سہ ماہی ایقاظ۔۔۔ جنوری تا مارچ2012

آپ نے مجھ سے فرمایا: اے عدی کیا چیز تمہیں ہم سے فرار اختیار کروانے کا موجب بنی؟ کیا اس لیے کہ یہ کہنا پڑجائے گا ”نہیں کوئی الٰہ سوائے اللہ کے؟ اس لیے بھاگ لیے کہ کہنا پڑجائے گا: اللہ سب سے بڑا ہے، تو کیا ہے کوئی شے جو اللہ سے بڑی ہو؟  عدی کہتے ہیں تب میں اسلام قبول کر لیا۔ تب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ کھل اٹھا ہے۔

Download PDF

عَنْ عَدِیٍّ بْنِ حَاتِمٍ ص، قَالَ فَأتَیْتُہٗ فَإذَا عِنْدَہٗ امْرَأۃً وَصِبْیَانٌ، وَذَکَرَ قُرْبَہُمْ مِنَ النَّبِیَّ ا قَالَ: فَعَرَفْتُ أنَّہٗ لَیْسَ بَمْلِکِ کِسْریٰ وَلا قَیْصِرَ۔ فَقَالَ: ( یَا عَدِیُّ مَا أفَرَّکَ؟ أنْ یُقَالَ لا إلٰہَ الا اللّٰہُ؟ فَہَلْ مِنْ إلٰہٍ إلا اللّٰہُ؟ مَا أفَرَّکَ أنْ یُقَالَ اللّٰہُ أکْبَرُ؟ فَہَلْ شَیْءٌ أکْبَرُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ؟ ) قَالَ: فَأسْلَمْتُ، فَرَأیْتُ وَجْہَہٗ اسْتَبْشَرَ وَقَالَ: ( إنَّ الْمَغْضُوْبَ عَلَیْہِمْ: الْیَہُوْدُ وَإنَّ الضَّالِّیْنَ: النَّصَاریٰ )
(از تفسیر ابن کثیر۔ قال ابن کثیر: رواہ أحمد والترمذی، وقد روی حدیث عدیٍّ ہٰذا من طرق ولہ ألفاظ کثیرۃ یطول ذکرہا)

روایت عدی بن حاتم رضى اللہ عنہ سے:
کہا میں (بوقت قبول اسلام) آپ ﷺ کے پاس جاضر ہوا اور آپ کے پاس ایک عورت اور کچھ بچوں کو موجود پایا جو آپﷺ کے بہت قریب تھے، جس سے میں نے جانا یہ کوئی کسریٰ اور قیصر جیسا بادشاہ نہیں ہے۔ آپ ﷺنے مجھ سے فرمایا: ( اے عدی کیا چیز تمہیں ہم سے فرار اختیار کروانے کا موجب بنی؟ کیا اس لیے کہ یہ کہنا پڑجائے گا ’’نہیں کوئی الٰہ سوائے اللہ کے؟ اس لیے بھاگ لیے کہ کہنا پڑجائے گا: اللہ سب سے بڑا ہے، تو کیا ہے کوئی شے جو اللہ سے بڑی ہو؟ ) عدی کہتے ہیں تب میں اسلام قبول کر لیا۔ تب میں نے آپ ﷺکے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ کھل اٹھا ہے۔
آپ ﷺنے فرمایا: ( مغضوب علیہم بے شک یہود ہیں۔ اور ضالین یقیناًنصاریٰ ہیں)

 ˜« ´ ˜«‹ª¤¨­ ‚´ ª ‰«„ªŸ¨ ”í ›«ž« š«É„«¤´„¬¦¾ š«Ê« ˜ª ´‹«¦¾ Ÿ´Ž«É¹Ç ¢«”ª‚´¤« µí ¢««œ«Ž« ›¬Ž´‚«¦¬Ÿ´ Ÿª « ž ­«‚ª¤­«  ›«ž«é š«˜«Ž«š´„¬ É ­«¦¾ ž«¤´’« ‚«Ÿ´žªœª œª’´Ž¤½  ¢«ž ›«¤´”ªŽ«ó š«›«ž«é Ü ¤« ˜«‹ª¤­¬ Ÿ« Éš«Ž­«œ«î É ´ ¤¬›«ž« ž Êž½¦« ž žž­½¦¬î 𫦫ž´ Ÿª ´ Êž½¦¨ Êž žž­½¦¬î Ÿ« Éš«Ž­«œ« É ´ ¤¬›«ž« žž­½¦¬ Éœ´‚«Ž¬î 𫦫ž´ “«¤´£µ Éœ´‚«Ž¬ Ÿª « žž­½¦ª ˜«­«¢«‡«ž­«î Û ›«ž«é š«É’´ž«Ÿ´„¬í š«Ž«É¤´„¬ ¢«‡´¦«¦¾ ’´„«‚´“«Ž« ¢«›«ž«é Ü Ê ­« ž´Ÿ«™´•¬¢´‚« ˜«ž«¤´¦ªŸ´é ž´¤«¦¬¢´‹¬ ¢«Ê ­« ž•­«žª­¤´ «é ž ­«”«Ž¤½ Û
⁐ „š’¤Ž ‚  œ†¤Žó ›ž ‚  œ†¤Žé Ž¢¦ ɉŸ‹ ¢ž„ŽŸ¤í ¢›‹  Ž¢¤ ‰‹¤† ˜‹¤¨­ ¦½ Ÿ  –Ž› ¢ž¦ Éžš— œ†¤Ž¹ ¤–¢ž œŽ¦á
  
Ž¢¤„ ˜‹¤ ‚  ‰„Ÿ ” ’¥é
œ¦ Ÿ¤¡ â‚¢›„ ›‚¢ž ’žŸá ȃ  œ¥ ƒ’ ‡•Ž ¦¢ ¢Ž ȃ œ¥ ƒ’ ¤œ ˜¢Ž„ ¢Ž œˆ§ ‚ˆ¢¡ œ¢ Ÿ¢‡¢‹ ƒ¤ ‡¢ ȃ œ¥ ‚¦„ ›Ž¤‚ „§¥í ‡’ ’¥ Ÿ¤¡  ¥ ‡  ¤¦ œ¢£¤ œ’ޤ½ ¢Ž ›¤”Ž ‡¤’ ‚‹“¦  ¦¤¡ ¦¥ó ȃ  ¥ Ÿ‡§ ’¥ šŽŸ¤é Ü ¥ ˜‹¤ œ¤ ˆ¤ „Ÿ¦¤¡ ¦Ÿ ’¥ šŽŽ Š„¤Ž œŽ¢ ¥ œ Ÿ¢‡‚ ‚ ¤î œ¤ ’ ž¤¥ œ¦ ¤¦ œ¦  ƒ‡£¥  þþ ¦¤¡ œ¢£¤ ž½¦ ’¢£¥ žž¦ œ¥î ’ ž¤¥ ‚§ ž¤¥ œ¦ œ¦  ƒ‡£¥ é žž¦ ’‚ ’¥ ‚ ¦¥í „¢ œ¤ ¦¥ œ¢£¤ “¥ ‡¢ žž¦ ’¥ ‚¤ ¦¢î Û ˜‹¤ œ¦„¥ ¦¤¡ „‚ Ÿ¤¡ ’žŸ ›‚¢ž œŽ ž¤ó „‚ Ÿ¤¡  ¥ ȃ œ¥ ˆ¦Ž¦ Ÿ‚Žœ œ¢ ‹¤œ§ œ¦ œ§ž …§ ¦¥ó
ȃ   ¥ šŽŸ¤é Ü Ÿ™•¢‚ ˜ž¤¦Ÿ ‚¥ “œ ¤¦¢‹ ¦¤¡ó ¢Ž •ž¤  ¤›¤   ”Ž¤½ ¦¤¡ Û

ايقاظ كا تازه شماره

2-Eeqaz Apr-jun 2012