Download PDF

معاصر جہاد اور کچھ عمومی اشکالات

بغیر حکومت، جہاد!

حامد کمال الدین

1. بغیر حکومت، جہاد!

2. حالت ِ ضعف میں جہاد!

3. کافر کے تعاون سے، جہاد!

4. بے گناہوں کا قتل؟

5. فلسطین وغیرہ ایسی صورتحال میں استشہادی کارروائیاں

6. مصائب کے بڑھنے کا سبب.... جہاد؟!

7. مجاہد تنظیموں میں عدم وحدت!

8. مار دھاڑ کا کلچر پھیلانے کا باعث!

9. جہاد بغیر تربیت و تزکیۂ نفس!

10. قتال اور شرعی غایتیں

11. کیا سب لوگ محاذوں پر پہنچ جائیں؟

  ہمارے معاصر جہاد پر ایک بڑا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ یہاں کوئی اسلامی حکومت یا خلافت یا امام نہیں پایا جاتا جو مسلمانوں کو جہاد کا حکم دے، لہٰذا ہمارے مجاہدین کے اِس عمل کو جو اِس وقت افغانستان، عراق، فلسطین، کشمیر اور چیچنیا وغیرہ کے اندر ہو رہا ہے "جہاد" کا سٹیٹس ہی نہیں دیا جا سکتا۔

ہم اپنے اِن قابل احترام حضرات سے دریافت کریں گے کہ "امام" کے اِذن اور اجازت کا لازم ہونا کونسے جہاد کیلئے ہے؟ جہادِ طلب کیلئے یا جہادِ دفع کیلئے؟ یہ حضرات __ فقہ کے اندر __ جہاد کی اِن ہر دو صورت کا فرق جان لیں تو ان شاءاللہ اِن کا بیشتر اشکال جاتا رہے گا۔

جہاں تک قتالِ دفع کا تعلق ہے تو آپ جانتے ہیں فقہاءکی ایک کثیر تعداد ایسی ہے جس نے صراحت کر رکھی ہے کہ جہاد کی اِس صورت کیلئے اذنِ امام کا حصول مشکل ہو جائے تو اُس کو حاصل کرنا واجب نہیں رہتا۔ قتالِ نکایہ پر احادیث میں بہت کچھ موجود ہے۔ (قتال نکایہ: یعنی دشمن کو کوئی ایسی اسٹرٹیجک ضرب لگانا کہ وہ بڑی دیر تک اپنے زخم چاٹتا رہے اور بعض مسلم مفادات پر اپنی گرفت ڈھیلی کر دینے پر مجبور جائے)۔ قتالِ نکایہ کے حوالے سے ہمارے علمائے جہاد، بجا طور پر، حضرت ابو بصیرؓ اور حضرت ابو جندلؓ والی احادیث سے استدلال کرتے ہیں۔ سبھی کو معلوم ہے، یہ احادیث اِس حقیقت پر نہایت صریح ہیں کہ یہ دونوں صحابی اور ان کے رفقائے کار کسی بھی ولی الامر کے بغیر خاصے عرصے تک اپنی یہ کارروائیاں کرتے رہے تھے۔ جبکہ نبیﷺ نے، یہ تمام تر عرصہ، نہ صرف اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی بلکہ ایک طرح کا استحسان فرمایا۔

جس عربی دان کا خیال ہے کہ ابو بصیرؓ کی بابت نبیﷺ کے ارشاد ویل أمہ مِسعرَ حربٍ لو کان لہ أحد (صحیح بخاری) سے ابو بصیرؓ کی مذمت ثابت ہوتی ہے، وہ ذرا شروحِ حدیث کے اندر نبیﷺ کے اِس ارشادِ گرامی کی شرح دیکھ لیں، نیز ہم انہیں حدیث نبوی کی عین یہی نص لفظ بلفظ عربی لغت کی کتب }"القاموس المحیط"، "لسان العرب"، "تاج العروس"وغیرہ{ میں بھی دکھا سکتے ہیں کہ علمائے لغت نے اِن الفاظ کو داد دینے کیلئے عربوں کے ہاں چلنے والی زبان زدِ عام عبارتوں کی ایک باقاعدہ مثال کے طور پر بیان کیا ہے۔ لغت کی یہ کتابیں آپ کو یہ بھی بتاتی ہیں کہ جس شعر پر عرب پھڑک اٹھیں اُس پر داد دینے کیلئے وہ "ویل أمہ" کے لفظ بے ساختہ بول جاتے ہیں، اور یہی بات اِس حدیث کی تفسیر کرنے والے محدثین بھی ہمیں بتاتے ہیں کہ نبیﷺ نے داد دینے کیلئے ہی ابو بصیرؓ کیلئے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں.... تب اس شخص کو عربی کی بابت اپنی جہالت کا بھی اندازہ ہو جائے گا کہ کیونکر وہ نبیﷺ کے اِن الفاظ کو یہاں کے عربی سے نابلد 'پڑھے لکھوں' کے سامنے دھڑلے کے ساتھ حضرت ابوبصیرؓ کی "مذمت" پر محمول کرتا رہا ہے، بلکہ نبیﷺ کے اِن الفاظ سے اپنے موقف کے حق میں باقاعدہ 'فقہی' مسائل تک استنباط کرتا رہا ہے! اور کچھ نہیں تو اِس حدیث کے تحت شارحین ِ حدیث کا کلام ہی ایک نظر پڑھ لیا جائے تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ حضراتِ ابوبصیرؓ و ابو جندلؓ کے جہاد کو__ جو کہ قطعی طور پر ولی الامر کے احکامات کے بغیر ہوا __ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری پوری تقریر حاصل تھی۔ (اِس موضوع پر ہم ایقاظ شمارہ اکتوبر تا دسمبر 2006ء میں ایک سیر حاصل گفتگو کر چکے ہیں صفحہ 72 - 87 بہ عنوان "قتال نکایہ - ابو بصیرؓ کی سنتِ حسنہ"۔ جوکہ وہیں پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے)۔

٭٭٭٭٭

پھر علمائے امت کا ایک جمع غفیر ایسا ہے جو مختلف مواقع پر جہاد کے اُن محاذوں کو درست اور جائز کہہ چکا ہے جو ولی الامر کے بغیر چلے ہیں۔ اِس فتویٰ کی تاریخ، ظاہر ہے ہم اُس دور سے ہی شروع کریں گے جب امت "اولیاءالامور" سے محروم ہوئی ہے....

روس کے خلاف جو افغان جہاد ہوا، اُس کے حق میں علمائے امت کے فتاویٰ اِس کثرت کے ساتھ پائے گئے ہیں کہ قریب قریب یہ ایک مجمع علیہ چیز مانی گئی ہے۔ پاکستان یا سعودی عرب وغیرہ اِس جہاد میں مدد ضرور دے رہے تھے، مگر انتظامی طور پر ساتوں کی ساتوں افغان تنظیمیں کسی "ولی الامر" کے تابع نہیں تھیں۔ یہ افغان مجاہدین سیاسی و انتظامی سطح پر اپنی مکمل خودمختار حیثیت میں ہی لڑ رہے تھے۔ پس یہ بات ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ امت کا ایک محاذ جو "ولی الامر" کے احکامات کے بغیر پورا ایک عشرہ سرگرم رہا تھا، اِس تمام تر عرصہ، امت کے ہزاروں علماءکی تائید پا کر رہا تھا۔

یہ ایک اصولی نظیر بہرحال آپ کے پاس آجاتی ہے۔ اس کے بعد فرق صرف اِس قدر آیا ہے کہ مقابلے میں روس کی بجائے امریکہ آ جاتا ہے اور امریکہ کو پاکستان اور سعودیہ وغیرہ کے حکمران طبقوں کے اندر جو رسوخ حاصل ہے اُس کی وجہ سے یہاں ایسی آزادیاں اور ایسی آشیر باد حاصل نہیں رہتی کہ ہزاروں کے ہزاروں علماءاس کے حق میں بھی ویسے ہی فتویٰ دینے میں سہولیت پائیں اور ان کیلئے میڈیا کے مائیکروفون بھی اُسی آسانی کے ساتھ دستیاب رہیں۔ مگر یہ اصول کہ "ولی الامر" کے بغیر جہاد درست و معتبر، اور امت پر واجب ہو سکتا ہے، بہرحال پہلی نظیر precedent کے اندر طے ہو چکا اور یہ اصولی بنیاد اس کو بہرحال وہاں سے حاصل ہو چکی۔ وہ پہلے والا فتویٰ (جو سوویت روس کے خلاف جہاد کیلئے دیا گیا تھا) __"ولی الامر" کو مشروط نہ ٹھہرانے کے موضوع پر __ سمجھئے اب بھی اُسی طرح کام دے رہا ہے۔ موجودہ افغان جہاد کے حق میں فتویٰ دینے والے علماءبھی بحمد للہ کچھ ایسے ناپید نہیں، البتہ اِس فتویٰ کا یہ حصہ جو "ولی الامر" والے مسئلہ سے متعلق ہے، سوویت کے خلاف جہاد کیلئے صادر ہونے والے فتاویٰ سے پوری طرح دلیل پا چکا ہے۔

اِس سے پہلے.... الجزائری قوم نے فرانسیسی قبضہ کے خلاف جہاد کیا تھا اور اس کو بالعموم علمائے عرب کی تائید حاصل تھی۔

اور جہاں تک فلسطین کے جہاد کا تعلق ہے تو عرب کا شاید ہی کوئی عالم ہو جو اِس کے حق میں پورے شد و مد کے ساتھ فتویٰ نہ دیتا ہو۔ ظاہر ہے، فلسطین کا پورا جہاد "ولی الامر" کے بغیر لڑا گیا ہے؛ اور یہ بات کسی عالم کے نزدیک اِس بات میں مانع نہیں رہی کہ وہ اس جہاد کے حق میں فتویٰ دے۔

یہ ہم نے بعض معاصر کیس ذکر کئے ہیں۔ اِس سے پہلے عالم اسلام میں یہ ایک معلوم بات رہی ہے کہ جیسے ہی کسی علاقے پر دشمن چڑھ آیا، ہر ہر بستی کے لوگ اُس کا راستہ روکنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے؛ "ولی الامر" کی ہدایات دستیاب ہوئیں تو بہت خوب،ورنہ بستی کے لوگوں نے خود کوئی فوری فوری تصرف کر لیا۔ اِس بات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا کہ کافر آئیں اور مسلمان بستیوں کی بستیاں ان کو راستہ دیتی چلی جائیں۔ ایسے 'مہذب' انسان تو حالیہ نصاب پڑھائے جانے سے پہلے ہمارے ہاں کبھی پائے ہی نہ گئے تھے۔ "کفار" کے مدمقابل، لوگ نیزے بھالے لے کر ہی نکل آتے اور ایک ایک بستی دشمن کی پیش قدمی کو روک نہ سکتی تو اُس کو مشکل بنانے کی کوشش ضرور کرتی؛ نتیجتاً پشت کی بستیوں کو سنبھلنے اور کمک پہنچانے کا موقع مل جاتا اور پورا عالم اسلام تاراج ہونے سے بچ جاتا (جیسا کہ افغان مجاہدین کے ڈٹنے کے باعث فی الوقت آپ بچے ہوئے ہیں؛ تصور کیجئے آج امریکہ اگر خدانخواستہ افغانستان پر قابو پا لیتا ہے تو آپ کا کیسا خوفناک سینڈوِچ بنتا ہے! فلسطینی مجاہدین کے ڈٹنے کے باعث پورا عالم عرب "اسرائیلی مقبوضہ جات" بننے سے تاحال بچا ہوا ہے!)۔

کئی ایک فقہاءکی یہ صراحت بھی موجود ہے کہ.... مسلم سرزمین پر اگر کافر چڑھ آیا ہے اور مسلم ولی الامر ایک غیر ذمہ دار، فاسق شخص ہے تو حملہ آور کافروں کے مدمقابل ایک ضروری و بروَقت اقدام کر گزرنے کیلئے ولی الامر کے احکامات کا انتظار نہ کیا جائے؛ بلکہ کفار کا راستہ __ بشرطِ استطاعت __ ہر حال میں اور ہر قیمت پر روکا جائے۔ (جیسا کہ آگے چل کر آپ بعض نصوصِ فقہاءکے اندر دیکھیں گے)۔ یوں یہ فقہاء، ارشادِ نبوی "إنما الإمام جنة یقاتَل من ورائہ"(1) کا اطلاق اگر قتالِ دفع کے معاملہ میں کریں گے تو اُس صورتحال پر جہاں امام کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو اور خدا کے ہاں جوابدہی کی فکر۔ دورِ نبوی میں، جس وقت مجاہدین کو یہ نبوی ہدایات جاری ہوئی تھیں، "امام" کا ایسا ہی ایک تصور تھا۔ (ہر شرعی نص کا اپنا ایک سیاق ہوتا ہے؛ اور یہ نص بھی ایسے ہی ایک سیاق میں آئی ہے جہاں امام کا اپنا "وجود" محل نظر نہ تھا)۔

البتہ جہاں حکمران اپنی رنگ رلیوں میں پڑا ہو اور مفادات کی سودا بازی کے سوا کوئی قابلیت نہ رکھتا ہو، وہاں پر یہ فقہاءمسلمانوں کے اسٹرٹیجک مفادات کو کسی 'رنگیلے شاہ' کے گھر کی کنیز تب بھی نہیں بننے دیتے تھے۔

علاوہ ازیں، فقہاءکے ہاں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ اگر دشمن حملہ کردے اور صورتحال ولی الامر کے احکامات کے انتظار کی متحمل نہ ہو، تو مسلمانوں کا کوئی گروہ جو اِس بات کی طاقت رکھتا ہو، بلاتاخیر ضروری کارروائی کر ڈا لے۔ یہ فقہاءاِس پر دور نبوی میں حضرت سلمہ بن الاکوع ؓ کے واقعہ سے دلیل لیتے ہیں(2)۔

علاوہ ازیں، قدیم فقہاءکے ہاں ہم جہادِ غزو (اقدامی جہاد) تک میں اس چیز کا اعتبار دیکھتے ہیں کہ اس کیلئے امام کے اِذن کے علاوہ، مسلمانوں کا کوئی ایسا منظم گروپ ہو جس کو قوت اور شوکت حاصل ہو، تو وہ بھی کام دے سکتا ہے۔ ابن قدامہؒ، المغنی میں اس چیز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں:

فإن الجہادإنما یکون بإذن الإمام، أو من طائفة لہم منعة وقوة(3)

کیونکہ جہاد صرف اور صرف امام کے اذن سے ہو سکتا ہے، یا ایک ایسے گروپ سے جو ایک منعہ (سٹرونگ ہولڈ) اور ایک قوت کا مالک ہو۔

اِسی طرح ابن قدامہ کی یہ تصریح ملاحظہ فرمائیں:

فإن عدم الإمام، لم یؤخَّر الجہاد؛ ل أن مصلحتہ تفوت بت أخیرہ۔ وإن حصلت غنیمة، قسمہا أہلہا علیٰ موجَب الشرع۔ قال القاضی: ویؤخر قسمة الإماءحتیٰ یظہرإمام احتیاطاً للفروج۔(4)

اگر امام معدوم ہو، تو جہاد کو بہرحال موخر نہ ہونے دیا جائے گا؛ کیونکہ جہاد کو موخر کرنے سے اُس کی مصلحت فوت ہو جائے گی۔ اگر (اس صورت میں) غنیمت حاصل ہو تو وہ شریعت کے واجب کردہ طریقے سے تقسیم کر دی جائے گی۔ قاضی ابو یعلی نے صراحت کی ہے، کہ لونڈیوں کو تقسیم کرنے کا عمل البتہ موخر رکھا جائے تاوقتیکہ امام کا ظہور نہ ہو جائے، اس لئے کہ شرمگاہوں کے معاملہ میں احتیاط برتی جاتی ہے۔

٭٭٭٭٭

یہاں چند اقتباسات (بہ صورت اردو استفادہ) ہم کویت کے عالم شیخ حامد العلی کے فتاویٰ اور مقالات سے بھی نقل کریں گے:

جہاد کیلئے امام کا انتظار بنیادی طور پر رافضہ کا عقیدہ ہے۔ جہاں تک اہل سنت کا تعلق ہے تو وہ جہاد کی اِس "شرط" سے کبھی واقف نہیں رہے۔ ہاں امام اگر ہے اور جہادِ شرعی کو قائم کئے ہوئے ہے، تو اہل سنت ضرور یہ لازم ٹھہراتے ہیں کہ جہاد اُس کے اِذن سے ہی ہو۔ اور یہ بات اہل سنت کے ہاں کوئی جہاد کے ساتھ خاص نہیں؛ دین کے سب اجتماعی امور میں ہی اہل سنت کے ہاں اِذنِ امام لازم ہے، تاکہ امام کے اختیارات عام لوگوں کے زیر تصرف نہ آنے لگیں۔

علامہ عبد الرحمن بن حسن لکھتے ہیں:

کتاب اللہ کی کونسی آیت، یا کونسی حجتِ شرعی کے اندر یہ بات درج ہے کہ جہاد تب تک واجب ہی نہیں ہو گا جب تک ایسا امام نہ پایا جائے جس کی اتباع پر سب مسلمان جمع ہو چکے ہوں؟ یہ دین پر ایک افتراءہے، اور سبیل المومنین سے انحراف۔ اس قول کے بطلان پر جو شرعی دلائل ہیں وہ اس قدر معروف ہیں کہ بیان کے محتاج نہیں۔ (الدرر السنیة 7: 97)

ابن حزم کہتے ہیں:

کفار کے ساتھ ہر حال میں جنگ کی جائے گی، ہر قسم کے امیر کے ساتھ مل کر، وہ فاسق ہو تب، غیر فاسق ہو تب، دھونس سے غلبہ پا کر حکمران بن گیا ہو تب، اور محارب ہو تب، ان سب کے ساتھ مل کر اُسی طرح جہاد ہو گا جس طرح کہ امام (عادل) کے ساتھ مل کر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ آدمی، بشرطیکہ قدرت رکھتا ہو، اکیلا بھی جہاد کرے گا۔ (المحلیٰ: 10: 99)

عقیدہ طحاویہ میں جہاں امام طحاوی (اہل سنت کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے) لکھتے ہیں والحج والجہاد ماضیان ۔ ۔ الخ "حج اور جہاد قیامت تک جاری رہیں گے"، وہاں اس کی شرح میں امام ابن ابی العز حنفی لکھتے ہیں:

امام طحاوی کا اشارہ یہاں رافضہ کا رد کرنے کی جانب ہے، کیونکہ اُن کا مذہب یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ تب تک موقوف ہے جب تک ان کا آل بیت کا امام نمودار نہ ہو جائے۔ (شرح طحاویہ: ص 437)

رہ گئی ایک ایسی صورتحال کہ جب امام نہ ہو، یا امام جہاد چھوڑ بیٹھا ہو، جس کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ کفار سے کوئی ایسا معاہدہ کر لے کہ جہاد ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ترک کر دیا جائے گا، اور جو کہ جملہ علمائے اسلام کے اتفاق کی رو سے ایک باطل معاہدہ ہو گا، یا حاکم لادین سیکولر ہو جو شریعت کی جانب تحاکم پر ہی ایمان نہ رکھتا ہو، یا جب مسلمانوں کو خدشہ ہو کہ امامِ شرعی کے اِذن کا انتظار کرنے کی صورت میں کوئی بہت بڑی مصلحت فوت ہو سکتی ہے، یا کوئی بہت بڑی مفسدت واقع ہو سکتی ہے، یا جب مسلمانوں کے کسی گروہ یا خطے پر گھر آئے دشمن کے خلاف جہاد فرض عین ہو گیا ہو.... تو اِن صورتوں میں حاکم کا اِذن لازم نہیں ٹھہرایا جاتا۔ بلکہ ایسی صورت میں مجاہدین اپنے میں سے ایک امیر مقرر کر لیں گے اور اس کی سرکردگی میں جہاد کریں گے۔

ماوردی کہتے ہیں:

جہاد جب فرض کفایہ ہو تو اس کا معاملہ امام کے ساتھ ہے، تا وقتیکہ وہ فرض عین نہ ہو جائے۔ (الاقناع: ص 175)

مراد یہ کہ جس وقت جہاد فرض عین ہو جائے اُس وقت اِذنِ امام کی شرط باقی نہ رہے گی۔ اب یہ تو معلوم ہی ہے کہ آج مسلمانوں کا بیشتر جہاد "جہادِ دفع" میں آتا ہے، جوکہ اُس خطہ کے اندر پائے جانے والے مسلمانوں پر فرض عین ہوتا ہے، اور باہر کے اُن مسلمانوں پر بھی جو ان کی نصرت پر قادر ہوں۔ لہٰذا آج حاکم کے اِذن کی یہ شرط باقی نہ رہے گی۔(5)

شیخ حامد العلی اِس موضوع پر فقہائے مالکیہ کا ایک فتویٰ بھی نقل کرتے ہیں۔ کتاب ہے "النوازل الکبریٰ"، اور فتویٰ ہے امام ابو عبد اللہ سیدی العربی الفاسی کا:

تیسر امسئلہ یہ کہ: جہاد کا واجب ہونا امام کے موجود ہونے پر موقوف بہرحال نہیں ہے۔ نہ ہی امام کا ا ذن کوئی علی الاطلاق شرط ہے۔ جو چیز شریعت کے اندر معلوم اور واضح ہے وہ یہ کہ جہاد غایت ہے بہ نسبت امامت کے جوکہ (اُس غایت کو روپزیر کرانے کا) ایک وسیلہ ہے۔ اس لئے کہ معمول و غالب حالات میں جہاد کا عمل امامت کے بغیر اپنے پورے کمال کے ساتھ روپزیر نہیں ہوتا۔ تاہم اگر ایک غایت، اُس وسیلہ (کی عدم دستیابی کی صورت میں) کسی دوسرے وسیلہ سے روپزیر ہوسکتی ہو تو پھر اُس کو اُس وسیلہ پر ہی موقوف اور محصور کر دینے کا کوئی معنیٰ باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا دین کی ایسی غایتیں جن کا حصول پھر بھی کسی حد تک ممکن ہو، اُن وسائل کے مفقود ہونے کے باعث جو عام طور پر ان کو روپزیر کرانے کا ذریعہ رہے ہوں، کیسے متروک ٹھہرا دی جائیں؟ پس اگر امام موجود ہو تو ضرور اس کے اِذن سے ہی جہاد ہو گا، تاکہ معاملہ نظم و نسق کے ساتھ چلے، اور اجتماعِ کلمہ و لزومِ جماعت کی صورت برقرار رہے۔ ہاں (امام کے ہوتے ہوئے بھی) کسی وقت ایسی صورتحال جنم لے سکتی ہے کہ اُس کے اذن کو ضروری نہ ٹھہرانا راجح تر ہو جائے؛ مثلاً امام خاصے فاصلے پر پایا جاتا ہے اور اُس کے اذن کا انتظار کرنے کی صورت میں کوئی نہایت اعلیٰ موقعہ ہاتھ سے چلے جانے کا اندیشہ ہے، یا امام پابند دین نہیں ہے اور خدشہ ہے کہ وہ اپنے اھواءو خواہشات سے مغلوب ہو کر موقعہ برباد کر دینے کا موجب بنے گا۔ چنانچہ اگر امام پابند دین نہیں اور کسی نظرِ شرعی کے بغیر ہی جہاد سے منع کر رہا ہے تو اُس صورت میں جہاد سے ہاتھ نہیں روکا جائے گا بشرطیکہ اُس میں کسی ضرر کا اندیشہ نہ ہو۔ چنانچہ اولیاءالامور اگر جہاد کو ضائع کریں تو امت اس کو ضائع نہ جانے دے۔ مذہب سے اِس تمام مبحث پر نصوص شاہد ہیں:

ہمارے امامِ مذہب، مالک رضی اللہ عنہ، کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنی زمین کے اندر کچھ فرائض رکھے ہیں جن کو وہ ساقط نہیں کرتا، چاہے امام اُن فرائض کو سنبھالنے والا ہو یا نہ ہو۔

ابن القاسم نے بروایت ابو زید بیان کیا ہے بابت: ایک ایسی جماعت جو دشمن کی سرحد کے قریب رہائش پزیر ہے: یہ لوگ امام کے اِذن کے بغیر دشمن کی طرف نکل پڑتے ہیں اور اس پر چڑھائی کر دیتے ہیں، جبکہ وہ اس بہترین موقعہ کی تاک میں تھے اور ان کو اندیشہ ہے کہ اگر وہ امام سے اس کی طلب کریں تو وہ اجازت نہیں دے گا، یا امام اس قدر دُوری پر ہے کہ اُس کا اذن آنے تک ایسا بہترین موقعہ ضائع چلا جائے گا؟ (امام مالک نے) فرمایا: ان کیلئے اس بات کی گنجائش ہے۔

ابن وہب نے بروایت عبد الملک بن حسن بیان کیا ہے کہ: (امام مالک سے) سوال ہوا ایسی جماعت کی بابت جو دشمن کے خلاف مدافعت کر رہی ہے۔ کیا اُن میں سے کسی کیلئے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ امام کے اِذن کے بغیر مبارزت کر لے؟ امام مالک نے فرمایا: اگر امام عدل (پابند شریعت) ہے تو آدمی کیلئے جائز نہیں کہ وہ اُس کے بغیر اِذن، مبارزت کرے۔ ہاں اگر امام غیر عدل (غیر پابند شریعت) ہے تو وہ اس کے اِذن کے بغیر مبارزت کرنے کا مجاز ہے اور قتال کرنے کا بھی۔

ابن رشد فرماتے ہیں: یہ ایسا ہی ہے جیسا بیان ہوا۔ امام اگر غیر عدل ہے تو مبارزت اور قتال کے لئے اُس سے اجازت لینا لازم نہیں، کیونکہ امکان ہے وہ اس کو کسی ایسی بنیاد پر (جہاد سے) منع کر دے جس کا کوئی تعلق شرعی نظر و توجیہ کے ساتھ نہ ہو۔ مذہب میں اِس مسئلہ پر جو نصوص پائی جا سکتی ہیں وہ اِسی تفصیل و توجیہ کی جانب لوٹتی ہیں۔

اب اگر امام کے ہوتے ہوئے بعض ایسی صورتیں ہو سکتی ہیں جہاں اِذنِ امام کے بغیر جہاد جائز ہوتا ہے، تو پھر جس وقت امام سرے سے موجود نہیں اُس وقت جہاد ناجائز کیوں ہو جائے گا؟ یہ تو واضح ہے کہ جہاد اگر امام کے "وجود" پر موقوف ہو گا تو وہ اسی لئے موقوف ہو گا کہ امام سے "اِذن" لینا ہے۔ اب جب ہم نے دیکھ لیا کہ (امام کے ہوتے ہوئے، بعض صورتوں میں) جہاد کو "اِذنِ امام" پر موقوف نہیں رکھا گیا، تو وہ "وجودِ امام" پر کیسے موقوف کر دیا جائے گا؟

ہاں امام (خلیفہ) کو وجود میں لانا، اس کی شرطوں کے ساتھ، اور اُس پر مسلمانوں کے کلمہ کو مجتمع کرنا مخلوق پر واجب ہے۔ عین اسی طرح جس طرح جہاد واجب ہے۔ اِن ہر دو فرائض کا قیام امت سے بیک وقت مطلوب ہے اور وجوب کا درجہ رکھتا ہے۔ اب اگر ان میں سے ایک فرض (امت کے) ہاتھ سے چھوٹتا ہے تو اس کی سنگینی کم ہے بہ نسبت اس کے کہ دونوں فرض اکٹھے امت سے چھوٹ جائیں۔

رہ گیا امام پر اِس بات کا متوقف ہونا کہ وہی ہے جو کمک، اور رجال و اموال اور اسلحہ وضروریات کو بہم پہنچائے تو یہ توقفِ عادی customary reliance ہے نہ کہ توقفِ شرعی legal reliance ۔ کیونکہ آدمی پر یہ فرض بہرحال نہیں ہے کہ جب بھی وہ جہاد کرے بیت المال کے مال سے ہی جہاد کرے؛ آدمی خود اپنے مال سے بھی جہاد کر سکتا ہے اور جوکہ فضیلت اور اجر میں بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ اور اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت ایسی پائی جائے جو اموال وغیرہ اکٹھے کر سکتی ہو، تو بھی یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔

فقہ میں یہ ایک معلوم امر ہے کہ جس وقت سلطان مفقود ہو جائے، اُس وقت جماعتِ مسلمین سلطان کی قائم مقام ہو جاتی ہے۔ اِس اصل پر اس قدر (فقہی) فروع پائی جاتی ہیں کہ شمار سے باہر ہیں۔ مثلاً فقہ کا یہ مسئلہ کہ ایک عورت کا شوہر لاپتہ ہو جاتا ہے، جبکہ وہ عورت ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سلطان نہیں پایا جاتا۔ ایسی عورت کو اپنے آس پاس میں پائے جانے والی کسی صالح معتبر شخصیت سے رجوع کرنا ہو گا جو اُس کے معاملہ کی چھان بین کرے گی اور اپنے اجتہاد سے اُس کے حق میں کوئی فیصلہ کر دے گی، جس کے بعد اُس عورت کی عدت شروع ہوگی، اور اس کے اختتام پر اُس کو نکاح کرنے کی اجازت ہو گی۔ اِس مسئلہ کی بنیاد اِسی اصل پر ہے کہ ایک ایسا خطہ جہاں سلطان نہیں، وہاں جماعت ہی سلطان کی قائم مقام ہوتی ہے۔ اِس کو قابسیؒ نے بیان کیا ہے، ابو عمران الفاسی سے نے بھی اور ان دونوں کے علاوہ مذہب کے کئی دوسرے شیوخ نے بھی۔ حالانکہ یہ (عورت کو اُس کے لاپتہ خاوند کے عقد سے فارغ کروانا) اُن وظائف میں سے ہے جو یا تو امام کے ساتھ خاص ہیں یا اُس کی نیابت کرنے والے قاضی کے ساتھ۔ اور یہ ہیں بھی وہ وظائف جو امام یا اُس کے متعین کردہ قاضی کے ہوتے ہوئے کسی اور کے کرنے کے ہی نہیں ہیں۔ اس کے باوجود، معاملہ امام کے وجود پر موقوف نہیں رکھا گیا۔ جب ایسا ہے تو پھر جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے ، جس کی بابت ہم دیکھ آئے ہیں کہ امام کے ہوتے ہوئے بھی اور اس کی اجازت کے بغیر بھی __ بعض صورتوں میں __ امت کے بعض طبقوں کیلئے اس کی گنجائش ہے۔

البتہ اِن آخری زمانوں میں کچھ زبانیں جو بے سوچے سمجھے بولنے لگی ہیں کہ امام کے موجود نہ ہونے کے باعث اور اِذنِ امام کے مفقود پائے جانے کے باعث جہاد ہی سرے سے ناجائز ہو چکا ہے.... تو یہ ایک ایسی بات ہے جسے کسی شیطانِ جن نے کسی شیطانِ اِنس کے کان میں پھونک دیا ہے اور اس کی زبان پر اس قدر خوبصورت و مسحورکن بنا دیا ہے کہ یہ بندگانِ خدا کو بہکانے اور جہاد سے بھگانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئی ہے۔(6)

چند اقتباسات شیخ حاکم المطیری (استاذ تفسیر و حدیث، کلیہ الشریعۃ، جامعۃ الکویت) کے ایک مضمون بہ عنوان "اشتراطإذن الإمام ووجود الرایة فی قتال الکفار" سے، جس کو شیخ ناصر العمر کی ویب سائٹ نے نشر کیا تو سعودی عرب کے سیکولر میڈیا نے اس پر شیخ ناصر کے بھی خوب لتے لئے تھے:

تیسرا مسئلہ: جہاد دو قسم کا ہے:

پہلی قسم: جہادِ فتح، جس میں دشمن کی زمین میں جا کر اُس کا تعاقب کیا جاتا ہے۔ (اس کی بابت بھی یہ چیز نوٹ ہونی چاہیے کہ) امام کا پایا جانا اس کے صحیح و معتبر ہونے کی شرط نہیں ہے؛ بلکہ (اس معاملہ میں درست بات یہ ہے کہ) جس وقت امام جہاد کو قائم کئے ہوئے ہو، تو تب اُس کے اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینا اور اُس سے آگے بڑھ کر فیصلے کرتے پھرنا جائز نہیں ہے، بلکہ یہ معاملہ امام کے اِذن اور رائے سے ہی انجام پانا چاہیے، کیونکہ (اس صورت میں) معاملہ امام پر ہی چھوڑ کر رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ امام سے اجازت لینا واجب ہوا نہ کہ جہاد کے معتبر ہونے کی شرط۔

.... .... ....

دوسری قسم: جہاد دفع، یعنی دشمن کو مسلمانوں کی سرزمین سے باہر کرنا۔ اس کی بابت معاملہ کہیں زیادہ واضح اور جلی ہے؛ کیونکہ اس کیلئے تو کوئی شرط ہے ہی نہیں؛ بلکہ ہر شخص پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ دشمن کو مار بھگانے کیلئے اٹھ کھڑا ہو۔ یہاں تو نہ بیٹا باپ سے اجازت لے گا، نہ بیوی خاوند سے، نہ مقروض اپنے قرض خواہ سے، حالانکہ یہ سب اصناف امام کی نسبت اجازت دینے یا نہ دینے کا زیادہ حق رکھتی ہیں، مگر اس کے باوجود اس حالت میں ان کا حق بھی ساقط ہو گیا ہے؛ کیونکہ اس حالت میں جہاد سب پر فرض عین ہو گیا ہے۔ اس حالت میں تو امام کا موجود ہونا تو کجا امام کا اجازت دینا ضروری نہیں رہ جاتا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فتاویٰ مصریہ (4: 508) میں فرماتے ہیں:

أما قتال الدفع عن الحرمة والدین، فواجبإجماعاً، فالعدو الصائل الذی یفسد الدین والدنیا لا شیء أوجب بعد الإیمان من دفعہ، فلا یشترط لہ شرط، بل یدفع بحسب الإمکان۔

جہاں تک اُس قتال کا تعلق ہے جو اپنی حرمت اور اپنے دین کے دفاع کیلئے کیا جاتا ہے، تو وہ از روئے اجماع واجب ہے۔ چنانچہ حملہ آور دشمن جو ہمارا دین بھی تباہ کر دینے والا ہے اور دنیا بھی، ایمان کے بعد کوئی اور فریضہ نہیں جو ایسے دشمن کو دفع کرنے سے بڑھ کر ضروری و ناگزیر تر ہو۔ پس اس کیلئے کوئی شرط عائد نہیں کی جاتی، بلکہ حسب امکان اس کو دفع ہی کیا جاتا ہے۔

.... .... ....

چوتھا مسئلہ: فقہاءنے اپنی کتب فقہ کے "کتاب الجہاد" میں سب کچھ درج کیاہے کہ جہاد واجب ہونے کی شروط کیا ہیں، یہ کس کس پر واجب ہوتا ہے، کب فرض کفایہ ہوتا ہے اور کب فرض عین ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ، مگر شروطِ جہاد کے اندر کہیں پر بھی "امام کا پایا جانا" یا "وجودِ رایہ" ذکر نہیں کیا۔ جبکہ صحیح حدیث میں آتا ہے: ما بال أقوامٍ یشترطون شروطاً لیست فی کتاب اللہ، من اشترط شرطاً فی کتاب اللہ فہو باطل "کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ایسی ایسی شرطیں لازم ٹھہراتے ہیں جو کتاب اللہ میں کہیں نہیں۔ جس نے بھی کوئی ایسی شرط لازم ٹھہرائی جو کتاب اللہ میں کہیں نہیں، تو اُس کی وہ شرط باطل ہے"۔

.... .... ....

پانچواں مسئلہ: .... .... ....

امام کا وجود، جہاد کے وجود کیلئے شرط تو کیا ہو گا....، آپ کہئے معاملہ اس کے برعکس ہو تو صحیح ہونا چاہیے: جہاد کے صحیح قرار پانے کیلئے امام کا ہونا اتنا ضروری نہیں ہے جتنا امام کے صحیح قرار پانے کیلئے جہاد کا ہونا۔ امام کی امامت کے صحیح ہونے کیلئے یہ کہیں بڑھ کر ایک شرط ہے کہ امام نے جہاد کو قائم کر رکھا ہو۔ پس جس چیز کو غلط کہنا چاہیے وہ "امام بلا جہاد" ہے نہ کہ "جہاد بلا امام"۔.... .... .... علامہ عبد الرحمن بن حسن کا قول ہے: ولا یکون الإمامإماماًإلا بالجہاد، لا أنہ لا یکون جہادٌإلا بإمام "بجائے اس کے کہ یہ کہیں کہ امام کے بغیر جہاد نہیں ہوتا، یہ کہیں کہ جہاد کے بغیر امام نہیں ہوتا"۔

.... .... ....

نبیﷺ کا ارشاد ہے:

إنما الإمام جنة یقاتَل من ورائہ ویتقیٰ بہ

امام تو ڈھال ہوتا ہے، جس کے پیچھے رہ کر قتال کیا جاتا ہے اور اس کے دم سے اپنا تحفظ کیا جاتا ہے

لہٰذا امام کی تعیناتی تو ہے ہی اس لئے کہ امام مسلمانوں کیلئے ڈھال بنے اور امام کے دم سے امت اپنے لئے امان اور حفاظت پائے۔ جس کے پیچھے کھڑی ہو کر امت اپنے دشمن سے قتال کر سکے۔ اب اگر امام بجائے مسلمانوں کی ڈھال بننے کے، مسلمانوں کے دشمن کی ڈھال بن گیا ہو، تو وہ شارع کے حکم کی رو سے مسلمانوں کا امام تو نہ رہا....! (7)

٭٭٭٭٭

مسلم مزاحمت کو فی زمانہ حرام ٹھہرانے والے اِس "فتویٰ" کے حوالہ سے آپ غور کریں تو کچھ نہایت دلچسپ حقائق آپ کے سامنے آتے ہیں....

یہ تو آپ جانتے ہیں، یہ فتویٰ جو 'حکمران کی غیر موجودگی' کو آڑ بناتے ہوئے صلیبی حملہ آوروں پر ہاتھ اٹھا لینے کو ہی __ بڑی خوبصورتی کے ساتھ __ ایک مسلمان کے حق میں "جرم" اور "پاپ" بنا کر پیش کرتا ہے.. یعنی دیارِ اسلام پر چڑھ آنے والے کافروں کے خلاف آپ کا ہتھیار اٹھا لینا یا حتیٰ کہ اُن کوئی گزند پہنچانا اِس فتویٰ کی رو سے ایک گناہ (اللہ و رسول کی نافرمانی!) قرار پاتا ہے.... آپ جانتے ہیں، یہ "فتویٰ" اپنے مضمون کے لحاظ سے کچھ ایسا نیا نہیں؛ برصغیر کے اندر اِس کی تاریخ سو ڈیڑھ سو سال پیچھے جاتی ہے....

ہندوستان میں، پہلے پہل یہ "فتویٰ" اُس وقت عام کرایا گیا جب انگریزی استعمار کے خلاف مسلم مزاحمت کو فروکش کرانا بے حد ضروری ہو گیا تھا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اِس فتویٰ کے 'رائٹس' تاریخی طور پر مرزا قادیانی جیسے لوگوں کے نام محفوظ رہے ہیں؛ اور ہر دور کے کسی خاص منظورِ نظر کو ہی اِس طرح کے 'فتاویٰ' دے کر استعمار کے خلاف ہونے والی مزاحمت کو کچلنے کے عمل میں مددگار ہونے کی توفیق ہوتی رہی ہے۔ ہمارے عام مولویانِ کرام کسی وقت خاموشی کا جرم کر بیٹھے ہوں تو اور بات ہے ورنہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ یہاں کے عام مولویوں اور داعیوں نے استعمار کے خلاف ہونے والی اس مزاحمت کو کسی بھی پہلو سے، یا کسی بھی حوالے سے، اور کسی بھی دلیل سے، غلط یا مذموم ٹھہرایا ہو۔ نہ "ولی الامر" کے نہ پائے جانے کی بنا پر اور نہ کسی اور 'دلیل' کو بنیاد بنا کر....، ہمارے دینی و علمی طبقے کے ہاں اِس فتوائے قادیان یا اس سے ملتے جلتے جہاد مخالف فتاویٰ نے کبھی پزیرائی نہیں پائی۔ البتہ استعمار کے کام آنے والے اِن فتاویٰ و مفتیان کی مذمت اللہ کے فضل سے ہمارے دینی و علمی طبقے کی جانب سے خوب خوب ہوئی ہے۔ اور تو اور، آزادی کے بعد یہاں کے قومی نصابوں نے دورِ استعمار کے اندر ہونے والی ہماری اُس مزاحمت کو اچھا خاصا اون کیا ہے۔ ایسی کسی بنیاد پر کہ یہ "ولی الامر" کے بغیر ہوتی رہی تھی، آج تک کسی اسلام پسند تو کیا شاید کسی قوم پرست نے بھی اُس مزاحمت کے اندر کیڑے نہیں نکالے!

اب جب یہ ایک صدی سے زیادہ پرانا فتویٰ ہے (کہ ولی الامر کی غیر موجودگی میں ملک و ملت کے تحفظ کیلئے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف ہتھیار اٹھانا اللہ و رسول کی "شدید" نافرمانی ہے، جبکہ اپنی زمین پر قابض کفار کا مطیع و فرماں بردار بن کر رہنا اللہ و رسول کی عین فرماں برداری اور وقت کا ایک نہایت اہم فریضہ!)....، یہ "فتویٰ" جوکہ ہمارے یہاں دورِ استعمار کی اولین 'اسلامی' ایجاد (یا دریافت) ہے؛ آپ کو معلوم ہے یہ کوئی نیا انکشاف بہرحال نہیں ہے....؛ تاہم یہ بات آپ کو متجسس ضرور کرتی ہے کہ پہلے افغان جہاد کے دوران اِس فتویٰ نے بڑے آرام کے ساتھ 'زیر زمین' چلے جانا کیوں گوارا کر لیا! کوئی اِکا دُکا آواز "ولی الامر" کی دُہائی دیتی اُس دوران سنائی دی ہو تو دی ہو، البتہ جس گونج کے ساتھ آج یہ فتویٰ سنائی دے رہا ہے بلکہ کانوں کے پردے پھاڑ رہا ہے، اُس گونج کے ساتھ یہ فتویٰ گردش کرتا "روس کے خلاف جہاد" کے اُس تمام تر عرصہ کے دوران بہرحال نہیں سنا گیا! کیا ادارۂ استشراق اُس وقت آرام فرمانے چلا گیا تھا، یا جدید مدرسۂ اعتزال اُس دوران تعطیلات پر تھا، یا کچھ روحانیت پرست اپنی روحانیت میں مگن تھے....؟ آخر ایک فتویٰ جس پر مرزا قادیانی کے وقت سے لے کر محنت ہوتی چلی آئی تھی اور مسلسل 'دلیلیں' اکٹھی کی جاتی رہی تھیں، پہلے افغان جہاد کا تمام تر عرصہ، ایسی 'قیمتی' چیز اِس بے پروائی کے ساتھ طاقِ نسیاں میں کیوں رکھ چھوڑی گئی؟ یہاں تک کہ اُس کی گرد جھاڑنے کا خیال بھی شاید ہی کسی کو آیا ہو! آپ ہمارے ساتھ اتفاق کریں گے کہ واقعہ تو یہ بہرحال ہے۔ لیکن ہماری درخواست ہو گی کہ آپ اِس کے پس منظر میں بھی ایک لمحہ کیلئے ضرور غور فرمائیے؛ اس واقعہ کی روشنی میں یہاں کی "انٹلیکچول دنیا" کا بھی ایک وزن کیجئے اور یہاں پر چلنے والی "ہواؤں" کی بابت بھی ایک درست تفسیر کیجئے۔ یہ کوئی ایسا راز نہیں کہ وہ استعماری قوتیں جو اِس سے پہلے عالم اسلام کے اندر اِن مزاحمت کُش فتووں کیلئے اِذنِ نواگری دیتی رہی تھیں، سرد جنگ کے دوران وہ استعماری قوتیں خود بھی عالم اسلام کی مزاحمت کو اٹھانے میں خوب خوب دلچسپی رکھنے لگی تھیں! چنانچہ، کمال شفقت کے ساتھ اِتنا سا عرصہ ہمیں "ولی الامر" کے مسئلہ پر چھوٹ دے دی گئی....! پس یہ تمام عشرہ (1979ءتا 1989ء)، آپ دیکھتے ہیں، ہم روس کے خلاف پوری دلجمعی کے ساتھ جہاد کرتے رہے جبکہ ہمیں "ولی الامر" کی یاد دلانے والے سب فتوے اِس دوران سباتِ شتاء (hybernate) کئے پڑے رہے! البتہ آج جب ہماری مڈبھیڑ طویل وقفے بعد __ ایک بار پھر __ اُنہی استعماری قوتوں سے ہو رہی ہے.... تو آپ دیکھتے ہیں "استشراق بہ تعاون اعتزال " کے ایک گردآلود ڈیسک کو پھر یکبارگی جنبش ہوتی ہے، اور ہمیں "ولی الامر" کی کمی کا احساس دلانے والے فتوے ایک بار پھر ہم پر ہجوم کرنے لگتے ہیں!

پیرانِ قبور کی نظر کرم پھر اُسی ناگواری کے ساتھ "وہابی خارجیوں" پر جا ٹکتی ہے جن کو ملکہ وکٹوریہ کا محکوم ہندوستان معمول کا دارالاسلام نظر نہیں آ رہا تھا اور جو 'ہند میں سجدے کی اجازت' کو "اسلام کے آزاد ہونے" پر محمول کرنے سے انکاری ہو رہے تھے؛ کیونکہ.... کچھ ایسی ہی رائے آج یہ 'گستاخ' صلیبی نیٹو کے قبضے میں چلے جانے والے افغانستان، اور امریکی بوٹوں تلے کراہنے والے عراق، اور صیہونی پنجوں میں جکڑے ہوئے فلسطین کی بابت رکھنے لگے ہیں!

اہل ملت کا ایک نہایت واضح، ثابت اور دائمی دستور __کہ عالم اسلام پر حملہ آور صلیبیوں کے خلاف مزاحمت ہر حال میں واجب ہے؛ اور کسی ایک لمحے کیلئے ہتھیار پھینکنا جائز نہیں ہے __ اور جس پر پچھلے ڈیڑھ سو سال کے دورِ استعمار میں بھی اللہ کے فضل سے ہزاروں کے ہزاروں علماءپائے گئے.. اہل دین و ملت کا ایک ایسا بیّن غیر متزلزل دستور، اُن چند منحنی آوازوں کے لحاظ میں جو محض میڈیا سپیکروں کے دم سے اونچی سنی جا رہی ہیں....، یک دم آج محل نظر ٹھہرا دیا جائے؟!!

بلا شبہ ایسے علماءکی تعداد ہزاروں میں پہنچے گی جو پچھلے ڈیڑھ سو سال سے عالم اسلام کے ہمارے اَن گنت محاذوں کے حق میں فتوائے عام دے چکے ہیں؛ جبکہ ہر کس و ناکس جانتا ہے، ہمارے یہ سب محاذ بیرونی استعمار کے خلاف "ولی الامر" کی غیر موجودگی میں ہی سرگرم رہے ہیں۔

دوسری طرف.... اُن مفتیانِ شواذ کی بھی کسی وقت 'گنتی' کیجئے گا جو ہمارے ڈیڑھ سو سال سے جاری اس جہادی عمل کو "حرام" اور "شریعت کی نافرمانی" قرار دے دے کر دنیا سے گئے ہیں، اور جن کو بااَثر طبقوں کے یہاں چاہے کتنی ہی پزیرائی حاصل رہی ہو، امت کے اندر وہ مذموم ہی جانے گئے ہیں۔ اِستعمار کے خلاف مزاحمت و جہاد کو پاپ قرار دینے والے اِن "علمائے نکتہ وران" کی گنتی کرتے ہوئے، اگر معاملہ آپ کے ایک ہاتھ کے پوروں سے تجاوز کر جائے، تو اِس حیرت انگیز انکشاف سے ہمیں بھی ضرور مطلع فرمائیے گا۔ شور ہے تو یقینا؛ لیکن آپ اتفاق کریں گے کہ اصل جادو میڈیا کا ہے!

٭٭٭٭٭

کچھ دیر کیلئے ہم اِن معترضین کو درست بھی مان لیں....

تو حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اِن حضرات کو افغانستان کی امارتِ اسلامی کے تحت ہونے والے جہاد کی تو ضرور ہی حمایت کرنی چاہیے تھی، لیکن ہم دیکھتے ہیں یہ افغانستان میں جہاد سے "روکنے" کیلئے ہی اپنی یہ 'دلیل' سب سے زیادہ ذکر کرتے ہیں!

ظاہر ہے افغانستان میں ملا عمر کی قیادت میں باقاعدہ ایک اسلامی حکومت موجود تھی۔ جو عدل اور جو امن اِس حکومت نے ملک کے طول و عرض میں قائم کر کے دکھایا اُس کا فی زمانہ تصور تک شاید کہیں نہ ہو سکتا ہو۔ اَب کسی فقہ کی کتاب کے اندر یہ تو لکھا ہوا نہیں کہ کسی حکومت کے معتبر ہونے کی شروطِ شرعیہ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ہاں سے پاس شدہ ہو! اِس ایک 'شرط' کے علاوہ ویسے کونسی شرط تھی جو ملا عمر کی حکومت نے پاس نہیں کر لی تھی؟ یہاں تک کہ آپ کے "اسلامی جمہوریہ پاکستان" نے اور "مکہ مدینہ کے بادشاہ" نے اِس کو باقاعدہ تسلیم کر رکھا تھا! پھر جب امریکہ کی جانب سے اس پر سراسر ایک ظالمانہ و جارحانہ حملہ ہوا تو ہمارے اِن حضرات نے، جو جہاد کیلئے "اسلامی حکومت" کی شرط عائد فرمایا کرتے ہیں، کیوں نہ امارتِ اسلامی افغانستان کے اعلانِ جہاد کے حق میں فتوائے عام صادر کیا؟

یہاں پر؛ اِن میں سے کچھ اصحاب کمال کا ایک نکتہ اٹھاتے ہیں (معلوم نہیں ملا عمر کی امارت کو شرعی ریاست مانتے بھی ہیں یا نہیں، البتہ اپنی انگریز کے قانون پر چلنے والی ریاست کو 'شرعی' مانتے ہیں!) اور وہ یہ کہ ملا عمر کی ریاست "اسلامی دولت" کیلئے اس لئے 'کوالیفائی' نہیں کرتی کہ جب امریکہ نے اُس سے اسامہ کو مانگا تو اُس نے اسامہ کو اُس کے سپرد کیوں نہیں کر دیا! اِن میں سے بعض اصحاب اِس بات کو سرے سے گول کرتے ہوئے کہ ملا عمر کی امارت ایک اسلامی امارت تھی جس کو افغانستان پر حملہ آور صلیبی افواج کے خلاف اعلانِ جہاد کرنے کا پورا پورا حق حاصل تھا، ساری بحث اس پر لے آتے ہیں کہ اگر یہ اسلامی امارت ہو بھی (یعنی مانتے نہیں کہ یہ اسلامی امارت تھی!) تو بھی اُس کا اعلانِ جہاد اِس وجہ سے باطل ہو جاتا ہے کہ وہ اسامہ کو امریکہ کے حوالے نہ کر کے 'جارحیت' کی مرتکب ہو بیٹھی تھی!

سوال یہ ہے، کیا واجب تھا کہ ملا عمر اسامہ کو امریکہ کے حوالے کرتے؟ اور کیا یہ اِس درجہ کا واجب تھا کہ اس کے عدمِ اداءکی صورت میں ملا عمر کا پورے کا پورا جہاد ہی باطل ٹھہرایا جائے؟ یعنی، ہمارے اِن نکتہ وروں کے خیال میں، یہ ہرگز کافی نہیں کہ ملا عمر یہ اعلان کر دیں، اور جوکہ اُنہوں نے کیا، کہ اسامہ نے اگر دنیا میں کسی بھی انسان کے ساتھ کوئی زیادتی کر دی ہے تو اس کے ثبوت لائے جائیں، اور وہ اسلامی شریعت کے مطابق اس پر پوری پوری عدالتی کارروائی کرنے پر تیار ہیں۔ اب کیا اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کا اعلان نادرست ہے، اور اِس پر اصرار کر لینے کے باعث اور اِس قضیہ میں ہر قسم کے پریشر اور دھونس کو رد کر دینے کے باعث ملا عمر کا جہاد "باطل" ہو گیا؟ یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ ملا عمر کی یہ نہایت اصولی و منصفانہ پیشکش امریکہ کی تکبر سے تنی ہوئی گردن کیلئے ناقابل قبول تھی۔ لیکن یہ سمجھ آنا نہایت دشوار ہے کہ ہمارے اِن مفتیانِ کرام کیلئے یہ بات کیوں ناقابل قبول ہے! اب ظاہر ہے اگر فریقِ دیگر (یعنی امریکہ) ملا عمر کی اِس پیشکش کو قبول کرتا، شیخ اسامہ کی کسی زیادتی کا ثبوت لاتا، شیخ اسامہ اُس کے بالمقابل اپنا مقدمہ بیان کرتے اور اپنی وجوہات سناتے اور اپنی صفائی میں جو کہنا چاہتے کہتے، اور پھر عدالت اسلامی شریعت کے اصولوں کے مطابق اُن کا فیصلہ کرتی.... تو جا کر یہ نوبت بھی آتی کہ ہمارے یہ مفتیانِ کرام کم از کم اُس عدالتی فیصلے کے اندر ہی کچھ کیڑے نکال دکھاتے۔ کم از کم، کوئی تو اعتراض نکلتا جو امارتِ اسلامی کی قائم کردہ عدالت یا اُس کے 'فہمِ شریعت' پر لگایا جا سکتا! مگر ظاہر ہے امریکہ نے اس کی نوبت ہی نہیں آنے دی؛ اُس کی جانب سے تو 'آپشن' ہی ایک دیا جا رہا تھا کہ: اِس مسئلہ پر امارتِ افغانستان کو صاف صاف 'ہینڈزاَپ' کرنا ہو گا۔ البتہ جہاں تک اصولوں کا تعلق ہے ، تو ملا عمر کو آخر کیوں یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے ایک مسلم باشندے پر عائد کئے گئے الزامات کے ثبوت مانگیں اور ان الزامات کو اپنی شرعی عدالت کے اندر پیش کرنے کی یقین دہانی کرائیں، مگر دوسری طرف ملزم کو اپنے دفاع اور اپنی صفائی اور اپنی وجوہات پیش کرنے کا بھی پورا پورا موقع دیں، اور پھر ان کی عدالت اسلامی اصولوں کی رو سے اس قضیہ کا ایک بے لاگ فیصلہ کرے؟ ملا عمر اگر اِس بات پر اصرار کریں تو آخر یہ کیوں صحیح نہیں ہے؟

یہاں تک، بتائیے ملا عمر کی کیا غلطی ہے؟ ملا عمر یہ نہایت معقول و منصفانہ پیشکش کرنے میں کیوں حق بجانب نہیں ہیں؟

اب آگے چلئے۔ امریکہ پوری رعونت کے ساتھ ملا عمر کی امارتِ اسلامی افغانستان پر حملہ کر دیتا ہے اور اپنے بی ففٹی ٹو بمباروں اور اپنے ڈیزی کٹروں کے ساتھ مسجدوں اور اذانوں کے اِس دیس کو شرق تا غرب خون میں نہلا دیتا ہے۔ یہاں؛ ملا عمر کو اپنے اِس دیس کے دفاع کا حق کیوں نہیں ہے؟

آخر وہ کونسا پوائنٹ ہے جہاں سے ملا عمر کا جہاد باطل ہو جاتا ہے؟

غرض کسی وقت یہ حضرات تجاہل عارفانہ سے کام لے کر امارتِ اسلامی افغانستان کو 'حکومت' کا درجہ دینے پر تیار نہیں ہوتے، اور پھر کسی وقت جب دیکھتے ہیں کہ اِن کی بیان کردہ "نو من تیل" والی یہ شرط بھی یہاں تو پوری ہوتی نظر آتی ہے (یعنی اُن کا یہ شرط لگانا کہ اسلامی حکومت دنیا میں کبھی ہو کر دے تو یہ حضرات اُس کے قتال کو "جہاد" کی ڈگری عنایت فرمائیں) یوں اس کو "جہاد" مانے بغیر اب تو کوئی 'اصولی' مفر بھی اِن کے پاس نہیں رہ گیا ہے، تو پھر پینترا بدل کر یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں کہ ملا عمر نے امریکہ کے 'اسامہ کو سپرد کرنے' کے مطالبہ کے سامنے فوراً سر تسلیم خم کیوں نہیں کر دیا (اور اِن کے اپنے 'شرعی جمہوری' حکمرانوں کی 'یس سر' والی ریت اِس بے دردی کے ساتھ کیوں توڑ ڈالی!)

یہ حضرات، جوکہ اَب تک جہاد کے خلاف بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور ہر ہر پہلو سے اِس کو 'باطل' قرار دے چکے ہیں....، کبھی پسند فرمائیں تو ہمارے علم میں اضافہ کریں کہ ملا عمر پر امریکہ کی بات من و عن مان لینا کیوں واجب تھا اور مدعی و مدعا علیہ کو اسلامی شرعی عدالت کے روبرو، اپنا دعویٰ و جوابِ دعویٰ دائر کرنے کا حق دینا، اور اِس عدالتی کارروائی پر اصرار کرنا ملا عمر کے حق میں کیونکر ایک گردن زدنی جرم ہے؟

اب اِس کے بعد جنگ ہو جاتی ہے(8)۔ ملا عمر حفظہ اللہ ونصرہ اِس جنگ میں اللہ کے فضل سے آج تک ڈٹے رہتے ہیں، اُن کے اِس پورے جہاد کے اندر بتائیے غلطی کہاں ہے؟

ایسا ہی معاملہ چیچنیا کا بھی رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں 1999ء میں جب روسی افواج چیچنیائی دارالحکومت گروزنی پر حملہ آور ہوئیں، تو وہاں چیچنیوں کی باقاعدہ حکومت تھی۔ صدر اَصلان مسخادوف اور نائب صدر شامل باسائیف دونوں 1996ء کے انتخابات میں منتخب ہو کر آئے تھے۔ کئی مہینے تک حملہ آور روسی افواج کے مدمقابل مزاحمت ہوتی رہی۔ آخر 2000ء میں گروزنی روسیوں کے قبضہ میں چلا گیا، چیچنیا کی منتخب حکومت نے گروزنی کے باہر اڈے قائم کر لئے اور شامل باسائیف روسیوں کے خلاف اِس جہاد کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کہ 2006ء میں شہادت پائی۔ یہاں بھی؛ ہم نے نہیں دیکھا کہ 'حکومت' کی شرط لگانے والے ہمارے اِن جہاد گریز طبقوں نے کبھی بھی ہمارے اِس جہاد کی حمایت کی ہو! (9)

ظاہر ہے ہمارا اصل فوکس اِس وقت: پڑوس میں ہونے والا وہ جہاد ہے جو دنیا کے سب سے بڑے طاغوت کے خلاف لڑا جا رہا ہے اور جوکہ پچھلے ایک عشرے سے افغانستان کے اندر اپنے عروج پر ہے۔ جبکہ وہاں پر ایک شرعی حکومت پائی جانے کی 'شرط' یقینی طور پر پوری ہوئی ہے۔ لہٰذا اگر ملا عمر حفظہ اللہ کا اعلانِ جہاد ہمارے اِن اصحاب کے ہاں شرفِ قبولیت پا لیتا ہے تو ہمارا ایک بڑا مقصد سمجھئے یہیں پر پورا ہو جاتا ہے....!

٭٭٭٭٭


(1) جس وقت امام (سلطان) پایا جائے ، اُس وقت تو کوئی شخص جماعت یا جمعہ کیلئے بھی اُس کی اجازت کے بغیر آگے ہونے کا مجاز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے امام کی ایسی ہی اقتداءقتال کے معاملہ بھی فرض ٹھہرا دی ہے ، تو اسکے پیچھے یہی قاعدہ کلیہ ہے۔ لیکن اس سے یہ بات کہاں سے نکل آئی کہ اگر کسی وقت امام پایا ہی نہیں جاتا تو وہ فرض آپ کے حق میں موقوف ہو جائے گا؟ مسلمانوں کا ایک امام ہو، اور وہ اپنی ملی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو، تو اختلاف ہی کس نے کیا ہے کہ قتال، حج، جمعہ، جماعت اور اِفتاءاور (بعض صورتوں میں قضاءوغیرہ ایسے فرائض اُس کی امامت میں ادا ہوں۔ دلیل تو اِس بات کی چاہیے کہ اِن فرائض سے عہدہ برآ ہونے والا امام اگر نہیں پایا جاتا تو یہ فرائض امت کے حق میں بیک جنبشِ قلم موقوف ٹھہرادیے جائیں گے، خصوصاً اس بات کی دلیل چاہیے کہ اگر کچھ مسلمان مل کر وہاں جماعت، جمعہ، حج اور افتاءوغیرہ ایسے فرائض پورا کرنے کی کوئی صورت حسب استطاعت نکال لیتے ہیں تو وہ گناہگار ٹھہریں گے، اور یہ کہ کچھ طاقت اور ہمت کے مالک مسلمان اگر ایسی حالت میں مل کر مسلم سرزمینوں پر چڑھ آنے والے کفار کا راستہ روکنے کھڑے ہو جاتے ہیں تو ان کا یہ کام شرعاً حرام ہے اور صاف صاف گناہ کا ارتکاب! رسول اللہ ﷺ کی یہ ہدایت جس وقت صادر ہوئی، ظاہر ہے اُس وقت "امام"ملت کفر کے خلاف ڈٹا ہوا، اور مسلمانوں سے اُس کے خلاف قتال کروا رہا تھا۔ پس یہ حدیث امام کی اقتداءکے وجوب کا فائدہ دیتی ہے (جس وقت امام ہو)؛ البتہ فریضۂ قتال کا لاگو ہونا یا ساقط ٹھہرنا تو اِس حدیث کا موضوع ہی نہیں۔

مثال کے طور پر.... عورت کو اگر ایک شرعی حکم بیان کر کے دیا جائے کہ باہر جانے کیلئے اُسکو شوہر کی اجازت درکار ہے.... تو اس کا اطلاق ظاہر ہے اُسی صورت میں ہوگا جب عورت کا شوہر ہو! کیا اس میں کوئی اشکال ہے؟ البتہ اُس فقیہ کی بابت آپ کیا فرمائیں گے جو ایک ایسی صورت میں بھی عورت کے باہر جانے کو ممنوع ٹھہرانے لگے جب عورت شوہر ہی نہ رکھتی ہو! شوہر کے عدم وجود کی صورت میں گھر کے کسی اور فرد کی اجازت تو ضرور فقہاءکے زیر بحث آ سکتی ہے، لیکن اس طرف کو کسی 'فقیہ' کی نظر نہیں جائے گی کہ شوہر کے عدم وجود کی صورت میں شریعت کی منشا یہی ہے کہ عورت دم گھٹ کر مر جائے؛ آخر خاوند کی اجازت جو "ضروری" ٹھہرا رکھی ہے!

خلیفہ کی غیر موجودگی میں امت کے مصالح کے بر آنے کی ممکنہ متبادل صورتیں تو ضرور آپ زیر بحث لائیے؛ اس میں کوئی فریق زیادہ سخت ہو سکتا ہے اور کوئی زیادہ نرم؛ لیکن خلیفہ کی غیر موجودگی میں امت کے مصالح معطل ہی ٹھہرا دینا؛ تاتاریانِ وقت کے خلاف مسلمانوں کی مزاحمت کو حرام ہی ٹھہرا دینا، اور ان پر یہ واجب کر دینا کہ اب تو وہ لازماً دشمنانِ ملت کے مطیع و فرماں بردار شہری ہی بن کر رہیں؛ حتیٰ کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ماؤں بیٹیوں کی عصمت دری ہو تو بھی اُن بدکاروں پر ہرگز ہرگز ہاتھ نہ اٹھائیں؛ کیونکہ خلیفہ کی غیر موجودگی میں ایک دفاعی اقدام تک ہمارے اوپر حرام ہے اور خدا کو ناراض کر دینے کا موجب.... نہایت عجب فقاہت ہے!

(2) ابن قدامہ لکھتے ہیں:

جس وقت دشمن آ جائے اُس وقت جہاد اُن پر فرض عین ہوجائے گا، لہٰذا سب پر لازم ہو جائے گا اور کسی کیلئے اس سے پیچھے رہنا جائز نہ رہے گا۔ جب یہ ثابت ہو گیا تو وہ نہیں نکلیں گے مگر امیر کے اِذن سے؛ کیونکہ جنگ کا معاملہ امیر پر چھوڑا جاتا ہے، وہی ہے جو دشمن کے تھوڑے یا زیادہ ہونے کی بابت زیادہ صحیح علم رکھتا ہے، اور معلوم کر سکتا ہے کہ دشمن کے ٹھکانے کہاں کہاں ہو سکتے ہیں اور دشمن کی چالیں کیا کیا ہو سکتی ہیں۔ پس ضروری ہے کہ امیر کی حکمت عملی کی جانب ہی رجوع کیا جائے؛ کیونکہ یہی مسلمانوں کے حق میں محتاط تر ہے۔ الا یہ کہ امیر سے اِذن لینا ممکن نہ رہے کیونکہ دشمن نے ان پر اچانک حملہ کر دیا ہے۔ اس صورت میں امیر سے اِذن لینا واجب نہیں رہتا؛ کیونکہ مصلحت کا اس وقت یہی تقاضا ہے کہ دشمن سے قتال کیا جائے اور نکل کر اس کا سامنا کیا جائے۔ کیونکہ یہ طے ہو چکا ہے کہ دشمن کو اس وقت چھوڑ دینے میں نقصان ہی نقصان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کفار نے جب نبی ﷺ کے اونٹوں پر اِغارہ کیا اور ان کو لے اڑے، تو سلمہ بن الاکوع نے مدینہ سے باہر ان کو پالیا تو بغیر کسی اِذن کے اُن کا تعاقب کرنے چل دیے اور (سارا راستہ) اُن سے لڑائی کرتے رہے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے سلمہ کو سراہا اور فرمایا: ہمارے پیادوں میں بہترین سلمہ بن الاکوع ہے، نیز ان کو سوار کا حصہ بھی دیا اور پیادے کا بھی۔ (المغنی۔ کتاب الجہاد۔ مسئلة واجب علی الناس إذا جاءالعدو۔ ج 9 ص 7438)

یہ واقعہ حضرت سلمہ بن الاکوعؓ سے صحیح مسلم میں آتا ہے: (کتاب الجہاد والسیر، یا ابن الأکوع إذا ملکت ف أسجح)۔

(3) المغنی لابن قدامة۔ کتاب الجہاد ۔ مسئلة: ال إمام یست أجر قوماً یدخل بہم بلاد العدو۔ مسئلة دخل قومٌ لا مَنعة لہم دارَ الحرب بغیر إذن ال إمام فغنموا (ج 9، ص 7602)

المغنی کی یہ پوری فصل ہی اِس موضوع پر قابل توجہ ہے۔ ابن قدامہ مسئلہ ہی یہ اٹھاتے ہیں کہ مسلمانوں کا کوئی ایسا گروپ جو منعۃ (شوکت، stronghold) نہیں رکھتا دشمن کے ملک میں قتال کیلئے جا گھسا ہے اور مال غنیمت لے آیا ہے تو اُس مالِ غنیمت کی تقسیم کی کیا صورت ہو گی؟ یہاں جو قابل غور امور ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

1- ابن قدامہ امام ابو حنیفہ کے موقف کی توجیہ کرتے ہوئے یہ قاعدہ ذکر کرتے ہیں کہ اقدامی جہاد یا تو امام کے اِذن سے ہوتا ہے یا ایک ایسے گروپ سے جو قوۃ اور منعۃ رکھتا ہو۔

2- فقہاءاس گروپ کے لائے ہوئے مال غنیمت کی تقسیم کی بابت تین رائے رکھتے ہیں: امام شافعی کی رائے، جوکہ جمہور کی رائے ہے: یہ عمومی دستور کے مطابق ہی تقسیم ہو گا، یعنی خمس بیت المال میں جائے گا اور باقی، گروپ میں تقسیم ہو گا۔ امام ابو حنیفہ کی رائے: سارا مال گروپ میں تقسیم ہو گا۔ امام احمد کی رائے: سارا مال بیت المال میں جمع ہو گا۔

3- اس کے بعد ابن قدامہ ذکر کرتے ہیں کہ کوئی ایسا گروپ جو قوت اور شوکت کا مالک ہے، امام کی اجازت کے بغیر دشمن کی سرزمین میں کارروائی کر کے آتا ہے تو مالِ غنیمت کی تقسیم کی حد تک اُس کی بابت بھی فقہاءکی یہی آراءہیں۔

مقصد یہ کہ ایک قوت اور شوکت کی مالک جماعت یا قبیلے کا، امام کے اِذن کے بغیر بھی اقدامی جہاد کر آنا (جس کے اندر مصالح اور مفاسد بہرحال ملحوظ رکھے گئے ہوں) فقہاءکے یہاں کوئی ایسی اچھنبے کی بات نہیں۔ تو پھر دفاعی جہاد کی بابت کیا خیال ہے، جہاں دشمن خود آپ کے گھروں کے اندر گھس آیا ہو اور آپ کی عصمتیں اور عزتیں تار تار ہو رہی ہوں!

(4) دیکھئے: المغنی لابن قدامة۔ کتاب الجہاد ۔ مسئلة: یقاتل کل قوم من یلیہم من العدو۔ فصل و أمر الجہاد موکول إلی ال إمام واجتہادہ (ج 9، ص 7423)

(5) مضمون کا لنک:

http://www.h-alali.net/f_open.php?id=38320820-dc26-1029-a62a-0010dc91cf69

(6) مضمون کا لنک:

http://www.h-alali.net/f_open.php?id=3520c03a-dc27-1029-a62a-0010dc91cf69

(7) مضمون کا لنک:

http://almoslim.net/node/82469

(8) اور اگر ایک جہاد ابتداءً درست قرار پا گیا ہے، تو ظاہر ہے وہ اس وجہ سے باطل نہیں ہو جائے گا کہ مسلم افواج سے وقتی طور پر ان کے شہر چھن گئے ہیں، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں، کسی جنگی اسٹرٹیجی کے تحت مسلم افواج نے خود ہی شہروں سے نکل کر لڑنے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔ کوئی شخص ایک بار اگر امیر جہاد مان لیا گیا ہے تو یہ بات آپ کو پھر اُس پر چھوڑنا ہو گی کہ یہ جنگ اُس کو کس طرح اور کب تک لڑنی ہے۔ اب اُس پر بے اعتمادی کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے؛ خصوصاً جبکہ دنیا بھر کے عسکری ماہرین اپنی پیشہ ورانہ رائے بھی آپکے گوش گزار کر رہے ہوں کہ آپکا وہ امیر جہاد یہ جنگ نہایت خوب جیت رہا ہے اور شہروں سے باہر نکل کر لڑنے کی اُسکی وہ حکمت عملی نہایت کامیاب جا رہی ہے۔ بہرحال جنگ ایک بار شروع ہوتی ہے تو اُسکو اپنے انجام تک پہنچنا ہوتا ہے۔ حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا۔ قوموں نے خاصا خاصا وقت لگا کر اپنے کھوئے ہوئے ملک واپس لئے ہیں۔ یہ حضرات اگر سیکولر روایات ہی کو قابل اعتناءمانتے ہیں تو بھی 'جلاوطن' حکومت کا تصور اِن کیلئے نیا نہ ہونا چاہیے۔ خلیج کی پہلی جنگ میں، جب عراقی فوجیں ایک ہی رات میں کویت پر قبضہ کر لیتی ہیں تو کویت کے تاج بردار اپنی جلاوطن حکومت اٹھا کر سعودی عرب میں جا بیٹھتے ہیں اور پوری دنیا انکو 'امیر کویت' کا سٹیٹس دیے رکھتی ہے باوجود یکہ کویت کے ایک چپے پر انکا کنٹرول نہیں ہوتا، برخلاف ملا عمر کے جو اپنے ملک کے ایک حصے پر دسترس رکھتے ہیں۔ غرض ایسی مثالیں بے شمار ہیں کہ ایک حکومت نے جلاوطن ہو جانے کے بعد اپنا ملک واپس لے لیا ہو۔

(9) اسلام میں 'گاندھی کا مذہب' عام کرنے کے پرچارک یہ طبقے، جو محض ایک 'شرعی' پوائنٹ سکور کرنے کیلئے "ولی الامر" والی 'دلیل' پیش کرنے کے عادی ہیں.... جس وقت ان کو "ولی الامر" کی نشان دہی کر کے دے دی جاتی ہے، جس طرح کہ اماتِ اسلامی افغانستان کے دست پر امریکہ کے خلاف اعلانِ جہاد کے وقت ہوا، اور جس طرح کہ چیچنیا کی ایک "منتخب" حکومت کے اعلانِ جہاد کے وقت ہوا، تب یہ حضرات ان اولیاءالامور کے فیصلوں کے ساتھ اپنی رائے کے اختلاف کو بیچ میں لے آتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ملا عمر کو چاہیے تھا کہ یہ اور یہ فیصلہ کرتے اور اَصلان مسخادوف اور شامل باسائیف کو چاہیے تھا کہ یہ اور یہ فیصلہ کرتے، مگر چونکہ اُنہوں نے ہمارے اِن حضرات کی رائے کے مطابق فیصلہ نہیں کیا، لہٰذا اب اُن کا جہاد، جہاد نہیں کہلائے گا! یقینا اس میں حرج نہیں کہ تجزیۂ حالات و واقعات کی بابت یہ حضرات بھی اپنی کوئی رائے رکھیں اور یہ تجویز کریں کہ ملا عمر کو فلاں اور فلاں فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ملا عمر نے اپنی بہترین صوابدید کے مطابق اگر کوئی فیصلہ کیا ہے، اور وہ فیصلہ ہمارے اِن حضرات کے تجزیہ و آراءکے موافق نہیں ہے، تو یہ بات ایک مسلم حکمران کے اعلانِ جہاد کو باطل قرار دینے کی بنیاد کیسے بن جائے گی؟ خصوصاً جبکہ امکان ہو کہ وہ بہت سے امور جو ایک فیصلہ کرنے کیلئے درکار ہوں وہ اِن حضرات سے اوجھل ہوں اور اُن کا علم اُس مسلم حکمران ہی کو ہو۔ یعنی امیر وہ ہوں اور رائے و تجزیہ ہمارے اِن حضرات کا چلے! اور اگر امیر صاحب عین وہ فیصلہ نہ کریں جو ہمارے اِن حضرات کا تجویز کردہ ہے تو اُن کا جہاد باطل! یہاں تو پھر جہاد کے "شرعی" ہونے کی ایک نہیں دو شرطیں ہو گئیں: ایک یہ کہ "ولی الامر" پایا جائے، اور دوسری شرط یہ کہ "ولی الامر" عین وہ فیصلہ کرے جو ہمارے اِن حضرات کی سمجھ میں آتا ہے! اب یہ الجھن دوچند ہو جاتی ہے؛ پہلی"شرط" کا بندوبست اگر کسی طرح ہو بھی جائے، جیساکہ افغانستان و چیچنیا کے معاملہ میں یقینا ہوا ہے، تو دوسری شرط کا بندوبست کہاں سے کیا جائے؟ "ولی الامر"، جس کی اِس قدر ڈھنڈیا پٹتی رہی ہے، کیا ہماری اسلامی اصطلاح میں اُس شخص کو نہیں کہا جاتا جس کا فیصلہ چلنا چاہیے!؟

Category: منہج

ايقاظ كا تازه شماره

2-Eeqaz Apr-jun 2012