جہاں ”دین“ رہے تو اپنی ایک حاشیائی حیثیت میں اور معاشرے کے کونوں کھدروں میں پڑا رہنا قبول کرتے ہوئے۔ ”دین“ نہ تو انسان کی دوستی دشمنی میں جھلکے ، نہ ”دین“ انسان کی مرکزی ترین اجتماعی شناخت ہو، نہ ”دین“ انسان کے قومی و اجتماعی سیٹ اپ کا اساسی جوہر ہو، اور نہ ”دین“ انسان کی اجتماعی زندگی میں شریعت اور قانون کا درجہ پا کر رہے۔ مالکِ کائنات کی آسمانوں میں جو بھی شان ہے اور عبادت خانوں میں اُس کا جوبھی مقام ہے، برسرزمین __ معاذ اللہ __ اُس کی یہ حیثیت نہیں کہ مزید پڑھیں
چنانچہ عمر نے اتفاق فرمایا تھا، جس میں عمرؓ اکیلے نہ تھے بلکہ سب مسلمان اُن کے ساتھ تھے، پھر اسی پر بعد کے جملہ مسلمان علماءکا اتفاق رہا، نیز جن جن والیوں اور حکمرانوں کو خدا نے توفیق بخشی اُن کاعمل بھی اِسی پر رہا کہ: کہ ذمیوں کو اس بات سے روکا جائے گا کہ دار الاسلام کے اندر وہ کسی ایسی شےءکو کھلے عام کریں جو اُن کے امتیازی امور میں آتی ہو۔ جس سے اس بات کو آخری حد تک یقینی بنانا مقصود تھا کہ دارالاسلام میں مشرکین کے امتیازات ظاہر وباہر نہ ہوں!مزید پڑھیں
چنانچہ باوجود اس کے کہ آدمی اُن کے ساتھ خدا واسطے کا بغض اور بیر رکھتا ہو گا مگر ان پر کوئی ظلم اور تعدی پھر بھی نہیں کرے گا۔ مسلمان کے لیے یہی مشروع رہے گا کہ وہ ان کو اللہ کے راستے کی طرف بلاتا رہے۔ ان کو رشد و ہدایت کی تعلیم دیتا رہے کہ کیا بعید اللہ کسی دن ان کو راہ حق پر آنے کی توفیق عطا فرما دے ۔ اس چیز میں بھی شریعت کے اندر کوئی مانع نہیں کہ آدمی اُن کے ساتھ صدقہ و احسان کرے۔مزید پڑھیں
اسی لیے (یعنی صریح اور مجمل علیہ نصوص میں تاویل و تحریف کرنے والے کی تکفیر کے یقینی ہونے کی وجہ سے)ہم ہر اس شخص کو بھی کافر کہتے ہیں جو اسلام کے علاوہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے کو کافر نہ کہے، یا ان کو کافر کہنے میں توقف(وتردد) کرے،یا ان کے کفر میں شک وشبہ کرے،یاان کے مذہب کو درست کہے،اگرچہ یہ شخص اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہو،اور اسلام کے علاوہ ہر مذہب کو باطل بھی کہتا ہو،تب بھی یہ غیر مذہب کو کافر نہ کہنے والا،خود کافر ہےمزید پڑھیں
پچھلے چند برس سے آپ نوٹ فرما رہے ہوں گے، ہمارے کچھ دینی حلقوں کے یہاں ’’کرسمس‘‘ پر نصاریٰ کے ساتھ قربتِ باہمی کی ایک غیر معمولی فضا تشکیل پانے لگی ہے۔ اِس سے پہلے امت کے فساق و فجار سے ہی ایسے کچھ رویے سرزد ہوئے ہوں گے، البتہ علماء و داعیانِ اسلام کی سطح پر ہماری چودہ سو سالہ تاریخ میں شاید ہی اس کی کوئی نظیر ملتی ہو؛ یعنی کچھ سربرآوردہ دینی شخصیات کا مسلمانوں کے نمائندہ بن کر ’’کرسمس کی خوشیوں‘‘ میں شریک ہونامزید پڑھیں۔
کبھی اس کو ’نظامِ عالم جدید‘ کے تحت فٹ کرتی ہے تو کبھی ’گلوبلائزیشن‘ کے تحت۔ آج یہ رَو نہایت عروج پر ہے۔ غیرت مند مسلمان نظر دوڑاتا ہے تو اس وباءکو اپنے چاروں طرف پاتا ہے، اِلا من رحم اللہ۔ ایک بڑی تعداد تقریباً بہہ گئی ہے؛ یہاں تک کہ اب یہ اُن کے شعائر دینی کے اخص الخاص امور کے اندر ان کی اتباع کرنے لگی ہے اور ان کی وہ روایات جو ان کی خاص پہچان ہیں انہی کو اختیار کرنے لگی ہے، یعنی اُن کی عیدیں اور اُن کے تہوار جوکہ باقاعدہ شرائع کا حصہ ہوتے ہیںمزید پڑھیں

أَوَلَمْ يَنظُرُواْ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّهُ مِن شَيْءٍ وَأَنْ عَسَى أَن يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (الاعراف185)
کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو اللہ نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آلگا ہو؟ پھر آخر اس تنبیہ کے بعد اور کونسی بات ایسی ہوسکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرۃ 185،186)
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کےلئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق اور باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے۔ تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیاہے اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو ۔ اور اے نبی میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں(یہ بات تم انہیں سنا دو) شاید کہ وہ راہ راست پالیں
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ (سورہ ص 29)
یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمد) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکررکھنے والے اس سے سبق لیں
إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَّن تَبُورَ لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ (فاطر 30-29)
جو لو گ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، یقینا وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوارہیں جس میں ہر گز خسارہ نہ ہوگا۔ (اس تجارت میں انہوں نے اپنا سب کچھ اس لیے کھپایا ہے) تاکہ اللہ ان کے اجر پورے کے پورے انکو دے اور مزید اپنے فضل سے ان کو عطافرمائے۔ بےشک اللہ بخشنے والا اور قدر دان ہے‘
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر)
ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور روح القدس اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کراترتے ہیں۔ وہ رات سراسرسلامتی ہے طلوع فجر تک!
We have 14 guests and no members online