Download PDF

20110734

قابض کفار کے خلاف جہاد

مذاہب اربعہ کے نزدیک

جمع و ترتیب: عبد الفتاح قدیش الیافعی

ترجمہ : محمد زکریا خان

چاروں ائمہ کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جہاد فرض عین ہو جاتا ہے جب (مسلم اراضی میں) دشمن گھس آئے جس کی تفصیل درج ذیل ہے : کتاب 'الانصاف'میں امام مرداوی لکھتے ہیں:جہاد فرض عین کی صورت اس طرح ہے کہ من جملہ وہ لوگ جن پر جہاد فرض ،ہے اگر دشمن اور مسلم سپاہ آمنے سامنے ہو جائیں تو وہاں پر جتنے لوگ حاضرہوں گے سب پر فرض عین ہوگا (صفوں کے آمنے سامنے ہونے کے سبب) یا جب دشمن گھس آیا (کسی مسلم آبادی میں) تو فرض عین ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اہل علم کہتے ہیں کہ خواہ دشمن بیابان یا غیر آباد زمینوں تک آیا ہو تب بھی اہل قریہ پر فرض عین ہو گا۔ بعضے اہل علم ایسی صورت میں جب دشمن کسی علاقے میں گھس آئے تو جہاد کو فرض کفایہ ہی کہتے ہیں جس کی تفصیل اگلی سطور میں آ رہی ہے۔

جہاد جب پر فرض عین ہو جائے تو اس پر فقہاءکرام کی جو آراءہیں انہیں ہم یہاں بالترتیب بیان کرتے ہیں۔

فقہاءاحناف کے اقوال: 'درر الحکام' میں مذکور ہے: فرض عین ہو گا جہاد جب حملہ ہو۔یعنی مسلمانوں کے کسی سرحدی علاقے پر حملہ ہو تو قرب و جوار کی مسلم آبادی پر جہاد متعین ہو جائے گاجبکہ وہ مقاومت کرنے کی طاقت رکھتے ہوں۔صاحب 'النہایہ' نے کتاب 'ذخیرہ' سے نقل کیا ہے: جب دشمن کا کوئی دستہ گھس آیا تو اس علاقے کی قرب و جوار کی آبادی پر جہاد متعین طور پر فرض ہو جائے گاالبتہ دور کے لوگوں پر بہ دستور سابق فرض کفایہ رہے گااور برابر ہے ان (دور والوں) پر خواہ شریک جہاد ہویں یا تارک جہاد، یہاں تک کہ ان کی احتیاج پیدا نہیں ہو جائے۔ (جب احتیاج پیدا ہو گئی) تو ان پر بھی لازمی ٹھہراجہاد فرض عین دو وجہ کے سبب : یا تو (جن پر اول اول فرض عین تھا) وہ مقابلے پر پورے نہیں اتر رہے یا سستی یا بزدلی کی وجہ سے مقابلے کو نکلے ہی نہیں۔ اس طرح فرض عین کا دائرہ بڑھتا چلا جائے گاجبکہ لڑنے والے پورے نہ اتر رہے ہوں(یا جو اوپر سبب مذکور ہوا) یہاں تک کہ مشرق سے لے کر مغرب تک سبھی پر فرض عین ہو جائے گا۔

درر الحکام کے حاشیہ میں مذکور ہے: حملے کی صورت میں فرض عین ہو گا۔ "کنز" اور دوسری مدونات میں یہی بیان ہوا ہے۔ یہ دائرہ بڑھتے بڑھتے سب مسلمانوں کو محیط ہو جائے گاخواہ حملہ ایک محلے پر ہی کیوں نہ ہوا ہو۔ یہی بات صریح طور پر 'منیة المفتی' میں مندرج ہوئی ہے کہ نفیر عام کی صورت میں ہر اس فرد پر جہاد متعین ہو جاتا ہے جسے(دشمن کے حملہ آور ہونے کی) اطلاع مل گئی اور وہ پاتا ہو زاد راہ اور سواری۔

'مجمع الانہر' میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے: جب حملہ کرے عدو یعنی مسلمانوں کے علاقوں میں سے کسی علاقے پر غلبہ پا لیا عدو نے یا کسی اراضی پر چڑھ دوڑا تو جہاد فرض عین ہو گا۔

مجمع الانہر میں 'ذخیرہ' سے نقل کیا گیا ہے: اگر چڑھ دوڑا تو فرض عین ہو گا نزدیک کی آبادی پرجبکہ وہ جہاد کی قدرت پاتے ہوں۔ جہاں تک دور والی آبادی کا تعلق ہے تو ان پر جہاد کا حکم موقوف ہے اس بات پر کہ نزدیک کی آبادی والے جن پر حملہ ہوا ہے دشمن کو نکال باہر کرنے میں عاجز آ رہے ہیں یا عاجز تو نہیں آرہے ہیں (اگر مقابلہ کرتے ہوں)پر سستی کے سبب نہ لڑتے ہوں یا اس بات کو غیر سنجیدگی سے لے رہے ہوں کہ دشمن چڑھ دوڑا ہے تو پھر دور والی آبادی پر بھی جہاد متعین جو جائے گا ۔ اس طرح فرض عین کا دائرہ مشرق سے پھیلتے پھیلتے مغرب تک پہنچ جائے گا۔

فقہ حنفی کی کتاب 'بحر الرائق' میں مذکور ہے: فرض عین ہو گا جب حملہ ہو کسی مسلم خطے پراور دور والوں پر بھی فرض عین ہو گا اگر وہ خود دشمن کے مقابلے پر پورے نہ اتر رہے ہوں،سبب خواہ سستی ہو یا کوئی اور، یہاں تک کہ تمام اہل اسلام پر محیط ہو گا۔ 'حصکفی' کی شرح کے حاشیہ میں ابن عابدین لکھتے ہیں: مصنف کا یہ قول کہ 'فرض عین ہو گا' کی تشریح یہ ہے کہ عدو کے نزدیک والی آبادی پر، اگر وہ عاجز آ گئے یا سستی دکھاتے ہیں تو پھر ان کے نزدیک کی آبادی پر پھر ان سے نزدیک والی آبادی پر اور اس تدریج سے دائرہ بڑھتا جائے گا مشرق تا مغرب تمام آبادیوں تک ۔ جیسا کہ 'ذخیرہ' کی بابت صاحب 'درر' کی عبارتیں وضاحت کرتی ہیں۔

فقہاء مالکیہ کے اقوال: 'مختصر خلیل' میں مذکور ہے:متعین ہو گا عدو کے اچانک حملہ کرنے سے خواہ کسی ایک عورت پر دست درازی کی گئی ہو اور اسی طرح ساتھ والی آبادی پر اگر یہ عاجز آویں۔

خلیل کی شرح 'خرشی' میں مذکور ہے: مصنف اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ جہاد ہر ایک پر متعین ہو جائے گاخواہ وہ ان اصناف میں شمار نہ ہوتے ہوں جو جہاد کے اہل سمجھے جاتے ہیں جیسے عورت، غلام اور ان جیسے۔

جب اچانک کسی آبادی پر دشمن چڑھ دوڑا اور (وہاں کے مسلمان) دشمن کو نکال باہر کرنے میں پورے نہیں اتر رہے ہیں تو نزدیک والوں پر فرض عین ہو گا بشرطیکہ خود نزدیک والوں پر دشمن کے حملے کا خطرہ نہ ہو۔ اگر دشمن کی طرف سے کوئی ایسی حرکت ظاہر ہوئی جس سے ظن غالب ہوا کہ حملہ کریں گے نزدیک والی آبادی پر بھی( اگر وہ گئے اپنے بھائیوں کی مدد کو) تو ٹکے رہیں گے اپنے مقام پر۔

'علیش' شرح مختصر خلیل میں مذکور ہے: متعین ہوتا ہے عدو کے اچانک حملے سے۔ یعنی حربی کافر کے اچانک گھس آنے سے جبکہ وہ نکال سکتے ہوں(حملہ آور کو) یا پھر ان گھروں کے قریب والوں پر(کہ آویں مدد کو) ہر وہ شخص جس سے قتال کی کوئی صورت بن پڑتی ہو تاکہ منہ توڑ جواب ملے دشمن کو۔ اگر یہ بھی عاجز آ گئے تو ساتھ والی آبادی پر متعین ہو گا بشرطیکہ خود ان کے( نکلتے ہی دشمن خالی بستی دیکھ کر) اہل و عیال یا گھروں پر حملہ نہ کر دے۔

خلیل کی شرح 'دردیر' میں مذکور ہے: کسی قوم پر دشمن کے حملے کی صورت میں متعین ہو جائے گاخواہ کسی ایک عورت پر حملہ ہو یا کسی ایک غلام پر ۔ اگر وہ دشمن کے لیے کفایت نہ کرتے ہوں تو پھر ساتھ کی آبادی پر۔

مالکیہ کی کتاب 'تاج و اکلیل' میں مذکور ہے: دشمن کے اچانک گھسنے سے جہاد متعین ہو گا۔ اس بابت ابو عمر کہتے ہیں: ہر ایک پر متعین ہو گا اگر دشمن قابض ہوا لڑ کر۔ تو لازم ہو گا اس علاقے کے مکینوں پر نکلنا خواہ ہلکے ہوں یا بھاری، جواں سال و پیرانہ سال(نہ رہے پیچھے جو نکل سکنے کی طاقت پائے) (طاقت ور اس سبب کہ) دشمن کا مقابلہ کریں گے اور (کمزوروں کی شرکت سے) مسلمانوں کی تعداد بڑھنے سے دشمن پر رعب بیٹھے گا۔ اگر اس آبادی کے مکین عاجز ہوئے مزاحمت سے تو فرض ہو گا نزدیک کی آبادی پر (بالترتیب ایک کے بعد دوسری)۔ جس جس کو دشمن کے حملہ آور ہونے کی خبر پہنچی اور یہ بھی کہ وہ دشمن کے مقابلے پر پورے نہیں اتر رہے، سو اگر اس کے لیے پہنچنا ممکن ہے تو فرض عین ہو گا۔ وجہ اس کی یہ کہ المسلمون کلہم ید علی من سواہم 'ہوتے ہیں سارے مسلمان ہوتے ہیں مانند ایک مٹھی کے اپنے سوا اوروں پر'۔ اور اسی طرح (دوسری) نزدیک والی آبادی پر اگر پوری نہ اتر پا رہی ہو(پہلی والی نزدیک کی آبادی)، ابن بشیر کہتے ہیں: اگر دشمن کے کسی دستے نے اگرچہ ایک ہی مسلمان کا قصد کیا ہو سو اگر مقاومت کی قدرت پائیں تو واجب ہو گا۔ اگر عاجز ہوئے دشمن کے مقابلے میں تو نزدیک کی آبادی پر مدد کرنا واجب ہو گا۔ نیز لکھتے ہیں کہ مازری نے یہ بات ان الفاظ میں مندرج کی ہے: اذا عصی الاقرب وجب علی الابعد 'نزدیک والے نافرمان ہوئے تو واجب ہوا دور والوں پر۔

فقہاءشافعیہ کے اقوال: زکریا انصاری 'اسنی المطالب' میں لکھتے ہیں: کافروں کے گھس آنے سے متعین ہو جائے گا جب وہ مسلم آبادی میں گھس آئے اس سبب سے کہ مسلم آبادی میں دشمن کا پایا جانا ایک عظیم خطرہ ہے جس سے ہرگز صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ جب گھس آیا دشمن کسی بستی میںتو تمام مکلفین پر فرض ہو جائے گا۔

اسنی مطالب کے حاشیہ میں مذکور ہے: جہاں تک مصنف کا یہ قول ہے کہ یتعین علیہم بدخول الکفار :(متعین ہو جائے گا دشمن کے گھسنے سے) تو کیا اس سے مراد فی الواقع دشمن کا گھس آنا مراد ہے یا گھسنے کا خطرہ بھی یہی حکم رکھتا ہے تو اس پر(ہمارے اصحاب کی) دو آراءہیں۔ اختلاف کا خلاصہ یہ ہے کہ ( قیاس ہو گا اس کا اس بات پر کہ )زوال(شمس) کا نزدیک ہونا کیا اس طرح سمجھا جائے گا کہ گویا پورا زوال ہو چکا۔ ہمارے شیخ کہتے ہیں کہ یوں دیکھنا چاہیے کہ ظن غالب کیا ہے۔ اگر گمان ہوا کہ دشمن گھسنے کو ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ دشمن گھس چکا خواہ دشمن نے آغاز نہ کیا ہو۔

اسنی المطالب میں ہی ایک اور جگہ مذکور ہے: لڑنے والوں کے میسر ہونے پر دشمن کا انتظار کرتے رہنا کہ حملہ آور ہو تو جواب دیں جائز نہ ہو گا۔ ہاں عاجز آنے پر اہل بلد پر ہی نہیں قریب اور پھر اس سے قریب والوں پر متعین ہوتا چلا جائے گاکہ کمک پہنچائیں جبکہ قادر ہوں اس پر۔

(دور والی آبادی سے کتنی مسافت مراد ہے) اتنی مسافت جہاں سے نماز قصر کا حکم لگتا ہو۔ (جو لوگ نماز قصر کی مسافت کے بعد ہیں اُن پر اس صورت میں) متعین ہو گا جب ان کی احتیاج پیدا ہو جائے۔ ہاں اگر (جن پر حملہ ہوا ہے) کفایت کرتے ہوں تو متعین البتہ نہ ہو گا۔ بنا سبب کے پوری امت پر واجب ہونا(اور کاموں میں شدید) حرج کا باعث بنے گا۔ بنا بریں نزدیک والوں پر فرض عین ٹھہرا اور دور والوں پر فرض کفایہ۔

اسنی مطالب میں ایک اور مقام پر مذکور ہے: ولو نزلوا علی خرابِ او مواتِِ' خواہ گھس آئے بیابان میں'یا اجاڑ زمینوں میںخواہ دار الاسلام سے دور ہی ہوںتو اس کا حکم ایسے ہے جیسے بستی میں گھسنے کا۔

'بھجہ' کی شرح میں مذکور ہے: اس کے بعد صاحب منظومہ (بھجہ منظوم اشعار پر مشتمل فقہی احکام کا مجموعہ ہے)فرض عین جہاد کے متعلق لکھتے ہیں: جب کبھی عبور کر لیا دشمن نے مسلم اراضی کو خواہ بیابان ہوں یا اجاڑ زمینیں یا قیدی بنا لے گئے کسی مسلمان کو جس کی رہائی کی امید ہے (مقتول نہیں کر دیا گیا) تو ہر صاحب قوت پر جہاد متعین ہو جائے گا۔ یعنی معاملے کی سنگینی کے سبب ہر مکلف پر جہاد فرض عین ہو جائے گاہر اس پر جس کی قوت سلامت ہے۔

تحفۃ المحتاج میں مذکور ہے: اور اسی طرح کی بات نہایۃ المحتاج میں بھی ذکر ہوئی ہے۔ دوم ، کفار کے احوال کا بیان: دشمن گھس آیا مسلمانوں کی آبادی میں یا ان کے بیابانوں میں یا ان کے پہاڑی سلسلوں میں جیسا کہ مصنف نے حسن ترتیب کو ملحوظ رکھ کر ابواب ترتیب دیے ہیں۔ سو ایسی صورت میں قریب کی آبادی اور دور کی آبادی کے احکام مختلف ہوں گے۔ اگر ہماری کسی آبادی میں گھس آئے دشمن اتنی مسافت سے جس میں نماز قصر نہیں ہوتی تو یہ باور ہو گا ایک عظیم ترین خطرہ جس کے سبب فرض ہو گا اہل بلد پر متعین طور پر۔اور واجب ہو گا مقاومت کرنا ہر اس چیز سے جو پائیں اپنے پاس۔ پھر اس میں کچھ اور تفصیلات بھی ہیں۔ اگر اتنا موقع مل گیاکہ کیل کانٹے سے لیس ہو سکتے ہیں تو اسلحہ بند ہو کر مقابلے پر نکلنا واجب ہو گا۔

تحفہۃالمحتاج کے حاشیہ میں مذکور ہے: عہد نبوت میں جہاد متعین ہواتھا جنگ احزاب میں کیونکہ دشمن نے حملہ کرتے ہوئے شہر کا گھیراؤ کر دیا تھا۔ کفار کے مدینہ منورہ کا گھیراؤ کرنے کے سبب سبھی پر جہاد فرض ہو گیا تھا۔

کتاب 'منہج' کی شرح میں مذکور ہے: جب ہماری کسی بستی میں گھس آئے عدو تو جہاد متعین ہو جائے گا بستی کے مکینوں پرخواہ انہیں اسلحہ بند ہونے کا موقع مل پایا یااچانک حملہ ہونے کے سبب نہ مل پایا۔ ان سبھی پر جو نماز قصر کی مسافت کے اندر کے مقیم ہوں خواہ چند لوگ عدو کے مقابلے کے لیے کافی ہوں(تب بھی دوسرے سبھی لوگوں پر واجب ہے کہ نکلیں) اس صورت میں ہر مقیم کا حکم اس شخص جیسا ہے جو جہاد کی صف بندی کے وقت موجود ہو۔ جو لوگ نماز قصر کی مسافت کے بعد ہیں ان پر عند الحاجہ متعین ہو جائے گا، اتنے لوگوں پر جو پہلے والوں کو دشمن کے مار بھگانے کے لیے کفایت کر جائیں۔ سو متعین ہوا قریب والوں پر اور دور والوں پر فرض کفایہ۔

ابن حجر ہیتمی کی کتاب زواجر میں مذکور ہے: باب الجہاد، کبیرہ گناہوں کا بیان، تین سو نوے : بیان ان کا جو تارک ہوئے جہاد کے جبکہ تھا جہاد فرض عین ان پر۔ جیسے حربی کافر کا مسلمانوں کے علاقے میں گھس آنا۔ یا کسی مسلمان کو گرفتار کر لیا گیا اور اسے آزاد کرا نا مقدور میں ہے ان کے۔ یا وہ جو تارک ہوا جہاد کا بالکلیہ۔ یا وہ چھوڑ دیتا ہے ایسے مقام کو جہاں سے دشمن کے گھس آنے کا خطرہ ہے ۔ (یہ ہوئیں جہاد میں کبیرہ گناہ کی صورتیں)۔

مغنی المحتاج میں مذکور ہے: کفار کے احوال کا بیان، گھس آئے ہماری کسی آبادی میں، یا پڑاؤ کیا ہمارے کسی جزیرے پر، یا کسی پہاڑی سلسلے میں خواہ آبادی سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو تو اہل قریہ پر ہر ممکن ذریعے سے انہیں نکال باہر کرنا واجب ہو گا۔ایک ایک فرد پر واجب ہو گا۔

یہ بھی کہا جاتاہے کہ فرض کفایہ ہی رہے گا۔ بلقینی نے امام شافعی کے اسی قول کی توثیق کی ہے۔ سو اگر اسلحہ بند ہونے کا موقع مل گیا تو تیار ہو کر جانا واجب ہو گا اور ہر میسر ذریعے سے مقاومت کرنا واجب ہو گا۔

مرتب مضمون ہذا یہاں ایک تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جن اہل علم نے مسلم اراضی میں دشمن کے گھس آنے کی صورت میں اہل بلد پر جہاد فرض کفایہ کی بات کی ہے تو اس بات میں اور دوسروں کے قول میں باریک سا فرق ہے۔ فرض عین کہنے والے اہل علم کے قول سے مراد ہے اگر چند لوگ دشمن کو مار بھگانے کے لیے کافی ہو جاتے ہیں تو دوسروں سے فرضیت ساقط نہیں ہوتی جبکہ اس قول کی رو سے اگر مقصود کچھ لوگوں سے حاصل ہو جائے تو باقیوں پر فرض کفایہ ہے۔ دونوں آراءکا خلاصہ یہ ہے کہ دشمن قبضہ برقرار رکھنے میں ہر دو صورت ناکام ہو جائے اور علاقہ ان سے خالی ہو جائے۔

فقہاءحنابلہ کے اقوال: 'کشاف القناع'میں مذکور ہے: یا پھر عدو ان کے علاقے کا گھیراؤ کر لے یا دور والوں کی احتیاج پیدا ہو جائے یا کافر صف اور مسلمانوں کی صف کی مڈ بھیڑ ہو یا جسے 'نفیر عام'(ایسا دفاع جو اجتماعی طور پر سب نے کرنا ہو) بلانے کا اختیار ہو ، اس کے بعد(پیچھے رہنے کا) کوئی عذر معتبر نہیں رہتا۔ یعنی ان پر جہاد متعین ہو جاتا ہے۔

' مغنی ' میں ابن قدامہ لکھتے ہیں: جب عدو گھس آئے تو جہاد واجب ہو جاتا ہے ہر ایک طاقت رکھنے والے پر بھی اور نہ رکھنے والے پر بھی۔ نفیر سے مراد ہے سب کو شامل جو اہل قتال میں شمار ہوتے ہوں۔ نیز جب احتیاج پیدا ہو گئی اس سبب سے کہ اچانک عدو نمودار ہوا تو نہیں ہو گا روا پھر کسی کا پیچھے رہ جانا(قتال سے) سوائے ان کے جنہیں اہل و عیال، گھر بار اور مال و متاع کی حفاظت کے لیے مامور کیا گیا ہو یا جسے امیر منع کر دے شمولیت سے یا جو قتال کے لائق نہ رہا ہو۔

'سیاسہ شرعیہ ' میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں: جب دشمن مسلمانوں پر چڑھائی کا ارادہ رکھتا ہو تو واجب ہو گا مقاومت کرنا ان پر بھی جو اس مقصد کے لیے ہوتے ہیں اور ان پر بھی جو اہل قتال میں شمار نہیں ہوتے، ہر ایک سے اس کی استطاعت کے بقدر جان و مال سے دفاع کرناخواہ تعداد میں کم پڑیں یا زیادہ، سواری والے اور جنہیں سواری میسر نہیں۔ جس طرح غزوہ خندق میں عدو نے قصد کیا تھا مدینہ منورہ کا۔ اور نہیں اجازت دی تھی آپ نے ترک جہاد کی کسی کو بھی جیسے پہلے غزوات میں جہاد کا اختیار تھاکیونکہ ان غزوات میں مسلمانوں نے از خود دشمن کا قصد کیا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ ایسے جہاد سے دین کی، جانوں کی اور حرمتوں کی حفاظت مقصود ہے۔ اسے اضطراری قتال کہا جاتا ہے۔ دوسرے قتال کو اختیاری قتال کہتے ہیں جس سے مقصودہوتا ہے دین کی ترقی یا دشمن پر رعب بٹھانا اور دین کو سر بلند کرنا۔ (جبکہ اضطراری جہاد میں دین داو پر لگ جاتا ہے مترجم)

فتاویٰ کبریٰ میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں: جب دشمن چڑھ دوڑا مسلمانوں کی آبادیوں پر تو بلا شک و شبہہ قریب سے قریب تر والی آبادی پر بالترتیب جہاد متعین ہو جائے گا اس سبب سے کہ کسی ایک مسلم آبادی کا حکم اور ساری مسلم آبادی کا حکم یکساں ہے۔ بنا بریں اولاد بلا اذن والدین، مقروض بلا اطلاع قرض خواہ کے سب جہاد کو نکلیں گے۔ احمد(بن حنبل) کی نصوص اس پر بہت وضاحت سے موجود ہیں۔ (فقہ حنبلی کے) مختصرات میں ایسی تفصیل نہیں ملتی۔ جو اختلاف ہے وہ اس پر کہ اگر کچھ لوگ ہی دشمن پر کفایت کرتے ہوں تو پھر بھی سب پر واجب ہے یا جہاد اختیاری ہو گا اس میں البتہ امام احمد کے ہاں تفصیل پائی جاتی ہے۔

اس کے بعد مرتب دشمن کے حملہ آور ہونے کی صورت میں جو احکام مترتب ہوتے ہیں ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

دشمن کے چڑھ آنے کے احکام

الف) جن پر پہلے کسی وجہ سے جہاد متعین نہیں تھا اس صورت میں جہاد ان کو بھی شامل ہو جاتا ہے جیسے نا بالغ، غلام، نابینا، لنگڑا، بیمار ہر وہ شخص جو جا سکتا ہو۔

ب) بعض اہل علم کے نزدیک اگر مذکورہ بالا اصناف کے بغیر دشمن کے خلاف کافی قوت میسر ہو جاتی ہے تو جو اہل جہاد میں شمار نہیں ہوتے ان سے وجوب ساقط ہو جاتا ہے۔

ج) اقدامی جہاد میں جن اصناف کا جہاد پر جانا اجازت سے مشروط ہے ، اجازت کی شرط دشمن کے حملہ آور ہونے کی صورت میں ساقط ہو جاتی ہے۔چناچہ امام، شوہر، آقا وغیرہ کی اجازت کے بغیر ہی جہاد مشروع ہو جاتا ہے۔

بعض اہل علم اجازت کے ساقط ہونے کے قائل نہیں ہیں۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اجازت لینے کی شرط اس وقت ہے جب اچانک حملہ نہ ہو۔ امام کی شرط اس وجہ سے ساقط نہیں ہوتی کہ وہی بہتر جانتا ہے کہ جہاد کس نظم سے کرنا ہے۔ اس کی مزید تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔

اس بابت مزید تفصیلات درج ذیل ہیں

حنفیہ کے اقوال : درر الحکام: عورت شوہر کی اجازت کے بغیر اور غلام آقا کی اجازت کے بغیر نکلے گا(عدو کو نکال باہر کرنا) اس طور ہی ممکن ہے اس لیے یہ سب پر واجب ہوا۔ شوہر اور آقا کا حق انفرادی ہے اور مشترکہ حقوق سے کم درجے کا ہے۔ جس طرح نماز اور روزہ رکھنے کا انحصار اجازت پر نہیں ہے اسی طرح اس مسئلہ میں بھی ہے۔ نفیر کے علاوہ دوسری قسم کے جہاد کے لیے اتنی تعداد درکار ہوتی ہے جس سے مقصود حاصل ہو جائے۔ اس صورت میں جن کے پاس اجازت دینے کا اختیار ہے وہ یہاں ساقط نہیں ہوتا۔

در ر الحکام کے حاشیہ میں مذکور ہے: قاضی خان کہتے ہیں، اگر نفیر ہو گیا اور اطلاع پہنچ گئی کہ دشمن مسلمانوں کی آبادی میں سے فلاں جگہ پایا جاتا ہے تو جوان والدین سے اجازت نہ لے گااس لیے کہ آفت ٹوٹی مسلمانوں پر یا ان کے متعلقین پر یا ان کے اموال پر۔ سو اگر مقابلہ کرنا پڑا اس قبیل سے جو سب کو شامل کرتا ہے تو واجب ہو گا نکلنا قتال کے لائق ہر شخص کو جبکہ پاتا ہو وہ سواری اور زاد راہ۔ کسی کے لیے جائز نہیں کہ ( اب بھی وہ اپنے گھر میں) بیٹھا رہے۔

نصب الرایہ میں مذکور ہے: نہیں نکلے گی کوئی عورت غزوہ کے لیے مگر اپنے شوہر کی اجازت سے نہ غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ ہاں اگر مسلمانوں کے کسی علاقہ پر دشمن حملہ آور ہوا تو یہ قسم ہے اضطرار کی۔

مجمع الانہر میں مذکور ہے: .... فرض عین ہوا۔ سو عورت بلا اذن شوہر، اور غلام بلا اذن آقا کے نکلے گا اس سبب سے کہ یہ امر سبھی کے کرنے کا ہے اس بنا پر سب پر فرض عین ہوا۔ اور اس اجتماعی فرض کی وجہ سے شوہر اور آقا کا حق مقدم نہ ٹھہرا۔ بیٹا والدین کی اجازت کے بغیر، مقروض قرض خواہ کے علم میں لائے بغیر۔ اگر منع کرتے ہوں تو گناہ گار ہوں گے۔

فتح القدیر میں مذکور ہے: اگر دشمن حملہ آور ہوا تو سب پر جہاد متعین ہو جائے گا۔ عورت اور غلام بلا اذن کے نکلےں گے۔نکاح کی وجہ سے حق زوج اور عوض کے بدلے حق خدمت جو آقا کو حاصل ہوا تھاوہ فرض عین کی ادائیگی میں مانع نہیں ہوتاجیسے نماز اور روزہ۔ برخلاف ایسے جہاد کے جو نفیر عام قبیل سے نہیں ہے ایسے جہاد میں عورت اور غلام کے بغیر ہی کفایت ہو جاتی ہے اور اس قسم کے جہاد میں شوہر اور آقا کا حق ساقط نہیں ہوتا۔

تبیین الحقائق میں مذکور ہے: فرض عین ہو جاتا ہے عدو کے حملہ آور ہونے سے۔ اس سبب عورت اور غلام بلا اذن نکلیں گے کیونکہ مقصود سب کے نکلنے پر منحصر ہوا۔ اس لیے سب پر جہاد کرنا متعین ہوا۔ قاعدہ ہے کہ شوہر اور آقا کا حق فروض اعیان کی ادائیگی میں مانع نہیں ہوتا مانند نماز اور روزہ کے۔ البتہ جو جہاد نفیر کے قبیل سے نہیں تو اس میں ان کے سوا کفایت ہو جاتی ہے اور مقدم رہتا ہے دونوں کا حق (یعنی شوہر اور آقا کا کہ لیویں ان سے اجازت پہلے)

بحر الرائق میں مذکور ہے: مصنف کا یہ کہنا کہ فرض عین ہے عدو کے حملہ کرنے سے سو عورت اور غلام بلا اذن نکلیں گے۔ مصنف کے اس قول پر قیاس کیا جائے گا بیٹے کاوالدین کی اجازت کے بغیر کیونکہ یہ بیوی اور غلام سے اولیٰ ہے۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے مقروض قرض خواہ سے اذن نہ لے گا۔ سو اگر منع کیا مالک نے یا شوہر نے تو وہ گناہ گار ہوئے۔ یہی بات 'ذخیرہ' میں بھی ہے۔ علاوہ اس کے ایک شرط استطاعت کی بھی ہے تو لاغر مریض نہ نکلے مگر جس میں چلنے کی ہمت ہے تو وہ مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کے لیے نکلے گاتاکہ دشمن پر رعب بڑھے۔ یہی بات 'فتح القدیر' میں بھی مذکور ہے۔

مجمع الانہر میں مذکور ہے: ایک اور شرط استطاعت کی بھی ملحوظ رکھی جائے کیونکہ لاغر مریض پر فرض نہ ہو گا یا جس کے پاس زاد راہ اور سواری نہیں۔

ابن عابدین 'حصکفی' کی شرح کے حاشیے میں لکھتے ہیں: فیخرج الکلّ(سبھی نکل کھڑے ہوں) سے مصنف کی مراد ہے : مرد، عورت، غلام، مقروض اور ان جیسے دوسرے۔ یہی بات سرخسی نے بھی کی ہے۔ لڑکے جو بلوغت کو نہیں پہنچے اگر لڑنے کے لائق ہوں تو وہ بھی نکلیں گے خواہ ان کے سرپرستوں کو ناگوار ہی گزرے۔

اجازت کی شرط کے بارے میں مالکیہ کے اقوال:

خلیل کی شرح خرشی میں مذکور ہے:متعین ہو گا اچانک دشمن کے نمودار ہونے سے حتی کہ عورت پر، ہر فرد پر خواہ اہل جہاد سے نہ ہو جیسے عورت، غلام وغیرہ جب دشمن اچانک مسلمانوں کی آبادی میں گھس آئے۔

خلیل کی شرح علیش میں مذکور ہے: اگر تو معاملہ رہا آزاد مردوں تک کہ پورے اتر جائیں گے سب جو قتال کے قابل شمار ہوں بلکہ عورت بھی اور غلام بھی اور لڑکے اگر برداشت کر سکیں۔ سو اس صورت میں غلام، عورت اور نابالغ لڑکوں کا غنیمت میں پورا حصہ ٹھہرے گا اس لیے کہ وہ ہیں اس صورت میں اہل جہاد میں شمار اور جہاد ان پر واجب تھا۔

شافعیہ کے اقوال:

اسنی المطالب میں مذکور ہے: حتی کہ عورتوں اور غلاموں پر ضعیف عورتوں کے سوا سب پر متعین ہو گا۔ اصل الفاظ یوں مذکور ہوئے ہیں: نہ حاضر ہوں گی ضعیف عورتیں۔ رافعی نے اس کا سبب یہ بتلایا ہے کہ وہ الٹا مصیبت کا باعث ہوں گی اور دھڑکا لگا رہے گا ان کی طرف سے اوروں کو۔ سو نہیں اختیار رہے گا مالک کو غلام پر، نہ شوہر کا جورو پر اور نہ اصل (سرپرست) کا فرع (زیر سرپرستی) پرجبکہ گھس آیا کافر آبادی میں۔ ایک اور مقام پر ہے بلکہ معذوروں پر بھی واجب ٹھہرا از قسم نابینا، لنگڑا، بیمار اور اسی طرح اور لوگ جو نماز قصر کی مسافت کے اندر مقیم ہوںخواہ سبھی کے شامل نہ ہونے سے کفایت ہی ہوتی ہو پھر بھی واجب ہے تاکہ دل مضبوط ہوں اور خوب جان لے کافر (ردعمل کو) کہ جسارت کی اس نے حملے کی۔

رملی کے حاشیہ میں جو اسنی مطالب پر ہے مذکور ہے: نہیں اختیار رہے گا آقا کا غلام پر نہ ہی شوہر کا بیوی پر اور اصل کا فروع پر، قرض خواہ کا مقروض پر۔ یہ دین کے دفاع کا مسئلہ ٹھہرا کوئی معمول کا غزوہ نہیں۔ لازم ہوا ہر ایک پر جو اس سے بن پڑے۔ اگر باز رہیں گے تو تباہی ہو گی۔ اس لیے والدین اور قرض خواہ کی اجازت سے یہ مسئلہ مقدم ہے۔

تحفة المحتاج میں مذکور ہے: یہاں تک کہ جن پر جہاد واجب نہیں جیسے تنگ دست غریب۔ جو اس سے بن پڑے۔ اسی طرح لڑکے، مقروض، غلام اور مضبوط(اعصاب رکھنے والی) عورت، بلا اذن۔ اور یہ ایسا عظیم خطرہ ہے کہ اس طریق پر اس کا سدباب کیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر آزاد مرد کفایت کرتے ہوں تو پھر ان اصناف پر اذن لینا لازم ہے۔ صحیح بات وہی ہے کہ نہیں۔ قوت بڑھانے کے واسطے ۔

شرح المنہج میں مذکور ہے: سو واجب ہوا جن کا ذکر گزراان سب پر جو اہل جہاد میں شمار ہوتے ہیں یہاں تک کہ غریب نادار، لڑکا، مقروض، غلام بلا اذن۔ خواہ دوسرے کفایت ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔

مغنی المحتاج میں مذکور ہے: غریب نادار جو اس سے بن پڑے۔(سرپرستی میں رہنے والا) لڑکا،مقروض، غلام بنا اجازت کے۔ اس موقع پر یہ اختیار نہیں رہتا ہے۔ دشمن کا گھس آنا ایسا ہی عظیم خطرہ ہے جسے ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ممکن ذریعے سے مقاومت کرنا۔ جہاں تک کسی آبادی میں گھسنے کی بات ہے تو اس سے مراد ہے سرحدوں پر(نہ کہ آبادی کے بیچ جب تک نہ گھس آئیں) اس معاملے میں عورتوں کا حکم غلاموں والا ہے اگر ان سے کچھ بن پڑے(بڑی بڑھیائیں نہیں کہ فائدہ کی بجائے نقصان دیں) رافعی کا قول ہے عورتوں پر اذن لینا واجب نہیں۔ یہ بھی (ہمارے مذہب میں) کہا جاتا ہے کہ اگر آزاد مرد پورے اتر جائیں تو اس صورت میں اجازت لینا واجب ہے۔ اس سبب سے کہ مقصود حاصل ہوا ان کے بغیر ہی۔ بلقینی نے بھی اس بات کی توثیق کی ہے اور کہا یہی مصداق ہے شافعی کے قول کا۔ لیکن روضہ کی شرح میں لکھا ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ قوت بڑھانے کے واسطے اذن لینے کی شرط ساقط ہو جائے گی۔

کتاب 'غایہ' پر خطیب کی شرح میں مذکور ہے : کفار کے احوال کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ہماری کسی آبادی میں گھس آئیں۔ اس صورت میں اہل بلد پر مقاومت کرنا واجب ہو گا ہر ممکن ذریعے سے اور جہاد ٹھہرے گا فرض عین خواہ وہ کیل کانٹے سے لیس ہو سکیں یا نہیںہر اس شخص پر جسے خبر پہنچ گئی۔

اذن کی بابت حنابلہ کے اقوال:

مغنی میں مذکور ہے: نہیں جائز کسی کا پیچھے رہناجو اگر معاملہ یوں ہوا مگر امیر کی اجازت سے نکلیں اس سبب سے کہ وہ ہی بہتر جانتا ہے دشمن کی تعداد اور چالوں کو۔مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ امیر کی اجازت ہو سوائے اس کے کہ امیر سے اجازت کا موقع نہ ہوجیسے دشمن نے اچانک حملہ کیا ہو، ایسی صورت میں اجازت لینا واجب نہیں جس طرح سلمہ بن اکوع نے پیچھا کیا تھا ان لوگوں کا جو ہانک لے گئے تھے آپ کے چرنے والے اونٹوں کو بلا اذن امیر کے اور قتل کیا ان میں سے بہت سوں کو۔ آپ علیہ السلام نے اس پر مسرت کا اظہار فرمایا اور غنیمت دی انہیں برابر سوار اور پیادہ کے۔

فتاویٰ کبریٰ میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں: جہاد دفاع کی صورت مثال کے طور پر ایسی ہو سکتی ہے کہ دشمن تعداد میں زیادہ ہوں اور ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہ ہو، اگر مسلمان وہاں سے ٹلنا چاہیں تو خطرہ ہے کہ دشمن ٹوٹ پڑے گا جنہیں (مسلمانوں کے گھروں پر) وہ پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ اب چاہیے کہ مقابلہ کریں یہ بھی اور وہ بھی جو پیچھے رہنے والے تھے (مسلمانوں کے گھرانے)۔ ہمارے اصحاب (حنابلہ) نے صراحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وجوب کے باب سے ہے۔

یا دوسری مثال ایسے ہے کہ حملہ کیا دشمن نے اور مسلمانوں کی تعداد کافروں کے مقابلے میں نصف سے کم ہے ۔ اگر کم تعداد کے سبب طرح دینا چاہیں دشمن کو تو وہ مسلمانوں کی عزتوں کو پامال کر دیں گے۔ اس قسم کے جہاد کو جہاد دفاع کہتے ہیں۔ یہ اس قسم کا جہاد نہیں جسے جہاد طلب کہتے ہیں۔ سو اس صورت میں مقابلے سے ٹلنا کسی صورت جائز نہیں۔ غزوہ احد اس قسم کا جہاد تھا۔

مرداوی اپنی کتاب انصاف میں لکھتے ہیں: انتباہ! مصنف کا یہ کہنا کہ ان پر جن پر جہاد فرض ہوتا ہے انہیں پر متعین ہو گا۔ یعنی غلام پر متعین نہیں ہو گا خواہ صفیں آمنے سامنے ہو گئیں یا دشمن چڑھ دوڑا۔ یہ بات (ہمارے مذہب میں) دو میں سے ایک ہے۔ ظاہراً (حنابلہ کی )'ہدایہ' میں بھی یہی مذکور ہے۔ اسی طرح دوسری کتب : 'مذہب'، 'مستوعب'، 'خلاصہ' اور 'محرر' وغیرہ میں ذکر ہوا ہے۔ کتاب 'رعایتین' اور 'حاویین' نے اس مذہب کو صحیح کہا ہے۔مگر دوسری رائے یہ ہے کہ مذکورہ بالا صورتوں میں غلام پر بھی متعین ہو جاتا ہے اور یہی بات صحیح تر ہے۔ کتاب 'فروع' میں اسے تسلیم کیا گیا ہے یعنی صفیں لگ گئیں تو عورتوں پر بھی فرض عین ہو جاتا ہے(جو وہاں حاضر ہوں مترجم)۔ کتاب 'بلغہ' میں صراحت ہے کہ تمام اقوال میں صحیح ترین یہ بات ہے کہ غلام پر بھی متعین ہو جاتا ہے۔

ظاہری مذہب میں اذن کی بابت اقوال:

'محلیٰ' میں مذکور ہے: والدین کے اذن کے بغیر جہاد جائز نہیںمگر جب دشمن حملہ کر دے تو واجب ہو جاتا ہے ہر اس پر جو مدد کر سکتا ہوخواہ والدین اجازت دیں یا نہ دیںسوائے اس کے کہ ہلاکت میں پڑ جائیں گے دونوں (ماں باپ) یا ان میں سے کوئی ایک۔

آخر میں مرتب نے ڈاکٹر خیر ہیکل کی کتاب 'الجہاد و القتال' سے چند اقتباسات نقل کیے ہیں جنہیں ہم یہاں اختصار سے پیش کر رہے ہیں:

'بسا اوقات کفار ٹولیوں (اتحاد) کی شکل میں پوری امت پر حملہ کر دیتے ہیں (اس نیت سے کہ) اسلام کا نام و نشان ہی مٹ جائے بالخصوص آج کے حالات میں یہی صورت درپیش ہے۔ اس صورت میں اسلامی قیادتوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی سبیلیں نکالیں خواہ کسی (اتحادی) کو مادی پیش کش سے ہی توڑا جا سکتا ہو تو اس میں پس و پیش نہ کیا جائے۔ غزوہ خندق میں آپ سے ایسا کرنا ثابت ہے۔

(جہاں تک ممکن ہو دشمن کے اتحاد میں دراڑیں ڈال دی جائیں اس کے بعد) جب جنگ کی ہی صورت رہ گئی ہو تو پھر قاعدہ یہ نہیں کہ دونوں کا موازنہ کیا جائے نہ تعداد کے لحاظ سے نہ وسائل کے لحاظ سے بلکہ مسلمانوں کو معرکے میں کودنا ہی ہو گا اپنے ضعف کے باوجود خواہ لاکھوں مسلمانوں کو جام شہادت نوش کرنا پڑے۔ کسی مسلمان کے لیے میدان سے بھاگنے کی فکر کرنا یا قوت کا زور کم کرنا حرام ہے۔ غزوہ خندق میں مسلمانوں کا یہی حال تھا۔

کفار کے حملے کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ نیت نہ مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کی ہو نہ اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بلکہ وسائل حاصل کرنے کی نیت ہو تو اس صورت میں بھی طاقت کا توازن نہیں دیکھا جائے گا بلکہ ہر ممکن طریقہ سے مقاومت کرنا ہو گی مقابلے سے فرار کی صورت میں نقصان اس سے بڑھ کر ہو گا جو مقابلہ کرنے میں متوقع ہے۔

ایک موازنہ نہایت اعلیٰ سطح پر نہایت اخلاص اور عرق ریزی سے کیا گیا ہو اور ہر پہلو کا جائزہ لینے کے بعد دیکھا جائے کہ دشمن کا کسی علاقے میں نفوذ کرنے کا نقصان وہاں سے دستبردار ہونے کی نسبت بہت زیادہ ہے تو اس صورت میں اسلام اور اہل اسلام سے مخلص قیادتیں دستبرداری کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ مگر یہ دستبرداری ہمیشہ کی نہ ہو بلکہ استعداد کار میں بہتری لانے کے لیے اور پہلی فرصت میں مقبوضہ جات کی وا گزاری کی سبیل نکالنے کے لیے۔

خلافت راشدہ میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ مسلمان اپنی بعض فتوحات سے دستبرداری پر مجبور ہوئے بلکہ اہل ذمہ کو جزیہ بھی لوٹانا پڑا اور فوجیں نکالنا پڑیں اس لیے نہیں کہ ہمیشہ کے لیے دستبردار ہوئے ہیں بلکہ بھر پور تیاری کی فرصت حاصل کرنے کے لیے۔ شام کی اور فارس کی فتوحات کے سلسلے میں ایسے ہوا ہے۔

اس کے بعد مرتب کتب فقہ سے اس طرح کے اقوال جمع کرتے ہیں کہ اگر دفاع کی یہ صورت ہو کہ ساتھ والی مسلم آبادی میں جا کر پلٹ کر حملہ کریں تو ہر صاحب طاقت پر نکلنا واجب ہو گا۔سو وجوب کا تعلق ہے استعداد پر۔

انٹرنٹ پر مضمون کا لنک:

http://www.al3ez.com/vb/printthread.php?t=18306

مضمون کا کچھ ابتدائی حصہ تمہیدات پر مشتمل تھا، وہ ترجمہ میں شامل نہیں۔ ترجمہ مضمون میں آنے والی سرخی "حکم جہاد الاحتلال" سے شروع ہوتا ہے۔

 

Category: منہج

ايقاظ كا تازه شماره

2-Eeqaz Apr-jun 2012