‘شان نزول’ اور علم تفسیر

(حامد كمال الدين)

’سبب نزول‘ یا ’اسباب نزول‘ جو کہ ہمارے اردو کے تفسیری ذخیرے میں زیادہ تر ’شان نزول‘ کے الفاظ سے ذکر ہوتا ہے، علم قرآن کا ایک اہم میدان ہے۔ تفسیر میں اس کی شدید ضرورت رہتی ہے اور اسباب نزول کے بغیر تفسیر قرآن کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

قرآن کے مفاہیم ومعانی لینے کیلئے آدمی کو ’اسباب نزول‘ یا ’شان نزول‘ سے لازماً واسطہ پڑتا ہے۔ پس لازم ہے کہ اس بارہ میں کچھ بنیادی امور اور اصول قرآن کے ہر طالب علم کو معلوم ہوں۔

بلاشبہ قرآن ایک محیط کلام ہے اور اس میں معانی کے عجائب پوشیدہ ہیں۔ مگر یہ بات ہمارے لئے اسباب نزول سے صرف نظر کر لینے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ قرآن کی وسعت اور لامحدودیت کا ’اسباب نزول‘ کے علم سے ہرگز کوئی تعارض نہیں اگرچہ آج بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہو اور وہ لوگوں کو قرآن کی وسعت اور محدودیت کے پردے میں ماثور تفسیرات سے مستغنی یا بلکہ متنفر کر دینے کیلئے کوشاں ہوں۔

’اسباب نزول‘ کا تصور concept دراصل اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے جو کہ ہمارے بعض روایتی علوم پڑھانے والوں کے ہاں عموماً دیکھنے میں آتا ہے۔ اسی سے دراصل آدمی کو یہ تاثر ملنے لگتا ہے کہ ’شان نزول‘ قرآن کو کچھ خاص واقعات میں محدود کر دینے کا نام ہے یا پھر خاص اشخاص یا حالات میں مقید کر دینے کا اور یہ کہ قرآن کا ابدی اور اور آفاقی پیغام سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ آدمی اس انداز کی روایات سے جان ہی چھڑا لے کہ فلاں آیت اس موقعہ پر اتری اور فلاں آیت اس شخص کے بارے میں اور فلاں آیت اس واقعہ کے سبب!

اگرچہ، جیسا کہ امام سیوطی بعض ائمہ علوم القرآن کے حوالہ سے لکھتے ہیں، اسباب نزول کے معاملہ میں قرآن کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک قرآن کا وہ حصہ جو معمول کے انداز میں آپ سے آپ نازل ہوا اور ایک قرآن کا وہ حصہ جو کسی خاص واقعے یا سوال یا استفسار کے پس منظر میں نازل ہوا۔

اسی وجہ سے ’سبب نزول‘ یا ’شان نزول‘ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ”کوئی ایسا معاملہ جس کے حوالے سے قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوا ہو اور جس کا وقوع اس کے نزول کے آس پاس کے کسی وقت میں ہوا ہو۔ مثلاً کوئی واقعہ یا کسی جانب سے آیا ہوا کوئی سوال یا استفسار“۔ [دیکھیے علوم القرآن۔ ضاع القطان ص ٧٨]

تاہم اسباب نزول کا تصور ایک خاصا عمق رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علوم قرآن کی کتب میں اسباب نزول کی بحثیں ’حقیقت وحی‘، ’عرصہ وحی‘ ، ’کیفیت نزول‘ اور ’مکی ومدنی قرآن‘ وغیرہ کی بحوث سے متصل ملتی ہیں۔

سید قطب قرآنی مطالب کی توضیح وتفسیر میں ایک بات جو بار بار کہتے ہیں وہ یہ کہ یہ کتاب اپنے خزانے کسی ایسے شخص پر نہیں کھول سکتی جو ذہنی اور شعوری طور پر اس فضا میں نہیں آجاتا جس میں کہ یہ قرآن نازل ہوا۔ یہ کتاب فلسفیوں اور علمی نکتے بیان کرنے والوں کو کچھ دلچسپ بحثوں کا مواد فراہم کرنے کیلئے نازل ہی نہیں کی گئی بلکہ یہ تو انسان کی تعمیر کیلئے اتری ہے اور انسانی معاشروں کو کھڑا کرنے اور بہترین انداز میں چلانے کیلئے نازل ہوئی ہے۔ پس وہ سب مرحلے اور کیفیتیں جن سے اسلام کی دعوت گزرتی رہی اور وہ سب مواقع اور حالات جن کی مناسبت سے یہ قرآن اترتا رہا، سب کے سب اس قرآن کو سمجھنے اور اس سے عین وہ مطالب پانے کیلئے جو کہ اس کے نزول کا مقصد ہے، بے انتہا اہم ہو جاتے ہیں اور ان کو ذہن کے سامنے رکھنا بے انتہا ضروری۔

تنجیم قرآن، یعنی قرآن کا تھوڑے تھوڑے حصے کرکے تیئیس سال کے عرصہ میں نزول مکمل ہونا نہ کہ تورات وغیرہ کی طرح پورے کا پورا ایک ہی بار نازل ہونا، علوم قرآن کے ماہرین ومؤلفین کا ایک اہم موضوع رہا ہے اور وہ اس کی ذیل میں خدا کی ان بہت سی حکمتوں کا ذکر کرتے ہیں جو قرآن کی اس تیئیس سالہ تنزیل کے پیچھے کار فرما نظر آتی ہیں۔ خود قرآن نے بھی اس اہم معاملہ کی جانب، اس کو مخالفین کے ایک اعتراض کے سیاق میں لا کر، ایک خوبصورت انداز سے اشارہ کیا ہے:

”منکرین کہتے ہیں ”اس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا؟“ ___ ہاں ایسا اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں (اور اسی غرض کیلئے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاءکی شکل دے دی ہے اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے) کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات (یا عجیب سوال) لے کر آئے، اس کا ٹھیک جواب بروقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی“۔ (ترجمہ: مولانا مودودی)

چنانچہ اسباب نزول کا قرآن کے اس پہلو سے بھی گہرا تعلق ہے۔ لہٰذا قرآن کو اس سے الگ تھلگ کر دینا، چاہے اس کیلئے کتنا ہی جدت پسند اور مفکرانہ انداز کیوں نہ اختیار کیا گیا ہو، فہم قرآن کے کسی زمرے میں نہیں آتا۔

پھر یہ کہ قرآن کا خطاب سمجھاجانے کا انحصار ایک بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ وہ ہستی جس پر یہ قرآن اتارا گیا اور جس کو کہ اس قرآن کو لوگوں کو بیان کر کے دینے کا حق تفویض کیا گیا اور صرف اسی کے بیان کو اس موضوع پر قطعی حجت قرار دیا گیا اور جس کو کہ قول وعمل کے ہر انداز میں قرآن کی تفسیر کرکے اس دنیا سے جانا تھا .... قرآن کا خطاب سمجھا جانے کا انحصار ایک بڑی حد تک اس بات کے جاننے پر ہے کہ اس ہستی یعنی محمد کو، قرآن کے کسی حصہ کے نزول کے وقت کن حالات کا سامنا تھا۔ سو یہ حالات وحی کی ان نصوص کے معانی کے تعین میں، طبعی بات تھی کہ، بے انتہا ممد ثابت ہوں اور یہی وجہ ہے کہ علمائے امت نے ان کو اسی حیثیت میں لیا۔

پھر مزید یہ کہ ’اسباب نزول‘ کا علم قرآن کے اعجاز کا بھی ایک زبردست پہلو ہے۔ یہ ایک ایسی آسمانی کتاب ہے جس کی اپنی آیات تو خیر سینوں میں اور مصاحف کے اندر محفوظ ہوئی ہی ہیں البتہ اس کی عملی تطبیق جو کہ سنت کے نام سے جانی جاتی ہے، بھی رہتی نسلوں کیلئے محفوظ کر دی گئی۔ نہ صرف یہ بلکہ جیسی جیسی فضا اور جیسے جیسے حالات اور کیفیات میں قرآن نازل ہوتا رہے اس کے گرد وپیش کے بیشتر وقائع بھی باقاعدہ ریکارڈ ہوئے اور یہ حالات اور وقائع بھی اس امت کے اندر ایک باقاعدہ علم کی صورت اختیار کر گئے جسے کہ علوم قرآن کے ہر پڑھنے والے کو حاصل کرنا پڑتا ہے اور جس سے کہ قرآن کا ایک عام طالب علم بھی کچھ نہ کچھ مطلع ہوتا ہے۔

کیا کوئی اُمت ہے جو اپنے نبی پر اترنے والی آیات پر ہی نہیں بلکہ ہر ہر آیت کی ایک پوری تاریخ بھی اپنے پاس رکھتی ہو؟

البتہ اس معاملہ میں کچھ امور جان لئے جانا ضروری ہیں اور جن کے روپوش ہونے کے باعث یہاں اس موضوع پر افراط اور تفریط کے رویے دیکھنے کو ملتے ہیں اور جس کے باعث تفسیر ماثور کے ساتھ دونوں جانب سے ظلم ہوتا ہے۔

ایقاظ کی آئندہ مجالس میں گاہے بگاہے ہم ان موضوعات پر کچھ روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ايقاظ كا تازه شماره

2-Eeqaz Apr-jun 2012