عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, April 4,2026 | 1447, شَوّال 15
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
mazameen_ramzan آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
وہ ذہنی تبدیلی جس کی ضرورت ہے
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ والصلوہ والسلام علی رسول اﷲ

اما بعد

وہ ذہنی تبدیلی جس کی ضرورت ہے

عقیدہ، تربیت اور تحریک.... ایقاظ کے بنیادی موضوعات ہیں۔

عقیدہ کی بنیاد پر تربیت اور تربیت کے ذریعے ایک جاندار تحریکی عمل کی آبیاری وہ منہج ہے جس پر ایقاظ ایمان رکھتا ہے۔

جہاں تک عقیدہ کا تعلق ہے تو وہ تربیت اور تحریک کی اساس ہے۔ مگر لفظ ”عقیدہ“ سے ہماری مراد وہ نہیں جو ایک خاص طبقے کے ہاں رائج ہے اورجسے سنتے ہی علم الکلام کے مناظرے اور منطق کی خشک اور پیچیدہ بحثیں ذہن میں گردش کرنے لگتی ہیں۔

عقیدہ سے ہماری مراد وہ قرآنی تصور حیات ہے جس نے اسلام کے قرن اول کی تعمیر کی اور دنیا کو ایسے خدا شناس انسانوں سے متعارف کرایا جنہیں دیکھ کر اللہ کی عظمت دلوں میں گھر کر جاتی تھی.... قرآن کے وہ حقائق جو انسانوں کو مالک الملک کا یوں تعارف کراتے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو اس کے سامنے کھڑا ہوا محسوس کریں۔ وہ سب پردے جو خالق اور مخلوق میں حائل ہیں اس عقیدے کی روشنی میں ایک ایک کرکے زائل ہو جاتے ہیں.... سوائے اس ایک پردے کے جس کا اٹھنا اس دنیائے فانی میں ممکن نہیں!

’اللہ کی پہچان‘ قرآن کا بنیادی موضوع ہے۔ اس کے خوبصورت نام قرآن پڑھتے ہوئے انسان بار بار دہراتا ہے۔ اس کی دلگیر صفات کا قرآن میں بار بار ورد ہوتا ہے.... تو ضمیر کو زندگی ملتی ہے اور روح میں جان آتی ہے!

پھر جلد ہی قرآن اسے بندگی کی حقیقت سمجھانے لگتا ہے۔ عبادت کا مطلب ذہن نشین کراتا ہے۔ یوں بندگی کا احساس اس کے رگ وپے میں سرایت کر جاتا ہے۔ تب بندگی کی ادائیں طرح طرح سے اس کے وجود سے برآمد ہونے لگتی ہیں۔ رکوع وسجود، تکبیر اور قیام، حمد اور تسبیح، تحیات اور کورنش .... غرض یہ انسان کیا ہے مجسم عبادت ہے! یہ بار بار استغفار کرکے بندگی میں اپنے قصور کا اعتراف کرتا ہے۔ اپنے مالک کے احکامات ہی نہیں اشارے تک پانے کیلئے بے چین رہتا ہے۔ ’حلال اور حرام‘ اس کیلئے بلند وبالا فصلیں بن جاتی ہیں۔ اپنے فرائض کی فہرست وہ بار بار اپنے رب کی کتاب میں تلاش کرتا ہے.... اور یہ سب کچھ کرکے بھی صرف معافی کا خواستگار ہوتا ہے!

پھر قرآن اسے معبود کی وفاداری کی تلقین کرنے لگتا ہے۔ اخلاص کا سبق پڑھاتا ہے۔ وہ بندگی کیا ہوئی جو صرف معبود کی خاطر نہیں! عبادت میں کچھ کمی رہ جانا قبول ہے مگر عبادت کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی غیر اللہ کیلئے ہو، یہ تصور سے باہر ہے۔ نہ رکوع وسجود پر کسی کا حق ہے نہ دعا اور التجا کسی اور سے ہو سکتی ہے۔ معبود کے سوا نہ کسی سے امید رہے اور نہ کسی کی ہیبت اس دل کو خوفزدہ کرے۔ نہ کسی کی اطاعت اور نہ کسی کا قانون۔ سوائے اس کی شریعت کے جو کہ حکمت ہی حکمت ہے۔

عبادت میں یہ وفاداری جسے قرآن ’طاغوت سے اجتناب‘ کا نام دیتا ہے .... بندگی کا یہ اخلاص جسے قرآن شرک سے دامن کش رہنے سے تعبیر کرتا ہے ....

عبادت میں یہ وفاداری اور بندگی کا اخلاص ہی دراصل وہ چیز ہے جو انسان کے کچھ نیاز مندانہ افعال کو ’عبادت‘ کا درجہ دیتی ہے۔ یہ ایک چیز کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دینا ہے۔ الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ (فاطر) اتنا بڑا واقعہ بڑی آسانی سے رونما ہو جاتا ہے جب انسان غیر اللہ سے منہ موڑ کر اپنا آپ خدائے واحد قہار کی جانب پھیر دیتا ہے۔ کہاں وہ محض ایک فعل تھا اور کہاں وہ اب عبادت اور بندگی کہلاتا ہے۔ یہ ساری جان اس ناتواں مخلوق کے اس عاجزانہ فعل میں اخلاص اور حنیفیت کے دم سے آتی ہے۔ تب انسان کے کچھ کام محض ’کام‘ نہیں رہتے ’بندگی‘ بن جاتے ہیں.... بندگی جو کہ کائنات کی سب سے خوبصورت حقیقت ہے.... جو کہ معبود کا خالص ترین حق ہے.... جس سے حسین تر چیز سطح زمین پر آج تک نہیں پائی گئی .... اور جس کے معبود تک پہنچنے میں سات آسمان حائل ہو سکتے ہیں اور نہ عرش بریں!

یہی نہیں قرآن اسے اس بندگی کی وسعت سے بھی آشنا کرتا ہے جو کہ عبادت کے مخصوص افعال میں محدود نہیں۔ جس کی رو سے زمین میں بستیاں بسانا بھی عبادت ہے اور فصلیں اگانا بھی۔ شجر لگانا، راستے ستھرے رکھنا، شہروں کی رونق بڑھانا، کائنات کو انسان کی سہولت کیلئے مسخر کرنا، تجارت کو فروغ دینا، رزق حلال کے ذرائع آسان بنانا، عدل وانصاف کو عام کرنا، ظلم کا خاتمہ، استحصال کی بیخ کنی، معاشرے کی آسودگی، معذوروں اور محروموں کے کام آنا، بیوائوں کو سہارا دینا، یتیم کے گال سے آنسو پونچھنا، بھوکوں کو کھلانا، غلاموں کو آزاد کرنا، اسیروں سے بھلائی .... یہ سبھی کچھ عبادت ہے۔

قرآن انسان میں بندگی کے یہ جان دار بیج بوتا ہے تو آپ سے آپ اس کی شخصیت خوبصورت پھولوں اور میٹھے پھلوں سے لد جاتی ہے۔ صلہ رحمی، ہمسایہ داری، قدر شناسی، دلیری، بہادری، اعلیٰ ظرفی، احسان، بردباری، خندہ پیشانی، خوش مزاجی، فیاضی، دوستی، بے تکلفی، سنجیدگی اور متانت، ایفائے عہد، دیانت، سچائی، غیرت مندی، عفت، قناعت، شرم وحیائ، عجز وانکسار، حوصلہ مندی، خوش امیدی، حقیقت پسندی، صبر، شکر، غنائے نفس .... یہ مٹی کا پتلا رشک خلائق ہو جاتا ہے!

پھر عبادت کا یہ مطلب سمجھانے کے بعد عبادت کو صرف ایک ’کام‘ نہیں رہنے دیتا، بلکہ ’عبادت‘ کو ایک مشن بنا دیتا ہے۔ تب قرآن اسے ’دعوت‘ کا فریضہ سونپتا ہے۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر، ہجرت، جہاد، قتال، جماعت اور امت کا تصور، وحدت صف اور تالیف کلمہ .... سب کچھ ’عبادت‘ بن جاتا ہے .... بلکہ ’عبادت‘ کی تکمیل کا ذریعہ۔

عقیدہ ایک ایسی ہی زندہ حقیقت کا نام ہے جو قرآن پڑھنے سے انسان کے اندر وجود پانے لگتی ہے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر ان سب تصورات کا نقطہ آغاز وہی مسئلہ ہے جس کی توضیح اور تلقین کیلئے قرآن کا ایک بڑا حصہ اترا اور جسے صحابہ کے نفوس میں پختہ کرنے کے عمل نے اس امت کے استاد صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ توجہ لی اور جو کہ ہر دور میں اسلام کے معماروں کی سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے .... یہ اللہ کی پہچان کا مسئلہ ہے جو انسان کے اندر سے بندگی کی حقیقت برآمد کر لانے کا بے مثال اور موثر ترین ذریعہ ہے۔ اور اللہ کی عبادت کروانے کا ایک فطری طریق کار۔ اس پر شدید ترین محنت کی ضرورت کسی دور اور کسی مرحلے میں کم نہ ہو گی۔

اللہ کی پہچان جو قرآن انسان کو کراتا ہے .... جلد ہی اس کی محبت کا سبب بنتی ہے۔ خالق کی چاہت ایک عجیب چاہت ہے جو، کوئی اور چاہت دل میں نہ رہے، تو پیدا ہوتی ہے اور پھر ہر چاہت سے دل کو بے نیاز کر دیتی ہے۔ چاہت بڑھتی ہے تو قربت اپنانے کی تڑپ بڑھتی ہے۔ نہ اس چاہت کی کوئی حد ہے اور نہ اس قربت کی۔ یہ ہر انسان کا اپنا اپنا بس ہے اور قرآن اسے ہر انسان کے اپنے اپنے ظرف پر چھوڑ دیتا ہے۔ اس چاہت اور قربت کی تڑپ میں انسان ہر چیز سے بیگانہ ہو کر ایک خدا کی جانب بڑھتا ہے او ر موت کی آغوش میں جانے سے پہلے پہلے زیادہ سے زیادہ فاصلے سمیٹ لینا چاہتا ہے۔ مگر قرآن اسے جس خدا کی پہچان کراتا ہے اس کا خوف اور اس کا دبدبہ بھی بے اندازہ ہے۔ جیسے جیسے یہ اس سے متعارف ہوتا ہے، ویسے ویسے دل پر اس کی ہیبت بیٹھتی ہے۔ دل اس کے خوف سے لرزتا ہے۔ مگر اس کی چاہت کی طرح اس کا ڈر بھی عجیب اور منفرد ہے۔ اس سے ڈر کر بھی آدمی اسی کی طرف بھاگتا ہے! چاہت سے اٹھے ہوئے قدم خوف سے تیز تر ہو جاتے ہیں۔ ایک قدم چاہت سے اٹھتا ہے تو ایک قدم خوف سے!! نفس انسانی کا معبود کی طرف یوں والہانہ بڑھنا.... چاہت اور ڈر کی یہ ملی جلی کیفیت قرآن کی زبان میں ’بندگی‘ کہلاتی ہے!!!

آپ چاہیں تو اس کو ’سلوک‘ بھی کہہ سکتے ہیں!

علم کلام کی جدلیات یہ کام کر سکتی ہیں اور نہ تصوف کے دور اذکار مُعَمَّیَات.... ایمان کے یہ سادہ اور دل کش حقائق قرآنی اسلوب ہی کی دین ہیں!

قرآن کا لمس دل کی دنیا کو عجیب طرح تبدیل کرتا ہے۔ یہ بس قرآن ہی کا حصہ ہے۔ دنیا کا کوئی اور منہج یہ کام نہیں کرتا۔ کسی اور منہج کے یہ بس کی بات نہیں۔ علم کلام نے دنیا میں کبھی ایسے نفوس پیدا کئے اور نہ تصوف نے کسی جیتے جاگتے معاشرے کی تعمیر کی۔ مگر قرآن نے مختصر مدت میں نہ صرف لاکھوں افراد پیدا کئے بلکہ چند ہی سالوں میں ایک زندہ ترین معاشرے کو بھی جنم دیا۔ اور پھر کمال یہ کہ قرآن نے یہ عمارت بالکل بنیاد سے اٹھائی اور دنوں میں اس کو سرے لگایا۔ یہ نہ تو نظموں اور ترانوں کے بس کی بات ہے اور نہ تنظیمی قاعدوں، ضابطوں میں یہ خاصیت رکھی گئی ہے۔ لیکچر یہ کام کر سکتے ہیں اور نہ جوشیلی تقریریں، جلسوں میں یہ صلاحیت ہے اور نہ سیمیناروں میں، محض کانفرنسیں یہ نتائج فراہم کر سکتی ہیں اور نہ جرائد ومجلات.... کوئی چیز قرآن کا نعم البدل نہیں!

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کی تعمیر خالص قرآنی مواد سے ہوئی تھی۔ بعد کے لوگوں کو یہ چیز میسر نہ ہوئی۔ بعد کے لوگوں کی تعمیر میں اور بہت سے مواد بھی بکثرت استعمال ہوئے۔ بلکہ قرآنی مواد استعمال ہوا بھی تو برائے نام۔ حالانکہ بعد کے لوگوں کو یہ بنیاد بالکل سرے سے اٹھانے کا مسئلہ درپیش نہ تھا۔ سرے سے بنیاد اٹھانے کا مسئلہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی مدد سے ہمیشہ کیلئے حل کر دیا تھا۔ اب اتنی محنت کی ضرورت قیامت تک پڑنے والی نہیں تھی۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جیتے جی قرن اول کی تعمیر میں بنفس نفیس کر لی تھی اور جو کہ کر بھی وہی سکتے تھے۔ چنانچہ اب یہ کام اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کی تاریخ میں پہلی بار درپیش تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرآن کو انسانی قالب میںڈھال دینے کا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری کامیابی سے انجام دے دیا تھا۔ قرآن کا یہ انسانی قالب اور اگر آپ کہنا چاہیں تو انسان کا یہ قرآنی قالب پوری طرح ڈھل کر تیار ہو چکا تھا۔ بعد میں آنے والوں کو اتنا کرنا تھا کہ اپنا وجود بس اسی قالب میں ڈھال دیں۔ قالب کا ڈھالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ کام ایک ہی بار ہوتا ہے اور وہ صحابہ کی زندگی میں پوری کامیابی سے سرانجام دے دیا گیا تھا۔ پھر اس قالب میں انسانی وجود کو ڈھالنے کے کامیاب ترین تجربات بھی تابعین اور تبع تابعین کی زندگی میں نصف کرہ ارض پر دو صدیوں تک تاریخ کی نظروں کو خیرہ کرتے رہے۔ بعد میں آنے والوں کا کام بس اب یہی تھا کہ وہ اپنے آپ کو اس قالب میں ڈھال دیں۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی بدولت انسانی وجود کو رہتی دنیا تک ایک قرآنی سانچہ میسر آچکا تھا۔ سانچے کا ڈھلنا بار بار نہیں ہوتا۔ یہ کام ایک ہی بار ہونا تھا۔ سو وہ ہو چکا۔ البتہ اس سانچے میں انسانی وجود کو ہر دور اور ہر زمانے میں ڈھلنا ہے۔ یہ کام بہرحال بار بار ہونا ہے۔

اسی عمل کا نام ہمارے نزدیک ’تربیت‘ ہے۔ مضمون کے شروع میں ’عقیدہ کی بنیاد پر تربیت‘ کی جو بات کی گئی، اس سے بھی ہماری یہی مراد ہے!

’تربیت‘ کا یہ کام بعد میں آنے والوں کو بھی اسی طرح کرنا تھا جس طرح دور اول میں کیا گیا۔ یعنی قرآن کے سانچے میں ڈھلنے کا کام۔ ایک سانچے سے کوئی اینٹ اچھی نکلتی ہے تو کوئی اینٹ کبھی اچھی نہیں بھی نکلتی۔ ہر اینٹ کی مٹی الگ الگ ہوتی ہے۔ پھر اس بات کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ کسی اینٹ پر قالب کا دبائو کتنا رہا۔ یوں ہر دور کے معماروں کو اپنے عمل میں زیادہ سے زیادہ پختگی اور عمدگی لانے کا چیلنج برابر درپیش رہتا ہے۔ مگر خود اس عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ قرآن کا یہ قالب ہر دور کیلئے ہے۔ انسانی وجود کو ہر زمانے میں اس کے اندر ڈھلنا ہے۔ کچھ لوگوں کو آگے بڑھ کر ہر دور میں اس عمل کا بیڑا اٹھانا ہے۔ پہلوں سے جو کام مطلوب تھا بعد والوں سے بھی وہی کچھ درکار ہے۔ امام مالک کے بقول!

لن یصلح آخر ھذہ الامت الا بما صلح بہ اولھا

”اس امت کی آئندہ نسلیں بھی صرف اور صرف اس چیز سے سدھر سکیں گی جس سے اس امت کی نسل اول کی اصلاح عمل میں لائی گئی“۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر بعد والوں کو اس سہولت سے، جو صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کے لئے اپنے وجود سے فراہم کر دی تھی، خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کی کوئی بڑی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ تھوڑی تعداد کو چھوڑ کر زیادہ تر نے اسلام کی مطلوبہ ذہنیت اور شخصیت وجود میں لانے کیلئے نئے سانچوں کی تلاش شروع کر دی۔ صحابہ کا دیا ہوا قرآنی سانچہ اس کام کیلئے کافی نہ سمجھا گیا۔

عقیدہ کیلئے نئے سانچے دریافت ہوئے۔ علم کلام، فلسفہ، منطق، اعتزال، عقلانیت، نیچریت، تاویل صفات، تفویض، تعطیل، تشبیہ، تمثیل، تکییف، تجسیم، حلول، اتحاد، فنا ایسی طرح طرح کی بدعات سے امت کا واسطہ پڑا۔

’تربیت‘ اور ’سلوک‘ کے میدان میں بھی قرآن جو معجزے دکھا سکتا تھا اس کی طلب صادق بہت کم دیکھنے میں آسکی۔ انسانی قلب وشعور کو قرآن جس طرح متاثر کرتا ہے، اس کی قل اور فکر کو جس طرح قرآن خطاب کرتا ہے اور اس کی مخفی صلاحیتوں کو جو بہترین رخ قرآن دیتا ہے وہ کسی اور منہج کے بس کی بات نہیں۔ تصوف کی کٹھن ریاضتوں پر محنت اس سے کئی گنا بڑھ کر کر لی جائے تو بھی نفس انسانی میں وہ حسن اور توازن پیدا نہیں ہوتا جو قرآنی سانچے میں ڈھل کر بڑے آرام سے پیدا ہو جاتا ہے۔ نفس انسانی کو قرآن سے وہی نسبت ہے جو فطرت کو حسن وجمال سے۔ تکلف فطرت کا نعم البدل کبھی نہیں ہو سکتا۔ سادگی میں حسن ہے اور حسن میں سادگی، یہ بات آپ کو قرآنی منہج تربیت میں بدرجہ اتم ملتی ہے۔

چنانچہ ایک ’عقیدہ‘ میں ہی نہیں بلکہ نفس انسانی کی تہذیب اور ’تربیت‘ کیلئے بھی ’بعد والوں‘ میں نئے سانچوں کی ضرورت محسوس کی گئی۔ تصوف، طریقت، تصور شیخ، مجذوبیت، مکاشفہ، ضربات ذکر .... سب نئے سانچے تھے جو نفس کی اصلاح کیلئے وجود میں لائے گئے۔

سچے اور جھوٹے تصوف میں فرق ضروری ہے۔ نیز ’تصوف‘ کہاں تک ’احسان‘ کی ایک صورت ہے، گو یہ مضمون اس بحث کا متحمل نہیں مگر یہ مان لینے میں حرج نہیں کہ متصوفین کے وہ طبقے جو حلول واتحاد اور فنا ایسے شرکیہ تصورات سے پوری طرح پاک رہے ان کو عین اسی صف میں کھڑا کرنا جو حلول اور اتحاد کی قائل تھی، کسی صورت درست نہیں۔ یہ تسلیم کرنے میں بھی تردد نہ ہونا چاہئے کہ وہ پاک طینت صوفیاءجو شرک سے دور اور شریعت کے پابند رہ کر تصوف کی ریاضتیں کرتے اور کراتے رہے واقعتا ان کی محنت نفس کو سدھارنے کی خاطر تھی اور نفس کی اصلاح بلاشبہ اسلام کے بڑے مطالب میں سے ایک مطلب ہے۔ یوں یہ تو ضرور مانا جا سکتا ہے کہ ان کے تصوف کی غرض وغایت بھی وہی تھی جو حدیث جبریل میں ’احسان‘ کے حوالے سے بیان ہوئی، یعنی عبادت میں اللہ کو پا لینے کا تصور جس کی حد یہ ہے کہ آدمی خدا کو اپنے سامنے محسوس کرے یوں گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے....

سو یہ تو ضرور مانا جا سکتا ہے کہ بعد والوں کا ’تصوف‘ اور پہلے والوں کا ’احسان‘ دونوں ایک ہی مقصد سے بحث کرتے ہیں۔ مگر یہ ماننا پھر بھی ممکن نہیں کہ اس نیک مقصد تک پہنچنے کے لئے دونوں کا راستہ بھی ہو بہو ایک ہے۔

یہی بات صحابی رسول عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس وقت کہی تھی جب مسجد میں ایک بالکل نئے طریقے سے مجلس ذکر برپا کرنے والے ایک گروہ کو انہوں نے ٹوکا اور اس کے جواب میں اس گروہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ما اردنا الا الخیر یا ابن مسعود رضی اللہ عنہم یعنی ”ہمارا مقصود تو صرف نیکی ہے“۔ تب عبداللہ بن مسعود نے ان کی نیک نیتی کو تو موضوع بحث نہ بنایا۔ البتہ بڑی سادگی سے ایک ایسا مختصر سا جملہ کہا جو سنہرے حروف سے لکھا جانے کے قابل ہے۔ آپ نے فرمایا۔ وکم من مرید للخیر لا یبلغہ! یعنی ”کتنے ہیں جو نیک مقصد تک پہنچنا تو چاہتے ہیں مگر پہنچ نہیں پاتے“!

صحابہ کا مقصد ہی عظیم نہ تھا اس مقصد تک پہنچنے کیلئے ان کا راستہ بھی مختصر ترین تھا!

بلاشبہ یہ ریاضتیں جو ان پاک طینت صوفیاء[یہ تاثر ہمارے نزدیک درست نہیں کہ صوفیاءسب کے سب وحدت الوجود کے قائل اور ابن عربی کے پیروکار ہیں۔ کچھ لوگ ان مشرکانہ گمراہیوں سے دامن کش رہتے ہوئے متصوفانہ طرق اختیار کرتے ہیں اور تصوف کا بھی یہی مفہوم بیان کرتے ہیں۔ صوفیاءکے ان دونوں فریقوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دینا انصاف کے یقینا منافی ہے۔ موخر الذکر فریق سے بھی ہمیں اختلاف ضرور ہو سکتا ہے مگر ظاہر ہے اس نوعیت کا نہیں جو حلول اور اتحاد کے قائلین سے ہونا چاہیے۔ ان موحد صوفیاءسے کچھ اختلاف اوپر کے صفحات میں ویسے ہم کر بھی آئے ہیں۔ مگر یہ وہ فریق ہے جس سے اختلاف ہو سکتا ہے کلی انداز کی براءت نہیں۔ اس فریق میں بلاشبہ بہت اچھے اور صالح لوگ پائے جا سکتے ہیں جن سے تعلق اور محبت ایمان کا حصہ ہونا چاہئے۔

فتاوی ابن تیمیہ سے درج ذیل اقتباس یہ واضح کرتا ہے کہ علمائے اہل سنت صوفیاءکے اس فریق کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں!

”بلکہ ایسے نام بھی جن سے کسی قدر نسبت ہو سکتی ہے مثلاً کسی امام سے انتساب کی بنا پر حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی وغیرہ یا کسی شیخ سے انتساب کی بنا پر قادری یا عدوی وغیرہ یا مثلاً قبائل سے نسبت کی بنا پر قیسی، یمانی وغیرہ، یا علاقوں وغیرہ سے نسبت کی بنا پر شامی، عراقی یا مصری وغیرہ تو ایسے ناموں کی بنا پر بھی لوگوں کو پرکھنا جائز نہیں ہے نہ ان وجوہ کی بنا پر دوستی، محبت اور ولاءیا بغض وعداوت رکھنا ہی کسی طور جائز ہے بلکہ اللہ کی مخلوق میں سب سے افضل اور باعزت (ایک ہی معیار کی بنا پر ہو سکتا ہے) کہ سب سے بڑھ کر متقی ہو، چاہے کسی طائفہ سے ہو“۔ ج ٣، ص ٤١٦] کے ہاں مقبول ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو نہیں کرائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ریکارڈ جس دیانت اور عرق ریزی کے ساتھ ہمارے لئے اور رہتی نسلوں تک کیلئے محفوظ ہوا ہے تاریخ میں اس طریقے سے کسی اور شخصیت کا ایک ایک لمحہ محفوظ نہیں ہوا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محفوظ ہوا ہے اس میں یہ طریقے اور ریاضتیں نہیں ملتیں۔

تصوف کے علاوہ بھی کئی طریقے نفوس کی اصلاح اور افراد کی تیاری (تربیت) کیلئے بعد میں آنے والوں میں آزمائے گئے اور اپنے اپنے دور میں بہت مقبول رہے۔ قصہ گوئی، کثرت وعظ، فقر وزہد کی اشاعت (بطور منہج نہ کہ بطور ترغیب وتفضیل) ترک دینا .... یہ سب طریقے نفوس کی تہذیب اور تطہیر کیلئے مفید جانے گئے .... بلکہ اب بھی مفید جانے جاتے ہیں۔

فضائل اعمال کا حفظ اور زندگی میں بکثرت تکرار و یاد دہانی بھی تربیت کا ایک مفید ذریعہ جانا گیا۔ بلاشبہ عوام الناس کیلئے ’خروج‘ کی افادیت بھی ایک بڑے پیمانے پر دیکھی گئی اور طبیعتیں اس کے ذریعے نیکی کی طرف مائل ہوئیں۔ بزرگوں کی ترتیب دی ہوئی کچھ دعوتی عبارتوں کا حفظ اور ان کا بار بار بیان بھی اس سلسلے میں مفید پایا گیا۔

’تربیت‘ یعنی افراد کی تیاری کیلئے کچھ اور طریقے بھی مجرب دیکھے گئے۔ انسان کو مسلسل ایک تنظیمی فضا میں رکھنا، تنظیمی قواعد وضوابط کی سخت پابندی کرانا، پروگراموں میں بکثرت مصروف رکھنا، پروگراموں کے انتظامات کرواتے رہنا، ’کارکنوں‘ کو مسلسل حرکت میں رکھنا، ان کی پوزیشنیں تبدیل کرتے رہنا، تنظیم کا فلسفہ ازبر کرانا اور قیادت سے ان کی وابستگی کو مضبوط سے مضبوط کرنا .... یہ سب تجربات بھی ’تربیت‘ میں کامیاب دیکھے گئے۔

اس کے علاوہ نوجوانو ں میں عسکری ٹریننگ اور فوجی نظم وضبط رکھنے کا تجربہ بھی موثر پایا گیا۔

اس کے علاوہ نیکی اور اتباع سنت کے ایسے رحجانات بھی پائے گئے، جن میں صرف عقیدہ کی بدعات سے دور رہنا ہی ضروری نہ سمجھا گیا بلکہ اصلاح نفس اور تربیت کے بھی ان سبھی طریقوں سے اجتناب برتنا ضروری سمجھا گیا جو ان کے خیال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں۔ مگر اس طبقے کی ترجیحات پر نظر ڈالئے تو محسوس ہو گا کہ تربیت اور اصلاح نفس کے ’خلاف شرع‘ طریقوں سے اجتناب رکھنا ہی صرف ان کا مقصود نہیں بلکہ خود تربیت اور اصلاح نفس بھی شاید بڑی حد تک ان حضرات کے پیش نظر نہیں۔ برصغیر میں سلف سے نسبت رکھنے والے ایک طبقے پر یہ رحجان خاصا غالب نظر آتا ہے۔

اس موخر الذکر رحجان کی بابت چند باتیں ابھی ہمیں اور بھی عرض کرنا ہیں۔

عقیدہ، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، تربیت کی اساس ہے۔ تربیت کی سب بنیادیں دراصل عقیدے ہی کے اندر پڑی ہوتی ہیں۔ تربیت دراصل انسان کے قلب وذہن کو وہ شعوری ترقی دینے کا نام ہے اور اس کے خیالات واحساسات اور اس کے رویہ وعمل میںایک ایسی زوردار تبدیلی لانے کا نام ہے جو اس کے عقیدے اور نظریے کا اس سے براہ راست تقاضا ہوتا ہے۔ یہاں اگر کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آتی، یہاں اگر کسی غیر معمولی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، قلب وشعور اور خیالات واحساسات کی دنیا میں کوئی آتش فشاں نہیں پھٹتا اور رویہ وعمل میں کوئی طوفان برپا نہیں ہوتا تو سمجھنا چاہئے کہ وہ چیز جسے عقیدے یا نظریے کے نام پر اپنایا گیا اس میں بس جان ہی اتنی تھی یا سرے سے وہ عقیدہ ہی نہ تھا، محض کچھ الفاظ تھے جو ’عقیدہ‘ کی نیت کرکے ادا کئے جاتے رہے۔ یہی وہ بات ہے جو امام حسن بصری رحمہ اللہ علیہ نے کہی تھی!

لیس الایمان بالتمنی ولا بالتحلی انما ھو ما وقر فی القلب و صدقہ العمل

یعنی ”ایمان کسی آرزو کا نام نہیں، عقیدہ کوئی اشتہار نہیں جسے آدمی گلے میں لٹکا کر پھرے۔ یہ تو ایک ایسی چیز ہے جو دل کی اتھاہ گہرائیوں میں جا اترے اور پھر انسان کے رویہ وعمل کے راستے سے باہر آئے“

درست ہے کہ تربیت کیلئے بہتر سے بہتر وسائل وذرائع کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ اس کے لئے جہاں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگی میں نظر دوڑانے کی ضرورت ہے وہاں اپنے دور کے حالات اور معاشرتی صورتحال کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت بھی ہوتی ہے پھر جدید امکانات سے استفادہ بھی ناگریز ہے۔ تاہم جس موخر الذکر رحجان کی جانب ہم نے ابھی اشارہ کیا ہے، اس کی بابت شاید یہی کہنا درست ہو کہ یہاں اس ادراک کی بہت کمی پائی گئی کہ عقیدہ کا شعوری پہلو اس کے لفظی پہلو سے کہیں زیادہ اہم اور قابل توجہ ہوا کرتا ہے۔

ہمارے یہ قابل قدر حضرات اس ضمن میں کچھ نقص محسوس کرتے بھی ہیں تو عموماً اسے ’تربیت کا نقص‘ ماننے کی حد تک۔ پھر اس نقص کو دور کرنے کیلئے بھی وہ زیادہ سے زیادہ کسی چیز کے قائل ہیں تو وہ کچھ ’تربیتی پروگرام‘ ہیں۔ ایسا کرکے ان کے خیال میں تربیت کے اس نقص پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ ’تربیت‘ کے موضوع سے ذرا پیچھے آکر پہلے وہ ’عقیدہ‘ ہی کی بابت اپنے تصور پر نظر ثانی کر لیں۔ تبھی جا کر قرآنی حقائق کو قلبی اور شعوری کیفیات سے یکجا کرنے کا منہج اختیار کیا جا سکتا ہے۔ عقیدہ کے بارے میں یہ حضرات اپنا نقطہ نظر درست کر لیں تو ’تربیت‘ کے راستے کا یہ بھاری پتھر ہم سمجھتے ہیں خودبخود ہٹ جائے گا۔ ’عقیدہ‘ بنیادی طور پر ’قرآنی حقائق‘ کو قلب وشعور میں جاگزیں کرنے کا نام ہے نہ کہ ’دلائل‘ کو ازبر کرنے کا۔

اس رحجان کی بابت ہمیں یہی بات محسوس ہوتی ہے کہ یہاں ’عقیدہ‘ اور ’سلوک‘ میں در آنے والی بدعات سے اجتناب برتنے پر گو بہت زور دیا گیا اور ’اصلاح عقیدہ‘ پر بھی بہت توجہ دی گئی اور گو اس میں عقیدہ صرف کتاب وسنت سے لینے پر بھی بہت زور تھا، جو کہ بالکل درست بات ہے، مگر آخری دور میں جا کر اس میں عموماً جو کمی رہنے لگی وہ یہ کہ ’کتاب وسنت‘ سے عقیدہ لینے کا وہی انداز نہ تھا جو صحابہ رضی اللہ عنہم اور سلف کا تھا۔ یہاں عقیدہ کا وہ پہلو رفتہ رفتہ غالب آتا گیا جو باطل عقائد کے رد پر مشتمل تھا۔ یوں عقیدہ کا منفی پہلو عقیدہ کے مثبت پہلو پر بھاری ہوتا چلا گیا۔ بدعات سے بچنے کی لگن بے انتہاءقابل ستائش ہے مگر عقیدہ کسی ردعمل کا نام نہیں۔ ردعمل کا دین طبعی اور فطری نہیں ہو سکتا۔ عقیدہ بہرحال ایک عمل ہے نہ کہ ردعمل۔

اس انداز فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض اصلاح پسند طبقوں میں عقیدہ اور منہج کے نام پر کتاب وسنت اور سلف کی تقریباً سبھی عبارتیں تو ضرور برقرار رہیں مگر نصوص کا جو فہم لیا جانے لگا وہ انتہائی سطحی اور بڑی حد تک بے جان تھا۔ ان کے نوجوان قرآنی حقائق کے عمق میں اترنے کی لذت سے بڑی حد تک محروم رہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی آیات سے دلوں کو زندگی اور روح کو طراوت دینے والے معافی اخذ کرتے ہوئے انہیں کم ہی دیکھا گیا۔ ان کی مجلسوں میں قرآن کے زندہ مفہومات کادور بہت کم ہوا۔ قرآن میں کھو جانے کی نعمت سے ان نوجوانوں کو اپنا حصہ لینے دیا گیا اور نہ اس نعمت سے حظ اٹھانا ان کو سکھایا گیا۔ قرآنی تصورات کے شعوری پہلوئوں کے ورد وتذکرہ سے ان کی بیٹھکیں بڑی حد تک خالی رہیں۔ قلب وذہن کی روزمرہ غذا کیلئے قرآن ان کا دسترخوان کم ہی بن سکا۔ بحث ومناظرہ اور اثبات مسائل کیلئے قرآنی آیات کی جانب رجوع ہوا بھی تو اس طرح جیسے قانون سے دفعات نکال کر لائی جاتی ہیں۔

بنیادی طور پر یہ نقص ہم سمجھتے ہیں محض تربیت کا نہ تھا ___ کیونکہ ’تربیت‘ دراصل ’عقیدہ‘ ہی کی مرہون منت ہے ___ بلکہ ہمارے خیال میں یہ نقص کتاب وسنت سے عقیدہ لینے کے دوران رہ گیا تھا جو آگے چل کر تربیت کی خامی کے طور پر زیادہ محسوس اور نمایاں ہونے لگا۔ یہ نقص جس کی ہم نے نشاندہی کی دراصل عقیدہ کی کسی ’عبارت‘ میں نہ تھا بلکہ ’عبارت‘ کو عقیدہ سمجھ لینے میں تھا۔ عقیدہ بہرحال کوئی عبارت نہیں ہوتی!

جن غیر مطلوب مناہج کا پیچھے ہم ذکر کر آئے ہیں.... ہم سمجھتے ہیں تربیت کے یہ غیر مطلوب مناہج امت میں ایک بڑی سطح پر تب رائج ہوئے جب تربیت اور تعمیر شخصیت کا صحیح منہج یہاں متروک ہوا۔ ’تربیت‘ اور ’سلوک‘ کی بابت دین میں جو نئے نئے رحجانات عام ہوئے وہ امت میں اس قدر مقبولیت حاصل کر ہی نہ پاتے اگر تربیت کا سنت راستہ یہاں کسی دھندلاہٹ کا شکار نہ ہوتا۔

یہاں سلف سے نسبت رکھنے والے طبقے خود ہی چونکہ ’عبادت‘ اور ’بندگی‘ کو اس کے اس بے ساختہ مفہوم کے ساتھ معاشرے میں پیش نہیں کر سکے جو کہ قرآنی اسلوب کا دراصل تقاضا تھا اور جو کہ دور سلف کا خود اپنا امتیاز تھا.... خال خال اصحاب کو چھوڑ کر ہمارے اس دور میں اور خصوصاً برصغیر میں سلف سے منسوب جماعتیں ’ایمان‘ اور ’عقیدہ‘ کے وہ قلبی اور شعوری پہلو نمایاں کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں جو انسانی شعور میں اتر کو خودبخود اس کے دل کی دنیا تبدیل کر دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں انسان کے اندر قرآنی شخصیت کی تعمیر ایک فطری انداز سے خودبخود ہونے لگتی ہے.... چنانچہ سلف سے منسوب جماعتوں کا تربیت وتزکیہ ایسے معاملے میں منہج سلف کو پیش کرنے میں ناکام رہنا ہی یہاں اس بات کا سبب بنا کہ لوگ اب ’تزکیہ‘ اور ’سلوک‘ کے معاملے میں ان نئے ایجاد ہونے والے مناہج ہی میں اپنے لئے پناہ تلاش کریں اور نوجوانوں کی سیرت تعمیر کرنے کیلئے نئے نئے طریق کار آزمائے جائیں۔

’عقیدہ‘ سے ’تربیت‘ کو برآمد کرنے کا منہج جو سلف کے ہاں صدیوں تک رائج رہا اور بعد میں بھی سلف کی پیروکار ایک محدود سی جمعیت کے ہاں آج تک موجود ہے.... ’عقیدہ کی بنیاد پر تربیت‘ کا یہ منہج کسی بڑی سطح پر اب بھی اگر دستیاب ہوتا تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو یہ نئے اور محدث مناہج اپنانے کی ضرورت نہ رہتی جو اس وقت بہت شدومد سے آزمائے جا رہے ہیں۔

بلکہ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عقیدہ، تربیت اور تحریک ایسے ان سبھی مہمات مسائل میں اگر سلف کا منہج پوری طرح سمجھ لیا جاتا اور ___ سلف کی اتباع میں ___ ان سبھی میدانوں میں پورا اترنے کیلئے قرآن کو آگے رکھا جاتا اور اللہ کی اس وحی سے مدد لی جاتی جو اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہی اس مقصد کیلئے تھی کہ ان سب مہمات مسائل ___ عقیدہ، شریعت، تربیت، تحریک، دعوت، جہاد، اقامت دین ___ غرض ان سب مہمات میں لوگ ’ہدایت‘ پا جائیں.... بشرطیکہ ان سب معاملات میں وحی سے مدد لینے کا طریقہ وہی ہوتا جو صحابہ اور سلف کو سکھایا گیا۔ چنانچہ دین کے ان سب پہلوئوں میں سلف کے راستے کی اگر کسی بڑی سطح پر اور کماحقہ ترجمانی ہوتی رہتی تو ہمارے خیال میں بہت سے مخلص مسلمانوں کا وقت بچتا اور انہیں ان راستوں پر چلنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی جو نیک مقاصد تک پہنچنے کے لئے ضروری جان لئے گئے.... چاہے وہ عقیدہ کا معاملہ ہوتا، چاہے تربیت کا اور چاہے تحریک کا۔ سلف کا منہج ان تجربوں سے کفایت کرتا۔ کیونکہ سلف کا منہج حق بھی ہے اور صدیوں مجرب بھی رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عقیدہ اور تربیت دونوں ہمارے مستقل موضوع رہیں گے۔ یہاں عقیدہ کی تفصیلات میں جانا ہمارے پیش نظر ہے اور نہ تربیت کا مفصل خاکہ بیان کرنا۔ تربیت کے عملی ذرائع و وسائل، اس کے بنیادی اصول اور حالات کی رعایت سے اس کے تقاضے.... یہ سب موضوعات بھی ان شاءاللہ ایقاظ کے صفحات کی زینت بنتے رہیں گے (ہماری کوشش کی حد تک)۔

یہاں جو چیز واضح کرنا اس وقت ہمارے پیش نظر ہے.... وہ صرف یہ کہ تربیت اور تحریک ایسی اشیاءکو وجود دینے میں عقیدہ کی جو اساسی اہمیت ہے وہ ذرا واضح ہو جائے۔ عقیدہ کے بارے میں جو یہ تاثر عام ہے کہ یہ مشکل عبارتوں کا کوئی مجموعہ ہوا کرتا ہے جس کا ضخیم علمی کتابوں اور دقیق علوم وفنون سے ہی کوئی تعلق ہو سکتا ہے اور منطق اور فلسفہ کی مدد لئے بغیر اس کی سمجھ آنا دشوار ہے، لہٰذا یہ خواص کا موضوع ہے عوام کا اس سے واسطہ پڑے گا تو بحث و مناظرہ یا خطبات اور تقریریں سننے کی حد تک!

اور دوسری جانب عقیدہ کے بارے میں یہ تاثر کہ یہ درسی مضمون کی طرح کا ایک مضمون ہے۔ کتابچوں اور ’ٹیسٹ پیپروں‘ سے پڑھا جاتا ہے۔ اس کی عبارتیں یاد کرنے اور دہرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ کچھ فرقوں کا رد کرنے کیلئے بطور خاص یہ ’مضمون‘ پڑھنا پڑتا ہے۔ ’اصلاح عقیدہ‘ کا لفظ بولنے سے بھی جو چیز ذہن میں آتی ہے وہ عموماً عبارتوں کی درستی ہے!

رہا یہ کہ عقیدہ ان حقائق کا نام ہے جو انسان کے ذہن وشعور میں بے ساختہ پائے جائیں جو تصورات انسان کے قلبی احساسات کی غذا ہوں اور اس کے افکار وخیالات اور روز مرہ معمولات میں آپ سے جھلکیں، تو ’عقیدہ‘ کا یہ مفہوم جتنا کمیاب ہے اتنا ہی اسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔

مختصراً یہ کہ ’عقیدہ‘ کا مفہوم اور ماہیت واضح ہو جانا نہایت ضروری ہے۔

پھر ’عقیدہ‘ کا مصدر واضح ہو جانا بھی نہایت ضروری ہے۔ عقیدہ کے باطل تصورات چلیے ایک طرف رکھ دیں، عقیدہ اگر صحیح بھی ہو اور اس کے سب مندرجات درست ہوں تو بھی یہ بات انتہا درجہ اہم ہے کہ عقیدہ آپ لے کہاں سے رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں ایک بات صحیح بھی ہو، تو اس کو ادا کرنے کے ہزار پیرائے ہو سکتے ہیں۔ عقیدہ آپ خطبوں اور تقریروں سے لیتے ہیں، رسالوں اور کتابچوں سے پڑھتے ہیں، عقیدہ کا مواد اخباروں سے حاصل کرتے ہیں، مجلات اور جرائد پر سہارا کرتے ہیں.... اور یا پھر قرآن سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے لیتے ہیں اور اسے صحابہ اور سلف کے منہج سے سمجھتے ہیں، ان دو باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

چنانچہ عقیدہ حق ہو تو بھی جس مصدر اور منبع سے آپ وہ عقیدہ لے رہے ہیں وہ آپ کے فکر وشعور کی تشکیل میں ایک اساسی حیثیت رکھتا ہے۔

پھر ’عقیدہ‘ کی بابت تیسرا اہم مسئلہ عقیدہ کے فہم کا ہے۔ ایمانیات ایک ایسا موضوع ہے جو محض پڑھ لینے سے تعلق نہیں رکھتا ’عقیدہ‘ محض ’جان لی‘ جانے والی چیز نہیں۔ عقیدہ ’معلومات‘ کا نام نہیں۔ یہ قانون کی ’دفعات‘ بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا قلب وذہن بہت ہی گہرائی کی حامل چیز ہے۔ بسا اوقات اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ادراک اور شعور کی شکل میں اس کو کتنی بڑی امانت سونپ دی گئی ہے۔ دل کی دنیا ایک باقاعدہ دنیا ہے۔ قرآن کو اس میں اترنے کیلئے راستہ دے دیا جائے اور قرآنی حقائق اور تصورات کو اس میں گھر کرنے دیا جائے تو انسان کی کایا ہی پلٹ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جان لینا ایک اتنا بڑا کام ہے اوراس قدر پرلطف کہ اسے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرنا اس کا لطف کھو دینا ہے۔ محسوسات کی دنیا ایک الگ دنیا ہے۔ ’عقیدہ‘ کو اسی دنیا کی فرماں روائی کرنی ہوتی ہے۔

یہ ہیں وہ چند باتیں جو ’عقیدہ‘ کی بابت عمومی زاویہ نگاہ درست کرنے کیلئے یہاں کہی جانا ضروری سمجھی گئیں۔

رہ گیا ’تربیت‘ کا معاملہ تو اس کی عملی تفصیلات اور اس کے بنیادی اصول اور تقاضے بھی یہاں ہماری اس گفتگو کا موضوع نہیں۔ حالیہ مضمون میں تربیت کا بھی صرف مفہوم واضح کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کا عقیدہ سے جو براہ راست اور بے ساختہ تعلق ہے اس کی نشاندہی کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔

عقیدہ اور تربیت کا یہ گہرا اور بلاواسطہ تعلق جو ہم نے پیچھے بیان کرنے کی کوشش کی ہے اگر سمجھ لیا جائے تو تربیت کے بارے میں بھی بہت سے رائج تصورات کی تصحیح ہو سکتی ہے۔ مختصراً یہ کہ ’عقیدہ‘ اگر قرآنی حقائق اور نبوی تصورات کا نام ہے تو ’تربیت‘ ان قرآنی حقائق اور نبوی تصورات کو ورق سے اٹھا کر انسانی شعور میں منتقل کرنا اور پھر وہاں سے انسانی کردار اور انسانی رویہ وعمل کے راستے برآمد کر لانا ہے۔ قرآن کو انسانی قالب میں ڈھالنا اسلامی تربیت کا لب لباب ہے۔

البتہ یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ قرآن کا انسانی قالب وہی معتبر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے صحابہ کی صورت میں اپنے ہاتھوں تیار کیا۔ دوسرے لفظوں میں انسانی افراد کو قرآن کے اس انسانی سانچے میں ڈھال دینا تربیت کہلاتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرون اولیٰ میں تشکیل دیا۔ اس لحاظ سے تربیت کا بھی صرف مفہوم جاننا کافی نہیں بلکہ اس کا مصدر بھی واضح ہونا ضروری ہے۔ سو جہاں تک تربیت کے مصدر کا تعلق ہے تو یہ وہی ہے جو عقیدہ کا مصدر ہے یعنی اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت وسیرت۔

مزید برآں تربیت کی بابت بعض دینی طبقوں میں رائج زوایہ نگاہ کی درستی بھی ہمارے اس مضمون کا ایک بڑا مقصد ہے۔

’تربیت‘ کی یہ تعریف جو ابھی ہم نے کی ہے یعنی ’قرآن کو انسانی قالب میں ڈھالنا‘.... ’تربیت‘ کی یہ تعریف اگر درست ہے تو پھر آپ سے آپ یہ بات طے ہو جاتی ہے کہ تربیت کا سارا عمل اور محنت بنیادی طور پر قرآن کے گرد گھومنی چاہئے۔

اس تعریف کی روشنی میں تربیت کے ان سب مناہج کی حیثیت متعین کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے جو انسان کے قلب وشعور کی تعمیر کے معاملے میں قرآن پر کلی انحصار اور ترکیز نہیں کرتے اور جو کہ ’سلوک‘ میں قرآن کو گہرا اتارنے کا مرحلہ طے کرائے بغیر نوجوانوں کو اور قسم کے نشاط دینے میں کوئی ہرج محسوس نہیں کرتے اور جن کے منہج میں نوجوانوں کی شخصیت بنانے میں قرآن کا کردار بنیادی اور مرکزی نہیں۔

اور بہت سے ذرائع اپنا کر نوجوانوں میں نیکی، روحانیت، زہد اور دینداری پیداکرنے میں چاہے کتنی بھی کامیابی حاصل کر لی جائے، ان کو کتنا بھی منظم اور متحرک رکھا جائے.... حتی کہ یہ مناہج ان میں قربانی اور بہادری کا جذبہ بھی چاہے پیدا کر لیں ___ ان سب باتوں کی ضرورت اور افادیت سے ہرگز ہمیں انکار نہیں ___ پھر بھی یہ چیز اپنی جگہ برقرار ہے کہ قرآن رائج معنی میں کوئی نیکی یا روحانیت اور دینداری کا سبق نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قرآن جس طرح معبود کا تعارف کراتا ہے پھر انسان میں بندگی کی جو حقیقت پیدا کرتا ہے اور پھر جس شعوری طور پر اسے انبیاءاور رسولوں کے ساتھ ایک قافلے میں شریک کر دیتا ہے، حق کو شناخت کر لینے اور باطل کو ہر روپ میںپہچان لینے کی اس میں جو صلاحیت ودیعت کرتا ہے، قرآن انسان کی عقل اور قوت استدلال میں جو وثوق پیدا کرتا ہے، دنیا کو آخرت کے ساتھ جس خوبصورتی سے جوڑتا ہے، شعور وادراک اور جذبات میں جو حسین توازن لاتا ہے اور اس کی شخصیت میں جو بے ساختہ نکھار پیدا کرتا ہے.... یہ سب قرآن کا حصہ ہے۔ تربیت کے ان سب عوامل میں، عبادت میں اللہ کو پا لینے کی کیفیت پیدا کرنے میں، شعور وادراک کی تشکیل، جذبے کو مہمیز اور شخصیت کی تعمیر میں .... غرض انسان کو اسلام کیلئے کارآمد بنانے میں.... کوئی منہج، کوئی طریقہ کار اور کوئی لائحہ عمل کلام اللہ اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر محنت سے کفایت نہیں کرتا۔

اما بعد فان خیر الحدیث کلام اﷲ وخیر الھدی ھدی محمد  صلی اللہ علیہ وسلم

وشرا الامور محدثاتھا ....

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’عقیدہ‘ اور ’تربیت‘ کے بعد ’تحریک‘ کے حوالے سے بھی ہمیں کچھ گزارشات کرنا ہیں۔ مگر بات طویل ہو جانے کے پیش نظر اس گفتگو کو آئندہ شمارے پر اٹھا رکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

 

....................................


Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
حامد كمال الدين
زیادہ حصہ "مدخلی" کا مگر کچھ "اخوان" کا بھی___انصاف ہمیں سب سے بڑھ کر عزیز ہے۔ یہ سننا کہ ہم نے پوری بات نقل ک۔۔۔
حامد كمال الدين
ہر گروہ کے خود مرکزیت زدہ طبقے کسی ایک کا ہیرو، دوسرے کا ولن۔ اُس کا ولن، اِس کا ہیرو۔ دنیا اسی طرح بنائی گئی ۔۔۔
بازيافت- اصلاح و تجديد
حامد كمال الدين
سن ستّر کا لاہور اور "حجابن" کی پیش قدمی!  فیس بک کی ایک پروموشن پوسٹ پر اتفاقاً میری نظر پڑ گئی۔ کسی خات۔۔۔
جہاد- مزاحمت
عرفان كرم
❝ اس ہنگامی موقعہ پر: دشمن کے مقابلے میں پرانے جھگڑوں کو برطرف رکھیے❞  عرفان کرم   گزش۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
یوم عرفہ کے حوالہ سے چند اشکالات تحریر: حامد کمال الدین عرفہ کے حوالہ سے، گلوب پر پائے جانے والے "۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
س:بعض لوگ حوالہ دیتے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ چھوڑ کر ہجرت کی راہ اختیار کرلی تھی، اس تلبی۔۔۔
متفرق-
حامد كمال الدين
مسلکی "دیواروں" کی اونچائی کم کرنے والے عوامل===مسلکی لڑائیوں سے نکل آنے اور امت پر فوکس کرنے کا جو ایک امید ا۔۔۔
جہاد- سياست
حامد كمال الدين
شریعت، طریقت اور سیاست!؟===ایک بھلی سی تحریر نظر سے گزری جس کا لب لباب تھا: شریعت، طریقت اور سیاست کو بیک وقت ۔۔۔
جہاد- سياست
Featured-
حامد كمال الدين
یہ لوگ صلاح الدین کے دور میں ہوتے تو کچھ ان میں سے اس کی تکفیر کر رہے ہوتے، اور کچھ اس کو کفار یا رافضہ کا ایج۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
ٹرمپ کا حالیہ دورہ، مسلمانوں کو اپنی بہتر پوزیشن سمجھنے کی ضروت تحریر: حامد کمال الدین کل بھی اس جانب کچھ اشار۔۔۔
جہاد- قتال
حامد كمال الدين
يَا أيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ المُؤْمِنِيْنَ عَلَى الْقِتَال=== صاف صاف، ہم نے اس جنگ میں ایک پوزیشن لے رکھی ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کافر کے ساتھ اپنی اِس جائز جنگ میں، ہندی مسلمانوں کو کھونے سے حتى الوسع گریز کیجیےحامد کمال الدینجنگ صرف فوجوں۔۔۔
احوال-
Featured-
Featured-
عرفان كرم
فلسطین کا سامورائی... السنوار جیسا کہ جاپانیوں نے اسے دیکھا   محمود العدم ترجمہ: عرفان كرم ۔۔۔
احوال- تبصرہ و تجزیہ
Featured-
حامد كمال الدين
ایک مسئلہ کو دیکھنے کی جب بیک وقت کئی جہتیں ہوں! تحریر: حامد کمال الدین ایک بار پھر کسی کے مرنے پر ہمارے کچھ ۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
ذرا دھیرے، یار! تحریر: حامد کمال الدین ایک وقت تھا کہ زنادقہ کے حملے دینِ اسلام پر اس قدر شدید ہوئے ۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
تحقیقی عمل اور اہل ضلال کو پڑھنا، ایک الجھن کا جواب تحریر: حامد کمال الدین ہماری ایک پوسٹ پر آنے و۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
نوٹ: یہ تحریر ابن تیمیہ کی کتاب کے تعارف کے علاوہ، خاص اس مقصد سے دی جا رہی ہے کہ ہم اپنے بعض دوستوں سے اس ۔۔۔
جہاد- سياست
حامد كمال الدين
آج میرا ایک ٹویٹ ہوا: مذہبیوں کے اس نظامِ انتخابات میں ناکامی پر تعجب!؟! نہ یہ اُس کےلیے۔ نہ وہ اِ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
عرفان كرم
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
امت اسلام
حامد كمال الدين
عرفان كرم
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
ايمان
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
اصلاح و تجديد
حامد كمال الدين
سلف و مشاہير
حامد كمال الدين
تاريخ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
باطل
اديانديگر
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
عرفان كرم
سياست
حامد كمال الدين
سياست
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
حامد كمال الدين
ادارہ
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز