Download PDF

معاصر جہاد اور کچھ عمومی اشکالات

 جہاد بغیر تربیت و تزکیۂ نفس!

حامد کمال الدین

1. بغیر حکومت، جہاد!

2. حالت ِ ضعف میں جہاد!

3. کافر کے تعاون سے، جہاد!

4. بے گناہوں کا قتل؟

5. فلسطین وغیرہ ایسی صورتحال میں استشہادی کارروائیاں

6. مصائب کے بڑھنے کا سبب.... جہاد؟!

7. مجاہد تنظیموں میں عدم وحدت!

8. مار دھاڑ کا کلچر پھیلانے کا باعث!

9. جہاد بغیر تربیت و تزکیۂ نفس!

10. قتال اور شرعی غایتیں

11. کیا سب لوگ محاذوں پر پہنچ جائیں؟

  ایک بڑا اعتراض ہمارے کچھ مخلص دینی طبقوں کی جانب سے یہ آتا ہے کہ امت کے اندر اعمال و اخلاق کی حالت تو اس قدر دگرگوں ہے؛ لہٰذا ابھی جہاد کی صدا بلند کرنا کیونکر درست ہو سکتا ہے؟ بعض کا کہنا ہے کہ ابھی ایک "بنیادی جمعیت" تو کہیں پائی نہیں جاتی اور تربیت اور تزکیہ کے پہلؤوں سے بھی ایک غیر معمولی کمی پائی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ چیز ابھی قبل از وقت ہے!

اِس حوالے سے دینی حلقے دو طبقوں میں تقسیم ہوتے ہیں:

'اعمال' یا 'ایمان' پر محنت کرانے والا ایک وہ طبقہ: جو کسی بھی وقت اور کسی بھی مرحلے میں جا کر کفار کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا منہج نہیں رکھتا اور جہاد کی بابت یہ اعتراض جو اوپر ذکر ہوا اس کے ہاں محض حجت برائے حجت ہوتا ہے۔ اس کی زندگی میں "جہاد" ایسے کسی مرحلے کا آنا یا نہ آنا تو ایک طرف.... یہ حضرات مسلمانوں پر چڑھائی کیلئے آنے والی ایک صلیبی فوج کے کسی 'مسلم افسر' کے سامنے (چاہے وہ عرصہ دراز سے اِن کے ہاں چلے کاٹتا آ رہا ہو) یہ تقاضا تک نہ رکھیں گے کہ صلیب کے لشکر سے نکل آنا اُس کے مسلمان مانا جانے کیلئے ایک بنیادی ترین شرط کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ اگر اِن کے بتائے ہوئے کچھ مخصوص روحانی و اخلاقی ریکوائرمنٹس پورے کر رہا ہے (مثال کے طور پر ہماری تبلیغی جماعت کی "چھ باتیں" یا کسی دوسری جماعت کے ہاں اس طرح کا کوئی اور پیکیج) تو اِن کی بلا سے کہ پھر وہ ہنگامہ ہائے حیات کے اندر کس انداز اور کس حیثیت میں حصہ لیتا ہے؛ 'جماعت' اِس حوالے سے اُس کے آگے کوئی باقاعدہ تقاضا رکھے گی ہی نہیں۔ آپ خود جان سکتے ہیں جس حلقہ میں کفر و اسلام کی خالی "عداوت" ہی کبھی زیر غور نہ آئی ہو اور نہ کبھی موضوعِ بحث بنی ہو، وہاں یہ توقع رکھنا کہ کسی دن "جہاد" کا مرحلہ آن پہنچے گا، ایک انہونی بات ہے۔ موٹی بات ہے، یہاں جہاد کا تصور ہی نہیں؛ نہ آج نہ کل اور نہ پرسوں۔ اِن حضرات کا منہج، جہاد بمعنیٰ قتال فی سبیل اللہ کے ذکر ہی سے خالی ہے۔ لہٰذا 'جہاد ابھی تو نہیں مگر بعد میں کسی وقت' ایسی ساری بحثیں یہاں پر فضول ہیں۔ "قتال" کا موضوع یہاں جب کبھی زیر بحث بھی آئے گا تو وہ کسی 'غلط منہج' کی نفی اور بطلان کرنے کے سیاق میں ہی آئے گا نہ کہ 'منہجِ حق' کا اِثبات اور بیان کرنے کے سیاق میں!

چنانچہ اِس طبقے کے ساتھ تو جہاد کے حوالے سے 'ابھی یا پھر' کی اِس بحث میں پڑنا ہی ایک تکلف ہے۔

دوسرا طبقہ وہ ہے جو قتال فی سبیل اللہ کو اپنے منہج کا حصہ مانتا ہے اور تربیت یا تزکیہ یا اصلاحِ نفس وغیرہ ایسی اشیاءکو جہاد میں شریک ہونے والے ایک شخص کی ہمہ وقتی ضرورت کا درجہ دیتا ہے؛ جوکہ بالکل صحیح بات ہے۔ البتہ یہ طبقہ آگے دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے:

ایک وہ جو فقہ سے دور ہے۔ قتالِ طلب اور قتالِ دفع کے مابین تمییز سے ناواقف ہے۔ بنا بریں اپنے گھروں کے اندر گھس آنے والے کفار کے خلاف ہتھیار اٹھا لینے کے حوالے سے "جہاد" پر ایسی ایسی شرطیں لگانے بیٹھ جاتا ہے جن کا اگر کچھ اعتبار ہوگا تو بھی قتالِ طلب کے اندر۔ چنانچہ ان میں سے کوئی یہ کہتا ہے کہ ابھی ہماری 'تربیت' نہیں ہوئی۔ کوئی کہتا ہے 'سلوک' کے مراتب طے نہیں ہوئے۔ کوئی کہتا ہے ابھی تو 'دعوتی مرحلہ' سر نہیں ہوا، ابھی جہاد کہاں؟ کوئی کہتا ہے ابھی تو 'تنظیمی مرحلہ' سر نہیں ہوا ابھی قتال، دین کا تقاضا کیسے؟ حالانکہ جہادِ دفع کے فرض قرار پانے میں ایسی کوئی بھی چیز مانع نہیں۔ دین کے جملہ اعمال آدمی جہاد کے دوران بھی سیکھتا رہے گا اور جہاد کے سرے لگ جانے کے بعد بھی؛ مگر جہاد کو، جبکہ وہ فرض ہو چکا ہو، ایسے کسی بھی عمل کی اصلاح کے انتظار میں موخر کرنا جائز نہیں۔ مگر علم اور فقہ سے دور ہونے کے باعث یہ طبقے 'تزکیہ' یا 'تربیت' یا 'سلوک' یا 'دعوتی مرحلہ' یا 'تنظیمی مرحلہ' کے سرے نہ لگ چکے ہونے کو 'دلیل' بنا کر جہاد کو 'فی الحال' کیلئے غیر فرض ٹھہرا لیتے ہیں؛ اپنے ایک ایک فرد کے حق میں بھی اور اپنی پوری کی پوری تنظیم اور جماعت کے حق میں بھی۔ وجہ یہی کہ ایک تو قتالِ دفع کے احکام سے واقف نہیں، اور دوسرا ایک ایسی چیز کو کسی عمل کی شرط ٹھہرا دینا جس کو اللہ اور اس کے رسول نے اُس عمل کی شرط نہیں ٹھہرایا۔ اہل سنت کے ہاں یہ ایک معلوم امر ہے کہ ایک فاسق فاجر شخص بھی نہ صرف جہاد کر سکتا ہے بلکہ کسی وقت جہاد کا امیر تک ہو سکتا ہے۔ جبکہ ہمارے اِن نیک حضرات کے ہاں 'اصلاحِ اعمال' کو جہاد کی شرط کا درجہ دے کر رکھا جاتا ہے۔ اصولِ اہلسنت کی رو سے، ایک ڈاڑھی منڈا یا ایک سگریٹ اور نسوار کا عادی شخص تو چھوٹی بات ہے، کسی شخص کو شراب کی لت لگی ہوئی ہے، مگر اللہ اور رسول کے دشمنوں کے بالمقابل اُس کی غیرت جاگ اٹھتی ہے اور وہ اسلام اور قرآن سے اپنی وابستگی کا ثبوت دیتے ہوئے خدا کے دشمن سے بھڑ جاتا ہے تو اُس کیلئے خدا سے اجر کی امید ہے اور "جہاد فی سبیل اللہ" کے حوالے سے وہ اپنے اِس فرض سے عہدہ برآ بھی مانا جائے گا، گو اس کا دین کے کسی اور فرض میں کوتاہ ہونا یا کسی کبیرہ گناہ کا رسیا ہونا اپنی جگہ قابل مواخذہ رہے گا۔

دوسرا وہ طبقہ جس کو اللہ تعالیٰ نے تربیت اور سلوک اور تزکیہ وغیرہ ایسے مہماتِ امور پر محنت سے بھی بہرہ یاب کر رکھا ہے اور ساتھ علم و فقہ کے اندر بھی قدمِ راسخ عطا فرما رکھا ہے۔ یہ طبقہ قتالِ دفع کو تو امت کے حق میں کسی صورت موخر نہیں ٹھہراتا۔ "مسلم بستیوں پر چڑھ آنے والے کفار کے بالمقابل جہاد" کے فریضہ کو تو ایسی کسی بھی 'شرط' کی نذر نہیں ہونے دیتا۔ ہاں البتہ جس چیز کو ہمارے یہ علم پر قائم طبقے (ہمارے سب اساتذہ و مشائخ) 'تربیت' یا 'اِعداد' یا 'بنیادی جمعیت کی تیاری' وغیرہ ایسے امور پر موقوف کرتے ہیں وہ امت کا داخلی محاذ ہے۔ جہاں تک بیرونی محاذوں کا تعلق ہے (مانند افغانستان، فلسطین، عراق، چیچنیا، کشمیر وغیرہ؛ جہاں پر کافر قومیں ہم پر حملہ آور ہیں)، تو اِن محاذوں کی فرضیت اِن علماءکے ہاں ایک طے شدہ امر ہے اور 'تربیت' یا 'تزکیہ' یا 'اصلاحِ اعمال' ایسی کسی حجت کے تحت ان محاذوں کو موخر ٹھہرانا ان علماءکے ہاں درست نہیں۔ ہاں جس وقت اندرونی محاذوں کی طرف آئیں گے اور یہاں پر شرعی حکومت کے قیام کی خاطر کسی مطلوبہ اقدام کو زیر بحث لائیں گے تو یہاں البتہ 'منظم' ہونے کو بھی ضروری ٹھہرائیں گے، ایک 'بنیادی جمعیت' کی فراہمی کو بھی زیر بحث لائیں گے، "تربیت' ' کے ناگزیر ہونے کے مباحث بھی چھیڑیں گے اور کئی دیگر "پیشگی اقدامات" کی بھی نشاندہی کریں گے۔ چنانچہ اوپر اعتراض میں جو بات ذکر ہوئی ہے، اگر کسی وقت اُس کا اعتبار ہوتا ہے تو درحقیقت اُس کا یہ محل ہے (یعنی داخلی محاذ)۔ تاہم چونکہ "معاصر جہاد" جس پر علمائے امت کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ پچھلے چار عشروں سے صاد کرتے چلے آ رہے ہیں، اپنی صنف اور ماہیت کے اعتبار سے "قتالِ دفع" ہے اس لئے یہ سب مباحث اس کے ساتھ نتھی نہیں کئے جاتے۔ پس اِس کو "قتالِ دفع" اعتبار کرتے ہوئے، یہی ضروری ہو جاتا ہے کہ معاصر جہاد کو اِس انداز کی 'شرطوں' کے ہر بوجھ سے ہلکا پھلکا رکھا جائے۔

اِسکے چند ایک شواہد کے طور پر.... "التصفیہ والتربیہ" کے عنوان سے موجودہ زمانے میں محدث البانیؒ نے عالم اسلام کے حالیہ تحریکی عمل کو باقاعدہ ایک شعار متعارف کرا کے دیا ہے اور مسلم ملکوں میں کسی بھی تبدیلی کیلئے وہ "التصفیہ والتربیہ" کو ایک ناگزیر مرحلہ بتاتے اور اپنے زبان و بیان میں اس پر بے حد زور دیتے ہیں۔ تاہم افغانستان میں جس وقت روس یلغار کر آیا، آپؒ نے فی الفور افغانستان میں جہاد کے فرضِ عین ہو جانے کا فتویٰ دیا۔ "بنیادی جمعیت" (القاعدة الصلبة) محمد قطب کی فکر میں ٹیپ کے مصرعے کی حیثیت رکھتی ہے، جس کو وہ عالم اسلام میں تبدیلی کی صدا بلند کرنے والے طبقوں کے سامنے بار بار رکھتے ہیں اور اس کی ایک معیاری تیاری کے بغیر یہاں کسی پیشرفت کے قائل نہیں۔ لیکن یہی محمد قطب ہیں جو افغان جہاد کے نہایت شدید موید رہے، یہاں تک کہ کئی نازک موقعوں پر افغان تنظیموں میں صلح کروانے کیلئے پشاور پہنچ جاتے رہے ہیں، بوسنیا میں مجاہدین کی کارروائیوں پر نہایت شاداب ہوئے، نیز جہادِ فلسطین کے حق میں پوری کی پوری مسلم اقوام کو کھڑا کر دینے پر بے حد زور دیتے رہے ہیں۔ یہی چیز ہم نے علمائے اسلام کی ایک ناقابل اندازہ تعداد کے ہاں دیکھی ہے؛ ملک میں تبدیلی کیلئے ایک نہایت گہرا اور طویل لائحہ عمل دیتے ہیں، مگر افغانستان وغیرہ ایسے محاذوں پر وہ خود بھی اور ان کے تلامذہ بھی اگلے مورچوں پر دیکھے جاتے رہے۔ یہی معاملہ صوفیائے پاک طینت کے ایک طبقہ کے ہاں دیکھا گیا۔ مسلم سرزمین پر چڑھ آنے والے کافر کے مقابلے میں اپنے مریدانِ باصفا کی پوری پوری پلٹنیں لے کر محاذوں پر جا پہنچتے رہے ہیں؛ اور یہاں پر جہاد کو فریضہ وقت جانتے ہوئے کسی مدارجِ سلوک پر موقوف نہیں ٹھہرایا۔

Category: منہج

ايقاظ كا تازه شماره

2-Eeqaz Apr-jun 2012