم ٹھونک کر آئیں اور اِس اِتنی سی بات پر ایسی خونیں کشمکش اور ایسی لامتناہی جنگ کھڑی کر لیں! پھر دیگر عرب بھی اِس کلمہ کے ساتھ آخری دم تک لڑنے کے لیے میدان میں اتر آتے ہیں…، تو اگر اِس کلمہ کا مطلب اُن کے آئینِ حیات کی سرتاپیر تبدیلی نہیں تھا اور معاشرے میں کوئی ہل جل اور کوئی تبدیلی لے آنا اس کلمہ کا قطعی ولازمی مدلول ہی نہیں تھا تو تمام عرب کے سردار اِس کو یوں زندگی موت کا مسئلہ بنا لینے تک کیوں چلے گئے؟
اور خاص قریش کا جہاں تک تعلق ہے، تو یہ وہ ماحول ہے کہ کسی قبیلے میں ایک سربرآوردہ شاعر پیدا ہوجائے تو اُس کا سر آسمان سے جا لگتا۔ اب اگر ایک قبیلے میں نبی پیدا ہوجاتا ہے تو مارے خوشی کے اُس کا کیا حال ہونا چاہئے؟! خصوصاً قریش کے پاس تو عرب کی مذہبی پیشوائی تھی جو اس کو عرب میں سیاسی اور اقتصادی مرکزیت دلواتی تھی۔ ایک ایسے قبیلے میں نبی ظاہر ہوجائے تو اُس کی سرداری کو تو چار چاند لگ جائیں اور اُس کی سیاسی و معاشی برتری کی تو اور بھی دھاک بیٹھے، قریش کے لیے اس میں آخر ڈرنے کی کیا بات تھی؟
خالی ایک کلمہ، نہ کوئی مضمون نہ کوئی تقاضا، دنیا بھی کھری اور آخرت بھی… آخر قریش اِس سے اتنا بدکتے کیوں ہیں؟!
صاف بات ہے زندگی کا ایک دستور وہ تھا جس پر وہ تھے اور ایک دستور وہ تھا جس کی طرف اُن کو بلایا جارہا تھا؛ اور اِن دونوں میں زمین آسمان کا فرق۔
اِن سب قضیوں کا لب لباب یہ دو قضیے تھے اور انہی پر قرآن مجید کی تمام تر ترکیز رہتی ہے:
ایک یہ کہ جنسِ عبادت ایک اللہ واحد قہار کی نذر کی جائے۔
دوسرا، خداکے اتارے ہوئے حلال اور حرام کی اتباع ہونے لگے:
وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهاً وَاحِداً إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ (ص 4 - 5)
اور انہیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہیں میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا اور کافر بولے یہ جادوگر ہے بڑا جھوٹا، کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کردیا بیشک یہ عجیب بات ہے۔
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ (لقمان 21)
اور جب ان سے کہا جائے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کوپایا کیا اگرچہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا ہو
شرک کا یہ لب لباب جو اِن دو قضیوں میں سمیٹ دیا گیا، سورۃ الانعام اور سورۃ النحل میں یکجا بیان ہوا:
سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلا آبَاؤُنَا وَلا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتَّى ذَاقُوا بَأْسَنَا (الأنعام 148)
مشرک کہیں گے کہ اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ ہم کچھ حرام ٹھہراتے ایسا ہی ان کے اگلوں نے جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا
وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلا آبَاؤُنَا وَلا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ (النحل 35)
مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اسکے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اسکے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔
چنانچہ شرک جس مصیبت کا نام ہے وہ اپنی اعتقادی صورت میں یوں سامنے آتا ہے کہ آدمی خدا کے ماسوا معبودوں کا اعتقاد رکھے۔ اور عملی صورت میں یوں سامنے آتا ہے کہ وہ اپنی عبادت کا رخ غیر اللہ کی جانب پھیردے، اور حلال وحرام اور صحیح وغلط کے پیمانے اللہ کو چھوڑ کر کہیں اور سے لے۔
*****
ہم یہ اشارہ کر آئے ہیں کہ ‘‘انکار’’ اور ‘‘مخالفت’’ پر مشتمل یہ موقف کچھ عرب جاہلیت کے ساتھ خاص نہ تھا؛ اس سے پہلے سب جاہلیتیں اِسی وتیرہ پر رہیں۔ سورۃ الانعام اور سورۃ النحل کی یہ آیتیں اِسی تاریخی حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہیں:
كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ‘‘اِن سے پہلے بھی اِسی طرح جھٹلاتے رہے’’
كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ‘‘اِن سے پہلوں کا بھی یہی وتیرہ رہا’’
ہر وہ جاہلیت جس کی جانب رسول بھیجا گیا، ہم دیکھتے ہیں اشرافیہ پوری قوت کے ساتھ رسول کا راستہ روکنے کیلئے آگے بڑھتی ہے، پوری جرأت کے ساتھ اُسکی تکذیب کرتی ہے اور اُسے اپنے موقوف سے پھیر دینے نیزاُسکے پیروکاروں کو اُس سے برگشتہ کردینے کے لیے اپنا پورا زور صرف کردیتی ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں دبے ہوئے ‘‘جمہور’’، ماسوا ایک تھوڑی تعداد، اپنے سرداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور اُنکے ساتھ مل کر انبیاء کا راستہ روکتے ہیں۔
اِس تاریخی کہانی میں … ‘‘جمہور’’ کا اخلاص اپنے معبودوں کے لیے کہیں بڑھ کر نظر آتا ہے۔ معمول اور دستور سے ان کی وابستگی زیادہ پختہ ہے۔ لکڑی اور پتھر کے یہ خدا جمہور کے اِن انحرافات کو طبعی طور پر زیادہ آسودہ کرتے ہیں۔ جمہور جب ان کےلیے بھینٹ چڑھاتے یا بندگی کے کچھ دیگر مراسم ان کے آگے بجا لاتے ہیں تو اپنے اِن خداؤں کے ساتھ ایک باقاعدہ قرب محسوس کرتے ہیں۔
جبکہ اشرافیہ ذرا ‘روشن خیال’ واقع ہوئی ہے۔اس کے نخرے کو بھی کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ رسول کے ساتھ ٹکر لینے میں اِن کا جو محرک ہے وہ اِن خداؤں کی عبادت میں آسودگی پانے سے بڑھ کر اپنا ‘‘اقتدار’’ بچانا ہے!
اشرافیہ کی وابستگی اِن معبودوں کے ساتھ حقیقی سے زیادہ علامتی ہے۔ ان معبودوں کے تحفظ کےلیے اِن کا شور اٹھانا – خواہ اِس حمیت دکھانے میں کتنی ہی گرمجوشی کیوں نہ ہو – اس کے پیچھے ان معبودوں پر اعتقاد سے بڑھ کر جو جذبہ کارفرما ہے وہ یہ کہ یہ معبود جمہور کو غلام بنا رکھنے کا ایک کامیاب و مؤثر ذریعہ ہیں! نیز یہ معبود اشرافیہ کے ‘مقدس اختیارات’ کا ایک روحانی، سماجی اور اخلاقی سرچشمہ ہیں!
پس اشرافیہ کو جو مسئلہ سب سے زیادہ کھلتا ہے وہ فرمانروائی کا ہی مسئلہ ہے، یعنی یہ جمہور کس کے جاری کردہ دستور پر چلیں؟ معاشروں پر اپنا حکم و آئین یہ سردار چلائیں گے… یا اللہ، بذریعہ آسمان سے نازل شدہ شریعت؟
یہ ہے وہ اصل مسئلہ جو ہر جاہلیت میں اشرافیہ کو برانگیختہ کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ لاالٰہ الا اللہ کی دعوت کے ساتھ جنگ کے لیے میدان میں نکل آتی ہے۔
اب جب ان کے پاس خدا کی جناب سے باقاعدہ ایک رسول آکر کہتا ہے: ‘‘نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ، عبادت اور غلامی اُس ایک کی، اُس کے سوا عبادت اور غلامی کسی کی نہیں’’… تو یہ البتہ وہ بات ہےجس کو حیران پریشان ہوکر ہی سنا جائے گا!
ٹھیک ہے اختیارات پر اشرافیہ (الملأ) کے اپنے مابین کھینچاتانی رہتی ہے او ر یہ جھگڑا برابر چلتا ہے کہ ان میں سے کون جمہور کو اپنا بندہ بناتا ہے، نیز کسی وقت یہ کھینچاتانی اشرافیہ اور جمہور کے اپنے مابین ہوجاتی ہے جس کا ایک اظہار جمہوریت میں نظر آتا ہے کہ کتنا اختیار اشرافیہ کے اپنے قبضے میں رہے اور کتنے ٹکڑے جمہور کو ڈال دیے جائیں تو وہ اٍس پر ریجھ جائیں گے اور اشرافیہ کا کام اشرافیہ پر چھوڑ دیں گے۔ البتہ رسول آکر جب کہتا ہے لا الٰہ الا اللہ، اور اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكـُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْـرُهُ ‘‘عبادت اور غلامی اختیار کرلو ایک اللہ کی، نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ’’ تو یہاں پورے کا پورا معاملہ ہی بدل جاتا ہے۔ یہاں کل اختیار ہی بشر کے ہاتھ سے لے لیا جاتا ہے اور اصل مالک کے سپرد کردیا جاتا ہےجوکہ خدائے لم یزل کی ذات ہے، جس کو سزاوار ہے کہ روکے اور ٹوکے۔تحلیل اور تحریم کرے۔
یہاں سے اَشرافیہ کا اِس لا الٰہ الا اللہ سے تنازعہ شروع ہوتا ہے ۔ لا الٰہ الا اللہ سے ان کا خوف کہیں زیادہ ہے بہ نسبت اپنے دنیوی حریفوں کے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے حریفوں کو بھول کر، بلکہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے حریف مل کر، اس دعوت کے ساتھ جنگ پر اتر آتے ہیں۔ جہاں اِس جنگ میں ان گنت ہتھیار برتے جانے ہیں وہاں ایک ہتھیار ‘‘عوام’’ بھی ہیں جن کو اس جنگ میں خوب برتا اور جھونکا جائے گا۔ ان کو ‘معبودوں’ کے واسطے دے دے کر برانگیختہ کرنے کے لیے کسی وقت حقائق سازی ہوگی تو کسی وقت اِس دعوت میں پنہاں ‘خدشات’ پر نگاہیں مرکوز کروائی جائیں گی:
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ (غافر 26)
اور فرعون کہنے لگا "چھوڑو مجھے، میں اِس موسیٰؑ کو قتل کیے دیتا ہوں، اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا"
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَى وَهَارُونَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَأِهِ بِآياتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْماً مُجْرِمِينَ فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هَذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ قَالَ مُوسَى أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَكُمْ أَسِحْرٌ هَذَا وَلا يُفْلِحُ السَّاحِرُونَ قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاءُ فِي الْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ (يونس 75 - 78)
پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو، فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ سو انہوں نے تکبر کیا اور وه لوگ مجرم لوگ تھے پھر جب ان کو ہمارے پاس سے صحیح دلیل پہنچی تو وه لوگ کہنے لگے کہ یقیناً یہ صریح جادو ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا تم اس صحیح دلیل کی نسبت جبکہ وه تمہارے پاس پہنچی ایسی بات کہتے ہو کیا یہ جادو ہے، حالانکہ جادوگر کامیاب نہیں ہوا کرتے وه لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم کو اس طریقہ سے ہٹادو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہےاور تم دونوں کو دنیا میں بڑائی مل جائے اور ہم تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے۔
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْماً فَاسِقِينَ (الزخرف 54)
غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے (ترجمہ جالندھری)
*****
مکہ میں بھی کہانی یہی تھی…
قریش وہ اشرافیہ (ملأ) تھی جو اِس دعوت کا راستہ روکنے کےلیے میدان میں تھی۔ درحقیقت یہ قریش اور محمدﷺ کے مابین جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ قریش اور اس دعوت کے مابین جنگ تھی جسے رسول اللہ ﷺ ان کے سامنے پیش کررہے تھے:
فَإِنَّهُمْ لا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ (الأنعام 33)
سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں
لا الٰہ الا اللہ کا مضمون سمجھنے کےلیے اس بات پر غور کرنا ضروری ہے:
محمدﷺ کی ذات کے ساتھ اُن لوگوں کو کوئی مسئلہ نہیں تو پھر مسئلہ ہے کس کے ساتھ؟
یہ کشمکش جب اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو قریش رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا ایک نمائندہ بھیجتے ہیں جو آپؐ کو پیش کش کرتا ہے کہ آپؐ بادشاہت لے لیں، دولت، اور زندگی کی سب آسائشیں لے لیں، مگر شرط یہ ہے کہ اس دعوت سے دست کش ہو جائیں! خاص رسول اللہﷺ کی شخصیت کے ساتھ اُن کو کوئی پرخاش ہوتی تو یہ پیش کش آپؐ کی ذات کو کیسے ہوسکتی تھی؟ یعنی یہ آدمی تو اُن کو پوری طرح قبول ہے مگر یہ جو بات کہتا ہے وہ کسی صورت قبول نہیں اور اُس سے اِس کو دست کش کرانے کیلئے ہر قیمت دی جاسکتی ہے۔ یعنی یہ دعوت ناقابل برداشت ہے۔ ہاں تو اب یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ جنگ اِس شخصیت کے ساتھ بھی ہوجائے جو اِس دعوت کو لے کر چلنے پر ہی بضد ہے!
*****
پھر خدا کی مشیئت ہوجاتی ہے کہ اِس لا الٰہ الا اللہ پر کچھ نفوس ایمان لے آئیں اور تاریخ کی وہ منفرد ترین جماعت ظہور میں آئے۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ جن نفوس نے اِس لا الٰہ الا اللہ کو قبول کیا اُن کی زندگیوں نے کیا ڈھب اختیار کیا اور ان کے ہاں اِس لاالٰہ الا اللہ کا کیا مدلول ٹھہرا؟!
کیا خالی اِس بات کی تصدیق کہ اللہ ایک ہے!؟ آسمانوں کے اوپر اُس کے سوا کوئی خدا نہیں؟! مجرد اِقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب؟!
یا یہ لا الٰہ الا اللہ اُن کے نفوس میں اور اُن کے معاملاتِ زندگی کے حق میں اس سے کہیں زیادہ بھاری حقیقت تھی؟ کہیں زیادہ بھاری، اور کہیں زیادہ گہری، اور کہیں زیادہ وسیع؟!
آئیے اس کی شہادت اُن کے گردوپیش سے لیتے ہیں…
عرب ایک بکھرا شیرازہ تھا۔ اس کو اکٹھا کردینے والے بے شمار عوامل بڑی دیر سے موجود تھے، پھر بھی وہ اکٹھا ہوکر نہ دیتا تھا۔ عربوں کی دھرتی ایک۔ ماحول اور رسم و رواج ایک۔ زبان ایک۔ ثقافت ایک۔ تاریخ ایک۔ عقائد ہرجگہ ایک سے۔ اِس کے باوجود اس نے کبھی اکٹھا ہوکر نہ دیا تھا۔ اسلام نے اِس بکھرے شیرازے کو لیا اور اُس سے ‘‘خَيۡرَ اُمَّةٍ أخۡرِجَتۡ للنَّاسِ’’ برآمد کر ڈالی!
ایسا نہیں ہے کہ جزیرۂ عرب میں صرف بت ہی وہ خدا ہوں جن کو معبود بنا رکھا گیا تھا، گو تاریخ پڑھانے والی بعض کتابیں ہمیں یہی پڑھانے پر بضد ہیں کہ عرب میں غیراللہ کی عبادت کی بس یہی ایک صورت تھی؛ تاکہ لا الٰہ الا اللہ کا یہ پورا قضیہ عبادت کی اسی لکڑی اور پتھر والی ‘ظاہری’ شکل میں محصور ہوکر رہ جائے! اور نہ ایسا ہےکہ عرب میں پایا جانے والا وہ فساد جس کو یہ لا الٰہ الا اللہ ختم کرانے آیا اُن خاص اخلاقی مفاسد کے اندر محصور تھا جو شراب، جوا، زنا، دخترکشی، لوٹ مار اور سماجی ناانصافی کی صورت میں بیان ہوتا ہے، باوجود اس کے کہ تاریخ کی کتابیں آج ہمیں یہی پڑھانے پر مُصر ہیں!
یہ لا الٰہ الا اللہ نفوس سے ہر قسم کا شرک دھوکر اُن کو اجلا کرتا تھا۔ شرک وہاں کوئی ایک ہی قسم کا نہیں تھا۔ شرک کی متعدد صورتیں تھیں اور ان سب کا لب لباب یہی دو بنیادی قضیے: بہت سے خداؤں کو پوجنا، اور غیر ماانزل اللہ کی اتباع۔
‘‘قبیلہ’’ ایک رب کی حیثیت رکھتا تھا ، جس کی مطلق اتباع ہوتی... جیساکہ جاہلی شاعر کہتا ہے:
وَهَلْ أنَا إلَّا مِنْ غَزِيَّةَ ، إنْ غَوَتْ
غَوَيْتُ، وَإنْ تَرْشُدْ غَزِيَّةُ أرْشَد
میرا تو سب تعلق ہے صرف اور صرف (قبیلہ) غزیہ سے۔ وہ بہکے تو میں لازماً بہکوں گا۔ وہ بھلی راہ چلے تو میں لازماً بھلی راہ چلوں گا۔
‘‘آباء واجداد کا عرف اور دستور’’ باقاعدہ رب تھا جو بے تحاشا پوجا جاتا:
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا (لقمان 21)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ما انزل اللہ کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو جس طریق پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کی پیروی کریں گے
‘‘اھواء’’ اور ‘‘لذتیں’’ محض نفس کا بہکاوا نہیں تھیں؛ باقاعدہ ایک طرزِ اعتقاد کا نام تھا، جس کے باعث یہ ایک معبود تھیں جو خدا کے ماسوا پوجا جاتا:
ألا أيهذا الزاجري أحضر الوغیٰ
وأن أشهد اللذات هل أنت مخلدي ؟ !
اے مجھے اِس بات پر معتوب ٹھہرانے والے کہ میں میدانِ خونریزی میں اترتا ہوں اور لذتوں کے مقامات پہ پایا جاتا ہوں، (میں یہ نہ کروں تو) کیا تم مجھ کو خلود بخش دینے والے ہو؟
پھر قریش ایسے ‘برگزیدہ’ قبائل وہاں پر رب بنے ہوئے تھے۔ جس چیز کو چاہیں حلال کریں اور جس چیز کو چاہیں حرام ٹھہرائیں۔ نیز بتوں کے نام پر احکام جاری کرنے والے ‘‘کاہن’’ اور ‘‘پروہت’’:
إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَاماً وَيُحَرِّمُونَهُ عَاماً لِيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ () فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللَّهُ زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمَالِهِمْ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
(التوبۃ 37)
مہینوں کا آگے پیچھے کرنا کفر میں ایک مزید کافرانہ حرکت ہے جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں کسی سال ایک مہینے کو حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال اُس کو حرام کر دیتے ہیں، تاکہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کر دیں اور اللہ کا حرام کیا ہوا حلال بھی کر لیں ان کے برے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں اور اللہ منکرین حق کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيباً فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ وَكَذَلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ وَقَالُوا هَذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُها وَأَنْعَامٌ لا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ سَيَجْزِيهِمْ بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَى أَزْوَاجِنَا وَإِنْ يَكُنْ مَيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلادَهُمْ سَفَهاً بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ (الانعام 140 - 136)
اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے۔ اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔ اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے۔ جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔
شرک کی اِن تمام صورتوں کے مدمقابل، جوکہ ظاہر ہے بتوں کی پوجا میں قید نہ تھیں، سب کو ایک درجے کی بربادی قرار دیتے ہوئے، قرآن ان کو کلمہ لاالٰہ الا اللہ کے تحت شرک سے نکل آنے کی دعوت دے رہا تھا۔ اِس شرک سے اور شرک کے اِن تمام مظاہر سے اُن کے نفوس کو بھی پاک کیا جانا تھا، ان کے قلوب کو بھی، وجدان اور احساسات کو بھی، رویے اور سلوک کو بھی۔ رسول اللہﷺ کا وہ جہادِعظیم جو مکہ میں تیرہ سال تک چلا شرک کی اِن سب صورتوں پر تیشے برسانے سے عبارت تھا۔
مرکر جی اٹھنے اور حساب کے لیے پیش ہونے کا تصور اُن کے ذہنوں میں بٹھانے پر بلاشبہ محنت ہوئی، اور قرآن نے مکہ میں مشرکین کوجو خطاب کیا اُس کا ایک بڑا حصہ اسی بعث بعد الموت کے مسئلہ نے لیا۔ وجہ یہ کہ علمِ خداوندی کی رُو سے یومِ آخرت پر ایمان ہی وہ چیز ہے جو شرک میں گڑے ہوئے اِن انسانوں کو اس دلدل سے نکال لانے اور شرک کی جملہ انواع سے اُن کو پاک کرنےکے لیے مطلوب ہے۔ جو شرک دلوں تک اترا اور ذہنوں کے اندر جما بیٹھا ہو اُس کو وہاں سے کھرچنے کے لیے ایمان بالآخرت کے سوا کیا چیز کام دے سکتی ہے۔ نفوس کو اس توحید پر برقرار رکھنے اور اس کے تقاضوں کو نفوس میں گہرا اتارنے کے لیے ایمان بالآخرت کے سوا کونسا نسخہ ہے۔ شرک وہ جرم ہے جس کی پاداش اِس محدود جہان میں ممکن ہی نہیں۔ توحید اور اس سے پھوٹنے والے اعمال وہ خوبی ہے جس کی جزا اس فانی جہان میں سمانے کی ہی نہیں۔ یوں یہ لا الٰہ الا اللہ اِس جہان کا نہیں بلکہ ایک ابدی جہان کا مسئلہ ٹھہرتا ہے اور اِس محدود جہان سے اور اس کی خوشیوں اور غموں اور اس کی راحتوں اور اس کی مصیبتوں سے ماوراء ہوجاتا ہے۔ البتہ یہ ایمان بالآخرت کا مسئلہ بدستور لا الٰہ الا اللہ کا مسئلہ رہتا ہے۔
*****
اِس لا الٰہ الا اللہ کے ذریعے نفوس کو شرک سے اور شرک کی تمام صورتوں اور تمام رنگوں سے آزاد کرالیا گیا؛ اور نفس کے وہ سب خطے جہاں شرک بستا تھا اُن میں خالص اللہ کی عبادت بھر دی گئی… تو اَب اِن نفوس میں ایک حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوئی، گویا یہ کوئی نیا جنم تھا۔
خالی اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب نہیں، ایک بالکل نیا جنم!
توحید، جیساکہ ہم نے اپنی کسی اور کتاب میں ذکر کیا، نفس کے ذرات کو بالکل ایک نئی ترتیب دے ڈالنا ہے؛ عین وہ تاثیر جو لوہ چون پر مقناطیس کے عمل سے ہوتی ہے؛ لوہے کے بے جان ذرات میں ایک کرنٹ دوڑ جاتا ہے!
وہ ‘‘حق’’ جو زمین وآسمان کی ساخت میں بولتا ہے، اُس کی راہ پالینے اور اُس کی جانب یکسو ہوجانے سے نفس پر ایک عجب واردات گزرتی ہے۔ جہان کی سب سے بڑی حقیقت لا الٰہ الا اللہ اس پر آشکار ہوتی ہے تو یہ اپنی اُس بے جان حالت سے نکل آتا ہے۔ وہ ‘‘حق’’ اِس پر بجلیاں گراتا ہے تو اِس کی سکنات چلی جاتی ہیں اور یہ زندگی، حرکت اور حرارت ایسے بے شمار مفہومات سے آشنا ہوتا ہے۔
جھوٹے ارباب اور آلہہ جو اِس نفس پر براجمان تھے، قلب پر چڑھے بیٹھے، روح پر قابض، سوچ پر حاوی اور رویے اور سلوک میں بولتے تھے… اِن ارباب اور اِن آلہہ کو یہاں سے اٹھا دینے کے بعد یہاں اللہ واحد قہار کی محبت، خشیت، طلب، چاہت اور عبادت گھر کرلیتی ہے، تو کیسے ہوسکتا ہے اِس زندگی میں ایک نیا واقعہ جنم نہ لے!
یہ جھوٹے آلہہ جیسے ہی گرے، اُن سے وابستہ سب عُرف، رواج، دستور دھڑام دھڑام گرنے لگے۔ ان کا اہتمام اور التزام کرانے کے سب آداب تہِ خاک ہوئے…
‘‘قبیلہ’’ اپنی وہ حیثیت کھو گیا جو اِس لا الٰہ الا اللہ سے پہلے اُس کو حاصل تھی۔ ‘‘قومی روایات’’ اور ‘‘آباء واجداد کا طریقہ ودستور’’ آسمان کی اِس روشنی میں حرفِ غلط ٹھہرا۔ موروثی عادات و رُسوم کو پرِکاہ کی حیثیت بھی حاصل نہ رہی۔ نہ خون کے رشتے اور نہ مفادات کے رشتے ، کوئی چیز ایسی نہ رہی جو اِن نفوس کو جوڑ سکے یا توڑ سکے۔ اِن کا جڑنا اب توحید کے لیے، اور ان کا ٹوٹنا اب توحید کے لیے…
اور دنیا کے یہ رشتے ہی کیا، خود یہ دنیا… اپنے سب دستوروں اور اپنے سب بندھنوں سمیت مچھر کے پر برابر حیثیت نہ رکھنے لگی۔ دنیا کی سب رنگینیاں اور سب لطافتیں اِس لاالٰہ الا اللہ کے مقابلے پر اپنا سب لطف اور لذت کھودینے لگیں۔ اشیاء کے مول اور قدریں طے کرنے والی اب یہ ‘‘دنیا’’ نہ تھی بلکہ اس کے لیے ‘‘آخرت’’ کا میزان نصب تھا!
یہی لا الٰہ الا اللہ اجتماع کا محل اور یہی افتراق کا۔ ٹوٹنا اور جڑنا بس اب اِسی بنیاد پر… دل اس سے جڑتے ہیں تو پھر اسی کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ اور پھر اِس کے ماسوا کسی چیز کے گرد جمع ہونے کے روادار نہیں رہتے۔ اور وہ جو اِس رشتے کو گلے لگاتے ہیں تو باقی سب رشتے ان کی نگاہ میں ہیچ ہوجاتے ہیں۔قوم، ملک، سلطنت، رنگ، نسل، زبان… کوئی چیز اِن کی اجتماعیت کی اساس نہیں رہتی؛ ‘‘عقیدہ’’ اِن سب کو ہٹا کران کی جگہ لے لیتا ہے۔ جتھہ بندی ہوگی تو اب لاالٰہ کی بنیاد پر؛ اجتماع و شیرازہ بندی کی سب پرانی اشکال ہمیشہ کیلئے متروک اور کالعدم۔
پھر رسول اللہ ﷺ جو ان کو اس لا الٰہ الا اللہ کی راہ دکھلانے آئے اور جن کے ذریعے یہ رسالت ان تک پہنچی… طویل ساعتیں ان کو دار الارقم میں لے کر بیٹھتے ہیں، جہاں تاریخ انسانی کا وہ عظیم ترین عمل انجام پاتا ہے؛ یعنی تاریخ کے منفرد ترین جتھے کی تربیت، جس کا محور ہے مطالباتِ لا الٰہ الا اللہ اور اخلاقیاتِ لا الٰہ الا اللہ۔ اور یہاں سے تاریخ کے اسٹیج پر ‘‘خَيۡرَ اُمَّةٍ أخۡرِجَتۡ للنَّاسِ’’کا ظہور ہوتا ہے…
‘‘شہادت’’نہ کہ محض‘اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب’!
کثیر خلقت کا خیال ہے: یہ لا الٰہ الا اللہ اسلام کی اُس پہلی پود سے تو اپنے اُن تمام تر تقاضوں اور اپنے تمام تر آثار کے ساتھ ہی مطلوب تھا، کیونکہ اس سے پہلے وہ تھے ہی مشرک! البتہ اگر ان کو کوئی ایسی (خصوصی) صورتحال درپیش نہ ہوتی تو اُن سے جو کل مطلوب ہوتا وہ یہی ‘‘اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب’’ ہوتا!!
اور یہ وہ زیادتی ہے جو ‘‘اِرجائی فکر’’ امتِ اسلام کے حق میں کرتا چلا آیا ہے۔ یہ وہ فکر ہے جو کچھ دیگر عوامل کے ساتھ مل کر لا الٰہ الا اللہ کو اُس کے اصل مضمون content سے خالی کردینے کے لیے کوشاں رہا ہے؛ جس کے نتیجے میں یہ کلمہ اندر سے کھوکھلا اور روح سے سراسر خالی کرکے رکھ دیا گیا۔
قبل اس کے کہ ہم ‘‘ارجاء’’ کی کج فکری زیربحث لائیں، ہم ذرا دیر کیلئے یہ جائزہ لیں گے کہ اہل ایمان کے ساتھ اِس لا الٰہ الا اللہ کی مدینہ میں کیا صورت رہی تھی۔
جیساکہ ہم نے کہا، اِس لا الٰہ الا اللہ پر بات ہونا مدینہ جا کر موقوف نہیں ہوگیا تھا؛ کیونکہ یہ وہ بات ہے ہی نہیں جسے آپ ایک بار کہہ دیں تو پھر اگلے کسی موضوع کی طرف منتقل ہوجائیں؛ بلکہ یہ وہ بات ہے جو پہلے آدمی کو اِس راہ پر لاتے وقت بتلائی جاتی ہے، اور پھر جب ایک بار وہ راستے پر چڑھ آتا ہے تو پورا راستہ اُس کے ساتھ یہی بات چلتی ہے؛ اسے چھوڑ کر آپ نئے موضوع کی جانب منتقل نہیں ہوتے بلکہ اِس کو ساتھ لے کر ہی آپ ہر نئے موضوع کی جانب منتقل ہوتے ہیں۔
اِس بات کو واضح کرنے کے لیے مدنی سورتوں سے چند نمونے دیکھ لیتے ہیں:
‘‘البقرۃ’’ بے شمار موضوعات پر مشتمل ایک سورت جو قیامِ ریاست کے بعد، ایک نوخیز معاشرے کی تنظیم اور تعمیر کا آغاز کراتی ہے: اِس کی ابتداء اہل ایمان کا وصف بیان کرنے سے ہوتی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اعتقاد راسخ اور درست شکل پر تشکیل پاچکا ہے، اور جو اپنا تصور اور اعتقاد درست کرلینے کے بعد اُن عبادات کی ادائیگی پر یکسو ہیں جو خدا نے ان پر عائد فرما رکھی ہیں:
الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدىً لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ أُولَئِكَ عَلَى هُدىً مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرة 1-5)
الم۔ یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں۔
اب یہاں جو ‘‘مومنون’’، ‘‘متقون’’ اور ‘‘مفلحون’’ ہمارے سامنے آتے ہیں، جو نہ صرف ‘‘اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب’’ کی شرط پوری کرچکے ہیں بلکہ نماز اور زکاۃ کے معاملہ میں بھی نہایت خوب پورا اتر رہے ہیں، اور جبکہ یہی وہ دو عبادتیں ہیں جو اُس وقت تک کےلیے اُن پر فرض تھیں… ان کو ‘مزید’ کیا ہدایات دی جاتی ہیں؟
کیا اُن کو اب یہ کہا جاتا ہے کہ تم سے جو مطلوب تھا وہ پورا ہوا اور معاملہ ختم…؟ چلیں کچھ فرائض کو ابھی باقی مان لیتے ہیں؛ تو کیا اب اِن ‘باقی ماندہ فرائض’ کی کوئی فہرست اُن کو جاری کرکے دی جاتی ہے کہ مزید تمہیں اب یہ اور یہ کرنا ہے اور یہ اور یہ ذمہ داری نبھانی ہے؟
یا پھر… اُن کو کوئی ایسی بات بتائی جاتی ہے جو وہ اِس سے پہلے بہت بار سن چکےہیں؟ تاکہ اُن کو معلوم ہو کہ حقیقتِ ایمان جس چیز کا نام ہے وہ محض ‘اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب’ سے پوری نہیں ہوجاتی؟ اِس کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقیقت اپنی اُسی روح کے ساتھ باربار اور مسلسل اپنے آپ کو دہرائے؛ اور اس کا اعتبار اُس وقت تک نہیں جب تک کچھ معیّن اعمال اُس کا واقعاتی ثبوت نہ بنیں:
لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرة 177)
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اللہ پر اور یوم آخر پر اور ملائکہ پر اور کتاب پر اور نبیوں پر اور خرچ کرےاپنا مال اللہ کی محبت میں رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلامو ں کی رہائی پر ، اور قائم کرے نماز اور ادا کرے زکوٰۃ، اور وہ لوگ کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں ثابت قدم رہ کر دکھائیں… یہی ہیں ہیں راستباز اور یہی ہیں متقی۔
پھر ‘‘آلِ عمران’’ ہے تو یہاں شروع سے لے کر آخر تک لا الٰہ الا اللہ کا مسئلہ چلتا ہے، اور جس کا آغاز ہی اِن کلمات سے ہوتا ہے:
الم اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْأِنْجِيلَ مِنْ قَبْلُ هُدىً لِلنَّاسِ وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ .. (آل عمران 1-4)
الف لام میم۔ اللہ، جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، جو الحی ہے، القیوم ہے۔ اتارنے والا تجھ پر کتاب برحق، جو تصدیق کرنے والی ہے اس سے پہلے اترنے والی کتابوں کی، اُسی نے اتاری اس سے پہلے تورات اور انجیل، انسانوں کی ہدایت کے لیے، اور اب یہ فرقان اتارا۔
سورت میں آپ جابجا دیکھتے ہیں اصولِ عقیدہ ہی کا تقرر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مسلسل عقیدہ کا بیان چلتا ہے؛ اسلوب نہایت زوردار اور فیصلہ کن۔ ‘‘ایمان’’ کے شجر سے ‘‘اعمال’’ پھوٹتے چلے جاتے ہیں جوکہ ایمان کے واجبات اور مطالبات کہلاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک بڑا مطالبہ اب ‘‘قتال’’ کی صورت میں سامنے آتا ہے؛ اِس لاالٰہ الا اللہ کو زمین میں تمکین دلوانے کے لیے اور دھرتی پر اِس کے پیر جمانے کے لیے۔’’قتال’’ کا یہ سبق پیرائے بدل بدل کر جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ ہم اس آخری سبق پر پہنچ جاتے ہیں؛ جہاں عمل کو ایمان سے برآمد کرانے کی تربیتی جہتیں اپنے عروج پر چلی جاتی ہیں:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآياتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتـِهِمْ وَلَأُدْخِلَنّـَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَاباً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ
(آل عمران 190 - 195)
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔ اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا۔ اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا۔ تو ان کے پرردگار نے ان کی دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا تم ایک دوسرے کی جنس ہو تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کردوں گا اور ان کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (یہ) خدا کے ہاں سے بدلہ ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے۔
چنانچہ یہ مومنین صادقین… جو کھڑے بیٹھے اور لیٹے خدا کو یاد کرتے ہیں، اعضاء سے لے کر دل تک یہاں خدا کی تعظیم بستی ہے، صبح شام یہ آسمانوں اور زمین کی ساخت میں غور کرتے ہیں، اور بار بار اس حقیقت تک پہنچتے ہیں کہ یہ سب کچھ عبث پیدا نہیں ہوا بلکہ ایک حق پر پیدا ہوا اور حق پر قائم ہے، اور یہ حق متقاضی ہے کہ انسان نام کی مخلوق اپنے دنیوی اعمال کا حساب دینے کےلیے ایک دن مالکِ کائنات کی بارگاہ میں کھڑی ہو، یعنی لازم ہے کہ مر کر جی اٹھنا اور حساب اور جزا کے مراحل سے گزرنا پڑے، تو اب یہ لوگ دوزخ سے خدا کی پناہ مانگنے لگتے ہیں اور سرخرو ہوجانے کے لیے دعاگو ہوتے ہیں۔ اپنی دعاء میں جو وسیلہ پیش کرتے ہیں وہ یہ کہ انہوں نے ایمان کی منادی کرنے والی ایک ہستی ﷺ کو محض سن کر ایمان کی راہ اختیار کرلی؛ اور اب اِس پر وہ خدا کے ہاں باریابی کے خواستگار ہیں۔ ایسے اعلیٰ پائے کے مومن، اوپر سے ایسی ایسی مناجات؛ اب جواب آتا ہے: فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ‘‘پروردگار نے ان کی سن لی’’۔ مگر کس چیز کے بدلے سن لی؟ کیا محض ‘‘اقرارٌ’’ اور ‘‘تصدیقٌ’’کے بدلے؟ کیا محض تفکر اور تدبر کے عوض؟ کیا اُس ہمہ وقتی ذکر کے سبب؟ کیا اُس گریہ زاری کے عوض اور محض اُن دعاؤں اور مناجاتوں کے طفیل؟ یا کسی ایسی چیز کے عوض جو اِن سب باتوں کا ایک واقعاتی ‘‘تقاضا’’ اور عملی ‘‘ثبوت’’ ہے:
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ پروردگار نے ان کی سن لی کہ: میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا
یہاں ہے وہ تربیتی نکتہ: جو چیز خدا کو ‘‘مطلوب’’ ہے، اور جس پر وہ ‘‘ان کی سن لیتا ہے’’، وہ یہ کہ… یہ تفکر، یہ تدبر، یہ یادِ الٰہی، یہ دعاء ومناجات اور یہ حمد و تسبیح ایک جیتے جاگتے عمل میں ڈھلے۔ چونکہ وہ عمل جس کا یہ سورت جابجا ذکر کرتی آئی ہے وہ جہاد ہے جو اِس لا الٰہ الا اللہ کو زمین میں تمکین دلوانے کے لیے اِس کے دعویداروں پر فرض ہے؛ لہٰذا سورت نے یہاں پر ‘‘عمل’’ کی اُن انواع کا ذکر کیا جو اِس سورت کے عمومی سیاق کے موافق ہو؛ چنانچہ یہاں ‘‘عمل’’ کے جو نمونے ذکر ہوئے وہ ہیں: وہ لوگ جو اِس لا الٰہ الا اللہ کی خاطرہجرتوں میں لگے ہیں، جو اِس لا الٰہ الا اللہ کی خاطر اذیتیں سہہ رہے ہیں، جو اِس راہ میں مارے جا رہے ہیں اور اِس کی خاطر ہتھیار اٹھا کر کھڑے ہیں… ان کی خدا نے سن لی!
اِس وجہ سے نہیں کہ دین میں بس یہی اعمال آتے ہیں اور دوسرا کوئی بھی عمل نہ ہو تو خدا ایسے لوگوں کی سن لیتا ہے؛ بلکہ اِس وجہ سے کہ سورت کے عمومی سیاق کے ساتھ اِنہی اعمال کا ذکر ایک خاص مناسبت رکھتا ہے۔
پھر سورۃ النساء، جس میں يا أيها الذين آمنوا کے الفاظ سے خطاب کرلینے کے بعد ایمان کا حکم دیا جاتا ہے، اور ایمان بھی اُنہی اشیاء پر جن پر وہ اس سے پہلے ایمان لاچکے ہیں… ایمان کے بہت سے عملی جوانب لے کر آتی ہے۔ یہ بتانے کے لیے کہ ایمان صرف اس چیز کا نام نہیں کہ قلب و وجدان تو ایمانی احساسات سے لبریز ہوں جبکہ رویے اور سلوک میں اور عملی تصرفات کے اندر یہ حقیقت بول تک نہ سکے؛عمل اور سلوک میں اور معاملاتِ زندگی کے اندر وہی اھواء اور وہی قومی عرف اور دستور اور باپ دادا سے چلے آئے ہوئے طریقے اور روایات چلیں۔ تقسیم ترکہ کے احکامات نازل کیے جاتے ہیں تو اس کو ایمان کی عین اسی حقیقت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے:
تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَاراً خَالِداً فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ (النساء 13 - 14)
یہ (تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا اس کو خدا دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا۔
اور اِس بنیاد پر ان کو خانگی، سماجی، سیاسی، معاشی اور جنگی ہدایات دینے کا عمل جاری ہوجاتا ہے، اور اُس مرجع reference کا خصوصی ذکر، جو اِس پورے معاملے میں اصل مرکزی حیثیت رکھتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ.. (النساء 59)
اے لوگو جو ایمان لائے ہوئے، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔
اِن سب امور کو لوٹا دینا اللہ کی طرف اور اُس کے رسولؐ کی طرف، اور سب معاملاتِ زندگی کو اللہ اور اُس کے رسول کے فیصلے پر چلانا… اِس کو باقاعدہ جوڑا جاتا ہے اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان کے ساتھ، اور وہ بھی باقاعدہ ایک شرط بنا کر:
إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ اور روز آخر پر۔
پھر بتایا جاتا ہے کہ رسولوں کو وہ محض ‘پیغام رسانی’ کے لیے نہیں بھیجتا؛ کہ چلیں رسول نے بات پہنچادی اور معاملہ ختم، ‘‘اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب’’ تو ہی ہوچکا، بلکہ فرمایا کہ رسول کو وہ اس لیے بھیجتا ہے کہ زمین پر مطلق اُس کی اطاعت ہو:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ ..(النساء:64)‘‘ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذن خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے’’
اور پھر اپنے بے شمار حکم اور فیصلے سنا دینے کے بعد، اور اوامر اور نواہی اور ہدایت نامے کثیر تعداد میں جاری فرمادینے کے بعد، ‘‘الذين آمنوا’’ کو ان کا پابند کرایا جاتا ہے تو معاملے کی سنگینی ایک بار پھر ان پر واضح کی جاتی ہے کہ ایمان محض تمنائیں اور آرزوئیں کرلینے کا نام نہیں، بلکہ یہ اُس ‘‘تصدیق’’ کا نام ہے جوقدم قدم پر ‘‘عمل’’ کی صورت میں اپنا ثبوت دیتی ہے:
لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ وَلا يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيّاً وَلا نَصِيراً وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلا يُظْلَمُونَ نَقِيراً (النساء 123 - 124)
(نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اس کا بدلا مل کر رہے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مددگار۔ اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ صاحب ایمان ہو تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔
اس کے بعد سورۃ المائدۃ ہے جس کی ابتدا میں ہی دین کی تکمیل ہوجانے کا اعلان کیا جاتا ہے:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْأِسْلامَ دِيناً (المائدة 3)
آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے
یہ پوری سورت اس بات کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا حلال کیا ہے اور کیا حرام۔ کھانے سے لے کر پینے کی اشیاء تک، اور بیاہ سے لے کر دیگر معاملاتِ زندگی تک،’’الذين آمنوا’’ سے مسلسل خطاب ہے اور ایک کے بعد ایک ہدایت جاری کی جارہی ہے، شروع سورت ہی اِس لفظ سے ہے:
يَا أيُّهَا الَّذِينَ آمَنَوا أوفُوا بِالعُقُودِ.. اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔
اور یہ وہ سورت ہے جس میں خدا کی اتاری ہوئی شریعت کی جانب تحاکم (فیصلے لے کرجانا) کا مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کرلیتا ہے، اس شریعت کے سوا ہر شریعت سے دسبتردار ہوجانا ایمان کا ایک سنگین ترین مسئلہ قرار پاتا ہے، بلکہ یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ حکم و دستور دنیا کے اندر ہیں ہی دو قسم کے؛ تیسری کوئی قسم ہی نہیں ہے: یا حکمُ اللہ ہے یا حکمِ جاہلیت؛ یا دستورِ خداوندی یا دستورِ جاہلیت:
أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْماً لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ (المائدۃ: 50)تو کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک فیصلہ کرنے میں اللہ سے بہتر کوئی نہیں ہے
نیز یہ کہ جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی کافر، ظالم، فاسق ہیں:
وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (المائدۃ: 44)
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں
وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (المائدۃ: 45)
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں
وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَل اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (المائدۃ: 47)
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں
اور یہی حال باقی سب مدنی سورتوں کا ہے۔ سب جگہ ‘‘الذين آمنوا’’ سے خطاب ہے، یعنی… جو لوگ بہت پہلے ‘اقرار اور تصدیق’ کرآئے ہیں ، ان پر جابجا واضح کیا جارہا ہے کہ یہ ‘‘اقرار اور تصدیق’’ جو تم مکہ سے ساتھ لے کر آئے، حتیٰ کہ مکہ سے تمہارا ہجرت کرآنا، جبکہ یہ ہجرت ایمان کا ایک کٹھن فرض تھا جو تم نے نہایت خوب پورا کیا، نیز وہ انصار جنہوں نے ‘‘اقرار اور تصدیق’’ کا فرض بہت پہلے پورا کرلیا تھا اور اس کے ساتھ ہی تم نے رسول اللہﷺ اور آپؐ کے اصحاب کےلیے اپنے گھرنہیں بلکہ دل کھول کر رکھ دیے تھے… تمہارا یہ سب کچھ کرلینا ایمان کے اِن تازہ فرائض اور ذمہ داریوں اور اِن مزید اوامر و نواہی سے کفایت کرنے والا بہرحال نہیں، بلکہ اُس سب کا معتبر رہنا اب اِس بات سے جڑ گیا ہے کہ جو کچھ خدا کی جناب سے آئے وہ تمہارے یہاں مطلق اطاعت اور تابعدری پائے…نیز یہ کہ: یہ ہے کسوٹی اُن کے ‘‘اقرار’’ اور ‘‘تصدیق’’ کو جانچنے کے لیے، اور یہ کہ ان کا یہ ‘‘اقرار’’ اور ‘‘تصدیق’’ اگر اس کسوٹی پر پورا اتر کر نہیں دیتا تو وہ ‘‘نفاق’’ ہے جو خدا کے ہاں قبول نہیں ہوتا بلکہ نفاقِ اکبر کی جو سزا ہے وہ تو جہنم کا بھی درکِ اسفل ہے:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُـوا إِلَى الطَّاغُـوتِ وَقَـدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيـدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالاً بَعِيداً... فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيماً (النساء 60۔ 65)
اے نبیؐ! تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اُس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں، مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا شیطان انہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے … … نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں
وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُولَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ بَلْ أُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (النور 47 - 52)
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔ جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف، تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آ جاتے ہیں۔ کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا) روگ لگا ہوا ہے؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں۔ ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلا ئے جائیں تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرا (النساء 145)
یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائینگے اور تم کسی کو اُن کا مدد گار نہ پاؤگے۔
یہ ہے ‘‘ایمان’’ کی وہ تصویر جو ہمیں مدنی سورتیں دکھاتی ہیں؛ اول تا آخر لا الہٰ الا اللہ کے حدود اور مطالبات۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس دن یہ دین مکمل ہوتا ہے لاالٰہ الا اللہ یہاں زندگی کے ایک پورے منہج کے طور پر سامنے آجاتا ہے، اس کا ایک گوشہ اعتقاد ہے۔ ایک گوشہ عبادت ہے۔ اور ایک گوشہ عمل اور سلوک اور رویہ اور اخلاق۔
مکی سورتیں اگر اِس لا الٰہ الا اللہ کے اعتقادی جوانب پر زیادہ زور دیتی ہیں مانند اللہ، آخرت، ملائکہ، کتاب، انبیاء، اور قدر پر ایمان، نیز لا الٰہ الا اللہ کے اخلاقی جوانب اور مکہ میں اب تک فرض ٹھہرادیے جانے والے شعائر عبادت پر توجہ مرکوز کرواتی ہیں… تو مدنی سورتیں مسئلۂ حاکمیت پر خاص زور دیتی ہیں اور خدائی شریعت کو دستور بنا رکھنے اور غیر اللہ کی شریعت سے مطلق دستبرداری کروا دینے پر توجہ مرکوز کراتی ہیں؛ بلکہ اس کو ایمان کی کسوٹی ٹھہراتی ہیں؛ اور اس کے ساتھ اخلاقی جوانب پر زور صرف کرواتی ہیں اور تفصیلِ احکام کے ساتھ ساتھ مدینہ میں مشروع ٹھہرائی جانے والی عبادات پر توجہ مبذول کرواتی ہیں…
تاہم یہ سمجھنا درست نہ ہوگا کہ حاکمیت کا یہ مسئلہ مدینہ میں جا کر ہی بیان ہونے لگا۔ حاکمیت یعنی تشریع کا حق ایک اللہ کو ہے، حلال اور حرام کا تقرر صرف اُس و سزاوار ہے۔ روکنا اور ٹوکنا صرف اُس کو سزاوار ہے اور کوئی بشر اِس میں اُس کا شریک نہیں، اور یہ کہ اُس کے اتارے ہوئے کی جگہ پر تشریع کرنا اور انسانوں کے لیے روا و ناروا کے پیمانے صادر کرنا اُس کے ساتھ شرک ہے، نیز ‘‘ما اَنزلَ اللہ’’ سے متصادم تشریع کرنے والوں کی اطاعت کا دم بھرنا اللہ کے ساتھ شرک ہے…
یہ سوچنا ایک بہت بڑی غلط فہمی ہوگی کہ خدا کے اِس حق کا مسئلہ، جسے ہم نے حاکمیتِ خداوندی کہا ہے، مدینہ میں جاکر سامنے آیا جہاں تشریعات نازل ہونے لگی تھیں اور مسلمانوں کی زندگی کو ایک خاص ڈھب پر چلائے جانے کا عمل اپنے بے شمار پہلوؤں سے انجام پانے لگا تھا۔ حق یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک نہایت صریح اور فیصلہ کن انداز میں مکہ کے اندر ہی سامنے لے آیا گیا تھا اور ایک سے زیادہ مکی سورتوں میں اس کا بیان امر کردیا گیا تھا، اور وہ بھی باقاعدہ اصولِ اعتقاد کی صورت میں، اور لا الٰہ الا اللہ کے اخص الخاص معانی کے بیان کے سیاق میں، نہ کہ فضائل اور سلوک کے ضمن میں۔
اب یہ ایک مکی سورت ہے:
اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلاً مَا تَذَكَّرُونَ (الأعراف: 3)
لوگو، جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو
یہ آیت کیا معنیٰ دیتی ہے؟
یہی کہ لوگ دو حالتوں سے باہر نہیں؛ ایک ایمان ہے اور دوسری شرک۔
ایمان کا حکم دیا جاتا ہے:اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ
اور شرک سے ممانعت:وَلا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
اِسی سورۃ الاعراف میں پھر یہ آیت آتی ہے:
أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ (الأعراف: 54) آگاہ رہو! تخلیق بھی اُس کی حکم بھی اُس کا
اِس آیت میں حصر restriction کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور جبکہ ‘‘امر’’کا لفظ مطلق آیا ہے؛ یعنی آسمانوں میں بھی حکم اُس کا اور حیاتِ انسانی میں بھی حکم ایک اُسی کا۔ اور اس کا تعلق براہِ راست اُس کے خالق ہونے کے ساتھ ہے؛ یعنی جس نے اِس مخلوق کو پیدا کیا ہے وہی اس مخلوق کو حکم بھی دے سکتا ہے، اُس کے سوا نہ کوئی پیدا کرے اور نہ حکم دینے کا حق رکھے۔
اور یہ سورۃ الشوریٰ، جوکہ ایک مکی سورت ہے:
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (الشورىٰ: 10)تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے وہی اللہ میرا رب ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں
یہ آیت بھی اُسی اصول کا تقرر کرتی ہے؛ یعنی سب انسانی نزاعات کو خدا کی جانب لوٹایا جانا، اور فرمایا ‘‘من شیءٍ’’ یعنی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز کیوں نہ ہو، علی الاطلاق، ‘‘فَحُکۡمُہٗ إلَی اللّٰہِ’’، حکم اور فیصلہ خدا کا۔ کسی چیز کا حلال ہونا، حرام ہونا، مباح یا مکروہ یا مستحب ہونا، شریعت کی رو سے طے ہوگا۔ اِس سے متصل پہلے کی آیت بھی عین وہی مبحث بیان کرتی ہے جو پیچھے سورۃ الاعراف کی آیت میں گزرا:
أَمِ اتَّخَـذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ وَهُوَ يُحْيِي الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الشوریٰ: 9) تو کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر سرپرست پکڑ لیے ہیں، تو پھر اللہ ہی ہے سرپرست، اور وہی ہے مردوں کو زندہ کرلینے والا، اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا۔
پس حکم اور قانون کا معاملہ ہر ہر چیز میں اللہ کی طرف لوٹا دینا ایمان ہے، اور اس سے سرتابی کرنا اللہ کے ماسوا سرپرست پکڑ لینا، جوکہ شرک ہے، اور نرا باطل ہے، کیونکہ اللہ ہی ہے سرپرستِ برحق، جو مردوں کو زندہ کرسکتا ہے اور قادرِ مطلق ہے۔
پھر اسی سورت میں ذرا آگے چل کر یہ مقام آتا ہے:
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ (الشوریٰ:21)کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟
تاہم سورۃ الانعام کی آیات شاید اس سے کہیں زیادہ مفصل ہیں:
أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَماً وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلاً وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَنْ يَضِلُّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآياتِهِ مُؤْمِنِينَ وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ وَإِنَّ كَثِيراً لَيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ وَذَرُوا ظَاهِرَ الْأِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْأِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ (الأنعام 114 - 121)
تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے؟ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔ تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ اور اے محمدؐ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ در حقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے۔ پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاؤ۔ تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے۔ اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ، ایسا کرنا فسق ہے شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو۔
اِس مقطع کا آغاز ہی اِس انکاری سوال سے ہوتا ہے: أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَماًیعنی ‘‘کیا میں اللہ کے ماسوا کسی کو فیصل مان لوں’’؟ جس کا مطلب ہے، حاکمیت ہے ہی اللہ کی۔ وہی ہے جس کو فیصل مانا جائے گا، اور کسی اور کی یہ حیثیت نہیں کہ کسی مسئلے میں اُس کی بجائے کسی اور کے فیصلے کی طرف رجوع ہو۔ پھر یہ سوال اٹھانے کے بعد آیت کہتی ہے: وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلاً‘‘جبکہ وہ ہستی ہے جو تمہاری طرف کتاب کو مفصل صورت میں اتار چکی ہے’’، جس کے بعد کسی کے پاس کوئی حجت ہی نہیں رہ جاتی؛ یہ مفصل کتاب ہے، اس نے کوئی چیز بیان کرنے سے چھوڑی ہی نہیں ہے۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ یہ ایک مکی سورت کی مکی آیت ہے؛ جبکہ مکہ میں وہ سب کے سب احکام اور تشریعات نازل ہی نہیں ہوئے تھے جو لوگوں کو اپنی روزمرہ حیات میں درکار ہیں، بلکہ یہ بیشتر احکام اور تشریعات مدینہ میں جاکر نازل ہوئے ہیں۔ پس وہ تفصیل جس کی طرف مذکورہ بالا آیت اشارہ کرتی ہے تفصیلِ احکام (یعنی تفصیلِ فروع) نہیں ہے؛ بلکہ یہاں پر اشارہ اُس عظیم تر مسئلے کی تفصیل کی جانب ہے جس کو ہم نے خداوند لاشریک کی حاکمیت کہا ہے، اور جوکہ اصلِ اعتقاد کا مسئلہ ہے۔ جس کی رو سے آدمی کا اعتقاد ہی درست تسلیم نہیں ہوتا جب تک وہ ہر اُس بات کی اِلزامی binding حیثیت اصولاً تسلیم نہ کرلے جو خدا کی جانب سے آئی ہو، خواہ وہ بات تھوڑی ہو یا زیادہ، اعتقاد سے متعلق ہو یا اخلاق سے یا احکام اور معاملات سے۔
اگلی آیت یہ بیان کرتی ہے کہ اللہ کا فرمان ہی فیصلہ کن ہے: وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِیہی مطلق سچائی ہے اور یہی مطلق عدل، اور وہ جو کلمات بول دے کوئی ان کو تبدیل کردینے والا نہیں۔ اور اس کے بعد کی آیت بتاتی ہے کہ جو شخص خدا کے فیصلے سے اعراض کرتا ہے وہ گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے، اور وہ محض گمان کا پیروکار ہے جس کو کسی صورت ہدایت یافتہ نہیں کہا جاسکتا۔
اور یہ سب ابھی مقدمات ہیں جو اس کے بعد آنے والی بات کے لیے بنیادیں ڈالنے اور قواعد اٹھانے کا کام کررہے ہیں، جبکہ وہ مسئلہ جس کی بنیادیں ڈالی جارہی ہیں یہ ہے کہ تحلیل اور تحریم اللہ کا حق ہے اور یہ فیصلہ کرنا اُس کا اختیار ہے۔ یہی مسئلہ اہل ایمان کی پوزیشن بھی متعین کرتا ہے اور یہی مسئلہ اہل شرک کی پوزیشن بھی متعین کرتا ہے۔ یعنی یہ مسئلہ باقاعدہ طور پر انسانوں کو مومن اور مشرک میں تقسیم کرتا ہے۔ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَکیونکہ انہوں نے ایک جاہلی تشریع کی اطاعت کی ہے جس کی اللہ نے کوئی سند اور حجت نازل نہیں فرما رکھی۔
یہاں سے واضح ہوا، حاکمیتِ خداوندی کا یہ مسئلہ مدینہ میں جاکر بیان ہونا شروع نہیں ہوا گوعملاً تشریعات مدینہ میں جاکر زیادہ نازل ہوئیں۔ واضح طور پر؛ یہ مسئلہ مکہ میں ہی بیان ہونے لگا تھا جب نفوس میں اِس عقیدہ کی بنیادیں ڈالی جارہی تھیں۔ ہاں مدینہ میں جاکر اس سے متعلقہ ‘‘احکام’’ بیان ہوئے ہیں جو ایک صریح وقطعی شکل میں صادر فرمائے گئے ۔
*****
لا الٰہ الا اللہ کا یہ مسئلہ خدائی بیان میں اوپر ہم دیکھ آئے۔ آئیے ذرا اِس پہلو سے دیکھتے چلیں کہ اسکو قبول کرنے والوں کی زندگی میں اس کی عملی وتطبیقی صورت کیا رہی؟
اہل ایمان کے اِس پورے گروہ میں کوئی ایک شخص ایسا دیکھنے میں نہیں آیا جس کو یہ پوچھنے کی حاجت پیش آئی ہو کہ: یہ جو احکاماتِ خداوندی ہیں، چاہے وہ قرآن میں بیان ہوئے ہوں یا سنت میں، کیا ان کی حیثیت اِلزامی bindingہے؟! کیا اِن پر عمل پیرا ہونا ایمان کی تعریف (مسمیٰ) میں داخل ہے یا یہ اس پر اضافہ ہے؟! کیا اس کی خالی تصدیق کر دینا اور اس کو سچا مان لینا کہ واقعتاً یہ خدا کا ہی حکم ہے اور برحق ہے، کافی نہیں؟! کسی ایک شخص کو پوچھنے کا یارا نہ ہوا کہ خدا کے اتارے ہوئے حکموں کی ‘‘تصدیق’’ کردینے کے ساتھ ساتھ کیا ان کو ‘‘نافذ’’ کردینا بھی ضروری ہے؟! اور کیا اُس شخص کو بھی مومن کہا جائے گا جو احکامِ شریعت میں سے کسی ایک بھی چیز پر عمل کرنے والا نہ ہو؟!
اس قسم کے سوالات وہ اہل ایمان تو کیا کرتے جن کے ایمان کی شہادت اللہ اور اس کے رسول نے دی، وہ منافقین بھی، جو محض ظاہری طور پر مسلمان ہوئے تھے اور اندر سے پکے کافر تھے، ایسا سوال پوچھنے کے نہ ہوئے۔
وہ بھی اور یہ بھی… ہردو یہ جانتے تھے کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کوئی ایسا لفظ بہرحال نہیں جس کو آپ زبان سے ادا کرلیں اور اس کے بعد معاملہ ختم۔ ہردو یہ جانتے تھے کہ یہ ایک کلمہ ہے جس کے کچھ مطالبات ہیں؛ بلکہ ہردو یہ مطالبے عملاً ادا کرتے تھے، فرق یہ تھا کہ اہل ایمان دل سے ادا کرتے تھے اور اس سے ان کا مقصود خدا کی رضا کو پانا اور جنت کا حقدار بننا تھا، جبکہ منافقین اوپر اوپر سے ادا کرتے تھے جس میں اُن کی بددلی کا ظاہر ہوجانا ایک طبعی امر تھا، مگر وہ لا الٰہ الا اللہ کے اِن تقاضوں کو ادا بہرحال کرتے؛ کبھی اس سے جان بھی چھڑواتےتو اس کے لیے باقاعدہ حیلے تلاش کرتے۔ لا الٰہ الا اللہ کے اِن عملی تقاضوں کو یوں صاف چھوڑ دینا منافقین تک کے لیے ممکن نہ تھا…:
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاؤُونَ النَّاسَ وَلا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلاً (النساء 142)
یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ در حقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔
وَإِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَيُبَطِّئَنَّ فَإِنْ أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَالَ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ إِذْ لَمْ أَكُنْ مَعَهُمْ شَهِيداً وَلَئِنْ أَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَنْ لَمْ تَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ مَوَدَّةٌ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزاً عَظِيماً (النساء 72 - 73)
ہاں، تم میں کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو قتال سے جی چراتا ہے، ا گر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں اِن لوگوں کے ساتھ نہ گیا۔ اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا۔
غور تو کیجئے؛ منافقین بھی… لا الٰہ کے عملی تقاضوں سے جان نہیں چھڑا سکتے!
یعنی… یہ تو کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا، مومن تو مومن کسی منافق کے تصور میں نہ تھا کہ، وہ لا الٰہ الا اللہ کے الفاظ محض زبان سے بول دے تو مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ لے سکتا ہے! لا الٰہ الا اللہ کے کسی ایک بھی مطالبے پر عمل نہ کرے اور مسلمان مانا جائے، یہ بات مدینہ کے اُس معاشرے میں تصور سےباہر تھی!
اندر سے کوئی شخص مسلمان ہے یا منافق – خدا کی جانب تحاکم کرنے والے اس مسلم معاشرے میں – ایک شخص دین کے کسی ایک بھی فرض پر عمل پیرا نہیں اور وہ ‘‘مسلمان’’ کہلانے کا حق رکھے، یہ کسی کے تصور میں ہی نہیں۔
کم از کم پانچ وقت نماز کا مسئلہ تو ہے ہی...!اس مسلم معاشرے میں، جوکہ اپنے تمام فیصلے خدا کی شریعت کی طرف لوٹاتا ہے، کوئی ایک شخص ایسا نہیں جو مسلسل تین روز تک نماز چھوڑ کر رہے اور اس کےلیے سزائے موت تجویز نہ ہو! (از روئے قولِ جمہور)
نیز اللہ کی شریعت کے حاکم ہونے کا مسئلہ؛ صرف ایک اس کی طرف تحاکم کرنے اور اس کے سوا کسی شریعت کی جانب تحاکم نہ کرنے کا قضیہ۔ ایک شخص کے مسلمان معتبر ہونے کے لیے یہ تو کم از کم ہے۔ ورنہ … ایک مسلم معاشرے میں شریعت آسمانی کے خلاف خروج کرلینے یا اُس کی کسی ایک بھی بات کا انکار کرلینے کے بعد وہ مسلمان کیسے رہ سکتا ہے ، اور وہ مرتد ہونے سے کیسے بچا رہ سکتا ہے؟!
پس یہ تو ممکن ہی نہیں کہ ایک مسلم معاشرہ ہو اور وہاں کوئی شخص اسلام کے کسی ایک بھی عمل کا روادار نہ ہو، لیکن پھر بھی وہ مسلمان تسلیم کیا جائے اور اُس کو وہاں پر ‘مسلمان’ کے قانونی حقوق حاصل ہوں! ‘مسلمان’ کے قانونی حقوق تو ایک طرف وہاں تو سوال یہ ہوگا کہ ایسے شخص کو وہاں زندہ رہنے دیا جائے یا نہیں؟ کیونکہ یہ ایک مسلم معاشرہ ہے یعنی خدائے واحد قہار کا فرماں بردار معاشرہ۔ ایسی بے کار بحثیں تو کچھ جاہلی معاشروں میں اٹھ سکتی ہیں جہاں پورا معاشرہ اسلام کا خالی دعویٰ کرتا ہو۔ ہاں وہاں ارجائی فکر کے اٹھائے ہوئے یہ نکتے بہت کارآمد ہوسکتے ہیں؛ جہاں اسلام اپنی اصل روح کے لحاظ سے معاشرے کےلیے اجنبی اور معاشرہ اسلام کےلیے اجنبی!
مرجئہ گمراہی: ‘‘لا إلٰہ پر ایمان’’کا مطلب: بس اقرار اور تصدیق کردینا!
یہ موضوع ہے مطالباتِ لا الٰہ الا اللہ…؛ اِس اہم و سنگین مسئلہ کو ہم تین جہتوں سے دیکھیں گے، اور یہ تینوں جہتیں بالآخر ہمیں ایک ہی نتیجے تک پہنچائیں گی:
پہلی جہت سے بات شروع کرتے ہوئے… ہم سوال کرتے ہیں: اللہ اپنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجتا کیوں ہے؟
ایسے عظیم الشان سوال کا جواب ظاہر ہے ہم اپنے پاس سے نہ دیں گے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اپنی کتاب سے لیں گے:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ (النساء 64) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذن خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيـدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْـلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحديد: 25)ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے
اِس آخری رسالت کی تو خیر بات ہی اور ہے، ہم ذرا اِن دو آیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے آسمانی رسالتوں کے حوالے سے نوحؑ تا محمدﷺ کچھ اصولی حقائق پر غور کرلیتے ہیں:
ان میں سے ایک آیت یہ واضح کرتی ہے کہ رسولوں کا بھیجنا محض اس لیے نہیں تھا کہ وہ پیغام پہنچا دیں اور چلتے بنیں؛ یعنی آدمی کہے ہاں مجھے معلوم ہوگیا اور میں نے اسکی تصدیق کردی۔ بلکہ مطلوب یہ ہے کہ آدمی کہے رسول نے مجھے بات پہنچادی، مجھے معلوم ہوگیا اور میں اُسکا فرمانبردار ہوا۔ یہ ہے رسول کو ماننا۔ اور یہ ہے اُس مقصد کو پورا کرنا جس کیلئے رسول مبعوث ہوتا ہے۔
دوسری آیت عین یہی مقصد بیان کرتی ہے مگر اس کی پہچان کچھ زیادہ واضح انداز میں کرواتی ہے۔ رسول مبعوث ہوتے ہیں تاکہ حیاتِ انسانی اس ‘‘قسط’’ پر قائم ہو۔ قسط ایک مختصر مگر جامع تعبیر ہے جس کی تفصیل ہمیں دیگر آیاتِ قرآنی نیز سنتِ مطہرہ سے ملتی ہے؛ اور اس کی تفسیر بھی انسانی اھواء و خواہشات پر چھوڑ نہیں دی گئی ہے۔
اس آیت کامدعا یہ ہے کہ رسولوں کا بھیجنا اور کتابوں کا اتارنا محض ‘‘تبلیغ’’ کے لیے اور ‘‘مطلع’’ فرمادینے کےلیے نہیں ہے۔ بلکہ زمین میں باقاعدہ ایک مقصد پورا کرانے کے لیے ہے؛ اور وہ یہ کہ لوگوں کی زندگی اللہ کی شریعت اور منہج پر قائم ہو؛ اِس شریعت کی وساطت یہاں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری ہو؛ اور اِس راہ سے لوگ اِس ‘‘قسط’’ پر قائم ہوجائیں۔ تو پھر زمین پر کوئی ایسا عمل مطلوب ہے جو اِس ‘‘تصدیق’’ اور ‘‘اقرار’’ کے بعد انجام پانا ہے؛ اور اس کے بغیر رسولوں کے بھیجنے اور کتابوں کے نازل کرنے کا مقصد ہی پورا نہیں ہوتا؛ اس کے بغیر دین کچھ عبارتوں کا نام رہ جاتا ہےیا کچھ خیالوں اور آرزوؤں کا؛ جس سے زمینی عمل کو کچھ فرق نہیں آتا؛ اور حیاتِ انسانی میں کوئی ذرہ بھر تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ آیت میں اس کے بعد ‘‘لوہے’’ اور ‘‘زور’’ کی جانب اشارہ ہے اور اللہ اور اُس کے رسولوں کی نصرت کا ذکر ہے؛ جوکہ صریح دلالت ہے کہ وہ اعمال جو یہاں مطلوب ہیں اُن میں باقاعدہ جہاد فی سبیل اللہ آتا ہے لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ‘‘تاکہ لوگ قسط پر قائم ہوں’’۔
اگر یہ معنیٰ ہر رسالت کے اندر پایا جاتا ہے؛ کیونکہ آیت میں سب رسالتوں ہی کی بابت ایک اصول بیان ہوا ہے؛ تو پھر یہ آخری رسالت تو رسالتوں کی معراج ہے اور اس میں عائد ہونے والے فرائض کی تو شان ہی اور ہے۔
سابقہ رسالتوں اور ان کے پیروکاروں کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ (البینة ۔ 5)
اور نہیں حکم دیا گیا تھا اُن کو مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللہ کی، پورے دین کو اُس ایک کے لیے خالص کرلیتے ہوئے، یکسو ہو کر، اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکاۃ، اور یہی ہے سیدھا ٹھیٹ دین۔
اگر پہلی رسالتوں میں مسئلہ اس جامعیت کے ساتھ مطلوب ہے کہ دین (اطاعت، بندگی، گرویدگی اور زندگی کا تمام تر رخ) ایک اللہ وحدہٗ لاشریک کے لیے خاص کردیا جائے، اور نماز اور زکاۃ تو اس میں باقاعدہ نام لے کر ذکر ہوئے ہیں، تو پھر اس خاتمی رسالت میں تو یہ بات بالاولیٰ درکار ہوئی۔
خدا نے مشیئت فرمائی کہ محمدﷺ کے بعد اب وہ زمین پر کوئی رسول نہ بھیجے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (الاحزاب 4)
(لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں
ألا إنه ليس بعدي نبي (أخرجه الشيخان)
خبردار رہو، یقینا میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے
خدا کی مشیئت ہوئی کہ وہ اپنے دین کو اِس خاتمی رسالت پر مکمل کردے اور پھر یہ رسالت تمام انسانیت کے لیے ٹھہرے:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْأِسْلامَ دِيناً (المائدة 3)
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل فرما دیا، اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرما دیا، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند فرمالیا
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيراً وَنَذِيراً (سبأ 28)
اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ کو مگر تمام انسانیت کے لیے، خوشی سنانے والا اور ڈر سنانے والا۔
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعاً (الأعراف 158)
کہو اے انسانو! میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف
اور میں بھیجا گیا ہوں جملہ اقوام کی طرف۔ (أخرجه الشيخان)
اِن سب حقائق کا تقاضا ٹھہرا کہ اِس خاتمی امت کو، جس کی رسالت خاتمی ہے، دو چیزوں کا مکلف کیا جائے نہ کہ صرف اُس ایک چیز کا جس کی تمام مومن امتیں اس سے پہلے مکلف رہی ہیں:
سابقہ امتیں اس بات کی مکلف رہی ہیں کہ وہ ‘‘اللہ کی عبادت کریں دین کو اُس ایک کے لیے خالص کرلیتے ہوئے، یکسو ہوکر’’، خاص اپنے دائرے میں رہ کر۔ یہ خاتمی امت بھی اِس بات کی تو ویسے ہی مکلف ہے، مگر اس پر مستزاد یہ اس بات کی بھی مکلف ہے کہ اِس دین کو یہ پورے روئے زمین پر پھیلائے، اور رسول اللہﷺ کی جانشینی کا حق ادا کرے؛ اِس کے جہاد کا میدان یہ پورا گلوب ہے؛ یہاں تک کہ دین ایک اللہ کے لیے ہوجائے۔
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران 104)
تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہئے جو اِس خیر کی دعوت دے، معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (الأنفال 39)
اور ان سے لڑو؛ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورے کا پورا اللہ کیلئے نہ ہوجائے ۔
اِس مشن کا تقاضا یہ ہوا کہ اِس امت سے جو کام مطلوب ہے وہ ‘‘تصدیق’’ اور ‘‘اقرار’’ سے بہت بڑھ کر ہے۔ پہلی امتوں سے جو مطلوب تھا وہ بھی ‘‘تصدیق اور اقرار’’ سے بڑھ کر تھا، مگر اِس امت سے جو مطلوب وہ تو اس سے بہت ہی بڑھ کر ہے۔
تصور تو کریں، اِس لاالٰہ الا اللہ کے حوالے سے ‘‘تصدیق اور اقرار’’ سے بڑھ کر کچھ مطلوب نہ ہوتا اور دیکھتے ہی دیکھتے خانہ کعبہ بتوں سے پاک ہوجاتا! اور پھر ایک خانہ کعبہ ہی نہیں، صرف مکہ ہی نہیں، صرف جزیرہ عرب ہی نہیں جہان کا ایک بڑا حصہ بتوں کی نجاست سے پاک ہوجاتا، شرک کی پلیدی دور دور تک باقی نہ رہتی اور چہاردانگ عالم اسلام کا ڈنکا بجنے لگتا، درحالیکہ اِس لاالٰہ الا اللہ کے لیے – بطورِ شرطِ نجات – کوئی تکلیف درکار تھی، نہ زحمت نہ مشقت اور نہ جہاد... کچھ مطلوب نہ تھا!
اِس لا الٰہ الا اللہ کے حوالے سے صرف ‘‘تصدیق اور اقرار’’ ہی مطلوب ہوتا تو کیا مدینہ میں اسلام کو کوئی دولت میسر آتی؟ اس لا الٰہ الا اللہ کے لیے ہجرتیں کرنا، گھر چھوڑنا، رشتے قربان کرنا اِس پر ‘‘ایمان’’ کی تعریف میں ہی نہیں آتا؛ ‘‘ایمان’’ اِن سب مصائب کو گلے لگائے بغیر بھی معرضِ وجود میں آجاتا ہے اور جنت اِن سب جان جوکھوں کے بغیر بھی کھری ہے تو اِس دعوت اور اِس نبیؐ پر جان نچھاور کرنے اور اس کی خاطر عرب و عجم کی دشمنی مول لے آنے کا تصور ہی کہاں سے آگیا؟ چند برس کے اندر اندر جزیرۂ عرب کا اسلام کی قلمرو بن جانا، اور پھر ‘‘ایمان’’ کے اِس سیلِ بلاخیز کا پورے جہان کو تہ آب لے آنا اور نصف صدی کے اندر اندر بحر ابیض تا بحراوقیانوس تا بحرہند اِس دین کے ڈنکے بجنا… یہ سب تو رہا ایک طرف؛ اِس نبیؐ کی اکیلی جان کو پناہ ملنا ہی کہاں متصور ہے؛ اِس کی ‘‘تصدیق’’ کرکے ہم فارغ تو ہوچکے؛ باقی تکلیفیں اٹھانا کہاں ‘‘ایمان’’ کی تعریف میں شامل ہے؟!
یعنی مسلمانوں نے اگر یہ سمجھا ہوتا کہ اِس لاالٰہ الا اللہ پر ایمان لانے کا مطلب ہے بس اس کی تصدیق اور اقرار کرنا… تو مدینہ میں اِس شجر کو خون کون دیتا؟ یہودی اِس دین اور اِس نبی کے خلاف سازشیں کرتے ہیں تو کرتے رہیں، باہر سے مشرکین قریش اس کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کی تیاریاں کررہے ہیں تو کرتے رہیں، جزیرۂ عرب میں اِس نوخیز ریاست کے پائے مضبوط کرنے ہیں ، اور روم اور فارس کی دیوہیکل شہنشاہتوں کو صفحۂ ہستی سے ختم کرکے کرۂ ارض پر اِس لا الٰہ الا اللہ کے پھریرے لہرانے ہیں، اور اسلام کی اِس شریعت اور اِس تہذیب کو روئے زمین کا مرکزی ترین واقعہ بنانا ہے… تو یہ سب ہوتا رہے؛ آخر ہم سے تو اِس لاالٰہ الا اللہ کے حوالے سے’’اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب’’ ہی مطلوب ہے نا جس کے بدلے میں نجات اور جنت کا ہم سے وعدہ ہے؛ پورے روئے زمین کو ہلا کر دینے سے ہمارے اِس لاالہٰ الا اللہ پڑھنے کا تعلق؟!
*****
اب ہم دوسری جہت سے بات کرتے ہیں؛ اور جوکہ پہلی جہت سے پیوستہ ہے…
وہ سب کام اور محنت جو رسول اللہﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ لاالٰہ الا اللہ کے تقاضوں کے سلسلہ میں انجام دیتے رہے، آیا آپؐ اور اصحابؓ کی طرف سے ایک رضاکارانہ عمل تھا؛ آپ پر واحب نہیں تھا؟کیا یہ سب کام اور محنت ‘‘ایمان’’ پر ایک اضافہ تھا؛ بجائے خود ‘‘ایمان’’ نہیں تھا؟
تو اَب ہم پوچھتے ہیں… شریعت کی آئینی واصولی پابندی، یعنی جو کچھ اللہ کی کتاب اور اُس کے رسولؐ کی سنت میں وارد ہوا اُس کا اپنے آپ کو اور کل مخلوق کو پابند جاننا ؛ حیاتِ انسانی کے جملہ معاملات کو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی طرف لوٹانا… کیا یہ تطوُّع (رضاکارانہ عمل) تھا جسے اسلام کی نسلِ اول نے اختیار کیے رکھا، وہ اِس کے مکلف نہیں تھے؟
خدا کی راہ میں اپنے گھربار چھوڑنا، وطن قربان کرنا اور لا الٰہ الا اللہ کے خلاف برسرقتال قوتوں کے خلاف میدانِ جہاد میں اترنا، تطوُّع (رضاکارانہ عمل) تھا، وہ اِس کے مکلف نہ تھے؟
ایک ‘‘امت’’ بن کر رہنے کا عملی تصور پیش کرنا، جس میں تکافلِ اجتماعی (ایک دوسرے کا بوجھ اٹھانا) بھی آتا ہے، ایمانی اخوت اور ولاء وبراء بھی، تعاون علی البر والتقویٰ بھی، اور مسلم جان مال عزت آبرو کی حرمت کی پاسداری کرنا… یہ سب تطوُّع تھا، وہ اِس کے مکلف نہیں تھے؟
زمین پر عدل اور انصاف کا ربانی نقشہ پیش کرنا تطوع تھا، یہ اُن پر فرض نہیں تھا؟
لاالٰہ الا اللہ کے سب اخلاقیات کی پاسداری کرنا، تطوُّع تھا، فرض نہیں تھا؟
عہد کو پورا کرنا اور اجتماعی ذمہ داریاں نبھانا تطوّع تھا، واجب نہیں تھا؟
اور جس دوران صحابہؓ یہ سب اعمال انجام دے رہے تھے، صاف سمجھ رہے تھے کہ وہ ‘‘ایمان’’ کے علاوہ کوئی چیز سرانجام دے رہے ہیں؟! یعنی وہ سمجھتے تھے کہ ‘‘اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب’’ کرکے ‘‘ایمان’’ نام کی کارروائی سے تو وہ کب کے فارغ ہوچکے، اب تو وہ ایمان سے ‘‘زائدتر’’ کچھ امور انجام دے رہے ہیں؛ یعنی یہ سب کچھ اگر وہ نہ بھی کریں تو ‘‘ایمان’’کا فرض تو پورا ہو ہی چکا!
یا پھر اُن کے نفوس اِس حقیقت کے ادراک سے لبریز تھے اور عین یہی بات اُنہوں نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہؐ سے سمجھی تھی کہ اِن فرائض پر پورا اترنا اِس حقیقت پر ایمان کا براہِ راست مطالبہ ہے کہ ‘‘نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر ایک اللہ، اور محمدﷺ اُس اللہ کے پیغمبر ہیں’’… اور وہ اس کو ایمان کا اقتضا جان کر ہی اس کی بلندترین چوٹیاں سرکرنے کے لیے کوشاں تھے؟
اور کیا یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ اسلام کی ‘‘عملی تصویر’’ اسلام کی حقیقت سے ‘‘زائد تر’’ کوئی چیز ہو؟ اور ‘‘اسلام’’ کی تعریف میں تو آ ہی نہ سکتی ہو؟
اور اگر ایسا مان لیا جائے تو اس کے بعد… اس دین کی وقعت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ اور حیاتِ انسانی میں اِس کا مشن اور کردار ہی کیا باقی رہ جاتا ہے؟!
اور کیا اللہ رب العزت کا کتابیں نازل فرمانا، رسول بھیجنا، رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو صبر، ہمت، برداشت، استقامت اور جہادِ پیہم کی ہدایات دیتے چلے جانا… اس کا ماحصل بس یہ ہے کہ دلوں کے نہاں خانے میں اس کی ‘تصدیق’ کا عمل انجام پالے اور زبانیں ایک آدھ بار اس کا اقرار کرلیں، باقی زمین پر اس سے ایک پتہ بھی نہ ہلے، نہ حق کا اِحقاق ہو اور نہ باطل کا اِبطال، نہ معروف کا قیام اور نہ منکر کا اِنکار… کتابوں کے نزول اور رسولوں کی بعثت کا اصل مقصد پورا ہوا!
اور یہ امتِ خیر البشرؐ بھی اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب کے لیے برپا کی گئی ہے؟!
كُنْتـُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَـتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
(آل عمران 110)
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے؛ کہ تم امر بالمعروف کرنے والے، نہی عن المنکر کرنے والے، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے
تو کیا یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ اِس امت کے برپا کرائے جانے کی جو اصل غایت ہے وہ اس کو سونپے جانے والے کام سے ‘‘زائد تر’’ ایک چیز ہو؛ یعنی وہ غایت پوری ہو تب نہ پوری ہو تب اس سے ‘‘اصلِ ایماں’’ کو کوئی فرق نہ پڑتا ہو؟! ایمان کی ‘‘اصل حقیقت’’ بہرحال اس کے بغیر پوری ہوجاتی ہو؟!
یا پھر یہ کہیں گے کہ لا الٰہ الا اللہ کو اور اس کے عملی تقاضوں کو یوں لازم وملزوم رکھنا خاص صحابہؓ والی نسل کے حق میں تھا۔ البتہ ان کے بعد آنے والی نسلوں کے حق میں ایمان بس ‘‘تصدیق اور اقرار’’کا نام ہے؟!
اور اس پر دلیل؟ کتاب سے؟ یا سنت سے؟ یا چلیے کسی عقلی منطق سے ہی؟!
کیا کوئی منطق یہ تسلیم کرتی ہے کہ ایک نسل کے لیے تو نجات اتنی مشکل کردی جائے کہ لا الٰہ الا اللہ ان سے باقاعدہ عملی تقاضوں کے ساتھ مطلوب ہو، البتہ باقی نسلوں سے عملی تقاضوں کے بغیر؟ باقی نسلوں سے صرف یہ مطلوب ہو کہ وہ زبان سے ‘لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ’ کہہ دیں اور دل سے اس کی تصدیق کردیں؛ اور بس اِس پر ایمان کا سرٹیفکیٹ پالیں ؛ ‘‘ایمان کی تعریف’’ ان کے حق میں مکمل، اگر باقی کچھ ہے تو وہ ایمان سے ‘‘زائد تر’’ کوئی چیز ہے؛ جسے وہ اپنی مہربانی سے کردیں تو بہت خوب، نہ کریں تو ‘‘ایمان’’ تو بہرحال پورا ہے!
ہاں یہ واقعہ اپنی جگہ کہ اسلام کی نسلِ اول لا الٰہ الا اللہ کے تقاضوں کو، خود اپنی ذات کی سطح پر بھی اور اپنے ماحول اور سماج کی سطح پر بھی، اُس اعلیٰ معیار پر پورا کرتی رہی جو تاریخ میں پھر کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ بعد کی نسلیں اِن تقاضوں سے جان چھڑاتی چلی گئیں؛ معاملہ ایک تسلسل کے ساتھ نیچے آتا رہا اور کچھ صدیوں میں ہم اُس بلندی سے اِس پستی کو آپہنچنے۔ ‘ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا’۔ تاہم اس کا یہ سبب نہیں کہ نسلِ اول سے تو یہ لاالٰہ الا اللہ اپنے تقاضوں کے ساتھ مطلوب تھا اور مابعد نسلوں سے بغیر تقاضوں کے!
پہلی پود (صحابہ) کے کچھ خصائص یقیناً ہیں؛ جن کے باعث وہ تاریخ کی منفرد ترین پود ٹھہری۔ یہ وہ پود ہے جو جاہلیت میں ایک زندگی گزار آئی تھی، اس کے بعد اس کو نعمتِ اسلام ملی تو رات اور دن کا وہ فرق جس طرح اس پر واضح تھا کسی پر نہ ہوا۔ پھر رسول اللہﷺ بنفسِ نفیس اُن کے مابین موجود تھے؛ یہ آپؐ سے براہِ راست وحی کی تعلیم لیتے؛ آپؐ کی ہمہ وقت نگرانی میں تربیت پاتے؛ تو پھر لازم تھا کہ جس قدر بلندی پر جانا انسانی بس میں ہو یہ اُن چوٹیوں کو سر کر کے آتے۔ بعد کے لوگوں کو ایک بنی بنائی چیز ملی لہٰذا اِن کا معاملہ پہلوں جیسا نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ سب درست ہے۔ مگر ہماری بات لاالٰہ الا اللہ کے تقاضوں کی بابت ہورہی ہے؛ اسلام کے یہ بنیادی ترین فرائض بہرحال جوں کے توں رہیں گے؛ نسلوں اور زمانوں کا فرق یہاں اثرانداز نہیں ہوگا۔
*****
اب ہم تیسری جہت سے بات کرتے ہیں: نفسِ انسانی کی دنیا میں… کیا یہ ممکن ہے کہ آدمی کسی چیز پر ‘‘ایمان’’ رکھتا ہو مگر اس کا تمام تر عملی رویہ اُس ایمان کے تقاضوں کے مخالف اور اس سے متعارض چلتا چلا جائے؟
نفسیاتی معالج ہمیں schizophrenia نامی ایک خطرناک مرض بتلاتے ہیں، جس میں آدمی کی شخصیت دو صاف متعارض رویوں کے مابین بٹتی چلی جاتی ہے۔ ابھی اُس پر پیار اور میلان حاوی تھا کہ یکدم نفرت جوش مار اٹھتی ہے۔ آدمی پر بے بسی کی ایسی ایسی کیفیات گزرتی ہیں کہ وہ مرفوع القلم ہوجاتا ہے۔ لیکن اِس حالت میں بھی اُس میں ‘‘رویہ’’ اور ‘‘سلوک’’ ظاہر ضرور ہوتا ہے!
لیکن وہ فرضی حالت جس کی ہمیں مرجئہ خبر دیتے ہیں… یعنی انسان بالکل اپنی طبعی حالت میں ہے، بقائمی ہوش و حواس ہے، باطن میں وہ کسی چیز پر ‘‘کامل ایمان’’ رکھتا ہے لیکن وہ چیز اُس کے جملہ تصرفات میں کبھی ایک بار بھی ظہور نہیں کرتی۔ اس پر کسی کا غلبہ اور قہر (اکراہ) ہو، تو چلیں اور بات ہے اور وہاں تو آدمی دل کی بات اپنے تصرفات میں ظاہر نہیں ہونے دیتا، مگر یہ شخص پوری طرح آزاد اور خودمختار ہے، لیکن پھر بھی وہ چیز کبھی اپنا اظہار نہیں کرتی… تو یہ فرضی وخیالاتی حالت جس کا ہمیں مرجئہ انکشاف کر کے دیتے ہیں، نفس انسانی کے حوالے سے البتہ ایک ایسی چیز ہے جس کا آج تک کہیں وجود نہیں پایا گیا!
ہاں جو چیز مانی جاسکتی ہے وہ یہ کہ ایک چیز پر آدمی کا ‘‘ایمان’’ ہو لیکن ظاہر میں اُس سے متعارض بعض تصرفات پائے جائیں۔ یہ ایک طبعی حالت ضرور ہوسکتی ہے، بلکہ عالمِ بشر میں غالب ترین حالت یہی ہے کہ آدمی دل سے کسی چیز پر اعتقاد رکھتا ہو مگر عمل اور رویے میں وہ اُس پر پورا نہ اتر پا رہا ہو اور اپنے اُس اعتقاد سے متعارض بعض رویے اُس سے سرزد ہوجاتے ہوں۔ گو یہ چیز بھی بلاسبب نہیں اور اس کی اپنی ایک دلالت ہے۔
جہاں تک اسکے بلاسبب نہ ہونے کا تعلق ہے تو وہ یہ کہ نفس انسانی میں فوری خواہشات کی جانب ایک قوی میلان پایا جاتا ہے اور ان فوری خواہشات سے وہ کسی وقت شکست بھی کھا جاتا ہے۔ ایک عہد یا ذمہ داری نبھانا نفس کے میلانات پر یک گونہ قید ہے اور نفس اِن قیود سے فرار بھی کرتا ہے۔ لیکن اس نفسیاتی تجزیہ میں یہ بات محلوظ رہے کہ ‘‘ایمان’’ فطرت ہے؛ لہٰذا نفس انسانی کا کسی چیز پر ایمان ہونا خود بھی ایک قید ہے؛ یعنی ایک مومن شخص کا خواہشات کے پیچھے بھاگنے میں ‘‘ایمان’’ باقاعدہ ایک رکاوٹ بھی بنتا ہے۔ پس جہاں ایمان کے راستے میں خواہشات و رغبات ایک قید ہے وہاں خواہشات و رغبات کے راستے میں ایمان ایک قید ہے۔ اور یہاں سے ان دونوں کی کھینچاتانی شروع ہوجاتی ہے جوکہ نفس انسانی کی بابت ایک سچی ترین حقیقت ہے۔ انسانی نفس انہی دو قوتوں کی کشتی کا اکھاڑا بنتا ہے؛ گو ہر نفس کی صورتحال اس معاملہ میں دوسرے سے مختلف ہے۔ کہیں کوئی پلڑا بھاری ہے تو کہیں کوئی۔ البتہ مرجئہ ہمیں جو صورتحال فرض کر کے دیتے ہیں، یعنی اعمال اور تصرفات میں ایمان والا پلڑا صفر ہو پھر بھی ان کی تعریف کی رُو سے اس کا نام ‘ایمان’ ہے، عجیب و غریب بات ہے۔ یعنی ایمان کا ہونا نہ ہونا ‘‘عمل’’ کے حق میں ایک برابر ہو!
یہ ہے نفس انسانی کی وہ طبعی حالت (جس کو نہ مرجئہ صحیح طرح سمجھ سکے اور نہ خوارج)۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نور کی مدد سے اِن اشیاء کو دیکھنے والے علماء کا یہ کہنا رہا ہے کہ إن الإيمان يزيد وينقص.. ينقص بالمعاصي ويزيد بالطاعات ‘‘ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے .. نافرمانی کے اعمال سے گھٹتا ہے اور اطاعت کے اعمال سے بڑھتا ہے’’
‘‘دین’’ جس کو انسان شعوری انداز میں اختیار کرتا ہے بذاتِ خود ایک قید ہے، جوکہ خواہشات کے اُس دائرے کو جسے ہم مباحات کہتے ہیں مقید کرتا ہے اور خواہشات کے زور اور رفتار کو ایک کنٹرول میں لاتا ہے۔
فرمانِ خداوندی ہے:
تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَعْتَدُوهَا یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے تجاوز مت کرو (البقرة 229)
تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَقْرَبُوهَا یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے قریب مت پھٹکو (البقرة 187)
خواہشات تو نفس کے لیے یقینا مزین کی گئی ہیں: زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ‘‘مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزین کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے’’ (آل عمران 14)
لیکن ایمان بھی ایسی غیر حسین حقیقت تو نہیں جس کا پلڑا کبھی بھی ان پر بھاری نہ پڑے! وَاللهُ عِنْدَهٗ حُسۡنُ الثَّوَاب ‘‘اور لوٹنے کا عمدہ ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے’’ (آل عمران 14)
اِسی طرح فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلالاً طَيِّباً وَلا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ (البقرة 168)
لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزه چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راه پر نہ چلو، وه تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے
وَلا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِـنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ (البقرة 221)
اور شرک والی عورتوں سے جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائیں نکاح نہ کرنا؛ بیشک مسلمان لونڈی مشرک شریف زادی سے اچھی ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو
وَأُحِـلَّ لَكُـمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُـمْ أَنْ تَبْتَغُـوا بِأَمْوَالِكُـمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ (النساء 24)
اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی
یعنی ‘‘ایمان’’ وہ مہار ہے جو خواہشات کو حد میں لاتی ہے۔
‘‘حلال’’ اور ‘‘حرام’’ کا تصور ہی یہ ہے کہ خواہشات کو ایک قید میں لایا جائے؛ یعنی بندگی۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ ‘‘فرائض’’ کا تصور آجاتا ہے جیسے نماز، زکاۃ، روزہ، حج اور تمام اخلاقیاتِ لاالٰہ الا اللہ، اور سب سے بڑھ کر جہاد فی سبیل اللہ۔ یہ سب کچھ ہے ہی نفس کو قید میں لانا اور اس کو اللہ کے آگے جھکانا۔
نفسِ انسانی میں یہ جو ‘‘خواہشات’’ اور ‘‘محرکات’’ رکھے گئے ہیں، یہ خدا نے عبث نہیں رکھ دیے۔ اسی طرح؛ اِن خواہشات کی راہ میں جو ‘‘قیود’’ رکھے وہ بھی بے مقصد نہیں…
اللہ رب العزت جانتا تھا کہ زمین میں انسان کی جو خلافت (جانشینی) ہے اور جس کی خاطر اس کی تخلیق ہوئی ہے، زمین پر اس کی یہ مہم پوری ہونا اسی صورت میں ممکن ہے کہ اس کے اندر کچھ محرکات ہوں جو اس کو یہاں عمل، حرکت اور پیدآوری پر اکسائیں جس سے زمین پر آبادکاری ہو۔ زمین پر انسان کے پائے جانے سے یہ چیز بھی مقصود ضرور ہے اور یہ اس منصوبے کا باقاعدہ حصہ ہے:
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرة 30)
جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں
هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا (هود 61)
اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہاری آبادکاری کی
اسی طرح یہ ‘‘خواہشات’’ اُس ‘‘متاع’’ (کچھ دیر کےلیے فائدہ دینے کی چیز) سے فائدہ اٹھانے کے ذرائع ہیں جو زمین پر انسان کو اتارتے وقت مذکور ہوئی:
وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ (البقرة 36)
زمین میں تمہارا ایک مستقرہے اور ایک متاع ہے، خاص وقت کے لیے
دوسری جانب یہ وہ نقطۂ آزمائش ہے جس کے لیے اس انسان کی تخلیق ہوئی ہے:
إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً (الكهف 7)
روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اسے زمین کی آرائش بنایا ہے کہ ہم انہیں آزمالیں کہ ان میں سے کون عمدہ تر اعمال والا ہے
یہ تو رہی خواہشات اور مرغوبات کی بات۔ رہ گئی قیود اور ضابطوں کی بات، تو یہ بھی زمین پر انسان کی اس خلافت (جانشینی) کو درست طور پر سرانجام پہنچانے کے لیے ضروری ہیں، یعنی جو اس خلافت کو خلافتِ راشدہ بنائیں یا کم از کم اس بلند سطح کی طرف لے کر چلیں۔ وجہ یہ کہ ان خواہشات اور مرغوبات کا معاملہ اگر ایک مخصوص حد سے آگے گزرجائے تو یہ انسان کے حق میں مہلک ہے؛ اِس سے یہ اُس بلندی پر نہیں رہتا جو خدا نے اس کے لائق رکھی ہے اور جس کو وہ ‘‘احسنِ تقویم’’ کہتا ہے اور جس کی بدولت یہ حیوان سے ممیز ہوتا ہے ، اور جس کے بل پر یہ اُس ‘‘امانت’’ کو اٹھانے کے لیے نامزد ہوا جس کا سن کر آسمان اور زمین اور پہاڑ کانپ گئے تھے اور اس کو اٹھانے سے صاف مکر گئے تھے مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا تھا…
یہ ‘‘قیود’’ انسان کی زندگی میں دہرا کردار ادا کرتی ہیں:
یہ مرغوبات کی ‘مناسب مقدار’ کا تعین کرتی ہیں جبکہ اس کی خواہشات انہیں بے تحاشا لینا چاہتی ہیں؛ نتیجتاً نفس کی سب توانائی شہواتی عمل کی نذر نہیں ہوتی۔
پھر اس توانائی کو یہ ایک ایسے عمل میں صرف کرواتی ہیں جسے ہم اپنی زبان میں ‘‘اقدار’’ کہتے ہیں اور جس کے دم سے یہ اشرف المخلوقات ہے، اور جوکہ دراصل وہ ‘‘امانت’’ ہے جس کے باعث یہ حیوانات سے ممیز ہے۔
اِس طریقے سے؛ ایک جانب ‘‘محرکات’’ آجاتے ہیں اور ایک جانب ‘‘ضوابط’’؛ یوں انسان کی زندگی کو ایک توازن مل جاتا ہے؛ جس سے اس کے وجود کی غایت پوری ہونے لگتی ہے جس کو ہم حالت کے اعتبار سے احسنِ تقویم کہتے ہیں اور غایت کے اعتبار سے خلافت یا امانت۔
ہاں یہ سچ ہے کہ یہ توازن ہر وقت، ہر حالت میں، اور بدرجۂ اتم قائم نہیں رہتا؛ اس میں اونچ نیچ مسلسل رہتی ہے؛ اور ہر کیس دوسرے سے مختلف ہوتا ہے:
وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً (طه 115)
اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے عہد سونپا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اسکا قصد نہ پایا
كل بني آدم خطاء ، وخير الخطائين التوابون (أخرجه أحمد وأبو داود وابن ماجه والدارمي)
ہر بنی آدم خطاکار ہے، اور خطاکاروں میں بہترین وہ ہیں جو کثرت سے لوٹ آنے والے ہیں
یہاں سے؛ گناہ کا تصور سامنے آتا ہے… گناہ، یعنی معصیت، نافرمانی…
یہ (نافرمانی) دو میں سے کسی ایک سبب کا نتیجہ ہوتی ہے، اور کسی وقت ہردو سبب کا… کسی لمحے محرکات شدید ہوجاتے ہیں، اور کسی لمحے قیود میں کمزوری واقع ہوجاتی ہے، اور کسی وقت یہ دونوں واقعے ایک ساتھ ہوجاتے ہیں، اور نافرمانی ہوجاتی ہے۔ یہ ہیں نافرمانی کے عوامل؛ ان میں جس درجہ کا اشتراک ہوگا یہ اُسی درجہ کا نتیجہ پیدا کرکے دیں گے… جس وقت ‘‘محرک’’ کمزور ہو، اُس وقت کمزور سی ‘‘قید’’ بھی اُس کو روکنے کے لیے کفایت کرے گی؛ ہاں جس وقت ‘‘محرک’’ شدید اور منہ زور ہو اُس وقت ایک نہایت قوی ارادہ درکار ہوگا جو اس کو ‘‘قید’’ ڈال سکے۔ قوتِ ارادی پوری ہو تو وہ اس کو قابو کرلے گی اور نافرمانی واقع نہ ہوگی، اور اگر ہوگی تو نہایت وقتی سی اور وہ بھی یوں جیسے ایک چیز آدمی کی گرفت سے کھسک گئی ہو؛ اسی کو قرآن میں ‘‘لَمَم’’ کہا گیا ہے۔ ہاں جس وقت ارادے کی قید بالکل بودی ہو تو وہ ایک منہ زور خواہش کے آگے جواب دے جاتی ہے اور خواہش سب بند توڑ جاتی ہے۔
‘‘روزِ آخرت پر ایمان’’ وہ قوی ترین قید ہے جو خواہشاتِ نفس کو قابو کے اندر لانے میں مددگار ہوتی ہے۔ جتنی زوردار اس کی گرفت ہوگی اتنا ہی نفس خدا کی مقرر کردہ حدود میں رہے گا؛ یعنی اس کے اندر سے اطاعت اور فرماں برداری برآمد ہوگی اور یہاں خدا کے عائد کردہ فرائض کی پابندی ہوگی۔ ایسا بھی نہیں کہ انسان اپنی بشریت سے نکل جائے گا اور فرشتہ بن جائے گا جو خدا کی معصیت کر ہی نہیں سکتا! مقصد یہ ہے کہ اطاعت (خدا کی حدوں کی پابندی، فرائض کی انجام دہی) انسان کی زندگی میں ‘‘معمول’’ کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے اور کبھی کبھی اس سے نکل جانا اور نافرمانی میں قدم دھر لینا ‘‘خلافِ معمول’’۔ یہ ہے وہ حالت جو اللہ رب العزت نے متقین کے حوالے سے برسبیل ستائش بیان فرمائی ہے:
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ أُولَئِكَ جَزَاؤُهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ (آل عمران 135 - 136)
اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے۔ ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے۔
ہاں جب ایمان بالیوم الآخر کمزور پڑ جائے – اور جیسے جیسے کمزور پڑے – ویسے ویسے اس کی مخالف حالت ‘‘معمول’’ کی حیثیت اختیار کرنے لگتی ہے اور اللہ کی فرماں برداری پر قائم رہنا ‘‘خلافِ معمول’’۔
مگر اِن تمام احوال میں ‘‘ایمان’’ کی کارکردگی صفر پھر بھی نہیں ہوتی۔ اس کا ہونا نہ ہونا عملاً ایک برابر ہو؛ یعنی آدمی اسلام اور فرماں برداری کا کوئی ایک بھی رویہ اختیار نہ کرتا ہو، یہ بہرحال ناممکن ہے۔
نافرمانی – اجماعِ علماء کی رو سے – آدمی کو اسلام سے خارج بہرحال نہیں کرتی۔
اسلام سے جو چیز اس کو خارج کرتی ہے وہ ہے استحلال، یعنی معصیت کو روا ٹھہرا لینا اگرچہ وہ عملاً اس معصیت کے قریب بھی نہ پھٹکتا ہو۔ جبکہ یہ استحلال خالی گناہ میں پڑنے سے مختلف چیز ہے۔
خالی گناہ میں پڑنا ‘‘کمزوری کا لمحہ’’گنا جاتا ہے؛ جوکہ مخلوق انسانی پر حملہ آور ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ آدمؑ پر حملہ آور ہوا اور اُس وقت آپؑ کا عزم آپؐ کا ساتھ نہ دے سکا۔ ‘‘کمزوری کا لمحہ’’ وہ ہے جب ‘‘ایمان’’ آدمی سے کہیں گم ہوجاتا ہے؛ ایمان آدمی کے پاس ہوتا ضرور ہے مگر وہ موقع پر آدمی کو مل نہیں رہا ہوتا۔ شاید یہی وہ معنیٰ ہے جس کی جانب حدیث میں اشارہ ہوا ہے‘‘نہیں زنا کرتا زانی، جس وقت کہ وہ زنا کررہا ہوتا ہے، اس حال میں کہ وہ مومن ہو۔ نہیں چوری کرتا چور، جس وقت کہ وہ چوری کررہا ہوتا ہے، اس حال میں کہ وہ مومن ہو’’(صحیحین)تاوقتیکہ وہ جاگ اٹھتا ہے اور اس کا شعور بحال ہوجاتا ہے، اور تب وہ خدا سے معافیاں مانگنے لگتا ہے، اور خدا معاف کردینےوالا ہے!
رہ گیا استحلال، یعنی ایک نافرمانی کے کام کو روا کرلینا… تو یہ خدا کی عبادت سے استکبار ہے اور اس کے حکم کے آگے جھکنے سے کھلی سرتابی۔ ایسا انسان بزبانِ حال یا بزبانِ قال کہہ رہا ہوتا ہےکہ خدا جو مرضی کہتا رہے مگر میرا فیصلہ کچھ اور ہے۔ یہ عصیان (نافرمانی) کی وہ حالت ہے جو شیطان نے علی الاعلان کیا تھا:
قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (سورۃ ص 76) کہنے لگا: میں اس سے بہتر ہوں مجھ کو تونے آگ سے بنایا اور اُس کو گارے سے بنایا۔
نیز کہا: لَمْ أَكُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَـهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَـأٍ مَسْنُونٍ (الحجر 33) میں ایسے بشر کو سجدہ کرنے والا ہرگز نہیں جس کوتو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا
اور یہ وہ نافرمانی ہے جس کو خدا کبھی معاف نہیں کرتا کیونکہ یہ شرک ہے:
إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ (النساء 116)
اللہ ایک شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اس کے سوا وہ جس چیز کو چاہے بخش دے
سوال یہ ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں خدا کی ‘‘نافرمانی’’ ہوجانے کی حدود کیا ہیں؟
کیا ایسا ہوسکتا کہ یہ نافرمانی پھیلتے پھیلتے پورے معاشرے کو اپنی زد میں لے لے، نیز اسلام کے ‘‘جملہ اعمال’’ تک چلی جائے، اور اس کے بعد بھی معاشرہ مسلمان کا مسلمان، کیونکہ ‘تصدیق اور ‘اقرار’ باقی ہے؟!
کیا خیال ہے اگر آپ کے پاس ایک ایسا معاشرہ ہوجائے جہاں ہر شخص ایسا ہی ایک (مرجئہ کی تعریف کردہ) ‘‘مسلم’’اور‘‘مومن’’ پایا جانے لگے؟!
کیا وہاں پر رسولوں کے بھیجے جانے اور کتابوں کے اتارے جانے کا کوئی ایک بھی مقصد پورا ہوگا؟
یاددہانی کے طور پر، ہم وہ ہدف آپ کے سامنے رکھتے چلیں جو بعثتِ رُسُل اور نزولِ کتب سے خدا کا مقصود ہے:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ (الحدید: 25)
بے شک ہم نے رسولوں کو بھیجا، بینات دے کر، اور ان کے ساتھ اتاری کتاب اور میزان، تاکہ لوگ قائم ہوجائیں قسط پر
یہاں (مرجئہ کے دم قدم سے)… رسولوں کا ‘‘اقرار’’ بھی ہوگیا اور ‘‘تصدیق’’ بھی… تو کیا رسولوں کی بعثت کا کوئی مقصد پورا ہوا؟ کتاب اور میزان جو رسولوں کے ساتھ نازل کی گئی تاکہ لوگوں کی زندگی اس قسط پر قائم ہو… تو یہاں کونسا قسط قائم ہوا؟!
یاددہانی کے طور پر، ہم اس آیت یا آیات کا ایک بار پھر ذکر کرتے چلیں جن میں اس امت کے برپا ہونے کی غایت بیان ہوئی:
كُنْتُـمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَـتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
(آل عمران 110)
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُـمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُـوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُـونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً
(البقرة 143)
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ وسط بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔
وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيداً عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ (الحج 78)
اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملت پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار
‘‘تصدیق’’ اور ‘‘اقرار’’ ہوگیا، مگر… مذکورہ غایتوں میں سے کونسا کام پورا ہوا؟!
کیا اِسی انداز کے زعم اور رویے سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا قصہ سناتے ہوئے ہمیں باقاعدہ خبردار نہیں فرمایا تھا؟
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الْأَدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوا مَا فِيهِ وَالدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلا تَعْقِلُونَ (الأعراف 169)
پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کے جانشین ہوئے کہ کتاب کو ان سے حاصل کیا وه اس دنیائے فانی کا مال متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری ضرور مغفرت ہو جائے گی حاﻻنکہ اگر ان کے پاس ویسا ہی مال متاع آنے لگے تو اس کو بھی لے لیں گے۔ کیا ان سے اس کتاب کے اس مضمون کا عہد نہیں لیا گیا کہ اللہ کی طرف بجز حق بات کے اور کسی بات کی نسبت نہ کریں، اور انہوں نے اس کتاب میں جو کچھ تھا اس کو پڑھ لیا اور آخرت واﻻ گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ رکھتے ہیں، پھر کیا تم نہیں سمجھتے
یا پھر ‘‘فرائض’’ اور ‘‘مکلف’’ ہونے کا تصور بنی اسرائیل کے لیے تھا ہماری ‘‘امتِ مسلمہ’’ کے حق میں نہیں ہے۔
غالباً ایسے ہی کسی زعم کا ازالہ صحابیِ رسولؐ حذیفہ بن الیمانؓ نے یہ کہہ کر فرمایا تھا:
نعم الإخوة لكم بنو إسرائيل إن كان لكم كل حلوة ولهم كل مرة
بنی اسرائیل تمہیں اچھے بھائی مل گئے، میٹھا میٹھا تمہارا کڑوا کڑوا اُن کا!!
پھر کیا عجب (مرجئہ کے) ‘‘ایمان’’ اور مطالباتِ لاالٰہ الا اللہ کی بابت دیے ہوئے اِس تصور پر قائم معاشرہ وہ غُثَاء (خس وخاشاک) ہو جس سے رسول اللہﷺ نے ہمیں خبردار فرمایا تھا۔
آج آپ دیکھ سکتے ہیں کس طرح دنیا بھر کی قومیں اِس خس وخاشاک پر ٹوٹ پڑی ہیں جو صرف ‘‘تصدیق اور اقرار’’ پر قانع ہے اور اس کو ‘‘ایمان’’ سمجھتا ہے!!
رہ گیا وہ مسلم معاشرہ جس میں خدا کی شریعت راج کرتی ہے، تو خدا کی نافرمانی کے افعال وہاں بھی ہوجاتے ہیں، لیکن دوکام تو کبھی بھی، کسی بھی صورت، کسی بھی شخص کے حق میں موقوف نہیں ہوتے۔ ‘‘مسلمان’’ تسلیم ہونے کے لیے دو کام تو وہاں ہر شخص کرے گا خواہ درپردہ منافق کیوں نہ ہو، اس کا باقی حساب اللہ کے ذمے۔ ایک، دن میں پانچ بار خدا کے آگے سجدہ ریز ہونا۔ دوسرا، خدا کی شریعت کی طرف تحاکم کرنا()۔ یہ دو باتیں تیرہ سو سال تک مسلم معاشرے کے بدیہیات میں شامل رہی ہیں؛ مسلمانوں میں خواہ کتنا ہی انحراف کیوں نہ درآیا ہو اِن دو چیزوں کے بغیر مسلمان ہونے کا تصور نہیں تھا۔ ان دو چیزوں کو علی الاعلان ترک کر رکھنا اور پھر بھی ‘مسلمان’ کہلانے کا پورا پورا حق رکھنا، یہ رجحان اِس آخری صدی میں ہی پروان چڑھا ہے۔ ‘مسلمان’ کی یہ قسم اِس بڑی سطح پر آج ہی دریافت ہوئی ہے!
مرجئہ کے دلائل!
ان لوگوں کی کیا دلیل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ تصدیق اور اقرار ہی ایمان میں کل مطلوبِ ہے اور یہ کہ اعمال بلندیِ درجات کا سبب تو ضرور ہیں لیکن اگر نہ پائے جائیں تو بھی تصدیق اور اقرار کے ہوتے ہوئے ‘‘ایمان’’ پورا موجود ہے؟
ظاہر ہے یہ مرجئہ اور ان کے ہم نواؤں کا قول ہے۔ تاریخ کا ذرا مطالعہ کرلیں تو آپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ قول جوکہ اسلام کی روح سے صاف متصادم ہے کب اور کہاں سے اسلام میں داخل ہوا۔ یہ بیج قدیم مرجئہ کے ڈالے ہوئے ہیں جس سے جدید مرجئہ آج اپنی کاشتکاری میں مدد پاتے ہیں؛ اور اب یہ اسلام میں ‘مسلمان’ کی ایک ایسی فصل کاشت کرچکے ہیں جو نہ کسی آسمانی کتاب میں آپ کو مل سکتی ہے اور نہ کسی رسول کے ہاں۔ اسلام بغیر فرائض! اور اگر آپ کہنا چاہیں تو اسلام بغیر اسلام!
قدیم یا جدید مرجئہ نے کہاں سے یہ مسئلہ لیا کہ ‘‘ایمان’’ ثابت ہوجانے کے لیے دنیا میں صرف اقرارِ لسانی درکار ہے اور آخرت میں اقرارِ لسانی اور تصدیقِ قلبی؟
ان کی پہلی دلیل ان کے خیال میں ایمان کا لغوی مطلب ہے۔ ایمان کا مطلب ‘تصدیق’ ہے۔ نیز یہ کہ ‘‘عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ’’ قرآنی آیات میں ‘‘آمَنُوۡا’’ پر معطوف آتا ہے، یعنی دونوں کے درمیان ‘‘وَ’’ آتا ہے اور ‘‘وَ’’ کا اقتضا ہے کہ اس سے پہلے اور بعد کے الفاظ میں مغایرت ہو۔ پس ایمان ایک شےء ہوئی اور عملِ صالحات ایک اور شےء۔ دونوں ایک دوسرے کی جنس سے ہیں اور نہ ایک دوسرے میں داخل۔
شرعی اصطلاحات کی تفسیر محض لغت کی بنیاد پر! مرجئہ کی اصل الجھن تو یہیں سے شروع ہوجاتی ہے۔
قرآن نے کچھ الفاظ کو باقاعدہ اصطلاح کے طور پر اپنے کچھ خاص مفہومات اور تصورات کو ادا کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، جیسے ایمان، صلاۃ، زکاۃ وغیرہ… تو اس کا لغوی عموم ایک حد تک ہی درخوراعتنا رہتا ہے، لغت کے ایک لفظ کو اسلام جب اپنے کسی خاص مفہوم کے لیے استعمال کرلیتا ہے تو اُس لفظ کو لغت سے زائد تر ایک مفہوم بھی اس کے ساتھ ہی مل جاتا ہے، جس کے بعد اُس کا لغوی معنیٰ اس سے اسلام کی کل مراد متعین کرنے کے لیے فیصلہ کن نہیں رہ جاتا۔
اب مثلاً صلاۃ ہے، جس کا لغوی مفہوم ہے دعاء۔ تو کیا اسلامی اصطلاحی استعمال میں ہم صلاۃ کو مجرد دعاء کے معنیٰ میں لینا شروع کردیں گے؟ یعنی بس دعاء؛ خواہ وہ ‘دعاء’ اس معروف قیام، رکوع، سجود، تلاوت، طہارت، دخولِ وقت، استقبالِ قبلہ اور دیگر ضوابط کی پابند ہیئت سے ہٹ کر ہی کیوں نہ ہو؟
اسی طرح… ‘‘ایمان’’ لغت میں تصدیق ہے، مگر وہ شرعی اصطلاح میں ‘‘تصدیق’’ کی ایک خاص ہیئت ہے جو باقاعدہ اپنی کچھ شروط اور تقاضے رکھتی ہے؛ جس میں محبت، خشوع، انابت، خشیت، اذعان، تسلیم، خدا کی بات کو ہر ہر معاملے میں اٹل ماننا ، خدا کے رواکردہ کو ہی اپنے لیے روا رکھنا اور خدا کے حرام کردہ کو ہی اپنے لیے ناروا رکھنا، نیز اپنے عمل اور جوارح سے اس بات کا ثبوت دینا، عملی رویے میں اخلاقیاتِ لاالٰہ الا اللہ کی پابندی کرنا سب ‘‘ایمان’’ میں آتا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَاناً وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (الأنفال 2 4)
ایمان والے تو بس وہ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وه اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں؛ ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔
فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيماً (النساء 65)
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ (النساء 59)
اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تم ہو ایمان رکھتے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (المومنون 1-10)
یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو: اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ لغویات سے دور رہتے ہیں۔ زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر (محفوظ نہ رکھنے میں) وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔ البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔ اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔ اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ وہ وارث ہیں۔ جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
یہ سب کچھ اِس ‘تصدیق’ کے ساتھ جڑا ہوا ہے؛ اور جب یہ لفظ ایک باقاعدہ قرآنی اصطلاح بن گئی ہے تو خالی لغت پر اکتفاء کرتے ہوئے اس کا معنیٰ متعین کردینا درست نہیں رہتا؛ بعینہٖ جس طرح صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور دیگر اسلامی اصطلاحات کا معنیٰ ومفہوم متعین کرتے ہوئے مجرد لغت کو نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ اُن اضافی معانی کو ساتھ شامل رکھا جائے گا جو ان کے اصطلاحی مفہوم نے ان کو بخش دیے ہوتے ہیں۔
رہ گیا یہ استدلال کہ ‘‘عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ’’ کا لفظ ‘‘آمَنُوۡا’’ پر معطوف آتا ہے، یعنی دونوں کے درمیان ‘‘وَ’’ آتا ہے اور ‘‘وَ’’ کا اقتضا ہے کہ اس سے پہلے اور بعد کے الفاظ میں مغایرت ہو… تو یہ بھی اتنا ہی بودا اور بے بنیاد استدلال ہے جتنا کہ اس سے پہلے والا استدلال (محض لغت کی بنیاد پر ایک اصطلاح کی گرہ کشائی کرنا)۔
قرآن کی یہ آیت پڑھ لیجئے: (مَنْ كَانَ عَدُوّاً لِلَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ(البقرۃ: 98) ‘‘جو ہوا دشمن اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور رسولوں کا اور جبرائیل کا اور میکائیل کا تو پھر اللہ ایسے کافروں کا دشمن ہے’’) اب کون نہیں جانتا کہ جبرائیل اور میکائیل ملائکہ میں سے ہی ہیں اور ملائکہ کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا، پھر بھی یہ دونوں اس پر معطوف آتے ہیں۔ یہاں ‘‘وَ’’ سے آخر کونسی مغایرت آگئی ہے؟ یہ ایک معلوم قاعدہ ہے کہ جزء اپنے کل پر معطوف آسکتا ہے اور ایک خاص اپنے عام پر معطوف آسکتا ہے؛ قرآن میں یہ بلاغی اسالیب معروف ہیں۔
ایک دوسری آیت پڑھ لیجئے: الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ (غافر 7)‘‘وہ جو عرش کو اٹھانے والے ہیں اور جو اس کے گرداگرد ہیں، تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں’’
یہاں ایمان معطوف ہے تسبیح پر جوکہ مقتضیاتِ ایمان میں سے ہے، کیونکہ کل مؤخر، جزء مقدم پر عطف ہوسکتا ہے اور اس سے بہت سے بلاغی معانی ثابت ہوتے ہیں۔ اس کو اقترانِ احتواء کہتے ہیں یعنی ایک چیز کا دوسری پر مشتمل ہونا، پھر بھی دوسری کا پہلی پر معطوف ہونا؛ اور یہ ‘‘مشتمل’’ ہونا کل اور جزء کی ترتیب سے بھی ہوسکتا ہے اور عموم و خصوص کی ترتیب سے بھی۔
‘‘ایمان’’ اور ‘‘عمل صالحات’’ کے مابین واوِ عطف سے دونوں کی مغایرت پر استدلال کرنا اور یہ نکتہ کشید کرنا کہ ایک دوسرے کے معنیٰ ومفہوم میں آ ہی نہیں سکتا، بوجوہ باطل ہے۔کئی آیات ایسی ہیں جہاں یہ دونوں ایک دوسرے پر معطوف نہیں آتے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں۔ مثال کے طور پر: (وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِناً قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَى جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى(طہ 75- 76)’’اور جو خدا کے پاس آیا مومن ہوکر کہ صالح اعمال کر لیے تھے، تو ایسوں کے لیے بڑے ہی اونچے درجے ہیں، ہمیشگی کے باغات جن کے تلے نہریں بہتی ہیں؛ یہ ہمیشہ رہنے والے اس میں؛ اور یہ ہے بدلہ اس شخص کا جو پاکیزگی پاگیا ہو’’) یہاں پر قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ کا جملہ غورطلب ہےٖ جوکہ دو میں سے ایک معنیٰ کا محتمل ضرور ہے: یا تو ‘‘عملِ صالحات’’ ایمان کا مقتضیٰ اور مضمون ہو؛ جس کا مطلب ہوگا کہ جو شخص مومن ہے وہ لازماً اس حالت میں ہے کہ اُس نے عملِ صالحات کیے ہوں۔ اور یا یہ کہ عملِ صالحات – ايمان کے ساتھ مل كر – دخولِ جنت کی شرط ہے۔ ہردو حال میں ‘‘ایمان’’ اور ‘‘عملِ صالحات’’ باہم منسلک ولاینفک ہیں؛ یا تو مبدأ کے لحاظ سے یا انجام کے لحاظ سے، یا ہردو لحاظ سے۔
کہنے کو مرجئہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں ‘‘عملِ صالحات’’ شرط ہے ‘‘الدَّرَجَاتُ الْعُلَى’’ پانے کےلیے نہ کہ مجرد دخولِ جنت کےلیے؛ جبکہ مجرد دخولِ جنت کیلئے شرط ‘‘تصدیق اور اقرار’’ کے سوا کچھ نہیں… تو ان کے اِس یہ دعویٰ کو سورہ نساء کی یہ آیت باطل کردیتی ہے:
وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلا يُظْلَمُونَ نَقِيراً (النساء 124)
اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ ہو وہ مومن، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اُن کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی
واضح طور پر؛ یہاں عملِ صالحات کا ذکر اصل کے طور پر آیا ہے اور پہلے آیا ہے جبکہ ‘‘وَهُوَ مُؤْمِنٌ’’ پر مشتمل جملہ حالیہ شرط یا قید کے طور پر آیا ہے؛ اور ذکر ہے مجرد دخولِ جنت کا نہ کہ ‘‘درجاتِ عُلیٰ’’کا!
اسی طرح اللہ رب العزت کا یہ فرمان:
وَيُبَشِّـرَ الْمُؤْمِنِيـنَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَـاتِ أَنَّ لَهُـمْ أَجْراً حَسَناً (الکہف 2)
اور (تاکہ) ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوش خبری دے دے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے
یہاں بھی؛ معاملہ دو صورتوں سے باہر نہیں: یا تو یہ معنیٰ ہے کہ ‘‘مومنین’’ کی تعریف یہ ہے کہ وہ ‘‘عمل صالحات’’ کرنے والے ہوں۔ یا یہ کہ ‘‘اچھا اجر’’ پانے کے لیے ‘‘ایمان’’ کے ساتھ ‘‘عمل صالحات’’ شرط ہے۔
سب آیات یہ معنیٰ دینے میں واضح ہیں کہ ایمان اور عمل صالحات کو اٹوٹ نہ جاننے اور دخولِ جنت کیلئے خالی تصدیق اور اقرار کو کافی جاننے والا یہ ارجائی مذہب سراسر باطل ہے۔
*****
مرجئہ نے ‘‘معصیت’’سے بھی استدلال کرنے کی کوشش کی ہے…
علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ جوارح میں واقع ہوجانے والی معصیت آدمی کو ایمان سے خارج نہیں کرتی۔ یہاں سے مرجئہ نے عمارت کھڑی کرلی کہ دیکھا ایمان ایک قائم بخود حقیقت ہے جو عمل سے ہٹ کر کوئی چیز ہے ؛ ورنہ لازم تھا کہ معصیت کے مرتکب سے ایمان کی صفت ہی زائل تصور ہوتی اور اسکو مومن سمجھنا ہی موقوف ہوتا!
یہ بھی ویسا ہی ایک مغالطہ ہے۔ معصیت بلاشبہ آدمی کو ایمان سے خارج نہیں کرتی؛ مگر یہ ایمان پر اثرانداز ضرور ہوتی ہے!
معصیت کا انسان کی حالت پر اثرانداز ہونا ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس کو ثابت کرنے پر زور لگانا غیرضروری ہے۔ہمارے لیے رسول اللہﷺ کا بیان کافی ہے؛ وہ ہستی ﷺ جو حقیقتِ ایمان سے سب سے بڑھ کر واقف ہے اور قلبِ بشری سے متعلقہ حقائق سے سب سے بڑھ کر آگاہ:
إن العبد إذا أخطأ خطيئـة نكتت في قلبه نكتة ، فإذا هو نزع واستغفر وتاب صقل قلبه ، وإن عاد زيد فيها حتى تعلو قلبه ، وهو الران الذي ذكره الله تعالى : ‘‘كَلَّا بَلۡ رَانَ عَلٰى قُلُوبِهِـمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُـوۡنَ . كَلَّا إنَّهُـمۡ عَن رَّبِّهِمۡ يَوۡمَئِذٍ لَّمَحۡجُوۡبُـوۡن ، ثُمَّ إنَّهُـمۡ لَصَالُوا الۡجَحِيۡم’’ (رواہ مسلم ومالک فی الموطأ)
بندہ جب ایک گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک دھبہ پڑ جاتا ہے۔ اگر تو وہ اس سے دستبردار ہوجائے ؛ استغفار کرلے اور تائب ہوجائے تو اس کا دل اجلا ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو وہ دھبہ گہرا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے پورےدل پر چھا جاتا ہے؛ اور یہ وہ زنگ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے:كَلَّا بَلۡ رَانَ عَلٰى قُلُوبِهِـمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُـوۡنَ . كَلَّا إنَّهُـمۡ عَن رَّبِّهِمۡ يَوۡمَئِذٍ لَّمَحۡجُوۡبُـوۡن ، ثُمَّ إنَّهُـمۡ لَصَالُوا الۡجَحِيۡم ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ ہرگز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے۔ پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے
اب اس پر تو سب متفق ہیں کہ دل ہی ایمان کا محل ہے… تو ایک دل جو سیاہ ہے اس کا اور ایک ایسے دل کا جس کی سفیدی قائم ہے معاملہ ایک برابر کیسے ہوسکتا ہے؟
اور یہی تو وہ بات ہے جو علماء (اہلسنت) نے کہی ہے: کہ ایمان نیکیوں سے بڑھتا ہے اور گناہوں سے گھٹتا ہے۔ اب یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ دل اپنی اُس حالت میں جب ایمان بڑھ رہا ہو اور اُس حالت میں جب ایمان گھٹ رہا ہو، ایک سا ہو!
پھر اس کے ساتھ ساتھ، معصیت کا یہ دائرہ کتنا ہی کھلا کیوں نہ، لازم ہے کہ اس کی کچھ حدود مانی جائیں۔ یہ حدود ظاہر ہے ہم اپنے پاس سے نہیں وضع نہیں کرلیں گےبلکہ یہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہؐ سے ہی اخذ ہوں گی…
لہٰذا معصیت ایک چیز ہے اور استحلال (اُس معصیت کو روا کرلینا) اور چیز۔ اور جہاں تک اِس استحلال (معصیت کے عمل کو روا کرلینا) کا تعلق ہے تو وہ بلاشبہ ایمان سے خارج کرنے والا ہے چاہے آدمی گناہ کا وہ فعل نہ بھی کرتا ہو۔
اس استحلال کے حوالے سے…:
مجرد ‘‘معصیت’’ میں وہ افعال نہیں آتے جو ‘‘اصلِ ایمان’’ (ایمان کو بنیاد سے) ڈھانے والے ہوں۔ جبکہ تشریع بغیر ما انزل اللہ (غیر اسلامی شرائع کو آئین بنادینا) نواقضِ ایمان میں سے ہیں؛ یعنی یہ اُن افعال میں سے ہے جو اصلِ ایمان ہی کو ڈھا دیتے ہیں۔
نیز… یہ چیز بھی مجرد ‘‘معصیت’’ میں نہیں آتی کہ آدمی لاالٰہ الا اللہ کے سب کے سب تقاضوں کو مکمل خیرباد کہہ چکا ہو۔ اعراض کی یہ حالت مجرد ‘‘معصیت’’ کی نسبت سنگین تر ہے۔
*****
پھر مرجئہ اس بات سے استدلال کرتے ہیں کہ اسلام میں داخلے کے لیے شہادتین بول دینے کے سوا کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ہے؛ اور شہادتین بولنے کے ساتھ ہی وہ شخص مسلمان شمار ہونے لگتا اور اُس پر مسلمان والے سبب ظاہری احکام لگ جاتے، جبکہ اُس کا حساب اللہ پر چھوڑ دیا جاتا۔
ایک نہایت کام کی بات کی ہے، مگر اس سے ایک نہایت غلط بات ثابت کی جارہی ہے۔ مطالباتِ لاالٰہ الا اللہ کی بابت اس سے بڑھ کر غلط فہمی اور غلط گوئی کوئی نہ ہوگی…
اس میں کیا شک ہے کہ جو شخص رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوکر یہ اعلان کردیتا: ‘‘میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اٍس کے رسول ہیں’’ (یا اس کی ہم معنیٰ عبارت) تو بلاتاخیر وہ مسلمان شمار ہوتا، اگرچہ اُس نے یہ الفاظ ازراہِ نفاق ہی کیوں نہ بولے ہوں۔
تاہم… اُس کا یہ ‘‘گواہی’’ دینا ایک ملت کو خیرباد کہہ آنے اور دوسری ملت کو اختیار کرلینے کا واضح اعلان ہوتا۔ ‘‘گواہی’’ دینے کی یہ جہت مرجئہ گول کرگئے، جبکہ وہ پورے جزیرۂ عرب پر واضح تھی، اور ماحول میں اس کی دلالت نہایت معلوم تھی، اور لگے یہ ثابت کرنے کہ ‘دیکھا، دو لفظ بول دینے پر آدمی مسلمان مان تو لیا جاتا تھا’!!!
ایک ایسی عظیم بات… مگر مرجئہ کو کیا سوجھی، یہ اس سے استدلال کرنے چل پڑے کہ یہ تو دو لفظوں کی مار ہے! اسلام کا وہ سرٹیفکیٹ دو کلمات بول دینے پر مکمل ترین انداز میں آدمی کو دے دیا جاتا تھا (اور کیا شک ہے کہ واقعتاً دے دیا جاتا تھا!) اور موقع پر اُس سے کسی اور چیز کا مطالبہ نہ کیا جاتا، بلکہ اُس کا حساب خدا پر چھوڑ دیا جاتا۔
مرجئہ وہ اصل بات گول کرگئےجوکہ ‘‘شہادت’’ کی اصل دلالت ہے؛ یعنی کفر کی ملت سے برأت، اور اللہ کی غلامی اور محمدﷺ کی تابعداری کا واضح دو ٹوک اعلان…
تو پھر آئیے اصل فیصلہ کن بات پر آجاتے ہیں: کیا خیال ہے اگر ایک ایسا آدمی جو بدستور لاالٰہ الا اللہ پڑھتا ہے، ارتداد کا مرتکب ہوجائے…؟
اب یہ شخص لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ تو پڑھتا ہے؛ مگر صاف بات ہے کہ لا الہ الا اللہ کے کسی مضمون یا کسی مقتضا کا انکار کرنے لگا ہے؛ مثلاً نماز کا منکر ہوگیا ہے، روزے کا منکر ہوگیا، یا کہتا ہے کہ میں زکاۃ یا حج کو نہیں مانتا، یا مرجئہ کی تعریفِ استحلال کو پورا کرتے ہوئے وہ حاکمیتِ شریعت کو رد کرگیا ہے… مگر‘‘کلمہ’’ وہ برابر پڑھتا ہے… تو کیا اس کو مرتد نہیں کہیں گے؟ اور اُس کی سزا دنیا میں قتل اور آخرت میں دائمی جہنم نہیں ہے؟
کیا یہ عجیب نہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک آدمی کی سزا قتل رکھے اور آخرت میں دائمی جہنم، ایک ایسی بات پر جو اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہی نہیں ہے؟!
تو کیا یہ ثابت نہ ہوا کہأشهد أن لا اله الا الله واشهد أن محمدا رسول اللهکسی ‘‘حقیقت’’کا اعلان تھا نہ کہ دو لفظ۔ ورنہ اگر یہ محض دو لفظ ہیں، تو جہاں اس حقیقت کو توڑ دیا گیا وہاں (خود مرجئہ کے ہاں بھی) یہ دو لفظ کیوں کام نہ آئے؟
پس یہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کچھ التزامات (پابندیوں) کا ہی اقرار ہے۔ لہٰذا ایسے اقرار کا اعتبار کیوں نہ کیا جائے؟ پس آدمی کے اقرر کا یہ اعتبار اُس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ اُس کا اپنے اُس اقرار کو صریح حد تک توڑ دینا ہمارے سامنے آجائے، مثلاً لا الٰہ الا اللہ کے نواقض میں سے کسی ایک بات کا ارتکاب۔
بنابریں… آدمی کےأشهد أن لا اله الا الله واشهد أن محمدا رسول الله بولنے میں ہی یہ بات ضمناً شامل ہے کہ ‘‘خدا کی جانب سے آنے والی ہر چیز مجھ کو قبول ہے اور اس کی اتاری ہوئی شریعت میری زندگی کا واحد دستور ہے’’۔ اور جب یہ بات اُس کے ‘‘اقرارِ لاالٰہ’’ میں شامل ہے تو جیسے ہی وہ اپنے اِس حلف سے پھرے گا اور شریعتِ خداوندی کے ماسوا کسی چیز کو اپنا آئین بنائے گا تو اُس کا وہ ‘‘اقرارِ لاالٰہ’’ ہی کالعدم قرار پا جائے گا۔ ہاں اب اُس کا وہ ‘‘اقرارِ لاالٰہ’’ اُس کے حق میں نہیں بلکہ اُس کے خلاف حجت ٹھہرے گا۔
پس مرجئہ کی یہ دلیل صرف اس صورت میں معتبر ہوگی اگر اِس کو معنیٰ اور دلالت سے خالی ایک کلمہ مان لیا جائے… ظاہر ہے ‘‘لاالٰہ الا اللہ’’ کی بابت اس سے بڑھ کر کوئی بیہودہ اور لغو بات نہیں ہو سکتی۔
اِس ‘‘لا الٰہ الا اللہ’’ کو (محض ایک لفظ کےطور پر) کافی جاننے کے مسئلہ کو مرجئہ دراصلاُس فضا اور اُس ماحول سے کاٹ کر لیتے ہیں جس میں ایک شخص کا ‘‘لاالٰہ الا اللہ’’ کہہ دینا اپنی زندگی کی سمت تبدیل کرلینے کے حوالے سے واقعتاً ایک نہایت کافی اعلان تھا۔ اور یہیں سے یہ لوگ امت کو بڑی بڑی گمراہیاں پیدا کر کے دیتے ہیں…
اس میں ادنیٰ شک نہیں کہ ‘‘لاالٰہ الا اللہ’’ رسول اللہﷺ کی پوری دعوت کا عنوان ہے اور اِس لاالٰہ الا اللہ کو قبول کرلینا دراصل رسول اللہﷺ کی پوری دعوت کو قبول کرلینا ہے اور اپنے آپ کو رسول اللہﷺ کی اطاعت اور فرماں برداری میں دے دینا۔ ‘‘اسلام’’ کی بابت یہ واضح ترین حقیقت مرجئہ پر واضح ہوجائے تو یہ پورا مسئلہ ختم ہوجاتا ہے…
جس دن سے محمدﷺ کے ہاتھوں کرۂ ارض پر مسلم معاشرہ اپنی ایک مستقل بالذات حیثیت میں قائم ہوا ہے… اُس دن سے یہ دین، یہ ملت، یہ امت، یہ معاشرہ اپنی ایک معلوم صورت، اپنی ایک معلوم ساخت، اور اپنا ایک معلوم دستور رکھتا ہے۔ کوئی فرضی اور وہمی چیز نہیں جو کتابوں اور بحثوں کےاندر ڈھونڈی جائے! یہ ایک معلوم دعوت ہے۔ ایک معلوم معاشرہ ہے۔ ایک معلوم مطالبہ اور معلوم تقاضا ہے۔ ‘‘انسان سے محمدﷺ کا مطالبہ’’ کسی ایک دن اوجھل نہیں ہوا۔ ‘‘لا الٰہ الا اللہ’’ اس کا محض عنوان ہے۔ کوئی ایک شخص دنیا میں ایسا نہیں، نہ دورِ نبوی میں اور نہ آج تک، جو ‘‘لاالٰہ الا اللہ’’ کے اِس دروازے کے پیچھے کسی عمارت کے وجود سے لاعلم ہو۔ یہ صرف مرجئہ کی جدلیات ہیں جو ‘‘دروازے’’ کے پیچھے ‘‘عمارت’’ کو گول کرجاتی ہیں اور ‘بحثوں’ کی نوبت لے آتی ہیں؛ ورنہ عقول اور بدیہیات یہ قبول کرنے سے ہی ابا کرتی ہیں کہ ایک ‘‘دروازہ’’ لازماً کسی ‘‘احاطے’’ میں نہ کھلے۔ مرجئہ ہمیں ایک ایسے دروازے کی خبر دینے پر بضد ہیں جس کے پیچھے کوئی چاردیواری ہے اور نہ کوئی حدود اور نہ قیود! ایک چوپٹ دنیا؛ جس کی جانب ان کی ‘کلمہ گوئی’ کا یہ دروازہ کھلتا ہے! محمدﷺ کی لائی ہوئی دعوت، عالمِ انسان سے آپؐ کا مطالبہ، آپؐ کا قائم کردہ معاشرہ، اور اس معاشرے کا دستور اور آئین اس سے کہیں واضح اور کہیں برگزیدہ ہے کہ یہ ‘دو لفظوں’ کی مار ہو؛ جس کے پیچھے نہ کوئی حقیقت، نہ دلالت، نہ عہد، نہ التزام، نہ واجبات اور نہ فرائض اور نہ پابندی! دورِنبوت سے آج تک ہر کسی کو محمد ﷺ کے دین میں آنے کا یہ مطلب پیشگی معلوم ہے کہ یہ پورا ایک دین ہے؛ اور یہ کہ جو شخص آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے اُس کو دن میں پانچ بار خدا کے سامنے سجدہ ریز ہونا ہے، رمضان کے تیس دن صبح سے شام تک خدا کی تعظیم میں بھوک پیاس سہنا ہے۔ اپنے مال کا ایک حصہ نکال کر ہر سال خدا کی راہ میں پیش کرنا ہے، اور حسب استطاعت زندگی میں ایک بار خدا کے گھر کا طواف کرکے آنا ہے، خدا کے نازل کردہ احکام کو اور اس کے ٹھہرائے ہوئے حلال اور حرام کو اپنے لیے آئین ماننا ہے اور حق وباطل اور درست نادرست اور روا وناروا کی بابت خدا جو فرمادے یا اُس کا رسول جو فرمادے اُس کو حتمی وآخری تسلیم کرنا ہے۔ دینِ محمدؐ کی بابت ہر کس و ناکس پیشگی جانتا ہے کہ یہاں اِن باتوں کی پابندی ہے؛ اور اس کے ‘‘مسلمان’’ ہونے کا آپ سے آپ یہ مطلب ہوگا کہ وہ ان باتوں کا پابند ہے۔ اب یہ سب جانتے ہوئے… وہ اِس میں داخل ہونے کا اعلان کرتا ہے: أشهد أن لا اله الا الله وأشهد أن محمدا رسول الله۔ بتائیے یہاں کیا ابہام باقی ہے؟ حتیٰ کہ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس دین سے پھرجانے اور اس کے نواقض کا ارتکاب کرلینے کی سزا قتل ہے، پھر بھی وہ لاالٰہ الا اللہ کہہ کر اس دین کو قبول کرتا ہے؛ اور جبکہ اُسے معلوم ہے کہ محمدﷺ کے ہاتھوں یہ دین زمین میں عملاً قائم ہوچکا ہے اور اس کے ہاتھ میں وہ تلوار آچکی ہے جو اس دین سے مرتد ہوجانے اور اس کے نواقض کا ارتکاب کرلینے والے کا سرقلم کردے۔ یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے وہ اپنے آپ کو اس دین میں آنے کے لیے پیش کرتا ہے۔ جبکہ مرجئہ کے خیال میں اُس نے تو کسی بات کی پابندی ہی اختیار نہیں کی صرف دو لفظ بولے ہیں اور ہم نے تو محض ان دو لفظوں کی وجہ سے (نہ کہ ان دو لفظوں کے زیرعنوان ایک حقیقت کو قبول کرلینے اور اس کی پابندی کا قلادہ گردن میں ڈال لینے کے باعث) ہم نے اس کو مسلمان اور صاحبِ ‘‘کامل ایمان’’ مان لیا ہے!حالانکہ اس آدمی نے ایک ایسے دین کو قبول کرکے جس کی عائد کردہ پابندیوں کا اس کو پیشگی علم ہے اور جوکہ زمین پر بالفعل قائم ہے اور اپنے فرائض و محرمات کو بزور لاگو کروانے اور اپنے نواقض کے مرتکب کا (توبہ کا موقع دے دینے کے بعد) سر قلم کردینے کے لیے تلوار پاس رکھتا ہے… اس کی پابندیوں کو اور اس کی شریعت کی حتمی حیثیت اور اس کے دستور کی حاکمیت کو قطعی طور پر قبول کرلیا ہے؛ اس کا أشهد أن لا اله الا الله وأشهد أن محمدا رسول الله کہنا تو اِس پوری حقیقت کا محض ایک اظہار ہے! پھر بھی کوئی کہے کہ أشهد أن لا اله الا الله وأشهد أن محمدا رسول الله کہنے میں ‘‘شریعت کا دستور نہ توڑنے کی پابندی’’ کہاں ہے… تو اس کی سمجھ کا ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔
ہم یہ وہ بات کررہے ہیں جو دینِ محمدؐ کی بابت ایک معلوم حقیقت ہے اور ہرکس و ناکس اس سے واقف ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک عام آدمی دین کے بہت سے فروعی احکام سے جاہل نہیں ہوسکتا۔ بے شک اسلام کے بہت سے احکام ایسے ہیں جو صرف اس دین کے فقہاء کو ہی معلوم ہیں۔ مگر وہ چیز جس سے کوئی شخص جاہل نہیں ہوسکتا وہ یہ کہ خدا کے ہاں سے نازل ہونے والی شریعت کی پابندی اِس امت کا دین اور دستور ہے اور ہر ہر شخص اس کا مخاطب اور پابند، اور یہ کہ اِس پابندی کا قلادہ گلے میں ڈالنا أشهد أن لا اله الا الله وأشهد أن محمدا رسول الله کہنے کا براہِ راست مقتضا اور مفہوم ہے۔
اسی لیے تو مطالباتِ لا الٰہ الا اللہ کے بیان پر ہم اس قدر زور دیتے ہیں!
ایک آدمی کو اسلام میں داخل کرواتے وقت صرف لا الٰہ الا اللہ پڑھوایا جاتا تھا اور عین اس موقع پر اس سے یہ عہد نہیں لیا جاتا تھا کہ وہ نماز پڑھے گا، روزہ رکھے گا، زکاۃ دے گا، حج کرے گا، شریعت کو اپنا دستور مانے گا، اور اللہ و رسولؐ کے فرمائے کی حتمی حیثیت تسلیم کرے گا… اس لیے کہ یہ سب کچھ ‘‘معلوم من الدین بالضرورۃ’’ ہوچکا تھا (یعنی وہ امور جن کا دینِ اسلام میں سے ہونا ایک معلوم واقعہ ہے)۔ ‘‘معلوم من الدین بالضرورۃ’’ کی یہ اصطلاح علمائے عقیدہ کی زبان پر آئی ہی اس لیے ہے۔ ‘‘تعلیم’’ کا وہ ابتدائی مرحلہ جو رسول اللہ ﷺ نے آغازِ دعوت میں گزارا، اس نے یہی تو کام کیا تھا کہ لا الٰہ الا اللہ کسی معلوم حقیقت کا عنوان ہو نہ کہ محض دو لفظ۔ اب قیامت تک کے لیے اس کی یہ شان بن گئی ہے کہ یہ اپنے پیچھے ایک دین، ایک عقیدے، ایک ملت، ایک معاشرے، ایک دستور، اور فرائض ومحرمات کے پورے ایک پیکیج کی خبر دے، جس کی کسی بات کو توڑنا کفر ہوگا تو کسی بات کو توڑنا فسق اور کسی بات کو توڑنا محض گناہ۔ یہ ہے ‘‘معلوم من الدین بالضرورۃ’’۔ اور تو اور، منافق جانتا ہے کہ رسول اللہﷺ کا وہ کم از کم مطالبہ جس کو پورا کرنے پر آدمی کی جان بخشی ہوتی ہے وہ محض دو کلمے بہرحال نہیں ہیں! یہ ‘‘دو کلمے’’ ایک ضابطے میں آنے کا نام ہیں اور اِن ‘‘دو کلموں’’ کا یہ تعارف کروانے کے لیے ہی آپؐ کی یہ ساری محنت ہوئی تھی۔
کیا یہ بات غور طلب نہیں کہ دین کے قائم کردہ اس معاشرے میں… مومن اور منافق کے مابین فرق کرنے والی اصل بات یہ نہیں کہ ایک نماز پڑھتا ہے اور دوسرا نماز نہیں پڑھتا۔ ایک شریعت کو اپنا دستور مانتا ہے اور دوسرا شریعت کو اپنا دستور نہیں مانتا۔ کیونکہ نماز نہ پڑھ کر، اور شریعت کے سوا کسی چیز کو اپنا دستور مان کر تو وہ ظاہر میں بھی مسلمان نہیں رہتا۔ پس اِن دونوں میں فرق کرنے کی بنیاد رسول اللہﷺ کے قائم کردہ معاشرے میں یہ سرے سے نہیں۔ یہ نہیں کریں گے تو پھر تو تلوار ہے؛ اور یہ وہ آدمی نہیں جس کا حساب ایک مسلم معاشرے میں اللہ پر اور یومِ آخرت پر چھوڑا جائے گا۔ پانچ وقت خدا کے آگے سجدہ ریز ہونا اور خدا کی شریعت کو اپنا دستور اور آئین ماننا، یہ تو مسلم بھی کرے گا اور منافق بھی۔ ہاں فرق دونوں میں یہ ہے، اور یہی بات فیصلہ کن ہے، کہ ایک یہ کام کرے گا ایمان، تصدیق، اطاعت اور تقربِ خداوندی کے جذبے سے، جبکہ دوسرا یہی کام کرے گا منافقت سے اور اپنی جان بچانے کے لیے۔
اسلام کا سرٹیفکیٹ جس ‘‘ظاہر’’ پر ملتا ہے، اور جس پر مسلم معاشرے میں آدمی کی جان بخشی ہوتی ہے، وہ ‘‘ظاہر’’ نہیں جس میں نہ ‘‘نماز’’ اور نہ ‘‘التزامِ دستورِ شریعت’’۔ ایسے ‘‘ظاہر’’ کے لیے تو مسلم معاشرے میں ‘‘تلوار’’ ہے نہ کہ حقوقِ مسلمانی؛ اور بہت ظالم ہے وہ شخص جو ایسے ‘‘ظاہر’’ کو خدا پر چھوڑنے کو ‘‘وحسابه على الله’’ سے استدلال کرنے پر زور لگاتا ہے۔
تیرہ صدیوں تک یہ امت ایسے ہی ایک اسلام سے واقف رہی ہے جس میں ایک منافق تک کو کچھ قاعدوں اور ضابطوں کا پابند رہ کر دکھانا ہوتا ہے۔
*****
پھر یہ واقعۂ اسامہ بن زیدؓ سے استدلال کرتے ہیں، جب انہوں نے دورانِ جہاد ایک آدمی کو اُس وقت قتل کردیا جب اُن کی تلوار نے اُسے پوری طرح زیر کرلیا تھا، اور جس پر رسول اللہﷺ اُن پر شدید غضب ناک ہوئے، یہاں تک کہ آپؐ بار بار دہراتے جارہے تھے ‘‘کیا اُس کے لا الٰہ الا اللہ کہہ دینے کے بعد تم نے اُس کو قتل کرڈالا؟’’ اور اسامہؓ کا یہ عذر تسلیم نہ کیا کہ اُس نے محض تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھا تھا نہ کہ ایمانی طور پر، یہاں تک کہ آپؐ نے فرمایا: ‘‘کیا تو نے اُس کا دل نہ چیر لیا کہ دیکھ لیتا واقعتاً اُس نے کلمہ پڑھا یا نہیں’’۔
اس واقعہ سے بے شمار اشیاء ثابت ہوتی ہیں سوائے اُس ایک بات کے جو مرجئہ اس سے ثابت کرنا چاہتے ہیں…
اِن کی اس بات میں ضرور کوئی وزن ہوتا اگر اسلام میں منافق کے کوئی احکام ہی نہ ہوتے!
اُس شخص کی بابت، جو اسامہؓ کی تلوار سے قتل ہوگیا اور جس پر رسول اللہﷺ غضبناک ہوئے، بدترین احتمال یہی ہوسکتا ہے کہ اس نے دل سے نہیں بلکہ اوپر اوپر سے یہ کلمہ پڑھ لیا ہو، تاکہ وہ اپنی جان بچالے۔ منافق جس کو شریعت میں چھوڑ دینے کا حکم ہے، آخر یہی تو کرتا ہے! لیکن یہی منافق، جب نماز کا وقت ہوجائے تو اپنی وہی جان بچانے کے لیے جو اس کو پیاری ہے نماز بھی پڑھتا ہے! اپنی اسی پیاری جان کو بچانے کے لیے وہ شریعت کی رِٹ بھی تسلیم کرتا ہے! اب یہ کام وہ اپنی جان بچانے کیلئے کرے یا خدا کی خوشنودی کےلیے، ہمیں اس سے سروکار نہیں ہے (یہ ہے ‘‘وحسابه على الله’’کا صحیح معنیٰ)۔ ہم اُس سے جس چیز کی پابندی کرانے کے مکلف ہیں وہ اُس نے کردی ہے، اس میں مرجئہ کے مذہب کو ثابت کرنے والی دلیل کہاں ہے؟
آدمی کا لا الٰہ الا اللہ کہہ دینا موقع پر اس سے تلوار کو رفع کرا دیتا ہے، یہ بات طے ہے، لیکن کیا اسلام کا سرٹیفکیٹ پانے کیلئے اُسکو زندگی میں بس یہی کارروائی کرنی ہےاور کچھ اور دیکھاجانا باقی نہیں ہے؟ اصل التباس واقعۂ اسامہؓ میں یہاں پیدا کرکے دیا جاتا ہے۔
یعنی… جھڑپ میں اُس نے لا الٰہ الا اللہ خواہ جان بچانے کے لیے ادا کیا ہو؛ یہاں پر واقعتاً اس کو چھوڑ دینا ہی بنتا ہے، لیکن اس کے بعد اگر وہ احکامِ اسلام کی وہ کم از کم پابندی نہیں کرتا جوکہ ایک مسلم معاشرے میں بہرحال طلب کی جاتی ہے… تو بھی کیا اُس کے ساتھ مسلمان والا معاملہ کیا جائے گا؟ مثلاً… نماز کا وقت آگیا ہے مگر وہ نمازیوں کی صف میں آکھڑا ہونے کا روادار نہیں، کیا تب بھی اُس کو چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ اُس نے ‘‘لا الٰہ الا اللہ’’ تو پڑھ لیا ہے!!؟
پس یہ تو اس کو ایک موقع دینا ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کی صورت میں اُس نے جو دعویٰ کیا ہے، عمل کی کم از کم حد اختیار کر کے وہ اپنے اِس دعویٰ میں سچا ہونے کا ثبوت دے لے (ظاہری ثبوت کم از کم دے؛ باطنی ثبوت کا معاملہ خدا کے ساتھ)۔ اب اگر وہ لاالٰہ الااللہ کا طلب کردہ کوئی ایک بھی عمل کرنے کا روادار نہیں، تو اس کے لیے ہمارے پاس ارتداد کی حد ہے نہ کہ اس کی کلمہ گوئی کے اعتبار میں اس کے جان اور مال کی عصمت۔
پس قاعدہ یہ ہوا کہ لا الٰہ الا اللہ ادا کردینے کی صورت میں جو شخص بھی ہمارے سامنے اسلام کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیتا ہے ہم اس کو جان ومال کی امان دیتے ہوئے پورا موقع دیں کہ وہ اپنے دعوائے ایمان کو – عمل کی کم از کم سطح پر – ثابت کرلے… تاوقتیکہ ہم یہ نہ دیکھ لیں کہ یہ شخص لا الٰہ الااللہ کے طلب کردہ ‘‘عمل’’ کی کم از کم حد کو بھی پورا نہیں کررہا؛ جس کے بعد اُ س کے خلاف بحقِ شریعت کارروائی ہوگی؛ اور جس میں سزائے موت تک ہوسکتی ہے۔ اِس واقعۂ اسامہ میں مذہبِ مرجئہ کے لیے دلیل کہاں ہے؟
*****
پھر یہ اس لونڈی کے واقعہ سے دلیل لیتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ اُس سے پوچھتے ہیں: ‘‘اللہ کہاں ہے؟’’ تو وہ آسمان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پھر آپؐ پوچھتے ہیں: ‘‘میں کون ہوں؟’’ تو وہ جواب دیتی ہے: ‘‘اللہ کے رسول’’۔ تب آپؐ فرماتے ہیں: اسکو آزاد کردو یہ مومنہ ہے’’۔ مرجئہ یہاں یہ نکتہ پیش کرتے ہیں کہ ‘‘ایمان’’ کو ثابت کرنے کیلئے شہادتین کو بول دینے سے بڑھ کر کوئی چیز مطلوب ہوتی تو رسول اللہﷺ اُس لونڈی کے حق میں ایمان کی گواہی نہ دیتے، پس ثابت ہوا کہ یہ دو کلمے بول دینا آدمی کا ایمان ثابت کردینے کے لیے بہت کافی ہے!
یہ وہ سب سے بڑی دلیل ہے جو قدیم اور جدید مرجئہ اپنے مذہب کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں جو کل مطلوب ہے وہ ان دو کلموں کو بول دینا ہے، اور آخرت کے حوالے سے کل مطلوب: ان کو بول دینے کے ساتھ دل سے سچا جاننا۔
جبکہ ہمارے علماء قدیم زمانے سے ان کے اس استدلال کا رد کرتے آئے ہیں…
اس کے جواب کے لیے چاہے ہم امام شاطبیؒ کے اصول کو بنیاد بنائیں جو کہتے ہیں کہ عینی واقعات نص کو بے اثر کردینے کے لیے بنیاد ہی نہیں بنائے جاتے؛ کیونکہ نص اپنی دلالت میں کہیں زیادہ قوی اور محکم ہوتی ہے۔ ایک واقعہ اپنے آپ میں صحیح ہوتا ہے لیکن نص کے مقابلے میں وہ قاعدہ دینے کے لیے بنیاد نہیں بنایا جاتا کہ جس پر دیگر سب امور قیاس کرلیے جایا کریں…
اور چاہے اس کےلیے امام ابن تیمیہؒ کے جواب کو بنیاد بنایا جائے اور وہ یہ کہ: ادائے شہادتین کو دنیوی امور سے متعلقہ فوری اجرائے احکام کےلیے تو ایک کافی بنیاد مانا جائے گا، جبکہ ‘‘آزاد کرنا’’ دنیوی احکام میں ہی آتا ہے، تاہم ایمان کے ثبوت کےلیے یہ کافی نہیں…
چاہے ہم شاطبی کی دی ہوئی بنیاد اختیار کریں اور چاہے ابن تیمیہؓ کی دی ہوئی بنیاد… اصل قضیہ ایک ہے، اور وہ یہ کہ جو شخص آپ کے سامنے لاالٰہ الا اللہ کی شہادت دےرہا ہے اس کی بابت دین میں لازماً یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ اُس نے مطالباتِ لا الٰہ الا اللہ کا پابند ہونا اختیار کرلیا ہے، موقع پر تو اس کے سوا کوئی اور چیز فرض کی ہی نہیں جاتی، کیونکہ یہ ضروریات دین (معلوم من الدین بالضرورۃ) میں سے ہے، اور چونکہ ہم نے اس کی بابت فرض کرلیا ہے کہ آج سے وہ اسلام کا پابند ہے، تو اس لیے آج سے اس کو اسلام کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل ہوگیا ہے؛ یعنی اُس ضمنی پیمان کے موجب جو اُس کے لاالٰہ الا اللہ بول دینے سے آپ سے آپ لازم آگیا ہے۔ ہاں اب اگر وہ اِس پابندی سے پھر جاتا ہے، اور پابندی کی وہ کم از کم سطح بھی برقرار نہیں رکھتا جوکہ ہرکلمہ گو سے لازماً طلب کی جاتی ہے، تو تب اگرچہ وہ زبان سے لا الٰہ الا اللہ کہتا ہو وہ اسلام سے مرتد قرار پائے گا اور اس پر یہ حکم لگ جانے سے اُس کو یہ چیز بھی نہیں بچائے گی کہ وہ کہے ‘مجھے پتہ نہیں تھا’!
*****
نیز مرجئہ اس حدیث سے حجت پکڑتے ہیں: من قال لا إله إلا الله دخل الجنة‘‘جس نے کہہ دیا لا الٰہ الا اللہ وہ جنت میں جائے گا’’، یا اسی معنیٰ کی کچھ احادیث۔
ان احادیث کے حوالے سے یہ وضاحت تو غیرضروری ہے کہ یہ نصوص اُس وقت کہی گئیں جب اسلام کا آغاز تھا اور فرائض ابھی نازل نہیں ہوئے تھے؛ اگرچہ بعض علماء نے ان احادیث کی یہی توجیہ کی ہے…
حافظ منذریؒ لکھتے ہیں:
عظیم اہل علم کا ایک فریق اس رائے کی طرف گیا ہے کہ نصوصِ شریعت میں پائے جانے والے اس طرح کے اطلاقات کہ جو شخص کہہ دے لا الٰہ الا اللہ وہ جنت میں داخل ہوگا، یا اُس کو آگ پر حرام ٹھہرادیا جائے گا، وغیرہ، ابتدائے اسلام میں صادر ہوئے جب دعوت ہی خالی اس بات کی تھی کہ توحید کا اقرار کرلیا جائے۔ بعد ازاں جب فرائض نازل ہوئے اور حدود مقرر ہوئے تو وہ پچھلے اطلاقات منسوخ ٹھہرے۔ اس کے دلائل کثیر ہیں اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والے ہیں۔ اس قول کی جانب گئے ہیں ضحاکؒ، زہریؒ، سفیان ثوریؒ ودیگر۔ جبکہ ایک فریق کا کہنا ہے کہ اس پر نسخ کا دعویٰ کرنا غیرضروری ہے کیونکہ وہ سب امور جو ارکانِ دین اور فرائضِ اسلام میں آتے ہیں وہ خود بخود اقرارِ شہادتین کے لوازم اور تتمہ جات ہیں؛ لہٰذا اگر وہ شخص ادائے فرائض سے دست کش رہتا ہے خواہ منکر ہو کر یا خالی بے عمل رہ کر –جس پر اختلاف کی اپنی ایک تفصیل ہے –تو تب اُس پر ہم کفر اور عدم دخولِ جنت کا حکم لگادیں گے۔
ابن قیمؒ لکھتے ہیں:
توحید بندے کا مجرد یہ اقرار کر لینا نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں اور یہ کہ اللہ ہر چیز کا پروردگار اور مالک ہے، جیساکہ بتوں کے پجاری بھی اس اتنی سی بات کے اقراری تھے اور بدستور مشرک رہے۔ بلکہ توحید جو معتبر ہے اس میں اللہ رب العزت کے لیے محبت وگرویدگی بھی آتی ہے، اُس کے آگے جھک جانا اور ذلت اختیار کرلینا اور مطلق اطاعت اختیار کرلینے کی صورت میں اپنی نکیل اُس کو تھما دینا بھی آتا ہے، عبادت کے جملہ افعال کو اُس کے لیے خاص کردینا بھی آتا ہے، اور اپنے سب اقوال اور افعال اور لوگوں کے ساتھ اپنی محبت اور بغض اور کسی کو دینے اور کسی کو نہ دینے ایسے تمام امور میں خدا کا چہرہ پانے کے ارادے اور مقاصد رکھنا؛ یہ سب توحید میں آتا ہے اور جو کہ آدمی کے اور ان اسباب کے مابین حائل ہوجاتا ہے جو اُس کو خدا کی نافرمانی کی طرف کھینچنے اور اُس پر پختہ کردینے والے ہوں۔ جس شخص کو عبادت کا یہ معنیٰ سمجھ آگیا ہو اُسی کو نبیﷺ کے اِس فرمان کا صحیح مطلب سمجھ آسکتا ہے کہ }إن الله حرّم على النـار من قال لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه اللهاللہ نے جہنم پر ایسا آدمی حرام ٹھہرادیا ہے جو کہے نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ اور اس سے اُس کا مقصد اللہ کا چہرہ پانا ہو،{ نیز آپﷺ کا یہ فرمانا کہ: }لا يدخل النار من قال لا إله إلا الله نہیں داخل ہوگا دوزخ میں جس نے کہہ دیا ہو نہیں کوئی عبادت کےلائق مگر اللہ{۔ یا اسی طرح کی کچھ دیگر احادیث جن کی بابت لوگوں کی ایک کثیر تعداد اشکال کا شکار ہوئی ہے یہاں تک کہ ان میں سے بعض یہ توجیہ کرنے لگے کہ یہ احادیث منسوخ ہیں، اور بعض کو توجیہ کرنا پڑی کہ یہ احادیث دراصل فرائض اور محرمات کے نزول سے پہلے کی ہیں جب شریعت اپنی اس حتمی حالت میں موجود ہی نہیں تھی۔ جبکہ بعض اس کی یہ توجیہ کرنے کی طرف گئے کہ یہاں آگ سے مراد وہ آگ لی جائے گی جو مشرکین اور کفار کے لیے مختص ہے۔ بعض نے آگ سے مراد دائمی آگ لیا۔ غرض اسی طرح کی غیر تسلی بخش توجیہات۔ جبکہ یہ معلوم ہے کہ شارعﷺ نے اِس چیز کو مجرد زبانی الفاظ کی جزا قرار ہی نہیں دیا، کیونکہ یہ بات دین کے معلوم حقائق سے ہی متصادم ہے؛ ورنہ منافقین بھی زبان سے تو یہ لفظ بولتے ہی ہیں جبکہ وہ دوزخ کے سب سے نچلے گڑھے میں جانے والے ہیں… پس معلوم ہوا کہ یہ قول جس پر نجات ہے دل کا قول بھی ہو اور زبان کا قول بھی۔ اب جب ہم نے کہا کہ یہ دل کا بھی قول ہونا چاہیے، تو اس میں ضمناً یہ بات خودبخود آگئی کہ دل میں اس حقیقتِ لا الٰہ الا اللہ کی معرفت بھی ہو اور تصدیق بھی اور اس بات سے آگاہی بھی کہ یہ کس چیز کی نفی ہے اور کس بات کا اثبات، نیز وہ حقیقتِ الوہیت سے واقف ہو جس کی وہ غیر اللہ سے نفی کررہا ہے اور جس کو وہ اللہ کے لیے خاص کررہا ہے، اور جوکہ غیر اللہ کے لیے مختص رکھی ہی نہیں جاسکتی۔ اب جس دل میں ایسے معانی قائم ہوچکے ہوں یعنی یہاں حقیقتِ لا الہ الا اللہ کا علم بھی ہے، معرفت بھی، یقین بھی، اور کیفیت بھی، تو یہ بات خودبخود اس بات کی موجب ہے کہ ایسا آدمی دوزخ پر حرام ٹھہرادیا جائے۔ اب ذرا یہی دیکھتے چلو کہ وہ شخص جو سو آدمیوں کا قاتل تھا اُس کے دل میں جب ایمان کے حقائق موج زن ہوتے ہیں تو اُس کا عملاً حال کیا ہوتا ہے، یہ شخص صالحین کی بستی کی جانب عازمِ سفر ہو اٹھتا ہے تو کسی مانع کو اپنی راہ میں آنے نہیں دیتا، یہاں تک کہ سکرات الموت کے وقت بھی یہ اپنے سینے کے بل کھچ کھچ کر قریۂ صالحین کی جانب جھکتا ہے۔ یہ ایک ایمان ہی اور طرح کا ہے اور معاملہ ہی اور ہے؛ پھر کیا عجب کہ ایسے شخص کا انجام صالحین ہی کے ساتھ ٹھہرادیا جائے۔
ہاں یہ بنیادی حقائق بیان کردینے کے بعد ہم یہ کہیں گے: خدا کا وہ فضل و بخشش اپنی جگہ جو کسی چیز کی پابند نہیں۔ آخر وہ وقت آئے گا جب وہ دوزخ سے ایسے شخص تک کو نکال لے گا جو لاالٰہ الا اللہ کہتا تھا اور اس کے دل میں ذرہ بھر خیر موجود تھی؛ اور یہ خالصتاً خدا کی مرضی اور اختیار ہے۔ کوئی گناہگار ابتدا میں بخشا جائے گا، کوئی عذاب بھگت کر نکلے گا اور تب جنت میں داخل ہوگا، خاص اللہ کے فضل سے، نیز رسول اللہﷺ کی شفاعت سے، جن لوگوں کے حق میں آپؐ شفاعت فرمانا پسند کریں۔ مگر کیا یہ وہ چیز ہے جس کو معیار بنا کر آدمی آخرت کی تیاری کرے؟!
شفاعت تو دراصل اللہ کے فضل اور رحمت کی ایک صورت ہے، اور ہمیں اس کی خبر دی گئی ہے تو اس لیے کہ ہم کسی حال میں بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجائیں… مگر اس سے مرجئہ کا بتایا ہوا وہ اسلام کب سے ثابت ہوگیا جس میں نہ فرائض ہیں اور نہ ذمہ داریاں، نہ حدود اور نہ قیود؟
یہ ہے دراصل مرجئہ کا دیا ہوا تصورِ اسلام:
دنیا میں: غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيل. وہ خس وخاشاک جسے قومیں اپنے پاؤں تلے روندتی پھریں اور مرجئہ پھر بھی اِنہیں تسلیاں دلائیں کہ تمہارا ایمان تو بالکل صحیح ہے!
اور آخرت میں: وہ درجہ جہاں ‘آخر تو ایک دن دوزخ سے نکل آئیں گے’!
ذرا تصور کریں اگر پورا معاشرہ مرجئہ کے دیے ہوئے تصورِ ایمان پر قائم ہو! پورا معاشرہ اپاہجوں پر مشتمل! مرجئہ کے تصورِ دین پر قائم معاشرہ کیا دشمنانِ اسلام کا ایک بھی وحشیانہ تھپیڑا سہہ سکے گا؟!
یقیناً یہ برحق ہے کہ ایک تناور درخت پر بھی کچھ پتے ایسے ہوتے ہیں جو زرد اور مرجھا چکے ہوں۔ بعض شاخیں تک ایسی ہوسکتی ہیں جو خشک اور بے جان ہوں، اس کے باجود وہ درخت اپنا بہترین پھل اور بہترین سایہ دے رہا ہوتا ہے۔ لیکن اس درخت کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جس کا ہر پتہ اور ہر شاخ اِس فکر میں ہو کہ وہ اپنے صحیح سلامت ہونے کی دلیل اس بات سے دے کہ وہ اس سوکھے بوسیدہ درخت کے ساتھ لٹک تو رہا ہے! کیا ایسے درخت کو موت اور فنا سے کوئی چیز بچاسکتی ہے؟
*****
البتہ ہمارا اصل سروکار اُس پیشرفت سے ہے جو مرجئہ جدید کے ہاتھوں انجام پائی!
مرجئہ جدید کے ہاتھوں مفہومِ لاالٰہ کا مسخ
مرجئہ قدیم نے لا الٰہ الا اللہ کا جتنا بھی مفہوم بگاڑا، مگر دو مسئلوں کا وہ پھر بھی اِس قدر تیاپانچہ نہیں کرسکے۔ نماز کو بھی اس آسانی سے خارج از حساب نہیں کرپائے؛ نظری طور پر اگرچہ وہ کہتے رہے کہ عمل پورے کا پورا مقتضائے ایمان سے خارج ہے، پھر بھی فقہ کے ابواب میں وہ “نماز” کو دین کے ناگزیرترین اعمال ہی میں گنتے۔ جبکہ “شریعت کی حاکمانہ حیثیت”کو چھیڑنے کی تو خیر نوبت ہی نہ آئی تھی…
مگر مرجئہ جدید کو اپنے رکنے کے لیے کوئی حد معلوم نہیں تھی…
یہ پیدا ہی ایک ایسے معاشرے میں ہوئے جو شریعت کا محکوم نہیں، اور جہاں نماز بھی کم ہی کہیں پڑھی جاتی ہے(باقی عبادات کا تو خیر ذکر ہی کیا!)۔ ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی اور اس پر دھڑادھڑ اِرجائی فکر کی خوراکیں! یہ (مرجئہ جدید) بڑھتے بڑھتے تمام مطالباتِ لاالٰہ تک چلے گئے۔ نماز کا کام بھی تمام، اور فصیلِ شریعت بھی کالعدم! اور اب آپ ان سے سنیں گے کہ وہ معاشرے جہاں معاملات کے فیصلے شریعت نہ کررہی ہو وہ بھی خیر سے اسلامی معاشرے ہی ہوتے ہیں! اسلام کے جملہ فرائض چھوڑ رکھنے والے لوگ بھی مسلم ہوتے ہیں؛ شرط صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ زبان سے کہتے ہوں لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ!
مرجئہ جدید کا ذکر ہوا ہے تو ہم ذرا اس حدیث کے ذکر پر دوبارہ آجاتے ہیں: من قال لا إله إلا الله دخل الجنة“جو شخص کہہ دے لا الٰہ الا اللہ وہ جنت میں داخل ہوگا”۔ جس پر پیچھے ہم کچھ گفتگو کرآئے ۔البتہ یہ کہنا باقی ہے کہ کچھ احادیث نے اِس حدیث کی تخصیص کردی ہے اور یہ وہ احادیث ہیں جن میں شرک سے براءت کا ذکر ہے، اور جوکہ موت تک رہنی چاہیے:
فرمایا رسول اللہﷺ نے:
ما من عبد قال لا إله إلا الله ثم مات علىٰ ذلك إلا دخل الجنة
ہیں کوئی بندہ جوکہے “نہیں کوئی الٰہ سوائے اللہ” پھر وہ اسی پر موت پائے، مگر وہ جنت میں داخل ہوگا۔
نیر فرمایا:
من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة
جو شخص موت پائے اس حال میں کہ وہ شریک نہ کرتا تھا اللہ کے ساتھ کچھ، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
اِن سب احادیث کو جمع کرکے پڑھیے، یہ چیز واضح ہوجاتی ہے کہ شرک سے براءت کر رکھنا لاالٰہ الا اللہ کے قبولِ اخروی کے لیے شرط ہے۔ خود قرآن مجید سے یہ بات واضح ہے:
إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ (النساء 116)
اللہ تعالیٰ شرک کو تو کبھی معاف نہیں کرے گا اور اسکے ماسوا جسے چاہے معاف کردے۔
شرک ایک قسم کا نہیں۔ اس کی کچھ اقسام ایسی ہیں جن کو خطیب اور واعظ بیان کرتے ہیں، کیونکہ اربابِ اقتدار اس پر خفا نہیں ہوتے۔ تاہم کچھ اقسام ہیں جو بیان تک نہیں ہورہیں۔
غیر اللہ کے آگے دعاء، یا استعانت، یا استغاثہ، یا نذر یا ذبیحہ ایسی کوئی بھی عبادت بجا لانا شرک ہے، یہ اعتقاد کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے جو رزق دیتا ہے، نفع اور نقصان پہنچاتا ہے، شرک ہے... یہ شرک کچھ نہ کچھ بیان ہونے میں آجاتا ہے۔
خدا کی اتاری ہوئی شریعت سے ہٹ کر تشریع کرنا (روا وناروا ٹھہرانا)، اور اس تشریعِ غیر اللہ پر راضی ہوجانا، شرک ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن لوگ اِس صدی میں شرک کی اِس قسم سے لاعلم ہیں، یا لاعلم کر رکھے گئے ہیں؛ اور آج یہ حال ہے کہ وہ معصیت اور شرک کے مابین فرق کرنے کے روادار نہیں رہے۔ شرک کی یہ صورت اب ان کے خیال میں بس ایک گناہ ہے؛ جس کی بخشش ہے؛ بلکہ ‘گناہ’ بھی یہ تب ہوگا جب یہ عمل ناگزیر نہ ہو؛ ورنہ اصل تو یہ ہے کہ غیر اللہ کی شریعت چلانا فی الوقت ایک “ضرورت” ہے؛ اور جبکہ اس کو ‘ترقی’، ‘روشن خیالی’ اور ‘تہذیبی پیشرفت’ کہنے والے بھی کم نہیں!
*****
یہ نوبت کیونکر آئی؟!
صلیبی فاتحین آئے تو اسلام کے جس جس ملک میں ان کے غلیظ قدم پڑے وہاں وہاں انہوں نے شریعت کو برطرف کرڈالا۔ پھر لوگوں کو سمجھایا گیا کہ یہ کوئی ایسی بڑی بات تھوڑ ی ہے؛ آخر نماز روزہ تو تم کرتے ہی ہو؛ لہٰذا تم ہو تو مسلمان؛ شریعت سے فیصلے نہیں کراتے تو کیا ہے!
لیکن صلیبی (اور درپردہ یہودی) تدبیر کے اصل رنگ تو ابھی ہم نے دیکھے ہی نہ تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں یہاں وہ ہوائیں چلیں کہ ہمارا نماز روزہ بھی اڑ کر کہیں سے کہیں چلا گیا! پھر سمجھایا گیا کہ یہ کوئی ایسی بڑی بات تھوڑی ہے؛ آخر تم لاالٰہ الا اللہ تو کہتے ہو؛ بفضلِ خدا مسلمان تو ہو!
یوں پورے اسلام سے ایک یہی ‘کلمہ گوئی’ کا دھاگہ ہمارے ہاتھ میں بچا؛ اور یہ بھی دن بدن کمزور اور بوسیدہ ہوتا گیا۔ ارے یہ دور اور لا الٰہ الا اللہ کے تقاضے اور مطالبے؟! یہاں مرجئہ جدید میدان میں آئے؛ اور حق یہ ہے کہ اِس نئی بساط پر جو استعمار نے یہاں بڑی محنت سے بچھائی، کمی ہی ان کی تھی۔ مسلم معاشروں سے اب مرجئہ جدید کا خطاب شروع ہوتا ہے: آخر بڑی بات کیا ہے؛ ایمان کی ‘مستند’ تعریف ہی یہ ہے کہ ‘اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب’! جس شخص نے لاالٰہ الا اللہ کہہ دیا وہ مومن ہے، بے شک اُس سے ایمان کا کوئی ایک بھی عمل اور رویہ ظاہر نہ ہو اور وہ شرک کے کیسے ہی افعال کیوں نہ کرتا اور کراتاہو؛ بھائی یہ “عمل” کی بنیاد پر لوگوں کے ایمان کو مطعون ٹھہراتے پھرنا خارجی عقیدہ ہےجوکہ بڑا فتنہ ہے!
*****
ہم اپنی بات کا اعادہ نہیں کریں گے؛ ایک اہم اصول کی یاددہانی کرائیں گے: آدمی کا لاالٰہ الا اللہ پڑھا ہوا معتبر رہتا ہے جب تک کہ شرک سے آدمی کا دامن پاک ہو۔ اب ہم کچھ دیر کے لیے ‘اعمالِ ایمان’ کی بحثیں بھی نہیں کریں گے ؛ کیونکہ نوبت مرجئہ جدید کے ساتھ بات کرنے کی آچکی ہے۔ یہ ‘کلمہ گو’ ایمان کے اعمال نہیں کرتا، یہ مسئلہ تو اب بہت چھوٹا رہ گیا ہے، یہ ‘کلمہ گو’ تو صاف شرک کے افعال کرتا ہے، تو کیا اب بھی اس کا کلمہ نہیں ٹوٹا اور اس کا عہدِ توحید برقرار ہے؟
آدمی نے جب افعالِ شرک ہی کا ارتکاب کرلیا تو بھی اُس کا لا الٰہ الااللہ باقی ہے؟
آج ہم جن بڑے مصائب میں مبتلا ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم لوگوں کو وضوء کے نواقض (وضوء کو توڑ دینے والے امور) تو بتاتے ہیں اور مدارسِ دینی میں سو سو بار اس سبق کی دہرائی کرواتے اور اس پر سینکڑوں صفحات پر مشتمل تالیفات لکھتے ہیں… لیکن لا الٰہ الا اللہ کے نواقض ان کو کبھی بتاتے اورپڑھاتے نہیں۔ کبھی تعلیمِ عقیدہ دینے بیٹھیں گے تو بھی ‘اعتقادی شرک’ کا بیان ہوگا اور ‘عبادات’ والے شرک کا تذکرہ ہوگا۔ رہا “اتباع” اور “اطاعت” والا شرک تو وہ ‘کفرِ عمل’ ہے جو ملت سے خارج کرنے والا نہیں!
حضرت عدی بن حاتمؓ ایک بار رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوئے جبکہ آپؐ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے: }اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهاً وَاحِداً لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ(التوبة 31)انہوں نے اپنے احبار ورہبان کو رب بنا لیا ہے، خدا کے ماسوا، اور مسیح بن مریم کو بھی؛ جبکہ ان کو حکم تھا کہ نہ عبادت کریں مگر ایک الٰہ کی، نہیں ہے کوئی الٰہ مگر وہ، پاک ہے وہ اس سے جو یہ شریک کرتے ہیں{تو عدی بن حاتمؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے! تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا ایسا نہ تھا کہ وہ ان کے لیے ناروا کو روا کردیتے، اور روا کو ناروا، اور وہ اس پر ان کے پیچھے چل پڑتے تھے؟ عدیؓ نے عرض کیا: یہ تو تھا! فرمایا: یہی تو ہے ان کا ان کی عبادت کرنا!
یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان، اور یہ ہے اس کی تفسیر جو رسول اللہﷺ نے خود فرما کر دی… لیکن پھر بھی اِن کا کہنا ہے کہ یہ ‘کفر ِعمل’ ہے اور ‘کفرِ عمل’ ملت سے خارج کردینے والا نہیں!!
*****
پیچھے ہم یہ بیان کرآئےکہ تشریع (روا و ناروا کے ضابطے جاری کرنا) کا مسئلہ عقیدہ کے بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، اور یہ کہ مکی سورتوں نے یہ مسئلہ اُس وقت بیان کرکے دیا جب وہ تفصیلی احکام ابھی نازل ہی نہ ہوئے تھے جو بعدازاں مسلم معاشرے کو چلانے کے لیے ایک ایک کرکے نازل ہوتے رہے۔ یہ بات مکہ میں کہی گئی جب لوگوں کو اسلام بیان کرکے دیا جارہا تھا:
اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ (الأعراف3)
لوگو، جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو۔
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ (الشورى 21)
کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (الشورى 10)
تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے وہی اللہ میرا رب ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔
جبکہ اہل ایمان کو مکہ میں ہدایت جاری کی گئی:
وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ ۔ (الأنعام 121)
اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ، ایسا کرنا فسق ہے شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو۔
پھر جب مدینہ میں جاکر تفصیلی احکام نازل ہوئے، اور اسلام نے عملی نفاذ کی ایک صورت دھار لی، جس میں عبادات ہی نہیں، بلکہ حلال (روا) وہ تھا جس کو اللہ روا ٹھہرا دے اور حرام (ناروا) وہ تھا جس کو اللہ ناروا ٹھہرادے… تو یہاں (دورِ مدینہ میں) ایک نئے مسئلہ نے جنم لیا اور یہ تھا منافقین کا وجود جو ظاہر میں اسلام کو قبول کیے ہوئے تھے مگر نفوس احکامِ خداوندی کے آگے جھکے ہوئے نہیں تھے ، جن کی بابت بتایا گیا کہ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُـوا إِلَى الطَّاغُـوتِ (النساء 60)“چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جائیں”۔ (جبکہ ہر وہ دستور جو اللہ کا دستور نہیں طاغوت ہے)، یہ تھے منافقین جو چاہتے تھے کہ روا اور ناروا کے پیمانے ان کے حسبِ خواہش چھوڑ دیے جائیں یا اُن کے عرف اور دستور پر چھوڑ دیے جائیں نہ کہ اُس قاعدہ اور دستور کے پابند جو اللہ رب العزت کے ہاں سے نازل ہوا۔
تو اب اِن (منافقین) کی بابت صریح فیصلے اترتے ہیں:
فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيماً (النساء 65)
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔
وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُولَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ (النور 47 - 48)
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔ جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف، تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔
اِس پورے بیان سے نہایت واضح کردیا گیا کہ اب جب دین مکمل ہوچکا تو ایمان کے سچا ہونے کی کسوٹی یہ ہے کہ عقیدہ کی درستی اور ادائے عبادات کے ساتھ ساتھ سب معاملاتِ زندگی شریعت کی طرف لوٹائے جائیں اور شریعت کا فیصلہ ہرحال میں تسلیم کیا جائے۔ محض“عقیدہ ٹھیک ہونا” ہرگز کافی نہ رہا۔ “عقیدہ” ٹھیک ہونے کے ساتھ ساتھ کوئی شخص ‘مذہبی عبادات’ بھی ادا کرتا ہے، یہ بھی ہرگز کافی نہ رہا۔ کیونکہ لاالٰہ الا اللہ کے تقاضے عملی صورت میں اب اِس کثرت کے ساتھ مشروع ٹھہرا دیے گئے تھے کہ یہ مکہ والی صورت نہیں تھی جب شریعت کے احکام اور قوانین اس مفصل صورت میں موجود ہی نہ تھے اور “اعتقاد” کی حد تک ہی شریعتِ خداوندی کی حاکمیت پر ایمان رکھنا تھا۔ اِس لا الہٰ الا اللہ پر ایمان لانے کا ایک ہی مطلب ہے: ہر اُس چیز کی پابندی جس کا یہ لا الٰہ الا اللہ آدمی سے تقاضا کرے گا (ہاں اُس نافرمانی کا واقع ہونا ممکن ہے جو اِس “پابندی” کو سرے سے ختم نہ کردے)۔ پس ابتدائے دعوت میں جس وقت اِس لا الہٰ الا اللہ کا مطالبہ ہی صرف یہ تھا کہ آدمی اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے، اور اس بات پر ایمان لائے کہ اُس نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے اپنا یہ رسول بھیج رکھا ہے، وغیرہ؛ تو وہاں کل مطلوب ہی یہ تھا کہ اِن حقائق پر ایمان لا کر آدمی اللہ کے دین میں داخل ہوجائے۔ پھر جب کچھ عبادات فرض ٹھہرائی گئیں تو لا الہٰ الا اللہ کا مطلوب اب یہ ہوگیا کہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے ، رسول کی بعثت پر ایمان لائے، وغیرہ؛ اور اس کے ساتھ اُن عبادات کی ادائیگی کرے۔ پھر جب مدینہ جاکر عبادات بھی پوری ہوئیں اور احکام بھی مکمل ہوئے تو اب لا الہٰ الا اللہ کا مطلوب یہ ہوا کہ اللہ اور رسول پر اور وحی کی بیان کردہ دیگر حقیقتوں پر بھی ایمان لائے، جو عبادات فرض ٹھہرادی گئیں ان کی ادائیگی کرے، اور شرعِ خداوندی کی پابندی کرے… اب وہ وقت نہیں تھا کہ اِن تینوں میں سے کوئی ایک کیا جائے تو وہ دوسرے سے کفایت کردے۔
تاہم منافقین نہ تو توحید کے مسئلے پر بحث کرتے، نہ ہی عبادات کے مسئلے پر بحث کرتے (اگرچہ ان کے ادا کرنے میں سستی اور بددلی دکھاتے)۔ مگر سوسائٹی سے متعلقہ احکام اور ضابطوں سے، جو “شریعت” کی صورت میں اتارے جارہے تھے، ان کی جان جاتی۔ یہاں؛ وہ “اعراض” کرتے۔ یہ (سماجی) زنجیریں سب سے گراں تھیں۔ اِس سے بھاگنے کی وہ پوری کوشش کرتے اور طاغوت کے حکم اور دستور کی جانب لوٹنے کی ہر صورت نکالتے۔ (دوبارہ بتاتے چلیں، طاغوت سے مراد: ہر وہ دستور جو اللہ کا دستور نہیں)۔ چنانچہ مدینہ کے اندر قرآنی آیات منافقین کے تذکروں کے دوران بے شمار پہلوؤں سے حکم بما انزل اللہ کے مسئلے کو لے کر آتی ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ اُس وقت کا ‘برننگ ایشو’ یہی تھا: سوسائٹی میں رائج ضابطے اور دستور۔ (اور آج بھی ‘برننگ ایشو’ یہی ہوگیا ہے!) یہاں؛ دوٹوک انداز میں فرمانِ خداوندی جاری کیا جاتا ہے:
وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (المائدة 44)
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔
وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (المائدة 45)
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔
وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (المائدة 47)
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔
أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْماً لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ (المائدة 50)
تو کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک فیصلہ کرنے میں اللہ سے بہتر کوئی نہیں ہے۔
*****
سب سے عجیب بات آپ کو سننے کو یہ ملے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات تو منافقین کے بارے میں فرمائی تھی؛ ان کے بارے میں اللہ فرما رہا ہے کہ شریعت سے فیصلے کروانے پر یہ “دل سے ایمان” ہی نہیں رکھتے۔ ہاں البتہ اگر وہ “دل میں ایمان” رکھتے تو اللہ تعالیٰ اِس لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ کی شرط کا ذکر نہ فرماتا!!
بہت خوب! اور وہ جو مومن ہیں، وہ مومن ہو کس طرح گئے؟!
اور یہ جو منافقین ہیں، یہ منافق ہو کس طرح گئے؟!
مومن اِسی لیے تو مومن کہلائے کہ وہ “درستیِ اعتقاد” اور “ادائے عبادات” کے ساتھ ساتھ “اللہ کی شریعت کی جانب تحاکم” کرتے ہیں؟!
اور اگر وہ شریعت کی جانب تحاکم نہ کرتے تو کیا اُن کو مومن مان لیا جاتا؟؟؟
إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (النور 51)
ایمان والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلا ئے جائیں تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
مومن تو مومن کہلائے ہی اس لیے کہ انہوں نے – جب سے لاالٰہ الا اللہ محمدٌ رسولُ اللہ پڑھا – اِس چیز کے “پابند” بن کر دکھایا کہ اللہ کے ہاں سے جو نازل ہوگا اُس کے آگے اِن کے پاس صرف “سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا” ہے۔ اِن کو “ایمان” کا سرٹیفکیٹ اسی لیے تو ملا کہ مطالباتِ لا الٰہ الا اللہ کا پابند رہنے کا دستور اِن کے ہاں کبھی ٹوٹا نہیں (معصیت ہوجانا تو چیز ہی اور ہے)!
تحاکم الی الشریعۃ، یعنی اپنے کل معاملات میں شرعِ خداوندی کو ہی فیصل اور حَکم ٹھہرانا… یہ صرف منافقین پر تو فرض نہیں کیا گیا تھا؛ اس کا پابند تو ہر وہ شخص تھا جو زبان سے ایک بار لاالٰہ الا اللہ محمدٌ رسولُ اللہ کہہ چکا ہے۔ ہاں وہ یہ کام برضا ورغبت کرتا ہے اور تسلیمِ دل شامل ہے تو وہ باطن میں بھی مومن ہے، اور اگر وہ محض ظاہری پابندی کرتا ہے جبکہ دل میں اس پر راضی نہیں تو یہ ہیں وہ طبقے جن کے لیے “منافقین” کی اصطلاح وجود میں آئی ہے۔ (البتہ ظاہر میں پابند یہ بھی ہیں، ورنہ اسلامی اصطلاح میں ان کا نام منافق نہ ہوتا بلکہ مرتد ہوتا)۔
*****
خلاصہ یہ ہوا کہ “تشریع” (سوسائٹی کو روا اور ناروا کے ضابطے صادر کر کے دینا) کا مسئلہ لاالٰہ الااللہ کے ساتھ براہِ راست متعلق ہے اور یہ کسی وقت اور کسی صورت اس سے الگ نہیں ہوتا۔
فقہاء نے صرف (ایک خاص فضا اور ماحول کو سامنے رکھ کر) یہ کہا ہے کہ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَکی رو سے آدمی اُس وقت کافر ہوتا ہے جب وہ استحلال کر لے (یعنی جب وہ اس کو روا کرلے)؛ ہاں اگر وہ اس کو روا نہیں ٹھہراتا تو یہ كفرٌ دونَ كفرٍ ہے، یعنی وہ کفر جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔
چنانچہ ایک قاضی جو کسی مقدمے میں شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا، کیونکہ وہ کسی ایک فریقِ مقدمہ سے رشوت کھا کر بیٹھا ہے (یا بددیانتی کا کوئی اور سبب ہے)، تو یہ قاضی کفر کا مرتکب نہیں بلکہ محض گناہگار اور خدا کے غضب اور خفگی کا حقدار ہے۔
ایک قاضی جو تاویل کرلیتا ہے، ایک مقدمہ میں جو اس کے سامنے پیش ہوا اجتہاد کی غلطی کرلیتا ہے، وہ اگر نیک نیت ہے تو اس پر گناہ بھی نہیں آتا بلکہ اجتہاد کی غلطی کا اجر بھی ملتا ہے، باوجودیکہ اُس نے شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کیا ہے۔
اور اسی طرح کے دیگر احکام جو فقہائے اسلام کے بیان میں وارد ہوئے…
یہ سب حق ہے۔ مگر اِن سب باتوں کا تشریع غیر ما انزل اللہ سے کیا تعلق؟ (تشریع غیرما انزل اللہ: یعنی غیر اللہ کی شریعت کو دستور ٹھہرا دینا)۔ وہ چیز کہاں اور یہ کہاں؟ وہ ایک قاضی ہے جو کسی ایک مقدمے میں جو اس کی عدالت میں پیش ہوا، ایک خلافِ شریعت فیصلہ دے ڈالتا ہے اور جس کے پیچھے کچھ شخصی محرکات ہیں، جیساکہ ہمیں کتبِ فقہ کے بیان سے ملتا ہے، (اور جہاں سسٹم ہی اسلامی ہے)، تاہم وہ جج اپنے حق میں اس کا حکم بدل کر حرام سے حلال نہیں کرتا، یہ اور چیز ہے۔ البتہ تشریع غیرماانزل اللہ (شریعتِ غیر اللہ کو ہی دستور ٹھہرادینا) ایک بالکل اور چیز۔ اول الذکر صورت میں شریعتِ خداوندی کی دستوری حیثیت کو ہاتھ ہی نہیں لگایا گیا صرف اُس کو نافذ کرنے میں ڈنڈی ماری سے کام لیا گیا ہے (لہٰذا یہ واقعتاً کفر اکبر نہیں)۔ جبکہ ثانی الذکر صورت میں خدا کی شریعت سے متصادم ایک شریعت لادھری گئی ہے، ایک چیز بطورِ آئین باقاعدہ صادر کردی گئی ہے بغیر اس کے کہ دورنزدیک سے کوئی الٰہی سند اس کو حاصل ہو؛ اور جس کے اندر زبانِ قال سے نہیں تو زبانِ حال سے تو لازماً کہا جا رہا ہوتا ہے کہ یہاں خدا کی شریعت نہیں بلکہ میری شریعت چلے گی، جوکہ شرعِ خداوندی کے برابر ہی نہیں بلکہ اس سے برتر ہے، کم از کم حالات اور زمانے کےلیے مناسب تر تو ضرور ہے!
یہ (موخر الذکر) وہ چیز نہیں جس کے کفر مُخرج من الملۃ (وہ کفر جو ملت سے خارج کردے) ہونے میں اسلام کی پوری تاریخ میں کسی فقیہ نے اختلاف کیا ہو۔
نیز اس بات کے کفر مُخرج من الملۃ ہونے میں بھی فقہائے اسلام نے پوری تاریخ میں کبھی اختلاف نہیں کیا کہ انسان غیر اللہ کی شریعت پر علم اور ارادہ رکھتے ہوئے (اکراہ کی بات اور ہے) راضی ہو۔
پس تشریع غیرما انزل اللہ (غیر اللہ کی شریعت کو دستور ٹھہرادینا) اور اللہ کی تشریع سے متصادم تشریع پر رضامند ہونا، دونوں حکمِ خداوندی کی رو سے لاالٰہ الا اللہ کے نواقض (آدمی کے لا الٰہ الا اللہ کو توڑ دینے والے افعال) ہیں۔ اور ایسے ہی شخص کی بابت خدا کا یہ حکمِ قطعی نازل ہوا:
وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (المائدة 44)
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں
آیت }أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْماً لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ (المائدة 50)تو کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک فیصلہ کرنے میں اللہ سے بہتر کوئی نہیں ہے{ کے تحت امام ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
یہاں اللہ تعالیٰ اُس شخص پر نکیر فرما رہا ہے جو اللہ کے محکم فیصلے کو چھوڑ کر کہیں جاتا ہے، جبکہ اللہ کا وہ فیصلہ ہر ہر خیر پر مشتمل ہے اور ہر ہر شر سے مانع ہے، مگر یہ شخص اُس کو چھوڑ کر اور چیزوں کی طرف جاتا ہے، خواہ وہ آراءہوں یا اہواءیا وہ وضع کر لی گئی اشیاءجنہیں انسانوں نے ہی مقرر ٹھہرا لیا ہے بغیر اِس کے کہ ان پر شریعت سے کوئی سند ہو، جیسا کہ اہل جاہلیت اپنے حکم وقانون کیلئے اپنی ان ضلالتوں اور جہالتوں کو مقرر ٹھہرا لیتے تھے جن کو وہ اپنی آراءاور اہواءسے اختیار کر لیتے۔ اور جس طرح یہ تاتاری ان شاہی فرامین کی بنیاد پر اپنا حکم وقانون چلاتے ہیں جن کا ماخذ ان کے بادشاہ چنگیز خان کا وضع کیا ہوا یاسق (تزکِ چنگیزی، تاتاری قوانین کی کتاب) ہے اور جوکہ ایک مجموعۂ قوانین سے عبارت ہے جو اُس نے مختلف شریعتوں سے نکال کر اکٹھے کئے تھے، یہودیت سے بھی، نصرانیت سے بھی اور شریعتِ اسلامی سے بھی، جبکہ اس میں بہت سے قوانین ایسے ہیں جو اُس نے خود اپنے ہی فکر اور ہوائے نفس سے ماخوذ کر رکھے تھے، اور یوں یہ یاسق (تزک چنگیزی) ہی آگے اُس کی اولاد میں ایک دستور بن چکا ہے جس کی باقاعدہ پیروی ہوتی اور جسے وہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہﷺ کو لاگو کرنے پر مقدم رکھتے ہیں۔ پس جو شخص ایسا کرتا ہے وہ کافر ہے۔ اُس سے قتال واجب ہے تاآنکہ وہ اللہ اور رسول کے قانون کی جانب پھر نہ آئے، یہاں تک کہ ہر ہر معاملے میں، خواہ کوئی معاملہ چھوٹا ہو خواہ بڑا، وہ اللہ اور رسول کو ہی فیصل اور حَکَم نہ ماننے لگے۔ (تفسیر ابن کثیر 2: 68)
*****
یہ جو اٹوٹ رشتہ ہے لا الٰہ الا اللہ کے مابین اور تحکیمِ شریعتِ خداوندی کے مابین، مسلمانوں کے تصورِ اسلام میں یہ رشتہ تیرہ صدیوں تک ایک بدیہی حقیقت کے طور پر قائم رہا۔ تیرہ صدیوں تک مسلمان کسی ایسے اسلام سے واقف نہ تھے جو حاکمیتِ شریعتِ خداوندی کے بغیر بھی ‘پایا جاسکتا’ ہو۔ اِس کے بغیر آدمی “مسلمان” ہو، اس کا تصور ہی نہ تھا۔ سرزمینِ اسلام میں بالفعل شریعت کا راج ہونا اس مسئلہ کو ایک ہیبت عطا کرتا تھا، اور لوگوں کو یہ تصور کرنا واقعتاً مشکل تھا کہ “شریعتِ خداوندی” کے بغیر “اسلام” اور “مسلمان” کی کوئی قسم پائی جاسکتی ہے!
عام مسلمان کے تصور میں دو چیزیں تو ضرور ایسی تھیں جو مسلم اور کافر کے مابین عملی فرق کروا دیں: نماز اور شریعتِ خداوندی۔ عامی سے عامی شخص بھی جس عملی نشانی سے مسلم اور کافر کا فرق کرتا ہے، مسلم اور کافر کو الگ الگ پہنچانتا ہے، وہ یہی دو چیزیں ہیں: مسلمان نماز پڑھتا ہے؛ دن میں پانچ بار خدا کو سجدہ کرتا ہے، کافر نماز نہیں پڑھتا؛ خدا کو سجدہ نہیں کرتا۔ مسلمان کا دستور شریعت ہے، کافر کا دستور شریعت نہیں ہے۔ یہ ایک عام سے عام مسلمان کا حال ہے جو آپ کو مسلم اور کافر کایہ فرق بڑے آرام سے بتا سکتا تھا؛ اور تیرہ صدیوں تک معاملہ ایسا ہی رہا۔ مگر عالمِ اسلام پر صلیبی قبضہ کو کچھ ہی دیر گزری ہوگی؛ اور اب آپ اِس عامی سے پوچھ کر دیکھئے مسلمان اور کافر میں کیا فرق ہے؟ عامی کی کیا بات، یہاں کے دانشور سے پوچھ لیجئے کہ وہ آپ کو کافر اور مسلم میں کوئی موٹا سا “عملی فرق” بتا دے، آپ دیکھیں گے تصورات کی دنیا میں ہی معاملہ سرتا پیر الٹ گیا ہے۔ شریعت غائب، “مسلمان بغیر اسلام” حاضر ہے؛ اور آپ کو اِسے تسلیم کرنا ہے!
مسلم معاشرے ہوں اور شریعت نہ ہو، تیرہ صدیوں تک کوئی آپ کو یہ پہیلی بوجھ کر نہ دے سکتا تھا! شریعت کو ہٹا کر اور اس کی جگہ پوری کی پوری غیراسلامی شریعت کو لاکر دھر دیا جائے، اور اس سے اسلام اور ایمان کو کچھ فرق نہ آئے، یہ بات کسے سمجھ آسکتی تھی؛ اور مرجئہ جدید سے پہلے یہ بات کیسے کسی کے دماغ میں بیٹھ سکتی تھی؟شریعت کو (معاذ اللہ) ردی میں پھنک دیا جانے کا تصور آدمی کرسکتا تھا تو وہ یہ کہ خدانخواستہ کسی وقت مسلمان ملک پر صلیبیوں وغیرہ کا قبضہ ہوجائے۔ مگر یہ کام ‘مسلمان’ کے ہاتھ سے بھی ہوسکتا ہے، یہ کسی کے وہم و گمان میں کیسے آسکتا تھا؟
مگر صلیبی استعمار کی چند عشروں کی محنت نے یہاں کیا کیا کرشمے نہیں کردیے…!
میں اپنی دیگر تصانیف میں اس پر قدرے تفصیل سے بات کرآیا ہوں کہ اس صلیبی برین واشنگ نے یہاں کیا کیا کارنامے کر کے دیے ہیں، اس کی فکری یلغار، تعلیمی نصاب اور مناہج، ذرائع ابلاغ، اس کی دی ہوئی ادبیات اور فکریات، اُس کا چلایا ہوا سیاسی عمل، تحریکِ نسواں، اخلاق اور اقدار کے بخیے ادھیڑنے کے گوناگوں انتظامات… اور نہ جانے کیا کیا کچھ جو یہاں ‘مسلمان بغیر اسلام’ نام کی جنس متعارف کرانے کے لیےمیدان میں لا پھینکا گیا… اور بالآخر یہ قسم ایجاد ہوگئی یعنی ‘مسلمان بغیر اسلام’، ساتھ میں مرجئہ جدید کے دھڑا دھڑ سرٹیفکیٹ!
یہاں ایک نیا سلسلہ چلا دینے کے بعد... استعمار رخصت ہوا، اور مسلم نام بردار حکمران تن دہی کے ساتھ وہی “حکم بغیر ماانزل اللہ” (شرعِ انگریز کو دستور اور شرعِ خداوندی کو نادستور رکھنے) پر قائم بندوبست چلانے لگے۔ صلیبی استعمار کی غیرموجودگی میں اُس کی جو بہترین نمائندگی ہوسکتی تھی، اِن کے ذریعے باحسن اسلوب جاری رہی؛ جبکہ لوگوں کو اطمینان کہ ہیں تو مسلمان۔ رہا حکم بغیر ماانزل اللہ (شرعِ خداوندی کو نادستور ٹھہرانا)، تو اس کے بغیر بھلا کیا چارہ ہے؟!
معاملے نے ایک جہت اختیار کرلی تو اس کے بعد لوگوں کی اسلام سے دوری بڑھتی چلی گئی۔ ذہن سازی کے وہ سائنٹی فک عوامل نئے سے نئے انداز میں برتے جانے لگے۔ لوگوں کو اب اس بات پر قائل کیا جانے لگا کہ اس کو کفر کہنا تو بہت پرانی بات ہے، “شریعتِ خداوندی کو برطرف کررکھنا” اس وقت زمانے کی ضرورت ہوچکا ہے اور ترقی کی شرط اور تہذیبی پیش رفت کا پیمانہ۔ نظام اور اصول اور نظریات اور قوانین اور دساتیر باہر سے درآمد کرنا خواہ وہ سرمایہ دار مغرب کی اترن ہویا اشتراکی مشرق کی، یہ ہماری ‘مجبوری’ ہے، یہ نہ لیں تو آخر ہمارے پاس ہے کیا؟ وہ “شریعت” جس کا آپ نام لیتے ہیں، یا تیرہ صدیوں تک اس سے واقف رہے ہیں، بھائی وہ اِس عالمِ نو کے وجود میں آنے سے پہلے کی چیز ہے، عقیدت اپنی جگہ مگر یہ “شریعت” آج کے انسان اور آج کےمعاشرے کی ضرورت کیسے پوری کرسکتی ہے؟! ‘مذہبی’ لوگوں کی اِس ضد نے ہی ہمیں قوموں کی دوڑ میں اس قدر پیچھے کردیا ہے۔ یہ بیڑیاں ہیں جو ہم نے پیروں میں پہن رکھی ہیں، ان کو اتارو اور ‘آگے’ بڑھو! دیکھ نہیں رہے یورپ کہاں پہنچ گیا، وہ بھی ‘مذہب’ کی یہ بیڑیاں نہ اتارتا تو آج تک وہیں کھڑا ہوتا، زندگی کا پہیہ روک دینا کسی کے بس کی بات نہیں، “ارتقاء” ایک اٹل حقیقت ہے، بیڑیاں اتارو اور ‘زندگی’ کی دوڑ میں شریک ہوجاؤ! اور ہاں اس دوران یہ مت بھولناکہ یہ سب کچھ کرتے ہوئے تم مسلمان ہو اور مسلمان رہوگے، آخر کلمہ نہیں پڑھتے؛ من قال لا إله الا الله، دخل الجنة!
*****
آج ہم واقعتاً یہاں پر کھڑے ہیں…!
لاالٰہ الا اللہ سے اس کا تمام تر مادہ اور مضمون اِس سے باہر کردیا گیا، اس کے تمام تر تقاضے اور مفاہیم اس سے منہا کردیے گئے، اس میں جو کوئی حقیقت تھی وہ کھرچ کھرچ کر اِس سے نکال دی گئی؛ اور اب ایک ایسی کھوکھلی چیز جس کو ہمارا عقیدہ تو کیا ہماری تاریخ پہچان کر نہ دے گی… اس کھوکھلی چیز کے ساتھ یہاں کا وہ سب “خس وخاشاک” چمٹ کر بیٹھا ہے (جس کا حدیث میں ذکر ہوا)، اور جس کو اس سیلاب کے بے رحم تھپیڑے کہیں سے کہیں پہنچاتے ہیں، اور جس کے آگے یہ مکمل بےبس ہے؛ اپنی جڑیں کہیں ہوں تو جم کر دکھائے!
اِس امت کی جڑیں جن پر جم کر یہ زمین کے اندر تمکین پاتی ہے، “لاالٰہ الا اللہ محمدٌ رسول اللہ” سے پھوٹتی ہیں، بشرطیکہ اس کلمہ کو اس کے مادہ اور مضمون سے خالی نہ کردیا گیا ہو، اسکے زندہ حقائق سے اس کو کھوکھلا کر کے نہ رکھ دیا گیا ہو۔ (یعنی وہ کلمہ جس کو مرجئہ کا ہاتھ نہ لگا ہو)۔ ہاں ارجائی فکر کے دیے ہوئے اِس مریل بیج سے اُس تناور درخت کی امید رکھنا جو زمین میں تمکین پاکر دے، نری خودفریبی ہے۔ جیسے زورآور جھکڑ آج کی جاہلیت نے چلائے ہیں اُن کا مقابلہ کیا یہ مرجئہ کا پڑھایا ہوا ‘کلمہ’ کرکے دے گا؟ اور کیا وہ نصف کرۂ ارض پر پھیلا ہوا “خير أمة أخرجت للناس” کا درخت کسی ایسے ہی مریل بیج سے پھوٹا تھا؟ جو “تھمتا نہ تھا کسی سے وہ سیل رواں ہمارا” کیا اُس ایمان کا اٹھایا ہوا تھا جس کی تعریف میں “عمل” اور “کردار”کا نام آجانا ہی بدعت ہے اور جو “تصدیق” سے شروع ہوکر “اقرار” پر ختم ہوجاتا ہے؟!
*****
لاالٰہ الا اللہ کو اس کے مادہ ومضمون سے خالی کرکے ایک کھوکھلی بے حقیقت چیز بنادینے کے پیچھے ہماری طویل تاریخ میں بہت سے اسباب کارفرما رہے ہیں…
‘‘لاالٰہ الااللہ’’ کو بےجان کرنے والے کچھ دیگر عوامل
فرائض اور ذمہ داریوں سےفرار، ناکافی تذکیر وبیان، مسلم معاشرے میں حد سے بڑھی ہوئی دولت اور تعیش، صوفی پسپائیت، سیاسی استبداد، ارجائی فکر… سب نے لا الٰہ الا اللہ کو اس کے اصل مضمون سے خالی کرکے رکھ دینے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔
فرائض اور ذمہ داریوں سے فرار بشر کی طبیعت میں شامل ہے۔ساتھ میں زمین کی کشش (یعنی مفاداتِ ارضی) اور خواہشات کی کشش شامل ہوجاتی ہے… جس کا علاج ہے تذکیر:
وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (الذاريات 55)
البتہ نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کیلئے نافع ہے۔
تذکیر جب مطلوبہ پیمانے پر یا مطلوبہ نوعیت کی نہ رہے تو فرائض اور ذمہ داریوں سے آزادی پانے کا عمل نہ صرف جاری رہتا ہے بلکہ شدت اختیار کرجاتا ہے۔
دولت کی فروانی جو مسلمانوں کو زمین میں تمکین پانے کے نیتجے میں میسر آئی، وہ ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔ لوگ راحت اور تن آسانی میں پڑتے اور صحابہ والا زہد روپوش ہوتا گیا، تو اللہ کی رسی پر گرفت ڈھیلی پڑتی چلی گئی۔ کسی کا رخ بدعات کی طرف ہوا تو کسی کا معاصی کی طرف، اور ہردو مطالباتِ لا الٰہ سے خروج کی ہی صورتیں تھیں۔
تعیش اور تن آسانی بڑھی تو اس کا انتہائی رد عمل صوفیت تھا۔ روح کو مادی لذتوں کے غلبے سے آزاد کرانے کے لیے بے چین نفوس نے تصوف کے اندر پناہ دیکھی؛ البتہ یہ عمل گوشہ نشینی کی صورت دھار گیا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر ایسے فریضہ کے ترک کا ذریعہ بنا۔ یوں لاالٰہ الا اللہ کو اس کے کچھ اہم ترین مضامین سے خالی کرکے رکھ دیا گیا۔
تیسری جانب، سیاسی استبداد نے لا الٰہ الا اللہ کا مفہوم سکیڑ دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا یہ فریضہ بالعموم سلاطین کو پسند نہیں آتا تھا؛ ‘مخالفین’ پر جو شریعت سے حکمرانوں کے انحرافات اور تجاوزات پر معترض ہوتے، نہایت برا عتاب نازل ہوتا۔ جس سے لوگوں میں ‘اپنے کام سے کام رکھنے’کا رجحان پرورش پانے لگا اور “دین” خود بخود ‘انفرادی فرائض’ کے اندر محصور ہوتا چلاگیا۔ “دین” کا عبادات والا پہلو ہی لوگوں کے تصورِ دین پر غالب ہوتا چلاگیا اور “اجتماعی وسماجی پہلو” پس منظر میں جاتے گئے، اور “دین” کے سیاسی جوانب کو ہاتھ لگانا تو جان جوکھوں کا کام! یوں دین اور سیاست کو جدا کردینے کا عمل ایک طرح سے بہت دیر پہلے شروع ہوچکا تھا۔ سیاست اور لاالٰہ الا اللہ کے مابین خلیج ڈال دینے کی وہ کیفیت ایسے ہی کچھ عوامل کا شاخسانہ ہے۔
پھر ارجائی فکر آیا تو اس نے اس پورے بگاڑ پر پردہ تان دیا اور لوگوں کو تھپکی دی: فکر کی کوئی بات نہیں؛ ایمان ہے ہی اقرار اور تصدیق، جوکہ تم کرتے ہی ہو!
ہمارا انحطاط: مطالباتِ لاالٰہ کو نظرانداز کرنے کا براہِ راست نتیجہ
صلیبی استعمار آیا تو اس سے پہلے ہی مسلم نفوس میں لا الٰہ الا اللہ کا مسئلہ اپنی نچلی ترین سطح کو چھو رہا تھا۔ گناہوں اور برائیوں کا تو حدوحساب ہی نہ تھا، لا الٰہ الا اللہ سے تمسک کا معاملہ تقریباً اپنی آخری حدوں کو پہنچ رہا تھا۔ مسلم ذہنوں میں لاالٰہ الا اللہ کا مفہوم سکڑ کر ایک بہت چھوٹی اور ہلکی پھلکی چیز بن چکا تھا؛ اور ا س کی ناتوانی آپ اپنی زبان تھی۔ خود ہماری یہ داخلی صورتحال ہی صلیبیوں کو ہم پر چڑھ آنے کی دعوت دے رہی تھی؛ اور یہی اُن کے ہم پر قابو پالینے کی وجہ بنی۔ ورنہ ہماری حالت اِس حد کو نہ پہنچی ہوتی تو وہ ہمیں غلام بنانے کے لیے مہم جوئی ہی نہ کرتے اور نہ اس آسانی کے ساتھ یہاں اُن کے قدم جمتے۔ مسلم معاشرے مطالباتِ لاالٰہ الا اللہ کا ادراک رکھتے، ان پر پورا اترنے کے لیے زور لگا رہے ہوتے ،تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے اور صلیبی ہمیں زیر نہ کرسکتے۔ اِن کثیر مطالباتِ لاالٰہ میں بلاشبہ یہ شامل تھا کہ اِس لاالٰہ الا اللہ کو زمین میں تمکین دلوانے اور دشمنوں سے اس کا تحفظ کرنے کے لیے ہم قوت فراہم کرکے رکھتے اور اس کی راہ میں وسائل لگاتے اور انفاق کرتے:
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لا تُظْلَمُونَ (الأنفال 60)
اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔
لا الٰہ الا اللہ کے اِن مطالبات میں ہی یہ شامل تھا کہ ہم وہ علم حاصل کرتے جو زمین میں ہمارے تمکین پا رکھنے کا ذریعہ بنتا، دین و دنیا کا علم رکھے بغیر کونسی تمکین؟
طلب العلم فريضة (أخرجه ابن ماجۃ)
علم کی طلب باقاعدہ فرض ہے۔
لا الٰہ الا اللہ کی مطالبات میں ہی یہ شامل تھا کہ ہم اخلاقیاتِ لا الٰہ الا اللہ کو اپنا وتیرہ اور شیوہ بناتے؛ ہمارے ہاں دیانت، سچائی، نیک نیتی، کام کو زیادہ سے زیادہ عمدہ اور پختہ صورت میں ادا کرنا، ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت، خیر اور نیکی کے کاموں میں زیادہ سے زیادہ تعاون اور بھائی چارہ، اور گناہ زیادتی کے کاموں میں تعاون سے کنارہ کشی، وغیرہ وغیرہ… یہ سب اِس لا الٰہ الا اللہ کے مطالبات میں آتے تھے اور ہمیں زمین میں تمکین دلوا رکھنے کا راز تھے اور جبکہ ان اوصاف کا ہمارے ہاں سے چلے جانا اور ہمارے ہاتھ میں “لا الٰہ الا اللہ بغیر اخلاق” رہ جانا ہم پر تباہی لانے کا سبب۔
اِس لا الٰہ الا اللہ کے رشتے سے آپس میں جڑ کر رہنا، اس کی خاطر ایک دوسرے کو برداشت کرنا، اور اس کی خاطر اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال دینا، اور آپس میں بہترین رویوں کو سامنے لانا… یہ سب “مطالباتِ لا الٰہ” میں آتا تھا:
وَلا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا (الأنفال 46)
اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی صبر سے کام لو۔
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلا تَفَرَّقُوا (آل عمران 103)
اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْراً مِنْهُمْ وَلا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْراً مِنْهُنَّ وَلا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْأِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلا تَجَسَّسُوا وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ (الحجرات 11 - 12)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا” کے الفاظ سے خطاب کرنے والے… یہ سب لاالٰہ الا اللہ کے مطالبے اور تقاضے تھے!
جس ایک کلمہ میں ہماری جان تھی وہ ہماری زندگیوں میں بے جان ہوا اور ہمارے عقول اور تصورات کے اندر حاشیائی ہوا… تو اِس “عقیدے کی پسپائی” نے “پسماندگی” کی کئی اور صورتوں کو تابڑ توڑ جنم دیا۔ تہذیبی پسماندگی، مادی پسماندگی، سائنسی، معاشی، حربی، سیاسی، سماجی ہر طرح کی پسماندگی ہمارا مقدر بنی، کیونکہ زندگی کے جذبے جو اس لا الٰہ نے ہم کو عطا کیے تھے اور قوموں سے آگے گزرجانے کی جو ایک جوت ہم میں جگا دی تھی اب وہ چنگاری ہی ہمارے اندر بجھ سی گئی تھی… یہی وہ چیز ہے جو صلیبی لشکروں کو ہماری زمینوں پر چڑھ آنےکی دعوت دے رہی تھی؛ ہمارے اپنے ہاتھوں فراہم ہونے والا ایک ایسا موقع جسے وہ کبھی ضائع نہیں کرسکتا تھا!
استعمار... اور حقائقِ لاالٰہ الااللہ کا مسخ
ہم ابھی پیچھے کہہ آئے ہیں کہ صلیبی استعمار آیا تو اس سے پہلے ہی مسلم نفوس میں لاالٰہ الا اللہ کا مسئلہ اپنی نچلی ترین سطح کو چھو رہا تھا۔ مگر یہ نچلی ترین سطح بھی صلیبی قبضہ کاروں کو بری طرح کھٹک رہی تھی۔ ہمارا بہت سارا بگاڑ ابھی تک “فسق وفجور” کا رنگ لیے ہوئے تھا، جس کا مطلب تھا کہ لا الٰہ الا اللہ کے کچھ نہ کچھ آثار اس قوم میں ابھی باقی ہیں۔ یہ بھی بیرونی قبضہ کار کو ہمارے ہاں قبول نہیں تھا؛ عالم اسلام کے لیے اُس کے منصوبے اِس سے بہت آگے کے تھے:
وَلا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا (البقرة 217)
اور وہ تم سے لڑتے رہیں گے جب تک کہ تمہیں تمہارے دین سے نہ پھیردیں، اگر بن پڑے۔
وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّاراً حَسَداً مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ (البقرة 109)
اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے۔
جی ہاں… مسلمانوں کا اس حد تک دائرۂ اسلام میں رہنا… اور لاالٰہ الا اللہ کی یہ کم ازکم سطح اِن کے ذہنوں میں برقرار رہنا… بھی اُن کو گوارا نہیں! محض عملی انحرافات اور “فسق فجور” سے اُن کی کبھی تسلی نہیں ہوسکتی، جبکہ خدا کے مرتبے اور مقام کا اوراس کی شریعت کی حیثیت کا ایک تصور مسلمانوں کے یہاں برقرار ہو! خدا کا وہ مرتبہ اور مقام اور اُس کے رسولؐ اور اس کی شریعت کی وہ حیثیت جو یہ لاالٰہ الا اللہ مسلمانوں کے ذہن میں بٹھاتا ہے، خواہ وہ اپنی کم ترین سطح پر ہی کیوں نہ ہو، اور خواہ اس کے ساتھ فسق و فجور کیوں نہ پایا جاتا ہو؛ یہ چنگاری پھر بھی کسی وقت آگ بھڑکا سکتی ہے؛ کارِ تجدید کا بیڑا اٹھانے والی کچھ باہمت ہستیاں جیسے ہی اِس قوم کے آنگن میں نمودار ہوئیں، کیا بعید یہ قوم اپنے اوپر سے بدعملی کی گرد جھاڑ کر اُن مجددین کے پیچھے ہولے اور اپنا اصل راستہ پھر پکڑ لے؛ جس طرح سوکھا ہوا درخت، جب تک کہ اُس کی جڑیں سلامت ہوں، محض سیرابی اور نگہداشت کا ضرورت مند رہتا ہے اور اپنی یہ ضرورت پوری ہونے کی صورت میں دنوں کے اندر ہرابھرا ہونے لگتا ہے:
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا .. (إبراهيم 24 - 25)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں۔
برطانوی وزیراعظم ولیم گلیڈسٹون (1809۔1898) نے مصر پر برطانوی قبضے کے وقت کہا تھا: “جب تک یہ قرآن مصریوں کے ہاتھ میں ہے، اس ملک میں ہمارے قدم نہیں جم سکتے”۔
امریکی مستشرق تھامس بین اپنی کتاب “مقدس تلوار”The Sacred Sword کے مقدمہ میں ایشیا، افریقہ اور یورپ کے اندر مسلمانوں کی فتوحات کا ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے: “آج صورتحال بدل گئی ہے، مسلمان اب ہمارے قبضے میں ہیں، لیکن جو چیز ایک بار رونما ہوئی وہ دوبارہ بھی رونما ہوسکتی ہے، اور وہ چنگاری جو محمد (ﷺ) نے اپنے پیروکاروں کے دلوں میں جلا دی ہے وہ بجھنے والی چنگاری نہیں ہے”۔
چنانچہ اس بار صلیبیوں (اور ان کے پس پردہ یہودیوں) نے اپنی محنت اور کام کا محور یہ رکھا کہ وہ مسلمانوں کے پاس سرے سے اسلام ہی نہ رہنے دیں؛ کیونکہ ایسا کرکے ہی وہ اِس معاملہ میں بے فکر ہوسکتے ہیں۔ اور اس عمل میں وہ اپنے مجرب اصول slow but sure پر عمل پیرا تھے۔ جیساکہ مصر کے پہلے برطانوی قونصل جنرل لارڈ کرومر نے کہا تھا:
گورے انسان کی ذمہ داری جو عنایتِ الٰہی نے اس ملک میں اس کے کاندھوں پر ڈال دی ہے، وہ ہے مسیحی طرزِ حیات کو ممکنہ حد تک یہاں پر راسخ کروانا، اور اسے اس سطح کو پہنچانا کہ لوگوں کے سماجی بندھن اِسی پر قائم ہوجائیں، گو شکوک وشبہات کا راستہ روکنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں پر عیسائیت سازی کی محنت نہ کی جائے، بلکہ سرکاری سطح پر اسلامی مظاہر اور تقریبات وغیرہ کی سرپرستی بھی کی جائے!
مسلمانوں کو غافل پا کر ان کو اس کا خوب خوب موقع ملا۔ شریعت کی بالادستی قصۂ پارینہ بنی، نماز خال خال کسی کے پڑھنے کی چیز رہ گئی، ‘مسلمان بغیر نماز’ کی صنف بڑی تیزی کے ساتھ مقبول کرائی گئی، باقی کوئی چیز تو بچتی ہی کیسے؛ سب کچھ ایک دھیمی رفتار پر مگر شرطیہ نتائج کے ساتھ!
اِس نئے انتظام کے تحت جتنا جتنا اسلام مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتا رہا، اُتنااُتنا ارجائی فکر وہاں تسلی دلانے کو موجود ہوتا…! حکم بما اَنزل اللہ (شریعت کا حاکم اور بالاتر ہونا) اپنے یہاں سے چلا گیا تو کیا ہے، اسلام تو باقی ہے؛ یہ تو محض ایک ‘عمل’ ہے اور اس سے کوئی کفر تھوڑی ہوجاتا ہے! اسلام کے جملہ فرائض کا ترک ہوگیا، تو کیا ہے؛ اسلام تو باقی ہے؛ ‘اعمال’ کوئی ایمان کا حصہ تھوڑی ہے؛ یہ تو خوارج کا مذہب ہے؛ بھائی لوگ کلمہ تو پڑھتے ہیں؛ ‘تصدیق’ اور ‘اقرار’ باقی ہے تو اِن سب نظریات، اِن سب افکار، اِن سب نظاموں، اِن سب طرزہائے حیات اور اِس سب تہذیبی کایاپلٹ کے باوجود آدمی کی مسلمانی تو پوری طرح برقرار ہے!
ہمارا مسئلہ ‘تکفیر وعدم تکفیر’ سے بڑا ہے
ہمارے اِس نقطے پر پہنچ لینے کے بعد، کچھ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اب تو لازماً ہم لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر کفر کا فتویٰ لگائیں گے! ظاہر ہے یہاں شریعت کا دستور نہیں ہے اور ہم نواقضِ لاالٰہ الا اللہ بیان کررہے ہیں! لہٰذا ہمارے اِس بیانِ لاالٰہ سے ان کو خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ اب لوگوں کی تکفیر شروع کی جائے گی! اور اس خدشہ کی بنا پر ضروری ہے کہ یہ ہمارے لاالٰہ الا اللہ کے اِس اصولی بیان کو ہی سرے سے مسترد کردیں، کیونکہ اگر انہوں نے اس اصول سے اتفاق کر لیا تو لامحالہ ان کو فتوے بھی لگانے پڑیں گے…!
میں اپنی تحریروں میں جابجا متنبہ کرچکا ہوں کہ ہمارے اِس مطلوبہ مشن میں لوگوں پر فتویٰ لگانا سرے سے نہیں آتا۔ ہمارا مسئلہ اس سے کہیں بڑا اور سنجیدہ ہے…
سرزمین اسلام میں آج جو لوگ اسلام یا کفر کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں، ہمارے فتوے سے نہ وہ جنت میں داخل ہونے والے ہیں اور نہ جہنم میں! ان کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے۔ ہم کسی مملکت کی سرکار نہیں جسے مرتدین کا تعین کرنا ہو کہ وہ کس کس پر حد لگائے اور کس کس کو چھوڑے! ہم تو ہیں فی الحال محض ایک دعوت، جس کو ایک امانت لوگوں تک پہنچاکر اپنے فرض سے سبکدوش ہونا ہے۔ اور یہ امانت ہے لوگوں پر اسلام کی حقیقت واضح کردینا، اسلام کی اِس غربتِ ثانیہ میں ان کے دین کے حقائق کو روشن اور جلی کردینا…
جن لوگوں کا خیال ہے کہ سرزمینِ اسلام پر اس وقت گزاری جانے والی حیاتِ اجتماعی کے لیے جب ہم “جاہلی معاشروں” کا لفظ بولتے ہیں تو ہم (نعوذباللہ) یہاں کے باشندوں کو اسلام سے خارج ٹھہرا رہے ہوتے ہیں، یا یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ان میں اصل کفر ہے اِلَّا یہ کہ اس کے عکس ثابت ہو… ان لوگوں پر ہم جابجا یہ واضح کرچکے ہیں کہ کسی معاشرے پر ایک طرح کا حکم لگانا وہاں بسنے والے لوگوں پر حکم لگانے کو مستلزم نہیں۔ اس کا معاملہ بڑی حد تک مسئلہ دارالاسلام یا دارالکفر ایسا ہے؛ فقہاء بالاتفاق آپ کو یہ بتائیں گے کسی “دار” کو دارِ کفر یا دارِ اسلام سے متصف ٹھہرانا اس بات سے غیر متعلقہ ہے کہ وہاں بسنے والے لوگ کس کس عقیدے اور مذہب کے ہیں۔ “دار” کا مسئلہ وہاں پر جاری احکام کے ساتھ متعلق ہے؛ جہاں اسلام کے ماسوا شریعت کا دستور ہے اس پر دارِ کفر کا اطلاق کردیا جاتا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہاں کے باشندوں کا عقیدہ ومذہب کیا ہے۔
اب مثلاً، مسلمانوں نے جب مصر فتح کیا تو وہ دارِ اسلام ہوگیا باوجودیکہ وہاں اکثریت کا مذہب ابھی تک غیراسلام تھا اور کچھ عرصہ ایسا ہی رہا۔ مسلم ہند کی مثال لے لیجئے؛ مسلمانوں نے اسے فتح کیا اور یہ دارِ اسلام بنا باوجودیکہ وہاں کی اکثریت تب سے آج تک غیرمسلم چلی آتی ہے۔ دراصل “مسئلۂ دار” کا وہاں کے باشندوں کے ذاتی عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ “دار”کا تعلق وہاں پر لاگو شریعت سے ہے کہ وہ اسلامی ہے یا غیر اسلامی، جبکہ باشندوں کا حکم فرداً فرداً ہر شخص کے اپنے عقیدے اور مذہب سے ہے؛ اور اس لحاظ سے ایک ہی “دار” میں بے شمار مذاہب کے لوگ پائے جاسکتے ہیں۔
ایسی ہی مثال اُن صلیبی راجواڑوں کی ہے جو فرنگی نوابوں اور بادشاہوں نے ارض شام پر اپنے دوسوسالہ قبضے کے دوران متعدد شہروں میں قائم کرلیے تھے۔ یہاں کے باشندے مسلمان تھے اور مسلمان ہی مانے گئے، جبکہ اجتماعی حوالوں سے ان کا معاملہ دارالکفر کا رہا کیونکہ وہاں صلیبیوں کا دستور رائج تھا۔
پس مسلم معاشرہ درحقیقت وہ ہے جس کے معاملات شرعِ خداوندی کی رو سے چلائے جاتے ہوں، اورجہاں اسلامی تصورات، اسلامی نظریات اور اسلامی طرزحیات قائم ہو، قطع نظر اس سے کہ وہاں بسنے والی ایک بڑی اکثریت غیرمسلم کیوں نہ ہو۔ اور جاہلی معاشرہ وہ معاشرہ ہے جس کے معاملات شرعِ خداوندی کی رو سے نہ چلائے جاتے ہوں، اور جہاں اسلامی تصورات، اسلامی نظریات اور اسلامی طرزِ حیات قائم نہ ہو، قطع نظر اس سے کہ وہاں بسنے والی ایک بڑی اکثریت مسلمان ہو۔
سرزمین اسلام میں آج جو باشندے ہیں، وہ کوئی ایک ہی صنف نہیں:
یہاں ایک صنف بلاشبہ مسلمان ہے (اپنے احوالِ ظاہر کے لحاظ سے؛ جبکہ آخرت میں ان کا حساب خدا کا کام ہے)، کیونکہ شہادت دیتی ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں، ادائے عبادات کی پابند ہے، حکمِ جاہلیت کو مسترد کرتی ہے اور شرعِ خداوندی کی حکمرانی کی خواہشمند ہے، اور حسب مقدور اپنے معاملاتِ زندگی میں اسی (شرعِ خداوندی) کی جانب رجوع کرتی ہے۔
یہاں ایک صنف بلاشبہ کافر ہے (اپنے احوالِ ظاہر کے لحاظ سے؛ جبکہ آخرت میں ان کا حساب خدا کا کام ہے)، بے شک یہ لاالٰہ الا اللہ پڑھتی ہوگی، لیکن اس بات کو صاف مسترد کرتی ہے کہ شرعِ خداوندی کی تحکیم ہو۔ یہ بات اِس پوری صنف میں قدرِ مشترک ہے۔ آگے کوئی ان میں سے یہ بنیاد اختیار کرتا ہے کہ ‘دین کا سیاست سے کیا لینا دینا؟’، کوئی کہتا ہے ‘چودہ سو سال پرانی شریعت آج کی ترقی یافتہ زندگی کی ضرورتیں کیسے پوری کرسکتی ہے، آج تو یہ کام کچھ ترقی یافتہ نظام ہی دے سکتے ہیں جوکہ ڈیموکریسی ہوسکتی ہے یا سوشلزم یا اسی طرح کا کوئی ماڈرن نظامِ حیات’۔ کوئی کہتا ہے ‘دین کا دور لد گیا، جدید زندگی اس کی متحمل نہیں’۔ کوئی کہتا ہے ‘دین پسماندگی اور قدامت ہے، اس سے جان چھڑائیے اور کچھ ترقی کا سوچئے’۔ کوئی نکتہ پیش کرتا ہے ‘دین تو بندے اور خدا کا تعلق ہے، نظامِ حیات سے اس کو کیا واسطہ؟’۔
جبکہ ایک تیسری صنف ہے جس کا معاملہ خلط ملط ہے، اور جس کی ظاہری حالت مطالباتِ لاالٰہ الا اللہ سےبیگانہ ہے۔ یہی وہ صنف ہے جس پر حکم لگانے میں اختلاف ہوتا ہے۔ اور یہی وہ صنف ہے جس کی بابت ہم وضاحت کرآئے کہ ہمیں اس پر حکم لگانے سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ہمیں کل غرض اس بات سے ہے کہ ہم اِن لوگوں کو لاالٰہ الااللہ کی حقیقت بیان کرکے دیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو کرنے سے ہم اپنے فرض سے سبکدوش ٹھہریں گےاور یہی وہ چیز ہے جو انہیں کسی تبدیلی کی طرف لے کر چل سکتی ہے، یہاں تک کہ ان کی حالت بدلے تو اللہ ان کو اس ذلت اور دربدری سے نجات دلائے اور زمین میں ان کی عزت اور تمکین بحال کرائے۔
یہ تو ہوا یہاں کے باشندوں کا معاملہ، اور جس کا تعلق “افراد” سے ہے۔ البتہ جہاں تک “اجتماعی یونٹ” کا تعلق ہے تو جیساکہ ہم نے کہا، اس کا معاملہ مختلف ہے…
“اجتماعی یونٹ” افراد کے مجموعہ کا نام نہیں۔ یہاں آپ کو وہ نظام بھی دیکھنا ہوتا ہے جو ان افراد کو ایک خاص انداز میں ایک وحدت بناتا ہے، اور جس کے ذریعہ سے یہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معاملات چلاتے ہیں، اور اسی کی بنیاد پر اپنے باہمی رشتہ اور اجتماعی ذمہ داریوں کا تعین کرپاتے ہیں۔
تو کیا اِس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آج جو ‘‘اجتماعی یونٹ’’ یہاں قائم ہیں وہ اسلامی ہیں؟ وہ نظام جو اِن کے معاملاتِ کار کو چلاتا ہے وہ اسلام کا منہج ہے اور اسلام کی تعلیمات اور اسلام کی شریعت؟ ان کی اجتماعیت میں جو چیز بولتی ہے اور ان کے شیرازہ کو مجتمع رکھنے کا جو عنوان ہے وہ شرعِ خداوندی ہے؟ ان کے تصورات، نظریات، افکار، نظامہائے تعلیم وابلاغ اور ان کے قومی کردار کی ساخت کرنے والی چیز اسلام ہے؟
رسول اللہﷺ نے اپنے ایک نہایت برگزیدہ صحابیؓ کے منہ سے جاہلیت کی محض ایک بات سنی، اور وہ بھی جب وہ غصے کی حالت میں تھا، تو اُس کو ٹوکتے ہوئے فرمایا:أنت امرؤ فيك جاهلية“تم ایک ایسے آدمی ہو جس میں ابھی جاہلیت ہے”۔
جاہلی معمول کی صرف ایک بات، اور وہ بھی جب وہ (صحابیؓ) غصے سے بے قابو ہوگیا تھا… رسول اللہﷺ ذرا ہمارے اِن معاشروں کو دیکھیں تو کیا فرمائیں؟!
ہمارے آج کے یہ معاشرے اگر اسلامی معاشرے ہیں، اور یہ سب کے سب لوگ خیر سے “مسلمان” ہیں… تو کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ لوگوں کےلیے “مسلمان” ہونا کیوں ضروری ہے اور “مسلمان” نہ ہونے کی صورت میں انسانوں کو کونسا نقصان لاحق ہوجاتا ہے؟!
یہ معاشرے حیاتِ اجتماعی کی جو صورت آج پیش کررہے ہیں، یہی تو لوگوں کے اصل اسلام جاننے اور دیکھنے میں مانع ہے۔ اِس کو جب آپ “اسلام” کا سرٹیفکیٹ دے دیں گے کیونکہ یہاں کے لوگ ایک لفظ بولتے ہیں جس کا نام ‘کلمہ’ ہے… تو پھر لوگوں کو کیا مانع ہے کہ وہ کمیونزم اختیار کریں یا سوشلزم یا ڈیموکریسی، یا انارکی، یا لامذہبیت، یا بے مقصدیت، یا دنیا کا کوئی اور تباہ کن دین اور مذہب؟
یہ ساری احتیاط اور خداخوفی ہمیں کوئی ‘سخت بات’ کہنے میں ہی کیوں لاحق ہوجاتی ہے؟ یہ احتیاط اور خداخوفی ہمیں اس بات پر کیوں لاحق نہیں ہوتی کہ یہ سب کچھ دیکھ کر لوگ “اسلام” کی بابت کیسا گھٹیا تصور قائم کرتے ہیں۔ جب ہم اس کو “اسلام” کا سرٹیفکیٹ دیں گے تو لوگ کیوں نہ سمجھیں کہ “اسلام” یہی ہے؟ پھر وہ ہدایت کی تلاش دنیا کے خوش نما مفروضوں میں کریں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ خود ہمارے نوجوان ہی اس کے بعد طرح طرح کے فلسفوں کا رخ کریں ، جیساکہ کررہے ہیں، تو یہاں ہمیں احتیاط اور خدا خوفی دامن گیر نہیں؟!
اگر یہ واضح ہوگیا ہے کہ معاشرتی حوالوں سے کسی صورتحال کو جاہلیت سے منسوب کرنا اور اس کو “اسلام” کا سرٹیفکیٹ دینے سے گریز کرنا وہاں کے باشندوں پر حکم لگانے سے ایک بالکل مختلف چیز ہے ، نیز یہ واضح ہوگیا ہے کہ ہمارا فرض یہاں لوگوں پر حکم لگانے کی بجائے اُن پر لاالٰہ الا اللہ کے شروط اور تقاضے واضح کرناہے… تو اب ہم اپنے مضمون کی طرف واپس آتے ہیں…
لاالہ الااللہ... اور صورتِ موجودہ
پیچھے ہم گفتگو کرآئے ہیں کہ اسلام کی نسل اول لاالٰہ الااللہ کے مطالبوں اور تقاضوں کے مسئلہ کو کس طرح لیتی رہی، کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہؐ سے اس مسئلہ کو کس طرح سمجھتی رہی… اور دوسری جانب مرجئہ قدیم یا مرجئہ جدید یہ مسئلہ لوگوں کو کس طرح سمجھاتے ہیں اور لاالٰہ الا اللہ پر ایمان کو کس طرح “اقرار اور تصدیق” میں پورا کردیتے ہیں؟ خاص طور پر شریعت کے تحاکم (شریعت کو ہی اپنا دستور بنا رکھنا) کا مسئلہ؛ کیونکہ لاالٰہ الا اللہ کے اِس اقتضا کو ملیامیٹ کردینے کے بعد بھی آدمی کو لاالٰہ الااللہ ادا ہوجانے کا سرٹیفکیٹ دے رکھنا ایک ایسی بے اصل بات ہے جس پر کوئی دلیل کتاب اللہ سے دی جاسکتی ہے، نہ سنتِ رسول اللہؐ سے، اور نہ اسلام کی نسل اول کے تعامل اور دستور سے جوکہ کتاب اور سنت کو سب سے صحیح سمجھنے اور لاگو کرنے والے تھے… اور یہ کہ خدا کی شریعت کو اپنا دستور قرار دے رکھنا وہ کم از کم حد ہے جس پر رہے بغیر کسی شخص کو “مسلمان” ہونے کا سرٹیفکیٹ دیاہی نہیں جاسکتا… اور یہ کہ غیر اللہ کی شریعت کو اپنا دستور ٹھہرانا، رضامندی کے ساتھ اور بقائمی ہوش وحواس، وہ چیز ہے جو آدمی کے دعوائے لا الٰہ الا اللہ کو اساس سے ختم کردیتی ہے اور قطعی طور پر اس کو اسلام سے خارج کردینے والی ہے…
اور اب ہم بات کریں گے کہ آج کا مسلم معاشرہ کہاں کھڑا ہے…!
ہماری یہ گفتگو دو پہلوؤں سے ہوگی:
وہ کم ترین حد جو آج کے اس معاشرے میں جہاں شرعِ خداوندی کی تحکیم نہیں، آدمی کو مسلمان رہنے کے لیے درکار ہے؟
اس صورتحال سے جس کی نظیر ہماری پوری تاریخ میں نہیں پائی جاتی خلاصی پانے کے لیے کیا ضابطہ اور طریق کار ہے؟
ایک بات کا اعادہ کرتے چلیں، جوکہ امید ہے اِس گفتگو کے دوران اذہان سے محو نہیں ہوگئی ہوگی:
اول زمانے میں لوگ جب اسلام میں داخل ہوتے اور مسلمان ہونے کی سند پاتے (ہماری مراد ہے احکامِ دنیا کے معاملے میں، رہا معاملۂ آخرت تو اس کا حساب خدا کے ذمے)، تو یہ وہ وقت تھا جب مسلم معاشرہ – یعنی وہ معاشرہ جو شرعِ خداوندی کو اپنا دستور بناتا ہے – قائم تھا اور وہاں آدمی کا “کلمہ” پڑھنا محض دو لفظ بول دینا نہیںبلکہ اپنے سامنے موجود اس معاشرے (لا الٰہ الا اللہ پر قائم اُس اجتماعی واقعے) میں شمولیت اور اس کے دستور کو تسلیم کرنے کا ایک غیرمبہم اعلان ہوتا؛ یعنی اس کو اسلام کا سرٹیفکیٹ دینے والی چیز اُس کا دو لفظ بولنا نہیں بلکہ دستورِ لاالٰہ الا اللہ کو تسلیم کرنا اور اس کا پابند ہونے کا اعلان کرنا تھا (کیونکہ اِس دستورِ لاالٰہ الااللہ کو معاشرے کے حق میں “معلوم من الدین بالضرورۃ” بنادیا گیا تھا)، جس میں خدا کا تنہا لائقِ عبادت ہونا بھی آتا ہے اور شرعِ محمدؐ کا حتمی وقطعی دستور ہونا بھی، اور یہ بھی کہ اس دستور کے سوا اس کا اب کوئی دستور نہیں، اور جملہ مسائل انسانی کو لوٹانے کے لیے اس کے سوا دنیا میں کوئی مرجع نہیں } بموجب آیت:وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ (الشورى 10)تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے۔فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ..(النساء 59)پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو { اور یہ کہ جو شخص لا الٰہ الا اللہ کے اِس “معلوم من الدین بالضرورۃ” مطالبہ و مقتضا سے پھرتا ہے – اور جس سے پھرجانا لاالہٰ الا اللہ پر قائم اُس معاشرے میں کوئی آسان کام نہیں – اُس پر حدِارتداد لاگو کردی جاتی ہے اگرچہ وہ زبان سے – تاحال – لاالٰہ الا اللہ کیوں نہ کہتا ہو…؛ اور جوکہ صریح دلیل ہوئی اس بات پر کہ: اِس کلمہ کے الفاظ تنہا وہ چیز نہیں – درحالیکہ اِس کلمہ کا مطالبہ اس کے الفاظ سے الگ تھلگ رکھا گیا ہو– جو آدمی کو اسلام کی سندعطا کرتی ہے۔
اور اب ہم صورتِ موجودہ کی طرف آتے ہیں، جہاں شرعِ خداوندی کی تحکیم نہیں؛ بلکہ شرعِ خداوندی کی جگہ جاہلیت کے شرائع ہیں، یہ شرائعِ جاہلیت :کہیں پر ‘لبرل ڈیموکریسی’ ہے، کہیں پر سوشلزم، کہیں پر کمیونزم، تو کہیں کوئی اور نام جس کی سند اللہ نے آسمان سے نہیں اتار رکھی۔
یہاں؛ لاالٰہ الا اللہ کا مطالبہ اپنی کم از کم سطح پر، کس طرح پورا ہوگا، جس سے آدمی کو واقعتاً مسلمان ہونے کی سند ملے؟
واضح کرتے چلیں، یہاں ہمارا موضوع ‘اسلامی مظاہر’ بہرحال نہیں… گو اَثنائے گفتگو اس کا بھی کچھ بیان ہوسکتا ہے…
داعیوں کا کام کسی معاشرے میں دراصل یہ نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کو “اسلام” کی جعلی سندیں جاری کر کے دیں۔ نہ ہی داعیوں کا کردار معاشرے میں یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو اُن ‘مظاہر’ کی نشاندہی کرکے دیں اور ایسے ‘ٹیکنیکل’ الفاظ اور تعبیرات بولنے کی مشق کروائیں جنہیں اختیار کرکے وہ “فتویٰ” کی زد سے نکل جائیں، اگرچہ خدا کے پاس جاکر وہ کیسا ہی برا پھنسیں! معاشرے میں داعیوں کا اصل کردار یہ ہے کہ وہ لوگوں پر یہ واضح کریں کہ وہ فی الحقیقت مومن کیسے بن سکتے ہیں اور ان کا یہ ایمان خدا کے ہاں کیسے سرخرو ہوسکتا ہے؛ اُس روز جب:
يَوْمَ لا يَنْفَعُ مَالٌ وَلا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (الشعراء 88 – 89)
جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے،۔ مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔
گو یہ بات اپنی جگہ کہ دنیوی زندگی میں “اسلام کے مظاہر” بھی کوئی ایسی چیز نہیں جس کے لیے سوائے ایک بار زبان سے لاالٰہ الااللہ کہہ دینے کے کچھ درکار نہ ہو۔ جیساکہ ذرا آگے چل کر ہم بیان کریں گے…
وہ “کم از کم سطح” جو ایمان کی سند پانے کے لیے – ایک ایسے معاشرے میں جہاں اللہ کی شریعت قائم نہیں – ضروری ہے،خود حدیث ہی کے اندر بیان کردی گئی ہے۔ جس کے بعد ہمارے لیے کسی تاویل یا تصرف کی گنجائش نہیں رہتی۔ فرمایا رسول اللہﷺ نے:
ما من نبي بعثه الله في اُمَّةٍ قبلي إلا كان له من أمته حواريون وأصحاب ، يأخذون بسنته ويقتدون بأمره . ثم إنها تخلف من بعدهم خلوف ، يقولون ما لا يفعلون ، ويفعلون ما يؤمرون . فمن جاهدهم بيده فهو مؤمن ، ومن جاهدهم بلسانه فهو مؤمن ، ومن جاهدهم بقلبه فهو مؤمن. وليس وراء ذلك من الإيمان حبة خردل (أخرجه مسلم)
جو بھی نبی اللہ نے محھ سے پہلے کسی امت میں مبعوث فرمایا، امت میں سے اُس کے اصحاب اور حواری ہوتے رہے، جو اس کی سنت پر چلتے اور اس کے دستور کی اقتدا کرتے۔ پھر یوں ہوتا کہ ان کے بعد ناخلف لوگ آجاتے، وہ کہتے جو وہ کرتے نہ تھے، اور وہ کرتے جن کا اُن کو حکم نہ تھا۔ پس جو ان کے ساتھ جہاد کرے ہاتھ کے ساتھ وہ مومن ہوا، اور جو ان کے ساتھ جہاد کرے زبان کے ساتھ وہ مومن ہوا، اور جو اُن کے ساتھ جہاد کرے دل کے ساتھ وہ ایمان مومن ہوا، اور اس سے کم رائی برابر ایمان بھی نہیں رہتا۔
علاوہ ازیں نبیﷺ نے فرمایا:
إنه يستعمل عليكم أمراء فتعرفون وتنكرون . فمن كره فقد بَرِىءَ، ومن أنكر فقـد سَلِمَ، ولكن من رضى وتابع (أخرجه مسلم)
دیکھو، تم پر امیر مقرر کیے جائیں گے، جو بھلے کام بھی کریں گے اور برے بھی، پس جو (برے کام سے) بیزار ہوا وہ بچ گیا، جس نے اس کے خلاف أواز اٹھائی وہ سلامت رہا، سوائے اُس شخص کے جو اس پر راضی ہوا اور اس کے پیچھے چلا۔
چنانچہ پہلی حدیث سے ایمان کے تین درجات سامنے آتے ہیں: ایک شخص جو جاہلیتکے ساتھ ہاتھ سے الجھتا ہے، دوسرا جو زبان سے الجھتا ہے ، اور تیسرا جو کم از کم دل سے الجھتا ہے؛ اس سے کم کوئی ایمان نہیں۔ جبکہ دوسری حدیث ہر ایسے شخص سے ایمان کی نفی کرتی ہے جو جاہلیت کے حکم پر راضی ہوجائے اور اس کے پیچھے چلنے لگے۔
اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ “ایمان” اور “اسلام” کے الفاظ اگر کہیں اکٹھے آئیں تو وہاں “ایمان” سے مقصود دل کا عمل ہوتا ہے اور “اسلام” سے مقصود جوارح کا عمل۔ تاہم اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک ذکر ہو تو وہ آپ سے آپ دوسرے کو بھی شامل ہوتا ہے، خواہ اثبات کے سیاق میں اور خواہ نفی کے سیاق میں۔ اب جب اِس حدیث میں “ایمان” کی نفی ہوئی تو “اسلام” کی نفی آپ سے آپ ہوگئی، اور ان ‘باریک بینوں’ کی بات قابل اعتناء نہ رہی کہ صاحب یہاں تو ایمان کی نفی ہوئی ہے اسلام کی نفی کب ہوئی ہے!
اور جہاں تک “مظاہر اسلامی” کا بھی تعلق ہے…، تو اس میں بھی زبان سے لاالٰہ الااللہ محمدٌ رسولُ اللہ کہہ دینے کے ساتھ ساتھ یہ کم از کم مطلوب ہے کہ “تحاکم اِلی الطاغوت”برضا ورغبت اور برسبیلِ اتباع نہ ہو۔ کیونکہ یہ تحاکم آدمی کے لاالٰہ الااللہ کو اساس سے ختم کردیتا ہے اور اس کا کوئی ایسا اثر باقی ہی نہیں رہنے دیتا جس کو ہم “مظاہرِ اسلامی” میں گنتے پھریں۔
یہ گفتگو اشخاص پر فتوے صادر کرنے کے لیے نہیں ہورہی؛ کیونکہ یہ ہمارے بس میں ہی نہیں، اور نہ یہ ہمارا کام ہے، کہ ہم لوگوں کے دل چیر کر دیکھیں آیا وہ برضا ورغبت طاغوت کے آئین پر چل رہے ہیں، اور آیا وہ اس کو خدا کی شریعت پر مقدم کرتے ہیں… یا وہ اس پر مجبور ہیں البتہ دل سے اس کے ساتھ الجھتے ہیں اور دل سے شرعِ خداوندی کی تحکیم کے ہی طلبگار ہیں، مگر بےبس ہیں؟ ظاہر ہے یہ جاننا ہمارے بس میں ہے اور نہ ہمارا کام۔ سوائے اُس شخص کے جو آپ ہی اپنی زبان سے کوئی ایسا کفر بول دے، یا کسی ایسے جاہلی نظریہ کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرے جو غیراللہ کی شریعت کا داعی ہو، یا اُس کے حال سے قطعی طور پر عیاں ہو کہ اُس کے ہاں دین کی ایک ذرہ حیثیت نہیں اور اس کے لیے خدا کی شریعت اور طاغوت کی شریعت ایک برابر ہے۔
ہم تو یہ بات کریں گے؛ اس مقصد سے کہ لوگ دیکھ لیں کہ وہ کہاں ہیں اور خدا کی میزان کہاں:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ
(الحديد۔ 25)
ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔
جبکہ خدا کی یہ میزان، جس کے قواعد اُس کی نازل کردہ کتاب میں نہایت کھول کر بیان کردیے گئے ہیں، اس باب میں بہت واضح ہے کہ…: دستور دو ہی ہوسکتے ہیں: یا خدائی دستور، اور یا جاہلی دستور:
أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْماً لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ (المائدة۔ 50)
تو کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک فیصلہ کرنے میں اللہ سے بہتر کوئی نہیں ہے۔
آپ کے سامنے یہاں جاہلیت کی ایک چھتری ہے، جس کا نام “حکم بغیرماانزل اللہ” ہے، اور پورا معاشرہ اس چھتری کے سائے تلے کھڑا ہے؛ خدا کے خلاف بغاوت پر قائم، اس نے اپنا یہ منحوس سایہ پورے ماحول پر تان رکھا ہے۔ یہاں چھتری فی الوقت ایک ہی ہے ، اس کے باوجود یہاں فریق ایک نہیں دو ہیں ، اورجوکہ آپس میں متنازع ہیں: ایک وہ جو جاہلیت کے اِس سائبان پر راضی برضا ہے، پس یہ اسی میں سے ہے؛ اور ایک وہ جو اس سے بیزار اور متنفر ہے اور اس کے ساتھ (کم از کم دل سے) الجھتا ہے، یہ خدا کا ساتھی ہے، جس درجہ کی اس کی باطل بیزاری اور باطل کے خلاف اس کا مجاہدہ اُسی درجہ میں یہ خدا کا ساتھی اور خدا کے ہاں مقبول۔
یہ ہے خدائی میزان؛ جو اِس صورتِ موجودہ کے حوالے سے یہاں آپ کے سامنے نصب ہے؛ اور جوکہ آپ کی اھواء اور خواہشات کے ہاتھوں بدل نہیں سکتا۔
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِـنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ
(الأحزاب۔ 36)
اور کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔
حدیث میں مذکورہ قلبی مجاہدہ... اور ارجائی فکر
اِس خدائی میزان کو اِس حد تک جان لینا کافی نہیں جب تک ہم قلبی مزاحمت (حدیث کے الفاظ: ومن جاهدهم بقلبه فهو مؤمن، نیز: فمن كره فقد برىء) کا مطلب نہیں جان لیتے، کیونکہ – جس وقت شریعتِ خداوندی کو زمین میں برطرف کررکھاگیا ہو اُس وقت – یہی وہ کم از کم حد ہے جو لوگوں کو ایمان کے احاطے میں باقی رکھتی ہے؛ اور اس سے نیچے ایمان رائی برابر نہیں رہتا…
مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ارجائی فکر کے دیے ہوئے ہوئے رویے اور رجحانات نفوس میں بہت گہرے چلے گئے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس حوالہ سےمحض اس بات کو کافی سمجھا جاتا ہے کہ آدمی کی زبان سے ‘ریکارڈ کے لیے’ اس مضمون کا کوئی ایک آدھ جملہ صادر ہوگیا ہو کہ وہ بھی اس سسٹم سے راضی نہیں! فرض تھا سو پورا ہوا! یا یہ کہ وہ دل کے نہاں خانے میں یہ ‘اعتقاد’ سنبھال رکھے کہ یہ ایک برائی ہے جو خدا کو پسند نہیں! جبکہ اِس شخص کے عملی رویہ اور کردار میں اور اُس شخص کے رویہ اور کردار میں جو اس پر راضی برضا ہے سرمو فرق نہ ہو!
دراصل ارجائی فکر نے جو حشر “ایمان” کا کیا اور اس عظیم چیز کو مجرد “تصدیق اور اقرار” میں پورا کرادیا جبکہ عمل، رویہ، سلوک اور کردار کو اس کی حقیقت سے ہی باہر کردیا… ویسا ہی حشر اس ارجائی فکر نے حدیث میں مذکور اس “ومن جاهدهم بقلبه”اور “فَمَن كَرِہ” کا کیا۔ یعنی یہ سب وہ چیز ہے جس کو ساری عمر دل کے نہاں خانے میں دفن رہنا ہے؛ آدمی کے تیور اور رویے ہمیشہ اس سے بیگانہ رہیں گے!
امام غزالیؒ، باوجود اس کے کہ ایک صوفی آدمی ہیں، اس “قلبی انکار” کا مفہوم واضح کرتے ہیں، فرمایا:
}وعن عكرمة عن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " لا تقفن عند رجل يقتل مظلوما فإن اللعنة تنزل على من حضره ولم يدفع عنه.“عکرمہؒ حضرت ابن عباسؒ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مظلوم کو قتل کرنے والے شخص کے پاس تک مت پھٹکو؛ کیونکہ جو شخص اُس کے پاس حاضر ہو اور (ناحق مارے جانے والے) کی جان نہ بچائے اُس پر لعنت اترتی ہے” قال: وقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " لا ينبغي لامرئ شهد مقاما فيه حق إلا تكلم به ، فإنه لن يقدم أجله ولن يحرمه رزقا هو لهکہا: نیز فرمایا رسول اللہﷺ نے: کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے مقام پر حاضر ہو جہاں حق متقاضی ہو اور وہ حق بات نہ بولے؛ کیونکہ اس کا حق بولنا نہ اُس کی اجل گھٹائے گا اور اُس کی قسمت کا لکھا رزق”… یہ حدیث دلیل ہے اِس بات پر کہ ظالموں اور فاسقوں کے اڈوں پر جانا جائز نہیں اور نہ ایسے مقامات پر جانا جہاں منکر سرعام دیکھاجاتا ہےاور آدمی اس کے سدباب پر قادر نہیں۔ فرمایا جو وہاں حاضر ہو اُس پر بھی لعنت نازل ہوتی ہے۔ آدمی کو حاجت لاحق نہ ہو تو منکر کی جگہ پر اُس کا پایا جانا اور عذر یہ پیش کرنا کہ میں وہاں کیا کرسکتا تھا، حرام ہے ۔ (امام غزالی کی عبارت ختم ہوئی){
یہ وجہ ہے کہ ایمان کی اِس کمترین حالت کو حدیث میں دل کا مجاہدہ کہا گیا ہے، یعنی قلبی مزاحمت۔ مراد یہ کہ “باطل کے خلاف جہاد” میں آدمی کسی نہ کسی سطح پر شامل ہو اور تب اس کو “ایمان” کہا جائے گا، اگرچہ یہ ایمان کا کمترین درجہ کیوں نہ ہو۔ اور “ایمان” کی یہ کمترین حالت ہی وہ چیز ہے جو انسان کے اور خدا کے غضب کے مابین رکاوٹ بن پائے گی۔ رہا مرجئہ کے طریقے پر ہونے والا ‘قلبی انکار’ تو اُس کا معاملہ ویسا ہی ہوگا جیسا مرجئہ کے طریقے پر رکھا جانے والا ‘ایمان’؛ نہ اُس سے کچھ برآمد اور نہ اِس سے!
*****
نکلنے کی راہ... یہی لاالٰہ الا اللہ
اور اب آتے ہیں آخری نقطے کی طرف… اس صورتحال سے نکلنے کی راہ۔
جب ہم لوگوں کو بتاتے ہیں کہ راہِ خلاص یہ ہے کہ سب سے پہلے تم اپنے تصورات بدلو، خصوصاً لاالٰہ الا اللہ کی بابت اپنا مفہوم درست کرلو… تو بہت سے ہمیں ہکا بکا ہوکر دیکھتے ہیں… جبکہ بہت سے اس پر سیخ پا ہوتے ہیں!
اس کی وجہ…؟
بڑی تعداد ایسی ہے جو صرف یہ سننا چاہتی ہے کہ یہاں غربت، ناخواندگی اور بیماری کا علاج ہونا ضروری ہے۔ یہاں دنیا بھوکی بیٹھی ہے، بیروزگاری آسمان کو پہنچی ہے، ناخواندگی عام ہے؛ اس کے علاج کے لیے سرگرم ہونا ہی اصل طریقِ خلاص ہے۔
ایک طبقہ ایسا ہے جو یہاں درپیش سائنسی پسماندگی کا حل دریافت کرنے میں ہی معاملہ سدھرتا دیکھتا ہے۔ اس قوم کو مادی وٹیکنالوجی ترقی کی ضرورت ہے اور آپ کونسی بحثیں لے کر بیٹھے ہیں!
ایک تعداد ایسی ہے جو اخلاقی بحران کا رونا روتی ہے؛ یہاں رشوت ختم ہونی چاہیے، جھوٹ، منافقت، ملاوٹ، جعلسازی، بے ضمیری، بے حسی، غیرذمہ داری، کام چوری… اصل مسئلے تو یہ ہیں جن کا حل ہونا چاہئے!
ایک ذہن یہ ہے کہ ہم میں اتحاد کی کمی ہے، کہیں فرقہ واریت ہے تو کہیں طبقاتی تقسیم اور مفادات کا کھیل؛ چارہ گری کرنی ہے تو اس کی کیجئے!
وغیرہ… وغیرہ… وغیرہ!
ہم بھی کہتے ہیں: ان مصائب کا علاج ہونا چاہئے؛ لیکن یہ ہو کیسے؟!
ایک صدی پہلے بھی ہم عین یہی رونے تو رو رہے تھے! ان میں سے کونسا پراجیکٹ ہے جو ہم نے شروع کیے بغیر چھوڑ دیا ہو؟ کیا ہم نے اسکول نہیں کھولے؟ کالج اور یونیورسٹیاں کھڑی نہیں کردیں؟ سڑکیں، فیکٹریاں، ہسپتال کونسا کام رہنے دیا؟ اور یہ سڑکیں گاڑیوں سے بھر نہیں دیں؟ گھروں میں فریج، گیزر، ٹی وی، مائیکرو ویو کونسی چیز رہنے دی؟ پوری ایک صدی ہم نے ‘ترقی’ ہی تو کی ہے!
مگر پہنچے کہاں…؟!
ترقی ہوئی تو اپنے اِس مرثیہ میں! اضافہ ہوا تو مسائل اور بحرانات میں! پیشرفت ہوئی تو مصائب اور ذلت اور لاچاری اور بے بسی میں! قومیں ہیں کہ پہلے سے بڑھ کر ہمیں جوتے مارتی ہیں۔ سو ڈیڑھ سو سال پہلے یقیناً ہم پر قومیں چڑھ دوڑی تھیں، اور جس سے حدیث کی پیش گوئی بھی ثابت ہوئی، مگر وہ قومیں جو اُس وقت پر ہم پر چڑھی تھیں دنیا میں اُن کا کوئی معیار، قدکاٹھ اور حیثیت تو تھی، اب تو گھٹیا سے گھٹیا قوم ہمیں خوار کرتی ہے۔ دنیا کی وہ ذلیل ترین قوم (یہود) جس پر خدا نے ذلت اور مسکنت کی پھٹکار نازل کر رکھی تھی وہ اٹھ کر ہمیں جوتے مارتی ہے۔ ہماری زمینیں، ہماری عزتیں، ہماری آبروئیں آج اُس کے ہاتھوں تاراج ہوتی ہیں اور اُس “ترقی” کی شروط میں اب یہ بھی شامل ہوگیا ہے کہ “دین” کے ساتھ ساتھ ہم “غیرت” کا نام لینا بھی چھوڑ دیں۔ ہندو ہے سو وہ ہمیں آنکھیں دکھاتا ہے! “دیں ہاتھ سے دے کر” ترقی وخوشحالی پانے کے اِس نسخۂ زریں نے کیا ابھی تک ہماری تسلی نہیں کرائی؟!
کوئی تیوری چڑھاتا ہے تو چڑھائے، ہمیں کھاجانے والی نظروں سے دیکھتا ہے تو دیکھے… ہم کہتے ہیں اِس قوم کی خلاصی کی راہ اِس بات سے شروع ہوتی ہے کہ نبوی بنیاد پر یہ ایک نظریاتی تبدیلی سے گزاری جائے۔ سب سے پہلے یہ اسلام کی بابت اپنے تصورات درست کرے اور نمبر ایک پر: لاالٰہ الااللہ کا مفہوم جوکہ اس کے یہاں مسخ ہوکر رہ گیا ہے۔
ہماری بات کو خندۂ استہزاء کے ساتھ سننے والے بے شک یہ کہیں گے کہ ‘کلمہ’ تو یہ قوم صبح شام پڑھتی ہے، اب تم اِس کو مزید ‘کلمہ’ پڑھاکر اِس کا کونسا مسئلہ حل کردوگے؟!
ابھی وہ لوگ ہیں جو ہمیں بتانے آئیں گے کہ لاالٰہ الااللہ کے معاملہ میں مطلوب ہی “تصدیق اور اقرار” ہے جوکہ یہ لوگ پہلے سے کرتے ہیں؛ اب اگر پھر بھی کوئی معاملہ حل ہو کر نہیں دیتا تو اس کا “لاالٰہ الااللہ” کے مسئلے سے کیا تعلق؟!
ابھی ایسے دیندار آئیں گے جو ہم پر گرہ کھولیں کہ “ایمانیات” دراصل “عقائد” کا نام ہے اور “اسلامی عقائد” کو اللہ کا شکر ہے یہاں سب تسلیم کرتے ہیں؛ لہٰذا اس بحران کا تعلق دین کے ساتھ ہے بھی تو اس قدر گہرا نہیں کہ “لاالٰہ الااللہ” تک چلاگیا ہو۔ لہٰذا اس کا حل ڈھونڈو مگر “دین” کے کچھ دیگر ابواب میں اور “نیکی” کے کچھ دیگر اعمال میں… اگرچہ دین کے وہ سب ابواب اور اعمال جن پر یہاں زورشور سے محنت جاری ہے امت کا کوئی ایک بحران نہ حل کرپائے ہوں اور نہ ان اعمال کے نتیجے میں دور دور تک کسی تبدیلی کا امکان نظرآتا ہو!
یہ ہردو فریق (لا الٰہ الااللہ پر ایمان کو “اقرار اور تصدیق” میں محصور کرنے والے، اور “ایمانیات” کو “عقائد” کے معنیٰ میں لینے والے) دراصل فکرِارجاء کا شاخسانہ ہیں، جس نے صدیوں کی محنت کے نیتجے میں لاالٰہ الا اللہ کو اُس کے اصل مضمون سے خالی کرکے ایک ظاہری کھوکھلی شکل بنادیا جو نہ فرد کو ہلا سکے نہ معاشرے کو جنبش دے سکے اور نہ قوموں کے اِس ہجوم میں اپنی کوئی قوت اور اپنا وزن منواس کے؛ محض ایک کلمہ جو اِن قوموں کی نگاہ میں ‘جتنا بھی پڑھ لیا جائے’ نہ کسی مرض کا علاج اور نہ کسی بحران کا حل! یہ تھی مرجئہ کی کارگزاری کہ وہ “کلمہ” جو دنیا کو دہلاتا، مسلم فرد کی ساخت کرتا اور مسلم سماج کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا تھا، اب ناتوانی کی رمز ٹھہرا؛ اب یہ معاشرے ہیں جو آپ کو بتارہے ہیں کہ یہ ‘کلمہ’ پڑھ کر تو ہم نے دیکھ لیا اب کچھ اور سوچئے جو ہمیں اِس بحران سے باہر لے آئے!
اِس ارجائی فکر کے ساتھ ہمیں کوئی جدلیات نہیں چھیڑنی۔ ہم اسکا رد صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ہم اس کے زہریلے اثرات امت کی زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔
اور جہاں تک صورتِ موجودہ کی تشخیص اور راہِ خلاص کی نشاندہی کا تعلق ہے… تو آج جس قدر بھی امراض پائے جارہے ہیں خواہ وہ سائنسی پسماندگی ہے، یا سیاسی بحرانات، یا معاشی ابتری، یا مادی افلاس، یا اخلاقی دیوالیہ، وغیرہ وغیرہ، ہم یہاں کے دردمندوں کے سامنے صرف ایک سوال رکھیں گے: کیا یہ “اسلامی” امراض ہیں؟ یعنی کیا یہ اس قوم کے مسلمان ہونے یا مسلمان رہنے کے پیداکردہ ہیں؟! اسی سوال کو ہم اس طرح بھی رکھ لیتے ہیں: اسلام کی وہ نسلِ اول جس نے لاالہٰ الا اللہ کو اپنا دستورِ حیات بنایا تھا کیا وہ اِن بری صفات سے متصف تھی؟ یا معاملہ اس سے سو فیصد برعکس تھا اور یہ سب امراض اُس صحت مند نسل کے پاس پھٹک تک نہ سکتے تھے؟ اور اس کے بعد ہم سوال کرلیتے ہیں: وہ نسل اور یہ آج کی نسل، اِن دونوں میں سے کونسی لاالٰہ الااللہ کے تقاضوں پر پوری اترنے والی ہے اور کونسی نسل ہے جس نے اس کو معنیٰ ومضمون سے خالی کرکے محض ایک لفظ کے طور پہ اپنا کر رکھا؟
اِس کا جواب اگر ہمیں معلوم ہوجاتا ہے تو ہم پر وہ راز بھی مخفی نہیں رہتا کہ عالم اسلام کو اپنی تاریخ کے یہ بدترین روگ کہاں سے لگے!
اسلام کے سب بنیادی مفہومات ہی اِن آخری صدیوں کے دوران مسلم اذہان سے روپوش ہوتے چلے گئے۔ صرف لفظ رہ گئے؛ ان کے مفہومات اور معانی تقریباً غائب؛ اور ان میں سرفہرست لاالٰہ الااللہ کا مفہوم جس کو قلوب میں بٹھانے پر مکہ میں جماعتِ مسلمہ کا پورا زور صرف ہوا تھا اور جو مدینہ ومابعد اَدوار میں مسلم جدوجہد کا مرکزی ترین محور تھا۔
نہایت ضروری ہے کہ لاالٰہ الااللہ پر ایمان لانے کا یہ مطلب اور تقاضا ہمہ وقت ہمارے سامنے ہو:
اس کا پہلا تقاضا ہے کہ خدا کو اُس کی ربوبیت اور الوہیت میں وحدہٗ لاشریک مانا جائے، اور وہ سب اسماء اور صفات اور پیرائے جو اس کی تعریف کروانے کے لیے اُس کے کلام اور اس کے نبی کی زبان پر وارد ہوئے اُن میں اور اُن کے ذریعے اُس کی یکتائی ہو۔
اس کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ عبادت اور بندگی کی صورت میں اپنا رخ تنہا اُس ذات کی طرف پھیردیا جائے۔
اس کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ صرف اور صرف اُس کی شریعت کی تحکیم ہو اور اس کے سوا کوئی شریعت انسانوں پر حاکم نہ رہے۔
اس کا چوتھا تقاضا یہ ہے کہ خدا نے ایمان والوں پر جو فرائض عائد کیے ہیں ان کو اخلاص اور پابندی کے ساتھ ادا کیا جائے، جن میں علاوہ اُن فرائض کے جو پیچھے بیان ہوچکے، جستجوئے علم وسائنس، خدائی نقشے پر تعمیرِ ارض، دشمنانِ خدا کے ساتھ مقابلے کے لیے قوت کی فراہمی، اور زمین میں اس کلمہ کو پھیلانے اور اس کا علم بلند کرنے کے لیے سرگرمی، جس میں سرفہرست جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
اس کا پانچواں تقاضا ہے اخلاقیاتِ لاالٰہ الااللہ کو اپنا وتیرہ اور شیوہ بنانا، اور جوکہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ میں نہایت تفصیل سے وارد ہوئے ہیں۔
اسلام پورے کا پورا درحقیقت لاالٰہ الا اللہ تقاضا اور مطالبہ ہے۔ اللہ کو اُس کی ربوبیت اور الوہیت اور اُس کی عظیم حیرت انگیز صفات کے ساتھ پہچاننے کا واحد مطلب یہ ہے کہ نفس انسانی ایک ایسی ہستی کے آگے بندگی اور عبادت اور اطاعت بجالائے۔ اِس بندگی اور عبادت کی جتنی مشروع صورتیں ہیں ان کا مجموعہ “اسلام” کہلاتا ہے!
رہ گئی اِس کلمہ کی عہدشکنی، تو ایسے اعمال، اخلاق اور رویے ترک کرانا لاالٰہ الااللہ کے براہ راست تقاضوں میں آتا ہے۔ یہاں ہم اِن امور کی درجہ بندی نہیں کررہے کہ ان میں کونسی خلاف ورزی ہے جو صغائر میں آتی ہے اور کونسی کبائر میں اور کونسی خلاف ورزی وہ ہے جو اس عہدِ لاالٰہ الااللہ کو سرے سے ختم کرڈالتی ہے اور آدمی کو شرک کے دائرے میں لے جاتی ہے۔ پھر بھی مختصراً یہ بیان کردینے میں حرج نہیں کہ:
آدمی خدا کی ربوبیت یا الوہیت یا خدا کے اسماء وصفات میں انحراف کرلے تو وہ شرک ہے۔ مراد ہے اعتقاد کا شرک۔
آدمی عبادت اور بندگی کی صورت میں خدا کے سوا کسی کے در کا رخ کرلے تو وہ شرک ہے۔ مراد ہے عبادت کا شرک۔
آدمی خدا کی حاکمیت سے انحراف کرلے اور اس کی شریعت کے سوا کسی شریعت کو دستور مان لے تو وہ شرک ہے۔ مراد ہے حاکمیت کا شرک۔
یہ تینوں ایک درجے کے شرک ہیں؛ یعنی شرکِ اکبر جو آدمی کو ملت سے خارج کردیتا ہے:
وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلا آبَاؤُنَا وَلا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ (النحل 35)
اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔
یہ ہوا شرکِ عبادت اور شرکِ حاکمیت۔
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهاً وَاحِداً لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (التوبة 31)
انہوں نے اپنے احبار ورہبان کو رب بنا لیا ہے، خدا کے ماسوا، اور مسیح بن مریم کو بھی؛ جبکہ ان کو حکم تھا کہ نہ عبادت کریں مگر ایک الٰہ کی، نہیں ہے کوئی الٰہ مگر وہ، پاک ہے وہ اس سے جو یہ شریک کرتے ہیں۔
اور یہ ہوا شرکِ حاکمیت اور شرکِ اعتقاد… اور جبکہ درجے میں یہ سب ایک سا ہے۔
*****
اسلام کی اولین نسلیں جو لاالٰہ الااللہ کے مفہوم سے آگاہ تھیں اور یہ مفہوم ان کی زندگی میں بولتا تھا تو وہ “خَيۡرَ اُمَّةٍ أخۡرِجَتۡ للنَّاسِ” کی شرط پوری کرتی تھیں۔ اُن کو زمین میں بلاتاخیر تمکین ملی۔ علم، تہذیب، ترقی، اقدار، اخلاق، سائنس، ٹیکنالوجی، اِن سب اشیاء میں بھی یہی اقوامِ عالم کے امام ہوئے۔ اَن گنت میدانوں میں اِس قوم نے دنیا کو اپنے کمالات سے دنگ کیے رکھا اور اس کے یہ کرشمے صدیوں جاری رہے۔ البتہ اِن آخری صدیوں میں جب لاالٰہ الااللہ کا مفہوم ذہنوں کے اندر سکڑ کر رہ گیا اور اسلام کے دیگر مفہومات بھی پس منظر میں چلے گئے، تو اپنے تمام تر پھیلاؤ اور عظیم الشان آبادی رکھنے کے باوجود یہ دنیا کی سب سے بے وقعت اور سب سے بے وزن قوم ٹھہری، یہاں تک کہ بھوکی قوموں کے لیے دسترخوان بنی جہاں وہ مزے مزے کی دعوتیں اڑاتے رہے۔ اور بڑی دیر سے اُن کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ وہ اِسے ہر طرح کے نظریات، افکار، فیشن اور سسٹم جاری کرکے دیتے رہے جس سےیہ اپنے دین سے اور بھی برگشتہ ہوئی۔ ‘ترقی’ اور ‘ٖخوشحالی’ کے تعاقب میں یہ جتنی اُن کے پیچھے چلی اِس کو ‘ترقی و خوشحالی’ تو پھر بھی نہ ملی البتہ بربادی اور گم گشتگی ڈھیروں کے حساب سے ملی!
اِس امت کو فی الحقیقت کوئی “خلاصی” کی راہ چاہئے…
آج جب ہم کہتے ہیں کہ اِس سے خلاصی پانے کا آغاز اسلام کی بابت اپنے بنیادی مفہومات درست کرنے سے ہوتا ہے خصوصاً لاالٰہ الااللہ کا مفہوم… تو بہت سے لوگ سادہ لوحی سے، یا سادہ لوح بن کر، ہماری اِس بات کو “روٹی” کے متبادل کے طور پر لیتے ہیں! یعنی گویا ہم یہ کہتے ہیں کہ بھوکوں کو روٹی اور ناخواندہ طبقوں کو تعلیم فراہم کرنے کی بجائے، نیز صنعت کو فروغ دینے اور اسلحہ سازی وعسکری ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے کی بجائے، یہ ‘ایمانی محنت’ کرو!
ظاہر ہے کوئی عقلمند یہ بات نہیں کہے گا!
اور کیا رسول اللہﷺ جس وقت مکہ میں لوگوں کا اعتقاد درست کروارہے تھے اور جہاں اہل ایمان آپؐ کے ہاتھوں لاالٰہ الااللہ کے حقیقی مفہوم پر تربیت پا رہے تھے؛ (یوں آپؐ کی یہ مختصر سی جمعیت “دنیا کی امامت” کے لیے تیار ہورہی تھی)… اُس وقت کیا آپؐ نے اُن کو یہ کہا تھا کہ فی الحال روٹی کھانا (اور اگانا) چھوڑ دو! اور یہ کہ جب تک اپنا اعتقاد درست نہ کرلو، بازاروں کی سب سرگرمی معطل کردو! کسبِ معاش کے میدان سُونے چھوڑ آؤ… تاآنکہ تم لاالٰہ الا اللہ کو صحیح صحیح نہیں سمجھ لیتے!
ظاہر ہے کوئی عقلمند ایسا نہیں سوچ سکتا!
رسول اللہﷺ اُسی دوران اُن کی تربیت کررہے تھے جس دوران اُن کا روٹی پانی چل رہا تھا، جس دوران اُن کے بازاروں کی رونق اور سرگرمی بحال تھی، اُن کے تجارتی قافلے رواں دواں تھے، اُن کی مال برداری یمن تا شام جاری تھی… وہ اپنی دنیا کے یہ سب کام بھی کر رہے تھے اور لاالٰہ الااللہ کے حقیقی تقاضوں پر آنحضورؐ سے تربیت بھی پارہے تھے۔ لاالٰہ الااللہ کے یہ تقاضے جیسے جیسے آسمان سے نازل ہوتے گئے ویسے ویسے اِن کا تربیتی عمل پروان چڑھتا گیا اور اُن کی سعی بارآور ہوتی گئی… یہاں تک کہ اِس عالمی اسٹیج پر وہ “خَيۡرَ اُمَّةٍ أخۡرِجَتۡ للنَّاسِ” کی حیثیت میں نمودار ہوئے۔
آج بھی جب ہم لوگوں کو کہیں گے کہ سب سے پہلے تمہیں “اسلام” کی بابت اپنے بنیادی مفہومات درست کرنے ہیں جس کی ابتداء لاالہٰ الا اللہ کا مطلب جاننے سے ہوتی ہے… تو ہمارے پیش نظر وہی طریقہ ہوگا جو رسول اللہﷺ نے پہلے پہل اختیار کیا تھا۔ نہ ہم روٹی کے عمل کو موقوف کریں گے، نہ فوجوں کی تیاری کے عمل کو سست کروائیں گے، نہ صنعت کے فروغ کو معطل کروائیں گے، نہ مدرسے اور اسکول کھولنا موقوف ٹھہرائیں گے۔
مسئلہ دراصل آج یہ ہے کہ جب آپ اِن سماجی مسئلوں کو ہاتھ ڈالنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو قوم میں آپ وہ اجتماعی اسپرٹ ہی مفقود پاتے ہیں جو اِس بیل کو منڈھے چڑھا سکے۔ اجتماعی ذمہ داری کی حس ہی سرے سے نہیں پائی جاتی۔ فرد کا خود اپنے احساس سے ایک اجتماعی معاملے میں پورا اترنا تصور سے باہر ہے؛ آدمی کچھ کرنے کا روادار ہوگا بھی تو اپنے شخصی مفاد کے زیرتحریک، اور جہاں ذاتی مفاد ہے وہاں حرام حلال کا فرق بھی بالائے طاق ہوجائے گا۔ چھوٹے درجے کا ملازم رشوت کے بغیر چل کر نہیں دیتا جبکہ “بڑے” درجے کا ملازم بنک اور ادارے ہضم کرتا ہے۔ آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے؛ یہاں اصلاح کا کام آپ کہاں سے شروع کریں گے؟
آج آپ کو اس بدنظمی اور افراتفری کا سامنا ہے؛ جو ہمارا وقت، پیسہ، وسائل، صلاحیتوں اور قابلیتوں سب کا اجاڑا کروا رہی ہے؛ یہاں آپ مسئلہ کو کہاں سے ہاتھ ڈالیں گے؟
جھوٹ، فریب، جعلسازی، دونمبری، ملاوٹ، بددیانتی یہاں آسمان سے باتیں کرتی ہے، اس کو ٹھیک کرنے کے لیے آپ کہاں سے اپنے کام کا آغاز کریں گے؟
یہاں سنجیدگی کا فقدان ہے، نکماپن، سستی، کاہلی، لاابالی قوم کی رگ رگ میں بس چکی ہے، اس کے بحر کی موجوں کو کسی غیرمعمولی اضطراب سے دوچار کرائے بغیر اس کی یہ مردنی کہیں جانے والی نہیں۔ قوم کو تبدیلی کے ایسے زوردار عمل سے گزارنے کے لیے آپ اپنی زنبیل میں کیا نسخہ رکھتے ہیں؟
علمی وتحقیقی اسپرٹ یہاں مفقود ہے۔ نہ مسائل کو سمجھنے میں معروضی objective انداز اختیار کیا جاتا ہے اور نہ مسائل کا حل پیش کرنے میں۔ خبط مارنا، اندازے لگانا اور دل میں جو آئے کرنا، تنظیم، ترتیب اور منصوبہ بندی سے دور رہنا قوم کی فطرتِ ثانیہ بن چکی، ذہنیتوں کو بدل کر رکھ دینا اور جماعت کو بالکل ایک نئی نفسیات دے ڈالنا… اس کے لیے راستہ کہاں سے کھلتا ہے؟
انفرادیت اور انانیت نے بری طرح ڈیرے ڈال رکھے ہیں، فرد کو ملت میں گم کروادینے ایسا معجزہ کردینے کے لیے… آپ یہاں کیا طریقِ کار رکھتے ہیں؟
جس لیڈر کو آپ کندھوں پر اٹھاکر ایوانوں تک پہنچاتے ہیں وہ بکاؤ منڈی میں اپنا مول لگوانے چل پڑتا ہے، آپ کی عزت، آپ کا مفاد، آپ کی زمین، آپ کا ملک، ہر چیز کا سودا کرآتا ہے، تاکہ وہ یہاں کچھ دن اقتدار اور اختیار کے مزے لے سکے۔ ایسے طبقوں کے پاؤں تلے سے بساط کھینچ لینے والی قوم سامنے لانے کیلئے آپ کہاں سے کام شروع کریں گے؟
یہ مسئلہ، وہ مسئلہ… یہاں مسئلے ہی مسئلے تو ہیں جن کے پیچھے آپ بھاگ بھاگ کر ہلکان ہوچکے! ایک مسئلے کو ہاتھ ڈالتے ہیں اوپر سے بیس مسئلے سر پر آپڑتے ہیں اور پوری ایک صدی ہم نے مسئلوں کا تعاقب کرنے میں گزاری۔ ہم نے اپنے آپ کو اور قوم کو یہی تسلی دلائی کہ مسئلے حل ہور ہے مگر آج بھی خلاصی کی راہ کے لیے ہم صرف دُہائی ہی دے رہے ہیں۔ کوئی ایک خردمند نہیں سوچتا…؟ کہ اِس مسئلہ کو ہم جتناسرسری لیتے آرہے ہیں، ہمارا مسئلہ اس سے زیادہ گھمبیر ہے؟!
*****
وہ طبقے جو – اِس قوم کو عقیدہ کی کوئی مضبوط بنیاد اختیار کروائے بغیر – یہاں دھڑادھڑ فیکٹریاں لگوانے، ٹینکوں اور طیاروں کی قطاریں لگوادینے، سکولوں کالجوں کا انفراسٹرکچر بچھوا دینے، اور روٹی کی ریل پیل کروادینے میں ہی اس قوم کے مصائب وآلام کا حل دیکھتے ہیں… یہ طبقے اپنے تئیں بہت ‘واقعیت پسند’ ہیں، ‘عملیت’ کے خوگر، ‘قوم کے اصل مسئلے سے آگاہ’ اور اس کے ‘حقیقی چارہ گر’، مسائل کو ‘حقائق’ کی روشنی میں دیکھنے اور دکھانے والے نہ کہ مسائل کی ‘غیبی’ تفسیرات کرکر کےقوم کو ایک فرضی اور وہمی دنیا کا اسیر رکھنے والے، اور جوکہ دنوں میں قوم کو یہ دشتِ ناپیداکنار پار کروادیں گے…! تعجب کی بات یہ کہ زمامِ کار پوری ایک صدی سے اِنہی کے ہاتھ میں ہے نہ کہ قوم کو ‘وہمی اور غیبی’ دنیا کا اسیر بنانے والے طبقوں کے ہاتھ میں! یہ خاک اڑتی جو آپ دیکھ رہے ہیں، اِنہی کے دم قدم سے ہے، اور اِس پر پوری ایک صدی گزرنے کو ہے!
جبکہ ہم نے ایک دن اِن ‘حقیقی چارہ گروں ‘ کو نہیں کہا کہ فیکٹریاں مت لگاؤ، تعلیمی اداروں کا جال مت بچھاؤ، قوم کو روٹی کے ڈھیر لگا لگا کر مت دو، طاقتور فوجیں مت کھڑی کردو، قوم کو سائنس اور ٹیکنالوجی کو ہاتھ مت لگانے دو، ٹینک اور طیاروں کے کھیپیں برآمد کرنے کا کام ہرگز شروع مت کرنا…!
صرف ایک بات ہے جو ہم واشگاف کہتے ہیں: صحیح عقیدے پر قوم کو کھڑا کیے بغیر اگر تم یہ سب کچھ کرنا چاہتے ہو، اور عقیدے کی بنیادیں اس کو بیرون سے لا کر دیتے ہو، تو یہی خاک اڑے گی جس کا تم ایک صدی سے بچشمِ سر مشاہدہ فرما رہے ہو!
ہم تعلیمی ادارے کھولتے ہیں… مگر ان بچوں کو وہاں پڑھاتے کیا ہیں؟!
ذرائع ابلاغ ہم بڑی بڑی ‘جدید’ ٹیکنالوجی کے ساتھ شروع کرلیتے ہیں… مگر اپنی اقوام کے لیے وہاں سے نشر کیا کرتے ہیں؟!
فیکٹریوں اور کارخانوں کا جال بچھا لیتے ہیں مگر کارخانوں کے ڈائریکٹر، وہاں کے ملازمین، وہاں کے مزدور عملاً کیا گل کھلاتے ہیں، اور یہ پیداوار کہاں جاتی ہے؟ محکموں میں کیا خاک اڑتی ہے اور قوم کے یہ وسائل کس سفید ہاتھی کا پیٹ بھرتے ہیں؟!
قوم فوجوں کا بجٹ پورا کر کرکے کنگال ہوچکی، اس کے سالاروں اور تمغہ برداروں نے اِس کو کونسا محاذ فتح کرکے دیا؟ اسلحے کے اِن ڈھیروں نے آج تک آپ کو کوئی کام کرکے کیوں نہیں دیا؟
جنرل عبدالمنعم حسنی، جوکہ عربوں کی تاریخ ساز شکست کے وقت غزہ کا انتظامی سربراہ رہا تھا، نے ایک بار جب ہم دونوں کچھ ماہ کے لیے ایک جیل میں اکٹھے قید تھے، خود اپنی زبانی مجھے یہ واقعہ سنایا کہ جس روز یہ نام نہاد جنگ چھڑی، وہ اپنی جیپ پر مٹرگشت کرتا ہوا غلطی سے یہود کے علاقے میں داخل ہوگیا اور یہود کا جنگی قیدی جا بنا ؛ خود اُس کو نہ جنگ شروع ہونے کا علم تھا اور نہ جنگ ہارجانےکا، یہ دونوں دلچسپ خبریں اس کو اپنے قفس برداروں سے ملیں! جنگ کے آغاز میں ہی ایک اعلی سطحی مصری فوجی یہود کے ہاتھ لگا تھا، یہودی افسروں کی طرف سے اُس کو جو پہلا سوال ہوا وہ یہ تھا: کیا مصری فوج میں الاخوان المسلمون ہیں؟ کہنے لگا: میں نے ان کو بتایا: نہیں۔ پھر میں نے اُن سے پوچھ لیا کہ یہ سوال مجھ سے کیوں پوچھا جارہا ہے؟ وہ مجھے کہنے لگے: ہم ابھی تک 1956ء کا وہ ایک واقعہ نہیں بھولے جب مصری فوج میں موجود الاخوان کے صرف دو افسروں نے پورے یہودی بریگیڈ کی پیش قدمی کو “مِتلا” کے علاقے میں مسلسل چھ گھنٹے تک روک کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ دونوں اپنی توپوں پر سوار لڑتے ہوئے مارے گئے، اور تب جا کر ہماری پیش قدمی ازسرنو شروع ہوئی!
یہودی توپ سے نہیں ڈرتا؛ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اِس توپ کے پیچھے کون کھڑا ہے!
توپیں اور ٹینک تو اُن کے اپنے پاس بہت ہیں۔ وہ ہماری توپوں سے کیا ڈریں گے۔ ان کو ڈراتا ہے وہ “مسلمان” جس کے اندر یہ لاالٰہ الااللہ بولتا ہے اور جس کے انگ انگ میں یہ جذبۂ شہادت بھرتا ہے اورجوکہ اِسی کلمہ کا خاصہ ہے۔ ہاں ایسا مسلمان ہو تو نہتا اُن کے اوسان خطا کرتا ہے!
ہمارا سب سے کاری ہتھیار ہمارا لاالٰہ الااللہ ہے، یہودی کی جان جاتی ہے تو اِس سے!
افغانستان پر روس قابض ہوا تو یہی ممولا شبہاز سے جابھڑا تھا! اِسی نے امریکہ کے برج الٹے۔ اور اِسی نے آج ارضِ فلسطین میں بنی صیہون کی نیندیں حرام کررکھی ہیں!
ہم ایک بار پھر واضح کردیں…: ہم یہ نہیں کہتے کہ اپنے فوجی جوان کو بس لاالٰہ الا اللہ دو، توپ مت دو – جیساکہ آج کچھ لوگ سادہ لوحی سے، یا سادہ لوح بن کر، ہماری اس بات کو یہ مطلب پہناتے ہیں – ہم کہتے ہیں اپنے اِس جوان کو جو جو ہتھیار دے سکتے ہو دو مگر تمہارے جوان کا سب سے بڑا ہتھیار یہ لاالٰہ الااللہ ہے، اس کے سامان میں یہ کسی صورت مفقود نہیں ہونا چاہئے۔ توپ ضرور حاصل کیجئے، مگر اس کے پیچھے وہ مرد کھڑا کیجئے جس کے اندر لاالٰہ الااللہ بولتا ہے۔ اُس دن آپ دیکھیں گے یہی تھوڑا بہت اسلحہ آپ کو حیرت انگیز حد تک کفایت کرگیا ہے اور اس کے دَم سے، بھیڑیے اب سرزمینِ اسلام کی عزتوں اور آبروؤں کو بھنبھوڑنے کے لیے اِدھر کا رخ کرنا بھول گئے۔
اور یہ باتیں… ہمارے اپنے ‘داناؤں’ سے اوجھل ہوں تو ہوں، ہمارے دشمنوں کو خوب معلوم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اور یہاں پر ان کے کاسہ برداروں کا پورا زور صَرف ہوتا ہے تو اِس پر کہ ہماری افواج کو اِس لاالٰہ الااللہ کی ہوا نہ لگنے پائے۔ کیوں؟ وہ جانتے ہیں کہ یہ لاالٰہ الا اللہ کس خوبصورتی کے ساتھ پانسے پلٹتا ہے! اُن کو خوب معلوم ہے یہ لاالٰہ الا اللہ اُن کے’زمینی حقائق’ کا کیسا بھرکس نکالتا ہے!
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ .. (الأنعام 20)
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے ان کو اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا
*****
‘موجودہ مسائل’ پر دوبارہ آجاتے ہیں…!
‘معروضیت’ اور ‘عملیت’ کے خوگر حضرات کی گردان جاری ہے: خدارا یہ عقیدے اورغیبیات کی جان چھوڑو؛ کروڑوں عوام بھوکی ہے۔ لوگ سڑکوں پر بےحال ہیں۔ تم لوگوں کے حقیقی مسائل کو توجہ دو۔ کوئی عملی حل پیش کرو۔ کرپشن ختم کرکے دو۔ پورا عالم اسلام معاشی ابتری، غربت، کثرتِ آبادی اور قلتِ وسائل کا شکار ہے؛ اِس میدان میں اِس کی چارہ گری کرو…
ہم اِن سے کہیں گے: بالکل ٹھیک! زور لگا دیکھو! تم کوئی کم قابل ہو! پوری ایک صدی سے قوم تمہی کو تو سن رہی ہے۔ تمہاری ہی راہنمائی تو اس کو میسر رہی ہے… برآمد کیا ہوا؟!
ہم ‘توہمات’ میں بسنے والے، ‘عوام کے مسائل’ سے ناواقف، ‘غیبیات’ کے مارے ہوئے… تم سے صرف ایک بات پوچھتے ہیں: اسلام کی یہ سرزمین جس قدرتی دولت سے مالامال ہے، جو پٹرول، گیس، کوئلہ، معدنیات، زرعی اور آبی امکانات اور تاحدنظر پھیلی یہ سونا اگلتی زمینیں اور خدا کے فضل سے یہ بے حدوحساب افرادی قوت اِس کو حاصل ہے، اور جس سے یہ دنیا کا دولتمندترین خطہ ٹھہرتا ہے… آخر کیا وجہ ہےکہ یہاں کے باشندے دنیا کی سب سے زیادہ غریب اور سب سے زیادہ مسائل رکھنے والی قوم ہیں؟
کیا یہ غربت اور در در کے دھکے اُس روز بھی اِس کا مقدر بنے تھے جس روز یہ قوم اسلام پر کھڑی تھی اور اپنی زندگی میں لاالٰہ الا اللہ کے مطالبات کو پورا کررہی تھی؟
(ہم پیچھے کہہ آئے ہیں کہ خدائی نقشے پر تعمیرِ ارض، جستجوئے علم وسائنس اور دشمن کے مقابلے کے لیے قوت کی فراہمی مطالباتِ لاالٰہ میں باقاعدہ طور پر شامل ہے)
وہ مسلمان جو اِس لاالٰہ الااللہ کے مطالبات پورے کررہے تھے کیا دنیا کی سب سے امیر، سب سے مہذب، سب سے ترقی یافتہ اور سب سے طاقتور قوم نہیں تھے؟
پھر جب ان کے عقیدے میں بوداپن آیا تو ساتھ ہی وہ علم، اخلاق، فکر، سائنس، اقتصاد، حرب، سیاست، ہر میدان میں پسماندہ ہوئے… تب صلیبی یورپ ان کی زمینوں پر چڑھ آیا، اِن کے وسائل کو جی بھر کر لوٹا، اِن کو ذلت اور غلامی کی زنجیروں میں کسا، اور اِن کا خون نچوڑ نچوڑ کر اپنی قوم کو فربہ کرنے لگا۔ یہاں تک کہ یورپ دن بہ دن ہٹاکٹا اور ‘ناقابلِ تسخیر’ ہوتا چلاگیا اور یہ اس قدر لاغر کہ اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں!
اور اب ایک صدی سے یہ ان مصائب سے جان چھڑانے کے لیے ہاتھ پیر ماررہے ہیں، لیکن خدائی منہج کی طرف واپس آنے کے لیے پھر بھی تیار نہیں، کبھی اشتراکیت کو آزمائیں گے، کبھی صنعتکاری کے منصوبے باندھیں گے، کبھی ‘بڑے ملکوں’ سے قرضے لینے چل پڑیں گے، یوں مصائب کے بوجھ تلے اور سے اور دبتے چلے جائیں گے۔ ان کی کرنسیاں گرتے گرتے پاتال کو جالگیں، قرضوں نے ان کی کمر دہری کردی، پیداوار کا گراف مسلسل نیچے جارہا ہے اور ‘بھوک’ جس کا سو سال تک رونا رویا آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہاں اخلاق کا جنازہ ضرور نکلا اور شاید یہ واحد چیز ہے جو ‘ترقی’ کی اِس دوڑ میں ہمارے ہاتھ لگی ہو!
ظاہر ہے لوگوں سے ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اٹھو اور اپنی زمینوں اور اپنے وسائل پر اپنا کنٹرول بحال کراؤ اور اپنے اوپر چڑھ بیٹھی ہوئی اقوام کو ایک لمحے میں پیچھے دھکیل دو۔
یہ سیاسی واقتصادی آزادی حاصل کرنا اور اِس خون نچوڑنے کے عمل سے رہائی پانا بے شک ضروری ہے، لیکن یہ ہدف سرہونے کو مدتیں لگ سکتی ہیں۔ اس کے لیے نسلوں کی محنت درکار ہے۔ بھوک سے بے حال معدے ظاہر ہے اُس ہدف کے سرہونے تک صبر نہیں کرسکتے۔ اِن کو آج ہی آپ کو کچھ کھلانا ہے، تاکہ زندگی کی رمق بحال رہے۔
‘معروضیت’ اور ‘عملیت’ کے خوگر حضرات سے ظاہر ہے ہم یہ نہیں کہیں گے کہ صنعتکاری کے منصوبے باندھنا چھوڑ دو اور اپنے اِس دیوالیہ ہوچکے بجٹ کو سہارا دینے کے لیے ہاتھ پیر مت مارو۔ ہم ان کو صرف ایک بات سمجھائیں گے: اِن سب میدانوں میں لوگوں کو ان کے دین کی صحیح بنیادوں پر کھڑا کیے بغیر تم جو محنتیں اور کوششیں کروگے اس کی مثال ایک چھدے ہوئے پیندے کے برتن والی ہوگی جس کو ہم بھر بھر کر تھک جاتے ہیں مگر وہ بھرنے کا نام نہیں لیتا!
صنعتکاری، جیساکہ وہ خود کہتے ہیں، ایک تہذیبی کاوش ہے، نہ کہ محض کچھ آلات اور مشینیں چلا لینے کا نام! آپ تو سب سے پہلے اِس میدان میں ہی دیوالیہ ہیں!
جہاں تک ہم ‘غیبیات’ پر ایمان رکھنے والوں کا تعلق ہے تو ہمارا کہنا ہے: تعمیرِ ارض جو خدائی نقشہ پر ہو، لاالٰہ الا اللہ کے گوناگوں تقاضوں میں سے ہی ایک تقاضا ہے۔ جس دن آپ اِس بات کو سمجھ جائیں گے اُس دن آپ کے مزدور کارخانوں میں ‘اشتراکیت’ کے مزدوروں کی طرح وقت کٹائی نہیں کریں گے۔ ملازم اور کاریگر کام چوری کے نت نئے طریقے نہیں ڈھونڈیں گے۔ ‘اونچے درجے’ کے ملازم پیداوار کے سودے باہر باہر نہیں کرآیا کریں گے اور ‘بلیک مارکیٹ’ کی یہ رونقیں اِس طرح بحال نہیں رہ جائیں گی! رشوت اور غبن جس نے آپ کا وجود کھوکھلا کردیا ہے یوں سر چڑھ کر نہیں بولے گی۔ بیوروکریسی میں خوشامد، چاپلوسی اور ایک دوسرے کے خلاف افسروں کے کان بھرنا “ترقی” کی سیڑھی نہیں رہے گی بلکہ اہلیت اور صلاحیت کی زبان سنی جانے لگے گی۔ نیچے سے لے کر اوپر تک کے یہ بھتے پھر یوں نہیں چلیں گے!
ہاں اُس روز آپ کا یہ صنعتیں لگانا واقعتاً آپ کو فائدہ دے سکتا ہے۔ اُس روز آپ توقع کرسکتے ہیں کہ آپ کا قومی خزانہ اِس سے واقعتاً بھرنے لگے، آپ کی کرنسی کی مالیت بہتر ہو اور ملکی معیشت مضبوط ہو، اور اس سب پر مستزاد وہ “برکت” جو آسمانی عطیہ ہوا کرتا ہے اور جو اُس وقت آتی ہے جب سود کی لعنت معاشرے سے دفع کردی جاتی ہے، اور اللہ تعالیٰ مہربان ہوکر آپ سے بلائیں ٹالتا اور آپ پر آسمان اور زمین کے خزانے کھول دیتا ہے…
*****
‘چارہ گر’ پریشان ہیں کہ اِس قوم میں نظم و ضبط کی روح مفقود ہے۔ منتشرذہنی، پراگندہ خیالی، سر پر پڑے تو سوچنا اور کسی ممکنہ صورتحال کے لیے کوئی پیش بندی نہ کررکھنا گویا ہمارا قومی امتیاز ہے۔ معروضی اندازِ فکر اور عملی اسلوب اختیار کرنا گویا ہماری ریت کے خلاف ہے۔
یقیناً فی الوقت ایساہی ہے… لیکن اِس کی وجہ کیا ہے؟
کیا اِن عظیم ‘چارہ گروں’ نے پوری ایک صدی لگا کر قوم کے یہ نقائص دور کرنے کی کوشش کر نہیں لی؟ ناکام کیوں رہے؟!
آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ تاریخی طور پر جو خطہ اسلام کو میسر آیا اُس کا بڑا حصہ خطِ استواء کے آس پاس واقع ہے، یعنی شدید گرم یا معتدل گرم خطے۔ گرم آب و ہوا کا قدرتی اثر ہے کہ یہاں کی اقوام میں جلد بازی، اضطراب، بدنظمی، بے منصوبہ رہنے اور لمبا نہ چل پانے کی نفسیات نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔ جذبات میں آکر عمل کرنا اور عمل کے سرے لگنے سے پہلے جذبہ سرد پڑجانا اِس خطہ کی طبائع میں بہت زیادہ ہے۔
مگر آپ دیکھتے ہیں، اسلام آتا ہے اور ایسی اقوام سے “خَيۡرَ اُمَّةٍ أخۡرِجَتۡ للنَّاسِ” برآمد کرڈالتا ہے!
یہ سب سے زیادہ منتشر اور پراگندہ حالت اقوام تھیں؛ اسلام نے آکر ان کو ڈسپلن سکھایا، ان کے شیرازہ کو مجتمع کیا، رنگارنگ قوموں اور قبیلوں کو وحدت کی ایک لڑی میں پرویا، اِن کی روزمرہ زندگی کو ایک ترتیب اور تنظیم سے آشنا کرایا، اِن کو معروضی انداز میں سوچنا اور عملی ونتیجہ خیز اسلوب میں سرگرم ہونا سکھایا، عمل میں پختگی اور دوام لانے کا شعور بخشا… یعنی اِن خطوں کی طبعی حالت کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام نے یہاں وہ معجزے کیے کہ یہ اقوام دریا کے رخ کے خلاف تیرنے لگیں؛ اسلام نے گویا انِ کی فطرتیں اور اِن کے مزاج بدل ڈالے۔ یہ تھے لاالٰہ الااللہ کے کرشمے! کونسی قوم ہے جو مطالباتِ لاالٰہ پہ پورا اترکر کبھی خسارے میں رہی ہو؟ ہر قوم کے آنگن میں اِس نے تو روشنی ہی کی۔ ہاں جب اسلام کی وہ روح، لاالٰہ الااللہ کا وہ مضمون، اِن اقوام کی زندگی سے روپوش ہوتا گیا ، اور لاالٰہ الا اللہ چند سیکنڈ کے لیے لب ہلادینے کی ایک چیز ٹھہرا، اور محض ‘تصدیق واقرار’ اِس کی مستند تعریف ٹھہرا، تو اِن اقوام کے وہ طبعی خصائص عود کرآئے۔ یہاں وہی “منتشرذہنی، پراگندہ خیالی، سر پر پڑے تو سوچنا اور کسی ممکنہ صورتحال کے لیے کوئی کوئی پیش بندی نہ کررکھنا، معروضی اندازِ فکر اور عملی اسلوب کا فقدان، جلد بازی، اضطراب، بدنظمی، بے منصوبہ رہنے اور لمبا نہ چل پانے کی نفسیات” اپنی اُسی قدرتی زبان میں پھر بولنے لگی!
‘چارہ گر’ مسلسل چیخ رہے ہیں… اور بلا شک؛ انہیں چیخنا ہی چاہئے!
کیا قوموں کے طبائع بدل ڈالنا آسان کام ہے؟ ایک چیز جو منہ کو لگی ہو، اُس سے یکسر چھڑوا دینا؛ پوری ایک قوم کو یکلخت نئی حالت سے ہمکنار کردینا معمولی بات ہے؟ یہ کرشمے تو لاالٰہ الا اللہ کرکے دے سکتا تھا اگر کچھ محنت اس پر کرلی جاتی؛ عین اُسی دستور پر جو اِس امت کی ساخت کرتے وقت اول اول اختیار کیا گیا تھا!
اب بھی… وقت گزر تو نہیں گیا!
*****
سو سال تک یورپ کے پیچھے بھاگنے والے قوم کو کیا دے سکے، آپ کے سامنے ہے؛ اور سوسال کوئی کم مدت نہیں!پھر بھی اِس طرزفکر پر کچھ بات کرتے چلیں جس کے نزدیک یورپ قابل تقلید ہے کیونکہ اُس نے طاقت اور برتری کے وہ سب اسباب مہیا کردکھائے جن سے ہم محروم ہیں؛ لہٰذا اگر ہم بھی اُس کی پیروی کریں گے تو ایک نہ ایک دن عین اُنہی نتائج پر جاپہنچیں گے جن پر وہ پہنچا ہے، یعنی ترقی اور خوشحالی! یہ نورِ خداوندی سے محروم لوگ خدائی سنتوں سے ناواقف ہیں:
یورپ کا راستہ کفر کا راستہ ہے۔ انکار اور سرکشی کا راستہ ہے۔ اُسکو زمین میں قوت اور تمکین ملتی ہے تو اُن قاعدوں کی رُو سے جو دنیا میں فرعونوں کے لیے مخصوص ہیں۔ خصوصاً یہ دو قاعدے:
فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ .. (الأنعام 44)
پھر جب وه لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشاده کردئے۔
مَنْ كَانَ يُرِيـدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهـَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُـمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لا يُبْخَسُـونَ
(هود۔ 15)
جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔
یورپ نے کفر کیا اور – دنیا اور اس کی زینت کو اپنی کل غایت بناتے ہوئے – اپنی تمام تر محنت اِسی جہان کے لیے صرف کردی… تو مذکورہ بالا دو خدائی سنتوں کی رو سے اُس کو زمین میں وقتی تمکین دے ڈالی گئی۔
مگر یہ واقعہ ہمارے یہاں کی ‘ترجمہ شدہ’ عقول کے لیے فتنہ بن گیا؛ اِن ‘چارہ گروں’ کے خیال میں مسلمان کے ترقی وفلاح پانے کا بھی دنیا میں یہی دستور ہے!
دوسری جانب… مسلم ترقی کے معاملے میں دو خدائی سنتیں ہیں، اور یہ بھی اِن کی نظر سے اوجھل ہیں؛ ایک:
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً (النور۔ 55)
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔
یعنی جب یہ شرطِ خلافت پوری ہونا موقوف ہوجائے گا زمین میں اِن کی تمکین موقوف ہوجائے گی؛ تاوقتیکہ یہ پھر سے وہ شرط ادا کرنے پر محنت نہ کرنے لگیں۔
دوسری: کفار کی تمکین زمین میں دائمی نہ ہونا اور اُن کے باطل کا صفایا کرنے کے بعد زمین کی وراثت اِن کو ملنا:
فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الأنعام 44 - 45)
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کے گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔
اور آج یہ حال ہے کہ خود مغرب پر ہی یہ واضح ہونے لگ گیا کہ اُس کا زوال قریب ہے!
یہ سب حقیقتیں مغرب پر اوجھل رہیں تو بات سمجھ آتی ہے، مغرب ہے ہی کافر؛ وہ ایمان کی نظر سے اِن حقائق کو کیسے دیکھ سکتا تھا۔ لیکن ہمارے یہ لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، ان کے پاس کیا عذر ہے؟
مغرب نے جو مزے اڑائے وہ وہی چار دن کی مہلت ہے جو کافر کو زمین میں دے دی جاتی ہے۔ یہ برکت سے خالی سامانِ زیست ہے، جس کو لینےوالا آخرت میں سوائے آگ کے کسی چیز کا امیدوار نہیں ہوتا:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لا يُبْخَسُونَ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(هود 15 - 16)
جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آتش (جہنم) کے سوا کوئی چیز نہیں اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے، سب ضائع۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوىً لَهُمْ(القتال۔ 12)
اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔
البتہ مسلمان کو یہ دنیا کسی اور شرط پر ملتی ہے! یہ استخلاف ہے؛ جوکہ خدا کی راہ پر چلنے کا صلہ ہوا کرتا ہے، اور یہ دنیا میں انعام ہے۔ یہ برکات سے پر زندگی ہے جو کفار کو کبھی نصیب نہیں ہوتی۔ روح کا سکھ، قلب کی طمانیت ہمیشہ اس کے ساتھ آتی ہے۔ جبکہ آخرت میں جناتٌ تجری من تحتہا الأنہار۔ نیز… ورضوانٌ من اللہ اکبر!
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ (الأعراف 96)
اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا۔
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد۔ 28)
جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں۔ اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔
وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبة۔ 72)
ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی یہی بڑی کامیابی ہے۔
تو پھر کون ہے جو اپنی جنت کو دوزخ سے بدلے، اور بدستور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے؟!
*****
ظاہر ہے ہم نے یہ نہیں کہا کہ جیسے ہی آپ اپنا تصورِ لاالٰہ درست کریں گے، کوئی جادوئی چھڑی نمودار ہوگی اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے سب مسئلے حل ہوئے پڑے ہوں گے! اِس کے برعکس؛ ہم آپ کو یہ بتاسکتے ہیں کہ جیسے ہی آپ اِس لاالٰہ کو لے کر اٹھیں گے، پوری دنیا آپ کے خلاف آمادۂ جنگ ہوگی؛ اور خود آپ کو ایک علمی ومعروضی انداز اختیار کرتے ہوئے اور شریعت کو بنیاد بناتے ہوئے اپنی قوم کو پسماندگی سے نکالنے کے لیے جان کھپا دینا ہوگی، خواہ وہ اقتصادی شعبے میں ہو، یا سائنسی وٹیکنالوجی شعبے میں ہو، یا حربی میدان میں، یا فکری اور سیاسی میدانوں میں، یا سماجی شعبوں میں۔
یہاں؛ یہ پوچھاجاسکتا ہے کہ اگر ہمیں ہر حالت میں محنت ہی کرنی ہے تو ہم کوئی ایسا غیرمعمولی روٹ اختیار ہی کیوں کریں، کیوں نہ بنے بنائے حل سرمایہ داری بلاک یا اشتراکی بلاک سے درآمد کرلیں، اور دنیا بھر کی دشمنی مول لینے سے بھی بچے رہیں؟
اس کا جواب اصل میں تو “آخرت” ہے… تاہم ایک صدی کا “دنیوی تجربہ” بھی اس الجھن کا جواب دینے کے لیے خاصی حد تک کافی ہے!
“قومِ رسولِ ہاشمی” کی فلاح وبہبود کے لیے ‘اقوامِ مغرب’ سے درآمد شدہ نسخے آزمائے بغیر یوں چھوڑ تو نہیں دیے گئے! پوری ایک صدی… کسی ایک مسئلے نے حل ہوکر نہیں دیا، البتہ ایک مسئلہ کو حل کرتے ہوئے کئی اور مسئلے پیدا ضرور کرلیے گئے؛اور آج ہم اپنی تاریخ کی سب سے الجھی ہوئی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں؛ جبکہ ذلت اور خواری اس پر مستزاد!
کیا اس کو خردمندی کہیں گے کہ شفا پانے کی آس میں آدمی زہر کی خوراکیں بڑھاتا ہی چلا جائے؟!
اسلام کا راستہ کٹھن ہے، خطرات سے پر ہے؛ مگر ہے یہ اَحرار کا راستہ… جبکہ غلاموں کا راستہ ‘بنابنایا’ اور ‘خالی از خطرات’؛ مگر ہے غلاموں کے لیے! دونوں کے مابین “فرق” تو ہوگا!