سہ ماہی ایقاظ۔۔۔ جنوری تا مارچ2012

Download PDF

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ، اما بعد

 

( وَإِذَ أَخَذَ اللّہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَکْتُمُونَہُ )

۲۰ ذوالحجہ ۱۴۳۲ ؁ھ

واجب الاحترام فضیلت مآب               دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت الشیخ! پچھلے چند برس سے آپ نوٹ فرما رہے ہوں گے، ہمارے کچھ دینی حلقوں کے یہاں "کرسمس "پر نصاریٰ کے ساتھ قربتِ باہمی کی ایک غیر معمولی فضا تشکیل پانے لگی ہے۔ اِس سے پہلے امت کے فساق و فجار سے ہی ایسے کچھ رویے سرزد ہوئے ہوں گے، البتہ علماء و داعیانِ اسلام کی سطح پر ہماری چودہ سو سالہ تاریخ میں شاید ہی اس کی کوئی نظیر ملتی ہو؛ یعنی کچھ سربرآوردہ دینی شخصیات کا مسلمانوں کے نمائندہ بن کر "کرسمس کی خوشیوں" میں شریک ہونا، اور ان کے اِس مقدس تہوار پر جوکہ اُن کے تئیں 'خدا کے بیٹے' کی پیدائش پر منایا جاتا ہے ۔( تَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوّاً کَبِیْراً) مبارکبادیں دے کر آنا، اور کرسمس کیک کاٹنے میں شریک ہونا، وغیرہ۔ یہ تشویش ناک رجحان ایک غیرمعمولی تیزی کے ساتھ بڑھنے لگا ہے۔
یہ حقیقت بھی جنابِ شیخ کی نگاہ سے روپوش نہ ہو گی کہ "تقاربِ ادیان" اور "ادیان کی تشکیل نو" اِس وقت کے دو سرگرم ترین عالمی ایجنڈے ہیں، اور ہردو کا ہدف درحقیقت اسلام کو 'قابو میں لانا' ہے۔ اِس عمل کا ابتدائی مرحلہ اُن کی نظر میں یہی ہے کہ:
وہ امور جو پچھلے چودہ سو سال سے اہل اسلام کا دستور چلے آتے ہیں، یکسر ہلا کر رکھ دیے جائیں، یا کم از کم بھی 'مشکوک' اور 'اختلافی' ٹھہرا دیے جائیں؛ جس کے بعد مسلم عوام کی جہالت نیز میڈیا کی طاقت کا فائدہ اٹھاکر مسلم معاشروں کو کچھ نئے قسم کے "مسلمات" تھما دیے جائیں اور جوکہ ایسے مسلمات ہوں جو اُن کے عالمی ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔
فضیلت مآب شیخ! فتنوں کا سدباب ہر دور میں علماء و ائمۂ دین ہی کا فرض رہا ہے۔ اِس سلسلہ میں ایک اجتماعی فتویٰ کا متن ڈرافٹ کیا گیا ہے جوکہ مکتوب ھٰذا کے ساتھ لف ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ:
۱۔ اگر آپ اِس عبارت کو درست سمجھیں تو اِس کی تائید میں اپنے دستخط ثبت فرمادیں، تاکہ اِس موضوع پر ملک کے کچھ معروف علمائے سنت کا ایک متفقہ فتویٰ عوام المسلمین میں زیادہ سے زیادہ پھیلایا جا سکے۔
۲۔ اگر آپ اِس پر کچھ جملوں کا اضافہ فرما کر اپنے تائیدی دستخط کرنا چاہیں تو وہ کر دیجئے۔
۳۔ اگر آپ اِس عبارت کی اصلاح فرمانا چاہیں تو متبادل عبارت درج فرما کر اُس پر اپنے دستخط عنائت فرمائیے۔
۴۔ اِس موضوع پر عوام الناس کے استفادہ ومطالعہ کے لیے کوئی تالیف یا کوئی لٹریچر تجویز کرنا چاہیں تو اس کا ذکر فرما دیجئے۔
اس مکتوب کے ساتھ متقدمین فقہاء کے فتاویٰ واقوال پر مبنی کچھ مواد بھی آپ کی خدمت میں ارسال کیا جا رہا ہے۔
ادارہ ایقاظ

__________________________________________________

ادارہ ایقاظ کی جانب سے علمائے پاکستان کو بھیجا گیا ایک مراسلہ۔ یہ مراسلہ پاکستان میں کبار مفتیانِ احناف و اہل حدیث کی خدمت میں روانہ کیا گیا تھا۔ جو جوابات ہمیں موصول ہوئے ، وہ آئندہ صفحات میں دیے جارہے ہیں۔

Category: فتاوٰى

ايقاظ كا تازه شماره

2-Eeqaz Apr-jun 2012