امتحان

وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ

وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلاً ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ


”یاد کروکہ جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ اُن میں پورااُتر گیا تو اس نے کہا: ”میں تجھے سب لوگوں کاپیشوا بنانے والا ہوں“۔ ابراہیم نے عرض کیا: ”اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے“۔ اس نے جواب دیا: ”میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے“۔
اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کیلئے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیم جہاں عبادت کیلئے کھڑا ہوتا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو، اور ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی تھی کہ میرے اس گھرکو طواف اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کیلئے پاک رکھو۔
اور یہ کہ ابراہیم نے دُعا کی: ”اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے“۔ جواب میں اس کے رب نے فرمایا: ”اور جو نہ مانے گا، دُنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اُسے بھی دوں گا، مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے“۔
(سورہ البقرہ ١٢٤۔١٢٦)

ايقاظ كا تازه شماره

2-Eeqaz Apr-jun 2012