عرضِ مترجم
’تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا‘!
عام تصور یہ ہے کہ مسلم زندگی کا زوال انیسویں صدی میں یہاں چڑھ آنے والی استعماری آندھیوں کا نتیجہ ہے۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ ’’مسلمان‘‘ کا زوال، استعمار کے آنے تک، اپنے بیشتر مراحل سر کر چکا تھا۔ ہمیں زیر کرنے کی ’حتمی کارروائی‘ بےشک یورپ کی اِس یلغار کے ہاتھوں ہوئی، مگر خود ہمارا وجود بڑے عرصے سے اِس قابل نہ رہ گیا تھا کہ یہ طوفانوں سے الجھ سکے۔ کوئی گھن تھا جو بہت پہلے ہمارے اِس وجود کو کھوکھلا کرنے لگا تھا؛ اور معاملہ ازخود ’’زوال‘‘ کی طرف بڑھتا آرہا تھا۔ براعظموں پر پھیلا یہ برگد پھربھی صدیوں کھڑا رہا، یہ سچ ہے۔ مگر اِس کا ماند پڑتا سایہ اور پیلاہٹ کا شکار پتے اِس کی جڑوں میں سرایت کر چکی کسی خرابی کا پتہ ضرور دیتے رہے تھے۔ اِس کے یہ پریشان کن اشارے برابر چارہ گروں کو خبردار کرتے اور دردمندوں کو تشویش دلاتے آئے تھے۔ کوئی غم خوار ایسا نہ رہا جسے اِس کے مضمحل وجود نے بےچین نہ کیا ہو۔
چارہ گروں کی بڑی تعداد تب بھی بیرونی آندھیوں سے ہی اِس کا تحفظ کرنے میں لگی رہی اور اِس کے داخلی علاج کی جانب یکسوئی نہ پا سکی۔ (بیرونی آندھیاں کبھی بھی اِس پر حملہ آور ہونے سے نہیں رکیں؛ لہٰذا ان کے خلاف مزاحمت اٹھانے کی ضرورت امت کے یہاں کسی دور میں کم نہیں ہوئی)۔ برے سے برے حالات میں بھی دشمنانِ اسلام کے خلاف ہمارا جہاد نہیں رکا اور نہ ان شاء اللہ قیامت تک کبھی رکنے والا ہے۔
بہت سوں نے اس شجر کی ماند پڑتی شادابی کی جانب ٹھیک ٹھیک توجہ دی۔ اس کی صحت کی بحالی کےلیے رات دن ایک کیا اور اس کو لگ چکا گھن دور کرنے کی کچھ نہایت قیمتی اور بروقت تدبیریں کیں۔ ان کے دم سے بہت بار معاملہ پٹڑی پر واپس آیا... اور ’’زندگی‘‘ نے صدیوں کےلیے توسیع پائی۔ یہ اپنے اپنے دور کا صالح تجدیدی عمل تھا۔
تاہم اکثریت نے اس گھن کا علاج ’’عمل‘‘ کی خوراکیں بڑھانے میں دیکھا! گو اِس طریقۂ علاج سے بھی ایک گونہ افاقہ ہو جاتا رہا؛ جوکہ چارہ گر کےلیے باعثِ فریب بھی ثابت ہوتا! وہ اپنے طریقۂ علاج کو کارگر پا کر اسی خوراک کا اضافہ کرتے چلے جانے میں ’’اسلام کا احیاء‘‘ اور ’’عہدِ اسلاف کی بحالی‘‘ دیکھتا؛ اور اِسی پر اپنی توانائی صرف کر ڈالتا! تاہم آخری نتیجے میں in the long run یہ اصل علاج سے توجہ ہٹا دینے کا سبب بنتا۔ بھاری بھاری اعمال اِس دین کی طبیعت سے میل ہی نہیں کھاتے؛ اور یہ درحقیقت کوئی علاج نہ تھا۔
’’اعمال‘‘ کی بابت ہر طبقہ یہاں پہلے سے کچھ ترجیحات رکھتا تھا۔ اب جب ’زیادہ اعمال‘ کرنے میں ہی مسلم زوال کا ’’حل‘‘ اور اپنے دیرینہ امراض کا ’’علاج‘‘ تجویز ہونے لگاتو طبعی بات تھی کہ یہاں ’’اصلاح‘‘ کے نسخے شمار سے باہر ہونے لگتے! یہ مکاتبِ فکر ’’اعمال‘‘ میں اپنی الگ الگ ترجیحات رکھنے کے حوالے سے ضرور ’’متعدد‘‘ ہوں گے بلکہ مسلم تاریخ میں کہیں کہیں ’’دست و گریباں‘‘ بھی نظر آئیں گے، لیکن اصلاح کا نسخہ ’’اعمال پر محنت‘‘ تجویز کرنے میں درحقیقت یہ ایک ہی طرزِفکر ہے۔ ’’اعمال‘‘ ہمارے دین میں واقعتاً متنوع ہیں۔ زمانۂ سلف کی نمونہ شخصیات میں بھی، کہ جب بدعت کا شائبہ نہ تھا، ہمیں ’’اعمال‘‘ کا تنوع بدرجۂ اتم نظر آتا ہے۔ ہاں ’’اعمال‘‘ جس ’’حقیقت‘‘ سے پھوٹتے ہیں وہ سلف کے ہاں ایک متعین چیز ہے۔ اِس باب میں؛ سلف کا تمام دور اور تمام عمل ایک ہی حقیقت کا بیان ہے!
اصل چیز دین میں ’’اعمال‘‘ نہیں بلکہ وہ ’’بنیاد‘‘ ہے جس سے ’’اعمال‘‘ جنم لیتے ہیں۔ ’’اعمال‘‘ وہ شاخیں ہیں جن کو متنوع اور کثیر الجہت ہونا ہی ہوتا ہے، اصل چیز وہ جڑ ہےجو اِس پھیلاؤ کو سنبھالتی اور اِس کے وجود اور اس کی غذا کا منبع بنی رہتی ہے۔ نیز اس کی کثیر الجہت شاخوں کو ایک ’’اکائی‘‘ بنا کر رکھتی ہے.. اسی کو گھن لگ جانا ہمارے سماجی عمل کی اصل آفت ہے۔
چنانچہ حقیقی مصلحین کی توجہ ہر دور میں اسی ایک بات پر رہی: اعمال کو ان کی اصل سے برآمد کروانا۔ اعمال کو ان کی جڑ سے پیوستہ کرانا۔ اور یوں اس کے ’’تنوع‘‘ میں اس کی ’’وحدت‘‘ کا رنگ بھرنا۔ ہاں یہ وہ محنت تھی جس کے نتیجے میں اس درخت کا ایک ایک پتہ اس کی ’’اصل‘‘ کا ذائقہ دینے لگتا۔ ہر ہر عمل اِس کی تہہ میں بولتی ’’حقیقت‘‘ کی خبر دیتا۔ یہ محنت وہ حقیقی فصل دیتی جس کےلیے زمین میں اول اول اِس شجر کی کاشت ہوئی تھی۔ اس کا ثمر تھوڑا بھی بہت ہوتا۔ اور دنیا کے کچھ بڑے روگوں کا علاج ہوتا۔
’’اعمال‘‘ تو آج بھی عالم اسلام میں کچھ ایسے کم نہیں۔ ’’باعمل‘‘ لوگ بےشک یہاں تھوڑے ہیں اور یہ تو ہمیشہ ہی تھوڑے رہے ہیں، پھر بھی مسلم دنیا کی کایاپلٹ کےلیے ان کا عشرِ عشیر کافی ہے۔ حالات کا دھارا بدلنے کےلیے ہمیشہ ایک تھوڑی سی جمعیت ہی کافی رہی ہے۔ باقی لوگ تو فضاء اور ماحول کے پروردہ ہوتے ہیں۔ اکثریت کو ٹھیک کرنے کےلیے تو ’’فضاء‘‘ اور ’’ماحول‘‘ کو ہاتھ میں کیے بغیر چارہ نہیں؛ جوکہ ایک ’’صالح اقلیت‘‘ کے میدان میں آنے کا خودبخود و لازمی نتیجہ ہے؛ اور تاریخ میں باربار ایسا ہوا ہے۔ پس ’’اعمال‘‘ تو جو اس وقت ہورہے ہیں بہت ہیں۔ ان کا عشرِعشیر بہت ہے۔ عشرِعشیر کا عشرِعشیر شاید بہت ہو۔ ’’باعمل‘‘ لوگ آج بھی اسلام کی ابتدائی ضرورت initial need سے زیادہ ہیں۔ بلکہ بہت زیادہ ہیں۔ اصل مسئلہ وہ ’’بنیاد‘‘ ہے جس سے ’’اعمال‘‘ جنم لیتے ہیں۔ اصل ناپید چیز یہاں وہ ’’صالح اقلیت‘‘ ہے جو حالات کا دھارا بدلنے کی صلاحیت سامنے لاتی اور ’’اعمال‘‘ کو وہ ’’بنیاد‘‘ دلواتی ہے جو ان کو دنیا اور آخرت ہر دو لحاظ سے ’’صالح‘‘ بنائے۔ سب سے بڑھ کر سوچنے اور پریشان ہونے کی بات اور سب سے بڑھ کر سرگرم ہونے کا محاذ آج یہ ہے... جبکہ اس محاذ پر جتنے والے آج سب سے کم بلکہ نہ ہونے کے برابر!
’ کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں‘؟!
یہ ’’بنیاد‘‘ جس پر عمل کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے... ’’دین کے درست تصورات‘‘ ہیں۔ عمل سے بڑھ کر عمل کی وہ ’’روح ‘‘ ہے جو اسے اسلام کا مطلوبہ عمل بنائے۔ عمل کی شاخیں یقیناً آسمان سے باتیں کریں گی مگر اس کی جڑیں عقیدے کی زمین میں بہت گہری لےجانا ہوتی ہیں۔
یہ بنیاد اٹھانے کی اصل صورت تو یہ ہے کہ ’’تلاوتِ آیات و تزکیہ‘‘ اور ’’تعلیمِ کتاب و حکمت‘‘ کا ایک باقاعدہ ماحول ہو جو یہاں دین کا مطلوبہ انسان پیدا کرے اور پھر ایسے انسان تیار ہو ہو کر معاشرے میں اتریں۔ کتابیں بہرحال یہ کام کرکے نہ دیں گی چاہے سونے کے پانی سے لکھ لی جائیں۔ ’’تصنیفات‘‘ کبھی ’’مربیوں‘‘ کا متبادل نہ بنیں گی۔ ’’لائبریریاں‘‘ کبھی ’’معلموں‘‘ کی جگہ نہ لے سکیں گی۔ پھر بھی کتابیں معلموں اور مربیوں کی ایک بہت بڑی ضرورت پوری کرتی ہیں۔ اعلیٰ سے اعلیٰ راہنمائی بھی ’’راستہ چلنے‘‘ سے کفایت نہیں کرسکتی؛ تاہم راستہ چلنے کا عمل ’’راہنمائی‘‘ سے مستغنی نہیں۔
اس ’’راہنمائی‘‘ کے باب سے البتہ ہم کہہ سکتے ہیں... یہاں پر مطلوبہ اصلاحی عمل کو جو بنیاد زیرِنظر کتاب فراہم کر کے دے سکتی ہے، اسلامی تصویر کے کچھ نایاب ترین گوشوں کو جس انداز سے یہ کتاب سامنے لاتی ہے، وہ اِسی کا حصہ ہے۔ محمدقطب نے یہاں پر کچھ ایسے دل انگیز تار چھیڑے ہیں جو دردمند نفوس میں تو شاید ایک کھلبلی مچا دیں... البتہ فکری ’سٹیٹس کو‘ کے وابستگان کے ہاں کچھ تیوریاں چڑھانے کا باعث بنیں۔
وہ گھن جو اسلام کی بنیاد کو لگتا ہے تو پورا شجر سوکھنا شروع ہوجاتا ہے... اور جس کے بعد ’’اعمال‘‘ اور ’’اخلاق‘‘ اور ’’سیرت‘‘ اور ’’کردار‘‘ اور ’’سنتوں‘‘ وغیرہ پر کرائی جانے والی محنت بےسمت اور بےثمر رہتی ہے بلکہ کچھ اور ہی قسم کا ثمر دینے لگتی ہے.. اور جس کے نتیجے میں ’’دینداروں‘‘ کا وجود دنیا کے کسی بحران کا حل ہونے کی بجائے بذاتِ خود ایک بحران ہو جاتا ہے... اور جوکہ مسلم معاشروں کا زندہ المیہ ہے... محمدقطب کی یہ کتاب اس ’’گھن‘‘ کی نشاندہی اور پھر اس کا ازالہ کرنے میں اپنی مثال آپ ہے۔
*****
’’مسلم زندگی‘‘ کی بحالی اور ’’اسلامی حقیقت‘‘ کا احیاء اس کتاب کا بین السطور موضوع ہے۔ اس چیلنج کی مقامی وعالمی جہتیں سامنے نہ رہیں تو کتاب کے اکثر مباحث آپ کو ہوا میں معلق نظر آئیں گے...
مسلم نوجوان کو ’’دین کی بنیادی حقیقتوں‘‘ کا سبق پڑھانے کے دوران محمدقطب بڑی کامیابی کے ساتھ وہ تصویر بھی دکھاتے چلے جاتے ہیں کہ’’وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارا‘‘۔ اقبالؒ نے ’’نوجواں مسلم‘‘ کو اُس کے ماضی کی وہ دلکش تصویر اگر ’’جذبے‘‘ اور ’’وجدان‘‘ کی سطح پر دکھائی ہے تو محمدقطب نے عین وہی تصویر ’’مفہومات‘‘ کی سطح پر دکھائی ہے۔ اقبال کا بیدار کیا ہوا نوجوان شاید بہت دیر سے متلاشی تھا کہ دین کے ’’بنیادی حقائق‘‘ کے معاملے میں بھی (کہ جس نے اِس تاریخی واقعے کو جنم دیا تھا) کوئی اِس کا ہاتھ پکڑ کر ’’دورِآبا‘‘ کا ایک نظارہ کروالائے اور اِس کے وہ بہت سے تجسس دور کروادے کہ ’’شتربانوں کا گہوارا‘‘ جو صدہاصد برس سے بانجھ چلا آتا ہے کیونکر چشم زدن میں ’’تمدن آفریں، خلاق آئین جہاں داری‘‘ہوٹھہرتا ہے! ہمارے خیال میں، محمدقطب نے اِس نوجوان کی یہ ضرورت بہت اعلیٰ سطح پر جاکر پوری کی ہے۔ اسلام کو خود اپنی دنیا کا جیتا جاگتا واقعہ بنانے کےلیے پریشان یہ نوجوان شاید اپنی بہت سی ’’گمشدہ چیزیں‘‘ اکٹھی اِسی ایک کتاب میں پا ئے۔
*****
’’اسلامی اِحیاء‘‘ اپنی کچھ مقامی وعالمی جہتیں رکھتا ہے، جن کو نظرانداز کرنے سے اسلامی زندگی کی بحالی ’فلسفہ‘ نما چیز بنتی ہے یا ’مطالبات‘ اور ’آئینی بلوں‘ یا ’قانونی بحثوں‘ سے ملتی جلتی کوئی سرگرمی! یہاں سے؛ ہمارا حالیہ تحریکی وجہادی عمل اِس موضوع کے ساتھ آجڑتا ہے۔ یہی ’’تبدیلی‘‘ اور ’’جہاد‘‘ ہے جس کی اصلاح اور جس کی نصرت و آبیاری اِس تمام محنت سے ہمارا مقصود ہے۔
خود مؤلف کی تمام زندگی، جس کا ایک حصہ زندانوں کی نذر ہوا، اسی جدوجہد میں گزری...
مؤلف ساٹھ کے عشرے سے اپنا فکرانگیز قلم تھامے ہوئے ہےاور تب سے اسلام کے تحریکی عمل کےلیے صالح غذا مہیا کرنے میں لگا ہے۔ اس کی دیگر تحریرات بھی پڑھیں تو محسوس ہوتا ہے وہ بہت پہلے اندازہ کرچکا تھا کہ عالم اسلام کا یہ ’پوسٹ کالونیل‘ post-colonial عہد کس کروٹ بیٹھنے والا ہے اور ابھی وہ کونسے دشت اور دریا ہیں جنہیں عالم اسلام کو صبر، حوصلے اور بہادری کے ساتھ پار کرنا ہے۔ قاری دنگ رہ جاتا ہے کہ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں بھی، کہ جب ہر طرف کمیونزم کی آندھیاں تھیں، محمد قطب کو کیوں افق پر ’’صلیبی افواج‘‘ نظر آتی ہیں! وہ ہمیں ایک بڑی جنگ کی گرد اٹھتی بار بار دکھاتا ہے۔’آزادیاں‘، ’حکومتیں‘، ’اقتدار‘، ’منزلوں کا قریب آلگنا‘، ’آئینی ودستوری اصلاحات‘، ’پارلیمانی امیدیں‘... ان سب اوہام پر وہ ایک دردبھرے شفقت آمیز انداز میں مسکرا دیتا ہے: ’’ابھی کہاں‘‘؟! ’تختے الٹنے‘، ’پھٹے اکھیڑنے‘، ’ماردھاڑ‘ کی راہ اختیار کرنے، کسی بھی ’فوری واقعے‘ سے ’طویل امید‘ ایسے نتائج کی توقعات وابستہ کرلینے... ایسے رویوں کو پدرانہ آموزش کے ساتھ ہوش اور پختگی سے بدلتا ہے اور صورتحال کی ایک بڑی تصویر بار بار سامنے لا کر رکھتا ہے۔ عمل پسند نوجوان کو ’’معاشرے‘‘میں اترنے کے گر سکھاتا ہے۔ دشمن کے ایسے ایسے بےرحم نشتروں سے خبردار کرتا ہے جو شاید اس نوجوان کے وہم و گمان میں نہ ہوں۔
*****
وقت آچکا ہے کہ ہم ’آزادی‘ اور ’مابعداستعمار‘ کے فریب سے باہر آئیں۔اپنی صفیں از سرنو ترتیب دیں۔ ان رکاوٹوں کا صحیح صحیح اندازہ کریں جو ہمارے راستے میں کھڑی کر رکھی گئی ہیں۔ اِس جنگ کو، جوکہ واضح جنگ ہے اور ہر ہر سطح پر ہو رہی ہے، اس کی تمام تر جہتوں کے ساتھ دیکھیں۔ اپنے ہتھیاروں کا تعین کریں جو ہمیں یہاں ہرہر محاذ پر درکار ہیں اور جوکہ بےحد متنوع ہیں۔ امت کو اٹھانے کےلیے وہ ’’بنیادیں‘‘ سامنے لے کر آئیں جو یہاں درکار احیائی وجہادی عمل کےلیے انفراسٹرکچر کا کام دے۔ اسلام کی لمبی چوڑی تفصیلات کی بجائے (کہ جس کا وقت ’’ماحول‘‘ پر حاوی ہوجانے کے بعد ہی آسکتا ہے) ’’اساسیات‘‘ پر ہی فی الحال امت کا پورا زور صرف کروادیں اور اسی محنت کو مطلوبہ تبدیلی کی بنیاد بنائیں۔
شاید یہی وہ چیز ہے جس کا کرب ہمیں اسامہ بن لادنؒ کی آخری تقریر میں نظر آتا ہے اور وہ امت کو محمد قطب کی اِس کتاب کی جانب خصوصی توجہ دلاتا ہے۔ ملت کا یہ سربکف مجاہد جسے تمام عمر کفار اور منافقین کی دسیسہ کاریوں کا سامنا رہااپنی طویل جہادی زندگی کا نچوڑ اسی بات میں بیان کرتا ہے کہ ہمارا ہر انقلاب چرایا جاتا رہا، ہماری ہر قربانی پر گھات لگتی رہی، ہماری ہر امید پر پانی پھرجاتا رہا، ہم پر روا رکھے جانے والے ہر ظلم، ہر استحصال اور ہر واردات کی راہ ہموار ہوتی رہی، اور اس ظلم کی راہ روکنے والا امت کا ہر حقیقی ہمدرد امت سے کاٹ کر رکھ دیا جاتا رہا... تو وہ ہمارے ’’عامۃ الناس‘‘ کے اسلام، خصوصاً اسلام کے رکن اول ’’لا الہ الا اللہ‘‘ سے ناواقف رہنے کی بدولت۔ پس جب تک امت کو اسلام کی اساسیات سے ازسرنو نہ جوڑا جائے گا اور کفر کی حقیقت سے ازسرنو خبردار نہ کیا جائے گا تب تک امت کو نہ صرف اس کے ایمانی بلکہ مادی استحصال سے بھی تحفظ نہ دلایا جاسکے گا۔
یہ ایک ایسے شخص کی شہادت ہے جس نے ملتِ کفر کے ساتھ مڈھ بھیڑ کی تلخیاں عمل اور اقدام کی بلندیوں پر جا کر دیکھی ہیں۔
ایسی ہی دلدوز آہیں ہمیں سلطان عبد الحمید کے ہاں سنائی دی تھیں۔ یہ اس سے ٹھیک ایک سو سال پہلے گزرنے والی ایک شخصیت ہے جس کی تمام زندگی کفار و منافقین کے ساتھ اپنی امت کی جنگ کو ایک نہایت شدید اور پیچیدہ سطح پر لڑنے میں گزری۔ اُس کو بھی امت کی جہالت اور بےبسی کاٹ گئی۔ وہ امت کہ جس کے ’’خلیفہ کی رخصتی‘‘ اور بالآخر ’’خلافت کا خاتمہ‘‘ بھی اس کےلیے ’ریڈیو کی ایک خبر‘ تھی!
امت کو شعور دینا... پیچیدہ فلسفوں اور بھاری فرائض واعمال کی بجائے دین کی اساسیات پر اس کو جوتنا اور اسی پر یکسو رکھنا، خصوصاً اسلام کے فرضِ اول لا الہ الا اللہ پر اس کا علم اور ایمان پختہ کرانا... ’’ملتوں کا فرق‘‘ نمایاں سے نمایاں تر کرنا... نبیﷺ کے مرتبہ اور منصب کو یہاں کا سب سے بڑا آئین ٹھہرانا... دوستی اور دشمنی کے پیمانے بحال رکھنا... ’’عبادت‘‘ اور ’’تعمیرِ ارض‘‘ کے مفہومات درست کروانا... اور دینداری کے نام پر دنیا کے ہنگاموں سے ’’فرار‘‘ کی بجائے دنیا کو ’’آخرت کی کھیتی‘‘ بنانے پر محنت کروانا... ہماری تعمیرنو درحقیقت یہاں شروع ہوتی ہے! امت کے سب منصوبوں کے اندر جان یہیں سے پڑے گی، ان شاء اللہ۔
حامد کمال الدین