علم حاصل كرنے كى فضيلت

وعن ابی الدرداءرضی اللّٰہ عنہ، قال : سمعت رسول اللٰہ ، یقول : ”من سلک طریقا یبتغی فیہ علما سھل اللّٰہ لہ طریقا الی الجنت، وان الملائکہ لتضع اجنحتھا لطالب العلم رضا بما یصنع، وان العالم لیستغفرلہ من فی السموات ومن فی الارض حتی الحیتان فی المائ، وفضل العالم علی العابد کفضل القمر علی سائر الکواکب، وان العلماءورثہ الانبیاء، وان الانبیاءلم یورثوا دینارا ولا درھما وانما ورثوا العلم، فمن اخذہ اخذ بحظ وافر“ (رواہ ابو داؤد ، ترمذی)

”حضرت ابودرداء روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص علم حاصل کرنے کیلئے کسی راستے پر چل نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی طرف جانے والے راستے کو آسان کر دیتا ہے مزید براں اُس کے اِس شوق اور جستجو کے سبب فرشتے اپنے پَر اُس راستے پر پھیلا دیتے ہیں، زمین وآسمان میں پائی جانے والی مخلوقات اس کے لئے استغفار کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی میں رہنے والی مچھلیاں بھی اس کے لئے استغفار کرتی ہیں۔ (سنو) ایک عبادت گزار شخص پر ایک عالم کا مرتبہ ایسے بڑھا ہوا ہے جیسے تاروں میں چمکتا دمکتا چاند۔ علماءہی تو انبیاءکے وارث ہوا کرتے ہیں انبیاءکرام کی وراثت دھن دولت نہیں ہوا کرتی وہ تو بس اپنی وراثت میں علم ہی چھوڑ جاتے ہیں، سو جس نے انبیاءکے اس چھوڑے ہوئے علم کو حاصل کیا اس نے کیا خوب مقدر پایا۔ (رواہ ابودائود والترمذی)

ايقاظ كا تازه شماره

2-Eeqaz Apr-jun 2012