عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Monday, June 17,2024 | 1445, ذوالحجة 10
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
اَسرارِ صیام
:عنوان

:کیٹیگری
ادارہ :مصنف
 
اَسرارِ صیام
اردو استفادہ از: امام ابن قدامہ المقدسیؒ @
جان لو… کہ عبادتِ روزہ میں کچھ ایسی بات رکھ دی گئی ہے جو اِس کے سوا کسی عمل کے اندر نہیں، اور وہ ہے اِس کو اللہ رب العزت کے ساتھ ایک خاص نسبت ہو جانا، جیساکہ حدیثِ قدسی میں وارد ہوا ہے (الصوم لی وأنا أجزی بہ)۔ عبادتِ صیام کو بس یہی شرف کافی ہے، عین جس طرح ’’بیت اللہ‘‘ کہلا کر ایک مقام کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ نسبت کا ایک خاص حوالہ حاصل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ‘‘وَطَہِّرْ بَیْتِیْ’’ یعنی ’’میرے’’ گھر کو صاف ستھرا کر رکھو!
روزہ کی فضیلت کے پیچھے دو خوبصورت معانی پنہاں ہیں:
ایک یہ کہ یہ ایک راز ہے اور سراسر ایک باطنی عمل… جو مخلوق کے احاطۂ نظر میں کبھی نہ آپائے۔ روزہ کے اِس معنیٰ میں ریاکا کوئی گزر نہیں۔
دوسرا یہ کہ روزہ دراصل دشمنِ خدا کو مقہور کر دینا ہے۔ اِس کی وضاحت یوں ہے کہ… دشمنِ خدا کا وہ ہتھیار جو وہ ابنِ آدم کے خلاف بے محابا برتتا ہے، اِس نادان کی شہواتِ نفس ہیں۔ یہ شہوات و خواہشات انسان میں جہاں سے تقویت پاتی ہیں وہ ہے اِس کے ہاں خوردونوش کی فراوانی۔ پس جب تک خواہشات کی یہ زمین ہری بھری رہے گی تب تلک اِس چراگاہ میں شیاطین کا آناجانا بے تحاشا رہے گا۔ اب جب خواہشات و شہوات کو ترک کرایا جائے گا، تو شیاطین کی راہیں یہاں خودبخود تنگ ہونے لگیں گی۔
اب ہم اختصار سے ‘‘روزہ’’ کی کچھ سنتوں کا ذکر کریں گے:
‌أ. سحری کا عمل نہایت پسندیدہ ہے، اور وہ بھی یہ کہ سحری عین آخری وقت پر کی جائے۔ افطار میں خوب جلدی کی جائے، اور یہ کہ کھجور سے کی جائے۔
‌ب. رمضان میں سخاوت بطورِ خاص مرغوب ہے۔ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا۔ اچھا اور پسندیدہ بننا، دل کھول کر صدقہ کرنا، جیسا کہ رسول اللہﷺ کے ہاں رمضان کے معمولات کی نسبت سیرت و احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
‌ج. رمضان میں قرآن کا طالبِ علم بننا۔ اعتکاف کی صورت خدا کے گھر میں ڈیرے ڈال دینا خصوصاً رمضان کی آخری دس راتیں۔ رمضان کے آخری حصہ میں عبادت پر پورا زور صرف کردینا۔
صحیحین میں عائشہؓ کی حدیث ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آپؐ کمر بستہ ہو جاتے، رات عبادت میں گزارتے اور اہلِ خانہ کو بیدار کرتے۔ علماء نے اِس ’کمر بستہ ہو جانے‘ کے دو معنیٰ بیان کئے ہیں: ایک یہ کہ ازدواجی تعلق سے کنارہ کشی کرلیتے، اور دوسرا یہ کہ یہ کنایہ ہے عمل میں انتہائی حد تک جت جانے کا۔
علماء کا قول ہے کہ آپؐ کا آخری عشرہ میں عبادت وریاضت پر پورا زور صرف کردینا اس وجہ سے تھا کہ آپؐ لیلۃ القدر کو پالینے کی سعی فرمائیں۔
*****
اب ہم روزہ کے بعض اَسرار اور آداب کا ذکر کریں گے:
روزہ کے تین مراتب ہیں: ایک عوام کا روزہ، اور ایک خواص کا روزہ ،اور ایک خاص الخواص کا روزہ۔
’عوام’ کا روزہ ہے: پیٹ اور شرمگاہ کو اسکی خواہش پورا کرنے سے روک رکھنا۔
’خواص’ کا روزہ ہے: نگاہ، زبان، ہاتھ، پیر، کان، آنکھ اور سب کے سب اعضاء وجوارح کو خدا کی معصیت کے کاموں سے باز کئے رکھنا۔
رہا ’خاص الخواص’ کا روزہ، تو وہ یہ ہے کہ دل ہی ہر گھٹیا سوچ اور ارادے کے معاملہ میں روزہ دار ہو جائے۔ وہ سب افکار و خیالات جو آدمی کو خدا سے دور کریں یا خدا کی نگاہ میں آدمی کی وقعت کم کردیں، آدمی کے ہاں متروک ہوجائیں۔ گویا قلب کی دنیا میں آدمی خدا کے ماسوا دنیا ومافیہا سے روزہ رکھ لے۔ روزہ کے اِس مرتبہ کی شرح و وضاحت کسی اور مقام پر ہوگی۔
رہ گیا دوسرا مرتبہ یعنی ’خواص کا روزہ’ تو اس کے آداب میں یہ آتا ہے کہ آدمی کی نگاہ روزہ سے ہو جائے اور ہر اُس جانب سے جو خدا نے حرام ٹھہرا دی نگاہ کا رخ پھر جائے۔ زبان کو ہر اُس بات سے جو مخلوق کو اذیت دے یا خالق کے ہاں حرام یا ناپسندیدہ ہو، یا حتیٰ کہ جو لایعنی وبے فائدہ ہو… زبان کو ایسی ہر بات سے تالا لگ جائے۔ نیز یہ کہ آدمی اپنے سب کے سب اعضاء و جوراح پر پہرہ دار بن کر کھڑا ہوجائے کہ کوئی عضو بھی خدا کی معصیت کا رخ نہ کرے۔
بخاری کی روایت میں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: من لم یَدَع قولَ الزورِ والعملَ بہٖ فلیس لِلّٰہ حاجۃٌ فی أن یدَعَ طعامَہٗ وشرابَہٗ ’’ جو شخص قولِ باطل سے اور اس پر عمل کر گزرنے سے باز نہیں رہتا، اللہ کو یہ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا ہی چھوڑ کر رہے’’۔ مراد یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ یہ ان باتوں سے تو رک گیا ہے جو روزے کے علاوہ عام حالات میں اس کیلئے بالکل جائز اور روا ہیں البتہ ان باتوں سے روزہ رکھ کر بھی رکنے کا نام نہیں جن کی کسی بھی وقت اسے اجازت نہیں، اور جو کہ اللہ کی مطلق حرام کردہ باتیں ہیں۔
آدابِ صیام میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ آدمی رات کو کھانے سے پیٹ بھر نہ لے۔ رات کو بھی کھائے تو بس حساب سے۔ کیونکہ، جیسا کہ حدیث میں ہے، ابنِ آدم کا پیٹ وہ بدترین برتن ہے جس کو یہ کناروں تک بھر لیتا ہے۔ ابتدائے شب اگر انسان پیٹ کو کھانے سے پر کر لے تو باقی شب وہ اپنا اچھا استعمال نہ کرپائے گا۔ اسی طرح اگر وہ سحری کے وقت شکم سیر ہو جاتا ہے تو ظہر تک وہ خود کو کار آمد نہ رکھ پائے گا۔ کیونکہ بسیار خوری کاہلی اور بے ہمتی کو جنم دیتی ہے۔ نیز روزہ سے جو کوئی مقصود ہے بسیار خوری سے عین اُس مقصود پر پانی پھر جاتا ہے۔ روزہ سے مقصود تو یہ ہے کہ انسان بھوک کے تجربے سے گزرے اور ترکِ خواہش کا ملکہ و استعداد پائے۔
*****
جان لو کہ صیامِ نفل یوں تو ہردم پسندیدہ ہے، مگر کچھ خاص ایامِ فضیلت میں تو بےحد پسندیدہ اور مستحب ہے۔ فضیلت کے ایام کچھ تو سالانہ ہیں، جیسے رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے، یومِ عرفہ، یومِ عاشوراء، عشرۂ ذو الحج، اور محرم۔ جبکہ کٖچھ ایامِ فضیلت ماہانہ ہیں، جیسے مہینے کا یومِ اول اور یومِ وسط اور آخری یوم۔ جو اِن تین دنوں کے روزے رکھے وہ خوب ہے۔ البتہ افضل یہ ہے کہ مہینے کے تین دن وہ ایامِ بیض کے کرے، یعنی چاند کے جوبن کے تین ایام روزہ سے رہے۔ جبکہ فضیلت کے کچھ ایام ہفتہ وار ہیں، یعنی سوموار کا روزہ اور جمعرات کا روزہ۔
صیامِ نفل میں افضل ترین صومِ داودؑ ہے: داود علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار۔ صیامِ داودؑ کے افضل ترین ہونے میں تین خوبصورت معانی پوشیدہ ہیں:
ایک یہ کہ ایک دن نفس کواُس کا حظ ملتا ہے اور ایک دن اُس سے عبادتِ صوم کرائی جاتی ہے۔ یعنی ایک دن اُس کو ‘‘حق’’ ملتا ہے اور ایک دن اُس سے ‘‘کام’’ لیاجاتا ہے، جو کہ عدل کی بہترین حالت ہے۔
دوسرا یہ کہ کھانے کا روز روزِ شکر ہے اور اگلا روزے کا دن روزِ صبر۔ جبکہ ایمان کے دو ہی شق ہیں، ایک شکر اور ایک صبر!
تیسرا یہ کہ عام مجاہدہ کی نسبت یہ نفس پر زیادہ شاق ہے۔ کیونکہ جونہی نفس ایک خاص حالت سے مانوس ہونے لگتا ہے اِسے وہاں سے پھیر کر ایک دوسری حالت میں لے آیا جاتا ہے۔ یوں نفس کا یکسانیت سے نکلنا نفس کو عبادت کے خاص معانی سے آشنا کراتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزے ہی رکھتے جانا) کی بابت، مسلم میں ابو قتادہؓ سے مروی ہے، عمرؓ نے نبی ﷺ سے دریافت کیاتو آپؐ نے فرمایا: لا صام ولا أفطر، أو لم یصم ولم یفطر کہ ’’نہ اُس کا روزہ اور نہ اُس کا افطار’’
یہ (صومِ دہر) اس حالت پر محمول ہوگا کہ آدمی لگاتار روزے رکھے اور ممنوعہ ایام تک کے روزے نہ چھوڑے۔ البتہ اگر وہ عیدین اور ایامِ تشریق میں روزہ رکھنے سے اجتناب کرتا ہے تو یہ صومِ دہر نہ ہوگا۔ چنانچہ عائشہؓ کے بارے میں آتا ہے کہ آپؓ لگاتار روزے رکھتیں۔ انس بن مالکؓ کہتے ہیں صحابیِ رسول ابو طلحہؓ نبی ﷺ کی رحلت کے بعد چالیس سال تک لگا تار روزے رکھتے رہے (ممنوعہ ایام کے ماسوا)
*****
یہ بھی جان لو کہ جس آدمی کو بصیرت ملی ہو وہ روزہ سے جو مقصود ہے عین اس مقصود سے آشنا رہتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے آپ کو نیکی کے کسی ایسے (نفل) کا پابند نہیں کرتا جس کو ادا کرنے کے نتیجہ میں وہ اُس سے کسی اعلیٰ تر عمل کو اختیار کرنے میں سست و بے ہمت ہو رہے۔
مثلاً، عبد اللہ بن مسعودؓ کا بکثرت روزہ رکھنے کا معمول نہ تھا۔ فرماتے: میں جب روزہ رکھتا ہوں تو نماز (کی طوالت و کثرت) پر پوری محنت نہیں کر پاتا، جبکہ میں (نفل) روزہ کی نسبت نماز (قیام وسجود) پر محنت اور ریاضت کو ترجیح دیتا ہوں۔ سلف میں بعض کے ساتھ یوں ہوتا کہ بکثرت روزہ رکھیں تو قراء تِ قرآن پر محنت نہ ہو پاتی۔ چنانچہ وہ بکثرت افطار سے رہتے تاکہ تلاوت پر قدرت پائیں۔ ہر انسان ہی اپنی حالت کا بہتر اندازہ کر سکتا ہے اور یہ جان سکتا ہے کہ عبادت کے کون کونسے اعمال اس کے زیادہ سے زیادہ مناسبِ حال ہیں۔\
 
Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
Featured-
حامد كمال الدين
نوٹ: یہ تحریر ابن تیمیہ کی کتاب کے تعارف کے علاوہ، خاص اس مقصد سے دی جا رہی ہے کہ ہم اپنے بعض دوستوں سے اس ۔۔۔
جہاد- سياست
حامد كمال الدين
آج میرا ایک ٹویٹ ہوا: مذہبیوں کے اس نظامِ انتخابات میں ناکامی پر تعجب!؟! نہ یہ اُس کےلیے۔ نہ وہ اِ۔۔۔
باطل- اديان
ديگر
حامد كمال الدين
بھارتی مسلمان اداکار کا ہندو  کو بیٹی دینا… اور کچھ دیرینہ زخموں، بحثوں کا ہرا ہونا تحریر: حامد کما۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"فرد" اور "نظام" کا ڈائلیکٹ؛ ایک اہم تنقیح تحریر: حامد کمال الدین عزیزم عثمان ایم نے محترم سرفراز ف۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
مالکیہ کے دیس میں! تحریر: حامد کمال الدین "مالکیہ" کو بہت کم دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ افراد کے طور ۔۔۔
حامد كمال الدين
"سیزن" کی ہماری واحد پوسٹ! === ویسے بھی "روایات و مرویات" کی بنیاد پر فیصلہ کرنا فی الحقیقت علماء کا کام ہ۔۔۔
راہنمائى-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
صومِ #عاشوراء: نوویں اور دسویںمدرسہ احمد بن حنبل کی تقریرات"اقتضاء الصراط المستقیم" مؤلفہ ابن تیمیہ سے ایک اقت۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماڈرن سٹیٹ محض کسی "انتخابی عمل" کا نام نہیں تحریر: حامد کمال الدین اپنے مہتاب بھائی نے ایک بھلی سی تحریر پر ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
روایتی مذہبی طبقے سے شاکی ایک نوجوان کے جواب میں تحریر: حامد کمال الدین ہماری ایک گزشتہ تحریر پ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ساحل عدیم وغیرہ آوازیں کسی مسئلے کی نشاندہی ہیں تحریر: حامد کمال الدین مل کر کسی کے پیچھے پڑنے ی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
خلافت… اور کچھ ’یوٹوپیا‘ افکار تحریر: حامد کمال الدین گزشتہ سے پیوستہ: دو سوالات کے یہاں ہمیں۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
خلافت مابین ‘جمہوری’ و ‘انقلابی’… اور مدرسہ اھل الاثر تحریر: حامد کمال الدین گزشتہ سے پیوستہ: رہ ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
عالم اسلام کی کچھ سیاسی شخصیات متعلق پوچھا گیا سوال تحریر: حامد کمال الدین ایک پوسٹر جس میں چار ش۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
رافضہ، مسئلہ اہلسنت کے آفیشل موقف کا ہے تحریر: حامد کمال الدین مسئلہ "آپ" کے موقف کا نہیں ہے صاحب،۔۔۔
Featured-
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
رافضہ کی تکفیر و عدم تکفیر، ہر دو اہل سنت کا قول ہیں تحریر: حامد کمال الدین ہمارے یہاں کی مذہبی (سن۔۔۔
تنقیحات-
اصول- منہج
Featured-
حامد كمال الدين
گھر بیٹھ رہنے کا ’آپشن‘… اور ابن تیمیہؒ کا ایک فتویٰ اردو استفادہ: حامد کمال الدین از مجموع فتاوى ا۔۔۔
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ایک نظامِ قائمہ کے ساتھ تعامل ہمارا اور ’اسلامی جمہوری‘ ذہن کا فرق تحریر: حامد کمال الدین س: ۔۔۔
اصول- ايمان
اصول- ايمان
حامد كمال الدين
عہد کا پیغمبر تحریر: حامد کمال الدین یہ شخصیت نظرانداز ہونے والی نہیں! آپ مشرق کے باشندے ہیں یا ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
تبصرہ و تجزیہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
ايمان
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
حامد كمال الدين
تاريخ
حامد كمال الدين
سيرت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
باطل
اديانديگر
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
سياست
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
قتال
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز