مقدمۂ کتاب
مفاھیم ینبغی أن تُصحّح
چند تصحیح طلب مفہومات
دنیائے اسلام آج اپنی تاریخ کا ایک تاریک عہد بِتا رہی ہے۔ اس سے بڑھ کر اندوہناک وقت ہماری پوری تاریخ میں شاید کبھی نہیں آیا۔ ماضی میں ہم پر بہت بہت کڑے وقت آئے، پھر بھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنی بڑی بڑی آفتیں ہمارے سبھی خطوں اور ہماری زندگی کے تمام گوشوں پر ایک ہی وقت میں اتر آئی ہوں۔ یہ گھناؤنی رات؛ یہ خواری اور یہ رائیگانی جس سے امت کا آج کوئی ایک شعبہ محفوظ رہ گیا ہے اور نہ کوئی ایک خطہ، اِس بڑی سطح پر بلاشبہ ہمیں پہلی بار دیکھنا پڑ رہی ہے۔
صرف ایک ہی مثال لے لیجئے…: سبھی کو معلوم ہے، اندلس کا سانحہ دورِ ماضی میں ہم پر گزرنے والا ایک روح فرسا واقعہ ہے۔ پھر بھی فلسطین پر آج جو بیت رہی ہے، یہ اُس سے کہیں بڑھ کر جان لیوا ہے۔ اِس لیے کہ:
مسلم شان و شکوہ کا سورج جس وقت اندلس میں غروب ہو رہا تھا عین اُسی وقت وہ عالم اسلام کے مشرقی افق پر طلوع بھی ہورہا تھا۔ یہ عثمانیوں کی نوخیز دولت تھی جس نے جہاد کا علم تھاما تو یورپ کے اندر پیش قدمی کرتی ہی چلی گئی۔ بلکہ کچھ ہی عرصے میں رومن ایمپائر کو روندتی ہوئی اُس کے افسانوی شہرت کے پایۂ تخت ‘قسطنطنیہ’ پر قابض ہوگئی۔ کہاں روما کی عظمت و شوکت کی وہ قدیمی رمز ’’قسطنطنیہ‘‘ اور کہاں اب یہ ‘‘اسلام بول’’ (استنبول)، جو صدیوں تک کے لیے اسلام کا ‘‘دارِخلافت’’ ہوجاتا ہے! پھر یہ عثمانی خلافت، بائزنٹائن کے اِس دارالسلطنت پر ہی نہیں رکتی؛ بلکہ عالم اسلام کی مغربی سرحدوں کو مسلسل توسیع دیتی ہوئی، اپنی بلاخیز لشکرکَشی کے دوران، یورپ کے قلب ‘‘ویانا’’ اور ‘‘پٹرس برگ’’ تک جاپہنچتی ہے اور مشرقی یورپ کے ایک وسیع وعریض خطے پر تو صدہا برس تک کےلیے اسلام کے پھریرے لہرا دیتی ہے۔
تاہم فلسطین کا حالیہ سانحہ پیش آیا تو مسلم اقتدار کا سایہ ہر طرف سے سمٹ ہی رہا تھا۔ مسلم وجود زمین کے ہر ہر خطے میں چیرا پھاڑا ہی جا رہا تھا: فلپائن، ایتھوپیا، ارٹریا، چاڈ، نائجیریا، انڈیا، افغانستان، ہمارا کونسا خطہ ہے جو اِس دور میں لہولہان ہونے سے بچارہا؟ اور اگر کمیونسٹ دنیا کو سامنے رکھیں جوکہ عالم اسلام کا ایک وسیع و عریض خطہ تھا، تو وہاں تو مسلمانوں کے پاس چناؤ ہی ایک تھا: اپنا دین چھوڑ کر کفر کا مذہب اختیار کریں یا موت کو گلے لگا ئیں۔ ابھی وہ دیوہیکل منصوبے الگ ہیں جو عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کے زیرانتظام مسلم دنیا میں اپنے دیرینہ ارمان پورے کرتے ہوئے من مانی کا تصرف کررہے ہیں۔ عالم اسلام کی تقسیم درتقسیم کا عمل شدت کے ساتھ جاری ہے۔ سرزمینِ اسلام کے حصے کاٹ کاٹ کر غیرمسلموں کے ‘‘گھر’’ بنانے کا دھندا زوروں پر ہے۔ ابھی ایک خطے میں مسلمان اکثریت میں ہوتے ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ذلیل اقلیت بناکر رکھ دیے جاتے ہیں؛ جہاں مسلمانوں کی ‘جان بخشی’ کا مسئلہ ہی وقت کے مسائل میں سرفہرست آجاتا ہے! ادھر، اندرونی سطح پر، اسلام کے داعی خود اپنے گھروں میں گردن زدنی اور بدترین ظلم و بربریت کا نشانہ۔ اسلام کے ملکوں میں اسلام ہی کی صدا بلند کرنا سب سے بڑا جرم! جیلیں، کال کوٹھڑیاں، تختۂ دار سب اِنہی کے لیے؛ اور اِن کا جرم صرف ایک: یہ ان حکومتوں کے وفادار نہیں جو سرزمینِ اسلام سے شرعِ اسلام کو بےدخل کررکھنے پر مصر ہیں!
یہ زیاں جس میں عالم اسلام آج جی رہا ہے، تاریخ میں اس سے پہلے بھلا کب تھا؟
*****
کیا یہ سب کچھ بےسبب ہوگیا؟
کونسی چیز ہے جو خدا کی اِس کائنات میں بےسبب ہوجاتی ہے!؟ حیاتِ انسانی میں ہر چیز خدا کے مقرر ٹھہرائے ہوئے قاعدے اور قانون ہی کے تحت روپذیر ہوتی ہے۔ خدا کے یہ قاعدے اور قانون اٹل ہیں اور مخلوق میں کسی کی رُو رِعایت کرنے کے روادار نہیں:
فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلاً وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلاً (فاطر :43)
تو تم ہرگز اللہ کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کو ٹلتا نہ پاؤ گے
یہ خدا کا اپنا ہی دستور ہے کہ:
ذَلـِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّراً نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (الانفال: 53)
یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے
نیز خدا کایہ دستور کہ کسی کی رُو رعایت محض اس وجہ سے نہیں کردی جائے گی کہ وہ نیکوکاروں کی اولاد ہے:
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ
وہ زمین میں ان کو تمکین دیتا ہے، اُس وقت جب وہ خود مومن اور صالح ہوں:
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً
ہاں وہ لوگ جو کتابِ اللہ کو موروثی انداز میں لیں؛ کتاب اللہ کو وہ وثیقہ نہ سمجھیں جو خاص ان کی ہدایت کےلیے نازل ہوا، اور اپنی بستیوں اور معاشروں کو اُس کا پابند نہ جانیں، تو خدائی دستور کی رُو سے یہ ناخلف ہیں جن کی، قرآن میں بنی اسرائیل کا قصہ بیان کرتے ہوئے، باقاعدہ نشاندہی ہوئی ؛ تاکہ اِس امت کےلیے عبرت ہو:
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الْأَدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوا مَا فِيهِ وَالدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلا تَعْقِلُونَ (الاعراف: 169)
پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے نا خلف ان کے جانشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اِسی حقیر دنیا کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہتے ہیں ہم بخشے جائیں گے، ہاں اگر وہی متاع دنیا پھر سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔ آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے؟
ایسا ہی سیاق ایک دوسری آیت کا ہے:
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيّاً (مریم: 59)
پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آکر رہے گا۔
یہ سب خدائی دستور ہیں۔ حیاتِ انسانی کا پہیہ تمام تر انہی کا چلایا چلتا ہے۔ یہ اٹل خدائی قاعدے اور دستور نہ کبھی کسی کی رعایت کرتے ہیں اور نہ کسی بشر کی خواہش کو دیکھ کر اپنا راستہ بدلتے ہیں۔
خدا نے اِس امتِ اسلام پر کمال نعمتیں فرمائی تھیں۔ تمکین، خلافت، چین اور امن۔ آسمان اِس پر رزق برساتا تھا اور زمین اِس کے لیے سونا اگلتی تھی۔ خدا کے اُس وعدہ کا یہ بڑی صدیوں تک اپنی آنکھوں مشاہدہ کرتی رہی:
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ (الاعراف: 96)
اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے۔
آخر یہ استخلاف، یہ تمکین، یہ چین و آرام، اور یہ رزق کی فراوانی… ذلت، بیچارگی، ناتوانی، بے خانمائی، افلاس اور مرگِ مفاجات میں بدلی، جب ان کا معاملہ عین اُس حالت کو پہنچا جس سے اِس امت کا نبیؐ اِس کو خبردار کر گیا تھا:
يوشك أن تداعى عليكم الأمم كما تداعى الأكلة إلى قصعتها. قالوا : أمِن قِلَّةٍ نحن يومئذ يا رسول الله ؟ قال : أنتم يومئذ كثير ولكنكم غثاء كغثاء السيل .. (أخرجه أحمد وأبو داود)
قریب ہے کہ قومیں تم پر یوں چڑھ دوڑیں جس طرح کھانے والے (بھوکے) کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا: کیا یہ اس لیے کہ ہم تھوڑے ہوں گے اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: تم اُس روز تعداد میں بہت زیادہ ہوگے مگر اُس خس و خاشاک کی طرح ہوگے جو سیلاب کی سطح پر اٹھ آتا ہے
*****
مسلمانوں کی اس طویل تاریخ میں بہت سے بگاڑ واقع ہوئے ہیں…
یہاں رونما ہونے والا ہر بگاڑجلد یا بدیر اپنا اثر دکھا کر رہا؛ جیسا اور جس درجہ کا بگاڑ؛ ویسا اور اُسی درجہ کا خمیازہ۔ جس سطح کا اُس کا پھیلاؤ؛ اُسی سطح کا اُس کا انجام۔ کسی فتنہ یا انحراف کے وقت امت کے حکمرانوں کا کیا موقف رہا، علماء کا کیا کردار رہا، عوام کا کیا رویہ رہا، ‘‘اسباب’’ اور ‘‘نتائج’’ کا اٹوٹ رشتہ ہمیشہ ان حقائق کا پابند دیکھا گیا۔ یہاں تک کہ بگاڑ اپنی آخری حد کو پہنچا اور اس کا انجام آج ہم بچشم سر دیکھنے لگے: ذلت، بزدلی، خوف، دہشت، بے بسی اور نارسائی.. یہیں، ہمارے اِنہی شہروں اور اِنہی ملکوں میں، جہاں صدیوں استخلاف، تمکین، فراوانیِ رزق اور امن و چین کا دور دورہ رہا تھا…!
یہ انحراف diversion جس کے نتیجے میں ہمیں یہ دن دیکھنا پڑے اور جس کے باعث ہم اپنی تاریخ کے سب سے سنگین اور سب سے جان لیوا بحران سے دوچار ہوئے… ہماری حالیہ تالیف کا موضوع ہے۔
البتہ اِس انحراف diversion کے تمام جوانب ہم یہاں زیربحث نہیں لائیں گے۔ ہمارا موضوع اِس آفتِ عظیم کی وہ خاص جہت ہوگی جو ہمارے اِس زوال کا سب سے آشوب ناک پہلو ہے۔ یوں سمجھئے مسلم تاریخ میں جو جو بگاڑ آیا وہ سب جمع ہوتا ہوتا، بگاڑ کی ایک خاص صورت اختیار کر گیا، اور جوکہ پیچ در پیچ آج ہمارے سامنے ہے۔ یہ وہ بگاڑ ہے جو ‘‘سیرت’’ اور ‘‘کردار’’ کی حد پار کرتے ہوئے ‘‘تصورات’’ ہی کے دائرے میں قدم رکھ چکا، اور جوکہ ہمارے اِس زوال کی سب سے بھیانک جہت ہے... اور یہی ہماری اِس کتاب کا موضوع۔
اسلام کے بہت سے مخلص داعی آج ایک عظیم مغالطے کا شکار ہیں۔ اِن کے خیال میں، ہماری آج کی یہ حالتِ زار جس ہولناک بگاڑ کی خبر دے رہی ہے وہ محض ‘‘اعمال’’ اور ‘‘کردار’’ سے متعلق کوئی خرابی ہےجس کو دور کرنے میں آج ہمیں اپنی سب محنت اور توانائیاں کھپا دینا ہوں گی! ہماری چودہ سو سالہ تاریخ کے اِس بدترین اور آشوب ناک ترین بحران کی یہ حضرات صرف اِسی قدر تشخیص فرما سکتے ہیں کہ یہاں ‘‘کردار’’ اور ‘‘اعمال’’ کی وہ تصویر مفقود ہے جو ہمارا مسلم سماج بڑی صدیوں تک پیش کرلیتا رہا ہے! لہٰذا اس بحران کا ازالہ بھی اِن نیک حضرات کے نزدیک ‘‘اعمال’’ اور ‘‘کردار’’ کی درستی سے شروع ہوتا ہے!
یہاں کے اصلاحی عمل کی پیچیدگی درحقیقت یہی ہے۔
ہم بھی مانتے ہیں، ‘‘کردار’’ اور ‘‘اعمال’’ کا یہ بگاڑ جان لیوا ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسی سامنے کی چیز ہے جو کسی ‘نشاندہی’ کی ضرورتمند نہیں رہ گئی ہے! جھوٹ، بددیانتی، منافقت، جعلسازی، نکھٹوپن، بزدلی، چاپلوسی، ذلت قبول کرنا، خدا کی نافرمانی کا چلن عام ہوجانا، غیرتِ دینی کا فقدان، بلکہ غیرتِ قومی تک کا ناپید ہورہنا، نیز نوجوانوں کا بے قابو اور بے راہرو ہوتے چلے جانا، لوگوں میں احساس کا مادہ ختم ہوکر رہ جانا؛ فسق و فجور کو سرعام دیکھ کر بھی ٹس سے مس نہ ہونا، بدعات کی کثرت، منکرات کی بھرمار… غرض بیسیوں اوصاف اور اعمال ایسے جن کا اسلام سے دورنزدیک کا کوئی رشتہ نہیں؛ یہ سب اوصافِ بد اور یہ سب اخلاقی گراوٹیں مسلمان کے حق میں آج ایک ‘طبعی حالت’ کا درجہ اختیار کرگئی ہیں!
یہ سب درست ہے … پھر بھی ‘‘کردار’’ کا بگاڑ وہ واحد بگاڑ نہیں ہے جو مسلم زندگی کو آج اِس لمحے درپیش ہے۔ نہ ہی یہ وہ انحراف diversion ہے جس کو ہم ‘‘عصرحاضر کے مسلمان کے ہاں پایا جانے والا سنگین ترین انحراف’’ قرار دیں۔
حق تو یہ ہے کہ ہمارا انحراف diversion اگر ‘‘کردار’’ اور ‘‘اعمال’’ تک ہی محدود ہوتا تو اپنی تمام تر سنگینی کے باوجود معاملہ کہیں ہلکا ہوتا!
مسئلہ بڑی دیر سے ‘‘کردار’’ اور ‘‘اعمال’’ سے گزر کر ‘‘تصورات’’ اور ‘‘افکار’’ تک چلا گیا ہوا ہے۔ یہاں ‘‘اعمال’’ نہیں ‘‘مفہومات’’ ہی بگڑ چکے ہیں؛ اور کوئی ایک دو نہیں سب کے سب مفہومات، اور سب سے پہلے لا الٰہ الا اللہ کا مفہوم ہی!
ایک ایسا انسان جو كردار اور اعمال کے معاملہ میں تو راستہ بھٹک گیا ہو مگر دین کی بابت وہ ایک صحیح تصور پر قائم ہو، اُس کو راہِ راست پہ لانے پر بھی ضرور آپ کو محنت صرف کرنا ہوگی... لیکن جو شخص اپنے تصورات ہی میں بھٹک کر کہیں سے کہیں جاچکا ہے اُس کے ساتھ تو آپ کو بے اندازہ جان کھپانا ہوگی؛ یعنی پہلے آپ کو اُس کے تصورات درست کرنا ہوں گے اور پھر اُس کے کردار اور اعمال کی اصلاح کرنا ہوگی۔
عالم اسلام میں ‘‘اصلاحی عمل’’ کو آج درحقیقت اِس چیلنج کا سامنا ہے۔
وہ مرحلہ بہت دیر پہلے گزر چکا جب بگاڑ صرف ‘‘اعمال’’ اور ‘‘کردار’’ میں پایا جاتا تھا۔ اب یہ گھن ‘‘مفہومات’’ تک جاپہنچا ہے۔ اسلام کے بنیادی ترین حقائق ہی اب نہ صرف روپوش ہیں، نہ صرف لاغر اور نحیف ہیں، بلکہ مسخ تک ہو چکے ہیں۔ دین کی کچھ بنیادی ترین اصطلاحات سے متعلق لوگوں کے تصورات کچھ سے کچھ ہوچکے ہیں۔ مسلم معاشرے کے روزمرہ دینی محاورے، کلمات اور تعبیرات نہ صرف اپنا اصل حقیقی مفہوم کھوچکے بلکہ اَذہان کے اندر وہ کچھ ایسے معانی اختیار کرگئے ہیں جو عہدِ اول کے مسلمان کے ہاں کبھی نہیں پائے گئے۔
یہ وجہ ہے کہ اسلام کو آج وہ غربت اور اجنبیت درپیش ہے، جس کی پیشین گوئی حدیثِ رسول اللہﷺ میں بیان ہوئی ہے:
بدأ الإسلام غريبا ، وسيعود غريبا كما بدأ (أخرجه مسلم)
اسلام کی ابتدا تھی، تو یہ اجنبی تھا، عنقریب یہ پھر اجنبی ہورہے گا۔
اور آج… اسلام واقعتاً اجنبی ہے؛ خود اپنے لوگوں میں اجنبی؛ جو اِس کو پہچانتے تک نہیں! جبکہ اعمال اور کردار کا انحراف اس پر مستزاد! اسلام اپنے اصل حقیقی روپ میں ان کے سامنے پیش ہو تو یہ اُس کو کسی عجوبے کی طرح دیکھتے ہیں! وہ اسلام جو کتاب اللہ میں بیان ہوا ، جو رسول اللہ ﷺ کی سنت اور سیرت میں وارد ہوا، اور جو زمانۂ اسلاف میں زمین پر ایک جیتی جاگتی چلتی پھرتی حقیقت کی مانند دیکھا جاتا رہا، اُس اسلام کو آج یہ حیران پریشان ہوکر دیکھتے.. اور سنتے ہیں!
اصلاح کے میدان میں اترنا ہے… تو معاملے کو اُس کی اصل حقیقت اور حجم میں دیکھے بغیر چارہ نہیں۔
آج... ساری محنت اگر ‘‘کردار’’ اور ‘‘اعمال’’ کی اصلاح پر لگا دی جاتی ہے، جبکہ ‘‘تصورات’’ کا انحراف جوں کا توں چھوڑ دیا جاتا ہے، تو اِس محنت کا کوئی بہت اعلیٰ ثمر سامنے آنے والا نہیں۔ صرف ‘‘کردار’’ اور ‘‘اعمال’’ پر کرائی جانے والی محنت امت کو – اس کے حالیہ انحطاط سے نکالنے کےلیے – ہرگز کافی نہیں۔ یہ غربتِ ثانیہ جس کا آج ہمیں سامنا ہے، اس کو دور کرنے کے لیے آج ایک ویسی ہی محنت درکار ہے جو اسلام کی اُس جماعتِ اولیٰ نے اُس غربتِ اولیٰ کو دور کرنے کے لیے صرف کی تھی۔
اور یہ ہے وہ گھاٹی جو ہماری ‘‘صحوۃ اسلامیۃ’’ کو آج چڑھ کر دکھانی ہے۔
سب سے پہلا جو کام کرنے کا ہے وہ یہ کہ ہم نہ صرف اپنے ‘‘دینی اعمال’’ بلکہ اپنا ‘‘دین لینے اور سمجھنے کا اسلوب’’ ہی درست کرلیں…
اِس دین کا فہم اور اِس کے معانی ہم نے لینے کہاں سے ہیں؟ کتاب اللہ سے؟ سنتِ رسول اللہؐ سے؟ سلف کے طرز عمل سے…؟ یا اِدھراُدھر کے اُن افکار سے، جو تاریخ کی راہداریوں سے گزرنے کے دوران ہماری دینی لغت کا حصہ بنتے چلے گئے ؟
اگر ہم اپنے فہم اور تصور کا منبع درست کرلیتے ہیں… اور اس سے کام لے کر اپنے تصوراتِ دینی درست کرلیتے ہیں، نیز اپنے تصورِ اسلام سے وہ جھاڑجھنکاڑ تلف کرڈالتے ہیں جن سے اِن آخری زمانوں کا مسلمان ‘اسلام’ کے نام پر واقف ہے… تو یہ ایک نہایت کامیاب پیش رفت ہوگی۔ اسکے بعد صرف ایک مہم رہ جاتی ہے (گو اپنی جگہ وہ بھی اُتنی ہی اہم ہے)… اور وہ ہے دین کے صحیح وخالص مفہومات پر تربیت اور تزکیہ پانے کا عمل۔
تربیت وہ اصل محنت ہے جس سے حقیقی ثمر کی امید رکھنی چاہئے۔ لیکن تربیت کا یہ ثمر اپنے اصل شجر پر نمودار ہوسکتا ہے اور وہ شجر ہے ’’دین کے صحیح و مستند مفہومات‘‘۔ اِس ثمر کو کسی اور شجر پر تلاش کرنا وقت اور محنت کا ضیاع ہے۔
الغرض… اسلام کے کچھ بنیادی ترین تصورات آج ذہنوں کے اندر ہی درست حالت میں نہیں رہ گئے ہیں۔زیرنظر کتاب اِن بنیادی تصورات کو درست کرانے کی ایک کاوش ہے۔ یہاں ہماری کوشش ہوئی ہے کہ اِن مفہومات کے اندر اپنی اُس پرانی تصویر کے نقوش اجاگر کیے جائیں جو ہمیں اپنے رب کی کتاب، اپنے نبیؐ کی سنت اور اپنے اسلاف کے دستور وطرزِ عمل سے ملتی ہے، جبکہ وہ دھبے اِس سے ہٹادیے جائیں جو تاریخ کے مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے زمانے اور حالات کے ہاتھوں اِس پر لگ گئے ہیں اور جس کے باعث ہماری یہ تصویر کچھ سے کچھ ہو گئی ہے۔
یہاں؛ میں نے اسلام کے پانچ بنیادی مفہومات کو موضوع بنایا ہے: لاالٰہ الا اللہ کا مفہوم، عبادت کا مفہوم، قضاء وقدر کا مفہوم، دنیا اور آخرت کا مفہوم۔ تہذیب اور تعمیرِ ارض کا مفہوم۔
کتاب کا ایک بڑا حصہ لاالٰہ الا اللہ کے مفہوم نے لے لیا ہے اور دوسرا بڑا حصہ عبادت کے مفہوم نے۔ اِس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ لاالہٰ الا اللہ اسلام کا پہلا اور سب سے بڑا اور بنیادی رکن ہے۔ جبکہ سب سے بڑا اور سب سے سنگین انحراف بھی، جو مسلم معاشروں کے یہاں دَر آیا ہے، اِس لاالٰہ الا اللہ کے مفہوم ہی میں واقع ہوا ہے۔ اِسی طرح ‘‘عبادت’’ کا مفہوم ہے، جس کی ہمارے بھلے زمانوں میں کوئی حقیقت اور کوئی گونج ہوا کرتی تھی۔ اِس امت کے سب عظیم کارنامے اِسی ‘‘عبادت’’ کے مفہوم سے پھوٹتے تھے۔ کرۂ ارض پر اِس کی سب سرگرمی و پیش قدمی ‘‘عبادت’’ ہی کا ایک معنیٰ لیے ہوئے تھی۔ جبکہ آج یہ حال کہ ‘‘عبادت’’ کا وہ وسیع اور عظیم الشان مفہوم چند مریل اعمال کے اندر سمٹ آیا ہے۔
یہ مفہومات اگر درست ہوجاتے ہیں... یہ مفہومات اگر مسلم نفوس میں اپنی اصل زندہ حقیقت کے ساتھ عود کرآتے ہیں، اور یہاں اپنی وہ فاعلیت بحال کرلیتے ہیں جو بڑی حد تک دم توڑ چکی ہے… تو یہ راستہ چلنا بفضلہٖ تعالیٰ آسان ہوجائے گا۔ اور اُن انحرافات کا ازالہ ممکن ہوجائے گا جو ہمارے مسلم معاشروں پر اِس وقت حملہ آور ہیں۔ ان انحرافات سے جنم لینے والی یہ دگرگوں صورتحال چھٹ جانے میں بھی تب ان شاء اللہ دیر نہیں لگے گی۔
اپنی اِس ناچیز کوشش میں اگر میں کہیں پر کامیاب ہوا ہوں تو یہ محض خدا کی مدد اور توفیق ہے، جس پر میں اُسی کا شکرگزار ہوں۔ وما توفیقی الا باللہ
محمد قطب